بینک آف چائنا کی ہندوستان میں انٹری کاروباری دنیا میں چین کی دراندازی بڑھی

چینی سامان کے بائیکاٹ اور چین کو سبق سکھانے کی کتنی بھی باتیںمودی سرکار بھلے ہی کرلے لیکن سرکار کے فیصلے ڈریگن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے ہی ثابت ہورہے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کی معیشت میںچین کی دراندازی لگاتار بڑھتی جارہی ہے ۔ اس سے ملک کی سیکورٹی اورمعیشت کبھی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے لیکن سرکار کی اس معاملے میں خاموشی تمام سوال کھڑے کرتی ہے۔ خبر یہ ہے کہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا بینک ’بینک آف چائنا‘ جلد ہی ہندوستان میں دستک دے رہا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے ’بینک آف چائنا‘ کو ملک میںاپنی شاخیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزیر اعظم مودی اور چین کے صدر ژنپنگ کے بیچ ایس سی او سمٹ میںہوئی بات چیت کے بعد یہ رضامندی ہوئی ہے۔ ایس سی او سمٹ کے لیے وزیر اعظم مودی پچھلے دنوں خاص طور پر چین گئے تھے۔
بینک آف چائنا کا پس منظر
دراصل بینک آف چائنا چین کا سب سے پرانا بینک ہے۔ چین کے شنگھائی شہر میں1912 میںیہ قائم ہوا تھا۔ 1942 تک یہ بینک سرکار کے کرنسی نوٹ بھی چھاپتا تھا۔ لیکن اب یہ صرف ہانگ کانگ اور مکاؤ کے کرنسی نوٹ جاری کرتا ہے۔ چین کا یہ چوتھا سب سے بڑا بینک، پوری طرح سرکار کے کنٹرول میں ہے۔ اس بینک کی دنیا کے 27 ممالک میںشاخیں ہیں اور بینک کا کل اثاثہ 176.8 لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔ یعنی یہ اسیٹس ویلیو کے لحاظ سے ہندوستان کے بینکوںکے مقابلے کئی گنا بڑا ہے۔ بینک آف چائنا کے کئی بڑے کارپوریٹ گاہکوں کا ہندوستان میںبڑا بزنس ہے جو بڑے پیمانے پر ایکسپورٹ – امپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔
اب آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ بینک آف چائنا کی شاخیں ملک کے اہم شہروں میںکھلنے کے بعد ہماری کاروباری دنیا میںچین کی دراندازی کتنی بڑھ جائے گی۔ یہ پہلا موقع نہیںہے،جب مودی سرکار نے چینی کاروباریوں کو ہندوستان میںکھلے بزنس کی آزادی دی ہے۔ سرکار اس سے قبل ڈجیٹل انڈیا کے نام پر پے ٹی ایم کو بینکنگ اور آن لائن ٹرانسفر کرنے کی اجازت دے چکی ہے ۔ سب کو پتہ ہے کہ پی ٹی ایم کہنے کو تو ہندوستانی کمپنی ہے لیکن اس کے 40 فیصد سے زیادہ شیئر چین کی کمپنی علی بابا کے پاس ہیں یعنی پے ٹی ایم پر حقیقی کنٹرول چین کی سرکار کا ہی ہے۔
اسی طرح ریزرو بینک آف انڈیا جنوری 2018 میںانڈسٹریل اینڈ کمرشیل بینک آف چائنا کو ملک میںاپنی شاخیں کھولنے کی منظوری دے چکا ہے۔ آئی سی بی سی دنیا کا سب سے بڑا لسٹیڈ بینک ہے،جس کی چین کے علاوہ 42 ملکوںمیں شاخیں ہیں۔ 237.51 لاکھ کروڑ روپے کی اسیٹس ویلیو والے اس بینک کی حال ہی میںایک شاخ ممبئی میںبھی کھولی گئی ہے۔ اس طرح ہندوستان میںچینی بینکوں اور کمپنیوں کا مکڑ جال بڑھتا جارہا ہے۔ خدشہ یہ جتایا جارہا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میںملک کی پوری معیشت کو چین اپنی مٹھی میںجکڑ لے گا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایک طرف جہاں ہندوستان کا بینکنگ ڈھانچہ بری طرح چرمرا رہا ہے اور ملک کے 9 سرکاری بینک ڈوبنے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، وہیںحکومت ہند کی وزارت مالیات دھڑادھڑ غیر ملکی بینکوں کو لائسنس دینے میں جٹی ہوئی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا نے ابھی تک کل 45 غیر ملکی بینکوں کو ہندوستان میںکاروبار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان میںسے سب سے زیادہ 100 شاخیں برطانیہ کے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی ہیں۔ ملک میںغیر ملکی بینکوں کے آنے کی مقابلہ آرائی کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہاہے۔ چین کے علاوہ ایران، کوریا، ملیشیا اور نیدر لینڈ کے بینکوں نے بھی ہندوستان میںاپنی شاخیں کھولنے کے لیے درخواست دی ہے، جس پر سرکار سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

 

 

 

 

آر بی آئی کی بند ہوتی شاخیں
اب تصویر کے دوسرے پہلو پر غور کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں غیر ملکی بینکوں کی ملک میںآمد تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہیں ریزرو بینک آف انڈیا دھڑادھڑ دوسرے ملکوں میںواقع اپنی شاخیں بند کر رہا ہے۔ وزارت مالیات کے ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق، پبلک سیکٹر کے بینکوںکی کل 216 شاخیں اس وقت باہری ممالک میں ہیں۔ ان میںسے تقریباً 70 شاخیں سال کے آخیر تک دوسرے ملکوںسے اپنا کاروبار سمیٹ لیں گی۔ ان میںاسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک، آئی ڈی بی آئی، انڈین اوورسیز بینک اور بینک آف انڈیا کی شاخیںسب سے زیادہ ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ بینک کے خرچوں میں کٹوتی اور کیپٹل سسپیشن کے مقصد سے یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔ کچھ بینکوں نے تو دبئی، شنگھائی، جدہ اور ہانگ کانگ میںواقع اپنی شاخوں سمیت 37 مراکز کو فوری اثر سے بند کردیا ہے جبکہ دیگر تقریباً 70 شاخوں،ریمٹینس مراکز کو بند کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ مثال کے طور پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنی چھ غیر ملکی شاخوں کو پچھلے دنوں بند کردیا ہے جبکہ سری لنکا اور فرانس میںواقع اپنی شاخوں کو ریپریزینٹیٹو آفس کی شکل میںتبدیل کردیا ہے۔
بینکوںکا کہنا ہے کہ سرکار نے گزشتہ سال کمزور بینکوں میں2.11 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے اعلان کے ساتھ ہی غیر ملکوں میںواقع شاخوں کے جواز کا تجزیہ کرنے کی بھی ہدایت دی تھی۔ خسارے میںچل رہی شاخوں کو بند کرنے کا فیصلہ اسی سمت میںاٹھایا گیا عملی قدم ہے۔
بینکنگ شعبے میںدخل اندازی کے علاوہ چین ہندوستان میںجاسوسی کرنے کے نئے نئے طریقے اپنا رہا ہے لیکن سرکار اس معاملے میںابھی بھی سو رہی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک مستند خبر آئی کہ چین کے ذریعہ تیار اسمارٹ فونس میںتقریباً 42 ایسے موبائل ایپس ہیںجو صارفین کا پورا ڈاٹا ہیک کرکے باہر بھیجتے رہتے ہیں۔ان موبائل ایپس میںصارفین کے ذریعہ سب سے زیادہ استعمال کئے جانے والے شیئر -اِٹ، یوسی براؤزر، وی – چیٹ اور ٹروکالر جیسے موبائل ایپس ہیں، جن کا ہم ہندوستانی سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ہندوستانی بازار میںچین کے تیار شدہ اسمارٹ فونس کا دبدبہ عرصہ سے بنا ہوا ہے۔
ملک کے موبائل مارکیٹ میںچینی فونس کا مارکیٹ شیئر 53 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تب ہے جب وزیر مالیات ارون جیٹلی نے فونس پر لگنے والا ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر پچھلے سال 20 فیصد کردیا ہے۔ اسی دباؤ میںآکر جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے پانچ ہزار کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کرکے سیمسنگ کمپنی کی توسیع کی ہے۔ موبائل ایپس کے ذریعہ چینی جاسوسی کی خبر ہندوستانی افواج کو بھی ہے۔
اسی لیے فوج نے افسروں کے لیے چائنیز اسمارٹ فون رکھنے کی پابندی لگا دی ہے۔ فوج کا ماننا ہے کہ ان اسمارٹ فونس کے ذریعہ فوجی علاقے کا سارا حساس ڈاٹا لیک ہورہا ہے جو ملک کی سیکورٹی کے لیے کبھی بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ڈوکلام تنازع کے بعد بی جے پی حامیوں نے حالانکہ زور شور سے چینی سامان کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ تب مودی سرکار نے بھی چینی سامانوں کے امپورٹ کو کنٹرول میںرکھنے کا اعلان کیا تھالیکن سرکار کی کمرشیل منسٹری کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ سرکار کے تمام اعلانوںکے باوجود چین ابھی بھی ہندوستان کا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر بنا ہوا ہے۔
چین سے ٹریڈ ریکارڈ بے تحاشہ بڑھا
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ چین سے ہمارا دو طرفہ ٹریڈ ریکارڈ 18 فیصد سے بڑھ کر 84.4 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ ہمارا مجموعی بزنس صرف 74.3 بلین ڈالر ہی ہے۔ یہ اعداد و شمار 2017-18 کے ہیں جب مودی سرکار ملک کے اقتدار میںبنی ہوئی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ دو طرفہ بزنس بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا بزنس خسارہ بھی اُتنی ہی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
دراصل، 2017 میںجہاںچین کو ہونے والے ایکسپورٹ میں39 فیصد اضافہ ہوا اور کل ایکسپورٹ بڑھ کر 16.34 بلین ڈالر ہوگیا، وہیں چینی سامان کے امپورٹ کے اعداد وشمار بھی 14.59 فیصد بڑھ کر 68.10 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس نظریہ سے دیکھیں تو چین کے ساتھ ہمارا بزنس خسارہ بڑھ کر 52 بلین ڈالر کی تشویشناک سطح تک پہنچ گیا ہے۔ آج ہندوستان چین کے لیے ساتواں سب سے بڑا امپورٹ کرنے والا ملک ہے۔ یہ تب ہے جب چین گزشتہ کئی سالوںسے ہندوستان کی گلوبل ڈپلومیٹک کوششوں کو دھتابتا رہا ہے۔ مثلاً چین ، پاکستان اکانومک کوریڈور، مولانا مسعود اظہر اور نیوکلیر سپلائر گروپ میںہندوستان کی انٹری جیسے مدعوں پر وہ ہماری لگاتار مخالفت کر رہا ہے۔ مودی سرکار کی لاکھ کوششوں کے باوجود چین نے آئی ٹی اور فارما سیکٹر میںایکسپورٹ کے دروازے ہندوستان کے لیے ابھی نہیںکھولے ہیں، جس سے ہندوستان کا بزنس توازن سادھا جاسکے۔
ہم شیخی بگھارنے کی باتیںکتنی بھی کرلیں لیکن سچائی یہی ہے کہ چاہے سیکورٹی کا مدعا ہو یا بزنس کا، چین کے آگے مودی سرکار کی گھگی بندھی ہی رہتی ہے۔ امریکہ اور چین کے بیچ حال میں شروع ہوئی ٹریڈوار کے بعد بھی حکومت ہند کے دبوپن کا یہی رویہ بنے رہنے کی امید ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *