مظفر پور عصمت دری معاملے پرسپریم کورٹ کا مرکز اور بہار حکومت کو نوٹس

بہارکے مظفرپور میں گرلز شیلٹر ہوم میں لڑکیوں کے ساتھ ہوئے مبینہ عصمت دری معاملے میں سپریم کورٹ نے آج خودسے نوٹس لیتے ہوئے بہار اورمرکزی سرکارکونوٹس جاری کیا۔عدالت نے دونوں ہی سرکاروں سے تفصیلی جانکاری مانگی ہے۔ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے مظفرپور معاملے میں عصمت دری متاثرین کا انٹرویو شائع نہیں کرنے کی ہدایت دی اورکہاکہ انہیں بار بار اپنے توہین کودہرانے کیلئے مجبورنہیں کیاجاسکتا۔سپریم کورٹ نے کہاکہ مبینہ طورپر عصمت دری متاثرین کی تصویروں کی شکلیں بدل کربھی الیکٹرونک میڈیا پرنشرنہیں کئے جاسکتے ہیں۔عدالت نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس سے بھی مددمانگی ہے۔
جج ایم بی لوکر اور جج دیپک گپتا کی بنچ نے اس سلسلہ میں مرکزی حکومت اور بہار حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب دینے کو کہا ہے۔ کورٹ نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ متاثرہ لڑکیوں کی کسی بھی شکل میں (دھندلی یا تبدیل شدہ تصویروں)کو نشر نہ کرے۔سپریم کورٹ نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ایک طبقے میں آبروریزی کا شکار لڑکیوں کی شناخت اجاگر کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخر میڈیا نے ان کی شناخت کیسے اور کیوں اجاگر کی۔
قابل غور ہے کہ بہار کے مظفر پور کے ایک شیلٹر ہوم میں رہنے والی 32 بچیوں کے ساتھ مبینہ طورپر عصمت دری اور ہراساں کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ان لڑکیوں کا الزام ہے کہ انہیں نشے کے انجکشن دئیے جاتے تھے اور انتظامیہ کے افسران اور دیگر لوگ ان کے ساتھ زیادتی کرتے تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *