بہار میں اردو کے ساتھ ناانصافی انتظامیہ سے قانون سازیہ تک

بہار ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے لیکن یہ صرف کاغذ پر ہے۔ اس کا عملی نفاذ38 سالوں بعد بھی ممکن نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ٹھوس کارروائی ہو رہی ہے۔ حکومت کے عزم اور اعلان کے باوجود اب تک نہ تو ہر اسکول میں اردو یونٹ قائم ہو سکا ہے اور نہ ہی اردو ملازمین کا تقرر ہوا ہے۔ اورانتظامیہ سے قانون سازیہ تک ہر سطح پر اردو نظر انداز ہے۔حکومت کی اس سرد مہری کے خلاف اردو آبادی میں اضطراب اور بے چینی بڑھنے لگی ہے۔ محبان ا ردو حکومت کو اردو کے تعلق سے اس کے وعدے اور فرائض یاد دلانے اور اردو کو انصاف دلانے کیلئے سڑکوں پر اترنے اور اردو کے حقوق کی بازیابی کیلئے سڑکوں سے ایوان تک لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔
37 برس بعد صورت حال
ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ 1981 میں ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کے دورِ اقتدار میں ملا تھا۔ اس کے عملی نفاذ کی بنیاد بھی کانگریسی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا نے ہی ڈالی تھی۔ لیکن اس کے بعد آنے والی غیر کانگریسی حکومتوں نے اس کے عملی نفاذ میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو اردو ریاست میں ہر جگہ رائج اور دخیل تھی وہ آج صرف اردو حلقوں اور اردو سے متعلق اداروں سے دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ شروع میں اردو کے نفاذ کے لیے اردو ٹرانسلیٹر، اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر اور اردو ٹائپسٹ کے عہدوں پر جو اردو ملازمین بحال کیے گئے تھے وہ یا تو سبکدوش ہو گئے یا دنیا سے ہی سدھار گئے۔ جو عہدے خالی ہوئے انھیں پُر کرنے کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اردو ڈائریکٹوریٹ ڈیپوٹیشن کے سہارے چل رہا ہے۔ پرانے اردو ملازمین جو بچ رہے ہیں ان سے اردو کے کام چھوڑ کر باقی سارے کام لیے جا رہے ہیں۔ مگر انھیں آج تک ترقی نہیں مل سکی۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اردو کے ملازمین ہیں۔
جیتن رام مانجھی حکومت نے جاتے جاتے کچھ فیصلے عوامی مفاد میں تو کچھ مسلمانوں اور اردو کے مفاد میں بھی کیئے جس میں 1765 اردو ملازمین کے تقرر کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ اس کے لیے 85کروڑ روپے ریاستی کابینہ کے ذریعے منظور بھی کیے گئے تھے ۔ مگر بعد میں نتیش حکومت کی واپسی ہوئی تو انھوں نے مانجھی حکومت کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا۔ نظر ثانی میں مسلمانوں اور اردو کے تعلق سے لیے گئے سارے فیصلے مسترد کر دیے گئے۔ اس کے بعد انتخابی عمل شروع ہو گیا۔ اس انتخاب میں کانگریس۔آرجے ڈی اور جنتا دل یو کا اتحاد مضبوطی کے ساتھ اقتدار میں آیا، تو یہ امید پیدا ہوئی کہ اب اردو کے اچھے دن آئیں گے۔ عظیم اتحاد حکومت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً دیڑھ ماہ بعد 4جنوری 2016کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اردو ڈائریکٹوریٹ کو حسب ضرورت ڈپٹی ڈائریکٹر اردو ، راج بھاشا افسر، اردو ٹرانسلیٹر اور اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر مہیا کرا نے اور اسے بااختیار بنانے کا حکم دیا۔ساتھ ہی سکریٹریٹ کے سبھی محکموں، ڈویژنل دفاتر، کلکٹریٹ، سب ڈویژن، بلاک اور سطحی دفاتر، ڈی آئی جی، ایس پی، ایس ڈی پی او، سبھی تھانوں، رجسٹریشن دفاتر اور ضلع ایجوکیشن آفس میں اردو ٹرانسلیٹر، اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر، کلرک اور اردو آپریٹر کی تقرری کا عمل شروع کرنے کی واضح ہدایت جاری کی تاکہ اردو کے فروغ کا کام بلا روک ٹوک جاری رہ سکے اور اردو سے متعلق معاملات اور عرضیاں اردو میں نپٹائی جا سکیں۔

 

 

 

 

اعلیٰ سطحی کمیٹی کی ہدایات کا حشر
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ اردو ملازمین کے لیے سروس رولس تیار کر کے انھیں نافذ کیا جائے تاکہ ملازمین کی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اشتہاروں اور حکم ناموں کی اردو میں اشاعت کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی محکمہ اقلیتی فلاح، محکمہ مالیات اور محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے پرنسپل سکریٹری، اردو ڈائریکٹر پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی جو اردو کے فروغ کے سلسلے میں حکومت کو مشورے دے گی۔ اس کمیٹی کی تشکیل اردو مشاورتی کمیٹی کو نظر انداز کر کے کی گئی تھی۔ مگر طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اب تک ان ہدایات پر عمل درآمد تو کیا اس کی ابتدائی کارروائی کا بھی پتہ نہیں ہے۔ یہ کمیٹی بھی اردو مشاورتی کمیٹی کی طرح غیر فعال اور غیر متحرک بنی ہوئی ہے۔ راج بھاشا اردو ایوارڈ کا سلسلہ گزشتہ 7 سالوں سے بند ہے۔ حالانکہ ہندی کے ایوارڈ لگاتار دیئے جا رہے ہیں۔ اردو مشاورتی کمیٹی، اردو اکادمی اور اردو ڈائریکٹوریٹ کے ذمہ داران سیلف برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں مصروف ہیں۔ 27 ہزار اردو اساتذہ کی بحالی کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ ٹی ای ٹی کامیاب امیدوار ملازمت کے بجائے لاٹھیاں کھا رہے ہیں۔ ٹی ای ٹی متاثرہ امیدوار انصاف کی گہار لگاتار لگا رہے ہیں لیکن ان کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔ ریاست میں صرف پرائمری اور مڈل اسکولوں کی تعداد 78 ہزار ہے اور ہر اسکول میں ایک اردو ٹیچر کے تقرر کا فیصلہ نافذ ہوتا تو کم از کم 78 ہزار اردو اساتذہ ہوتے۔ اس کے علاوہ ہائی اسکولوں اور+2 اسکولوں میں اردو اساتذہ الگ ہوتے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔حکومت کی اساتذہ کی کمی پوری کرنے کیلئے گیسٹ اساتذہ کا تقرر کر رہی ہے۔ اس میں ہندی ،سنسرکت اور پالی کے اساتذہ کا بھی تقرر ہو رہا ہے۔ مگر اردو کا نام تک نہیں ہے۔ راجدھانی پٹنہ کے نامی گرامی اور تاریخی اہمیت کے حامل پلس ٹو اسکولوں کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اردو کے خالی عہدے پڑے ہیں۔ عربی اور فارسی کے اساتذہ کے تقرر کا تو دھیان ہی نہیں ہے۔سرکاری پروگراموں میں بھی اردو کو جگہ نہیں مل پارہی ہے۔ سرکاری پروگراموں میں بھی اردو کو جگہ نہیں مل پا رہی ہے۔ اردو اخبارات کو محکمہ تعلقات عامہ سے کل اشتہارات میں سے محض 5فیصد دستیاب کرائے جارہے ہیںجس کے سبب بہار کے اردو اخبارات بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ان اردو اخبارات کے ساتھ تعصب سے کام لیا جار ہا ہے۔ اردو مشاورتی کمیٹی بھی ان تمام کمزوریوں کی طرف حکومت کی توجہ مبذول نہیں کرا رہی ہے۔ اردو ڈائریکٹوریٹ اور اردو مشاورتی کمیٹی سے لے کر اردو اکادمی تک سب کے سب سمینار، سمپوزیم اور مشاعروں کے انعقاد میں مصروف ہیں۔ ہر جگہ ادب کی بات ہو رہی ہے۔ زبان کے فروغ کا کوئی کام نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی اس پر کسی کا دھیان ہے۔ کوئی یہ سوچنے کے لیے تیار نہیں کہ جب اردو جاننے والے ہی نہیں ہوں گے تو اردو ادب کے قدرداں کہاں سے آئیں گے۔ ادب پاروں کو قاری کہاں سے ملیں گے۔ اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا نظم ہی نہیں ہو سکے گا تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو پڑھنے والے اور تحقیق کار کہاں سے آئیں گے۔ حکومت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خالی ہونے والے عہدوں کو پہلے ہی سے پُر کرنے سے کترا رہی ہے۔ جب وہاں امیدوار ہی پہنچنے بند ہو جائیں گے تو اردو اساتذہ کے تقرر کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔ دیگر تمام شعبہ جات تو شاید کام کرتے رہیں گے مگر یونیورسٹیوں میں اردو ، فارسی اور عربی کے شعبہ جات دم توڑ دیں گے اور ان کی جگہ پر تقرری ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے گی۔ اردو سے متعلق سبھی ادارے صرف ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ زبان کے فروغ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یعنی اردو کی جڑیں سوکھ رہی ہیں اور پتیوں پر پانی کا چھڑکائو کیا جا رہے۔
قانون سازیہ میںاردو
بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے 15 سال بعد اردو قانون سازیہ کی زبان بنی اور اردو کا شعبہ قائم ہوا۔ کارروائی سے متعلق پروگرام اور کارروائی رپورٹ اردو میں تیار ہونے اور منظر عام پر آنے لگی۔ خبرنامہ اور دستاویز کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا مگر حالات اور صدر نشیں کے بدلتے ہی قانون سازیہ کا شعبہ اردو زوال پذیر ہوتا چلا گیا۔قانون ساز اسمبلی کا اردو شعبہ اب اردو سیل میں تبدیل ہوگیا ہے اوراردو عملہ کی تعداد گھٹا کر محض 3کردی گئی ہے۔ مگرمسلم ارکان اور اردو کو انصاف دلانے والے ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔خبرنامہ اور روداد کی اشاعت تو پہلے سے ہی بن تھی ۔ اسمبلی کے پروگرام اور دوسرے ضروری نوٹ بھی اب اردو میں نہیںفراہم کرائے جاتے ہیں۔ قانون ساز کونسل میں بھی سابق چیئر مین نے جن کا تعلق بی جے پی سے تھا اردو کا گلا پورے طور پر گھونٹ دیا تھا مگر موجود کارگذار چیئر مین محمد ہارون رشید ذاتی دلچسپی سے کونسل میں اردو کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیںجس کے نتیجے کاانتظار ہے۔ اسی درمیان قانون سازیہ سے اردو زبان کو بے دخل کرنے کے معاملے کو لے کر امیر شریعت بہار، اڑیسہ وبنگال مولانا محمد ولی رحمانی نے قانون ساز کونسل کے کارگذار چیئر مین سے ملاقات کرکے ان سے اردو کو ہر حال میں قانون سازیہ کی زبان بنائے رکھنے کی اپیل کی ۔ انھوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ قانون ساز کونسل کے موجود چیئر مین کی یقین دہانیوں سے میں پوری طرح مطمئن ہوں انشاء اللہ بہا ر قانون سازیہ میں اردو پورے آب و تاب کے ساتھ رہے گی ۔
پہلے اردو یا اہل اردو کے ساتھ جب کوئی ناانصافی ہوتی تھی تو اس کے خلاف اردو نواز اور حق پسند عوامی نمائندے قانون سازیہ میں صدائے احتجاج بلند کرتے تھے اور وہاں سے حکومت کو انصاف کرنے کی ہدایت جاری ہوتی تھی۔ لیکن جب قانون سازیہ کی سطح پر ہی اردو کے ساتھ انصاف نہ ہو رہا ہو تو اہل اردو کہاں جائیں گے؟ اور جب کسی بھی سطح پر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوگا تو اردو کے خدام اردو کو کیسے بچا پائیں گے یا کیسے انصاف دلا پائیں گے؟ اس طرح کے ہزاروں سوالات اہل اردو کی زبان پر ہیں مگر ان کے جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہیں۔
٭٭٭

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *