عمران خان کے پالے میں گیند

تاریخی سبھی کو مواقع دیتی ہے۔ کوئی ان مواقع کا فائدہ اٹھاکر ہمیشہ کے لیے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیتا ہے اور کوئی انھیںضائع کردیتا ہے۔ کچھ لوگوںمیںہمت ہوتی ہے، تخیل ہوتا ہے، خواب ہوتا ہے اور حقیقت کو سمجھ کر آگے بڑھنے کی لالسا ہوتی ہے۔ ہندوستان میںجواہرلعل جی کو سب سے پہلے یہ موقع ملا۔ انھوں نے جدید ہندوستان کی بنیاد رکھی۔ لال بہادر شاستری جی کو موقع ملا۔ انھوںنے ہندوستانی شجاعت کے صفحات تاریخ میںجوڑے۔ اندرا گاندھی کو موقع ملا۔ انھوں نے حیرت انگیزہمت والی خاتوں کی نظیر پیش کی۔ انھوںنے صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میںاپنی طاقت اور تخیل کا لوہا منوایا۔ آج یہ موقع عمران کو ملا ہے۔ عمران خان تقریباً 20 سال سے پاکستان کی سیاست میںاپنے پیر جمانے کی کوشش کررہے تھے۔ اس بار پاکستان کے عوام نے انھیں ان کی کوشش کا انعام دیا ہے۔
میںجب پاکستان گیا تھا، تب وہاں میری بات چیت کالج میںپڑھنے والے بہت سارے لڑکوں او رلڑ کیوں سے ہوئی۔ یہ لڑکے اور لڑکیاں عمران خان کو بہت پیار کرتے تھے اور ہمیشہ یہ افسوس کرتے تھے کہ پاکستان کو عمران خان جیسا کوئی وزیر اعظم کیوں نہیںمل رہا ہے؟ انھوں نے اس کی وجہ بھی بتائی کہ پاکستان میںسیاست پر قابض لوگ جان بوجھ کر عمران خان کو الیکشن ہروا دیتے ہیں۔ اس بار عمران خان جیتے ہیں تو ان کی جیت کا سہرا ہندوستانی میڈیا نے پاکستان کے فوج کے سر باندھ دیا ہے۔ کیا پاکستان کی فوج یا کوئی بھی فوج، جہاں الیکشن ہورہے ہوں، اگر بھاری گڑبڑی نہ کرے تو کیسے کسی کو اتنی زیادہ سیٹوںسے جیت دلا سکتی ہے۔ ورلڈ میڈیا پاکستان میںتھا، ہندوستانی میڈیا پاکستان میں تھا اور ہم لگاتار ووٹنگ کے وقت دیکھ رہے تھے کہ وہاںپر دھاندلی کے نام پر اُتنا ہی ہورہا تھا جتنا ہمارے ملک میںہوتا ہے۔ کچھ جگہوںپر لوگوںکو ووٹ نہیںڈالنے دیے گئے لیکن یہ خبر کہیںنہیںآئی کہ ووٹ فوج نے یا کسی دوسرے نے ڈالے۔ اس کے باوجود عمران خان کی جیت کو دھندلی کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی۔
عمران خان کے الیکشن جیتتے ہی یا جیسے ہی الیکشن جیتنے کے بعد وزیر اعظم بننے کا امکان بنا،ویسے ہی عمران خان کے خلاف قصے آنے لگے کہ وہ پلے بوائے ہیں، انھوںنے کتنی شادیاں کیں۔ عمران خان کو لے کر ہندوستانی میڈیا نے تو کمال کر دیا اور یہاںتک کہہ دیا کہ ان کے کئی بچے ہندوستان میںبھی ہیں۔ عمران خان ان سارے الزاموںپر کچھ نہیںبولے۔ یہ بہت اچھا کیا۔ لیکن یہ سمجھ میںنہیںآیا کہ عمران کے خلاف الزام لگانے والی ان کی بیویوں سے بغیر سوال جواب کیے ہندوستانی میڈیا نے عمران کے خلاف ان سارے الزاموں کو صحیح کیسے مان لیا؟
عمران خان نے پاکستان میںایک بہت بڑا کینسر اسپتال کھولاہے جو ان کی ماں شوکت خان کے نام پر ہے۔ پاکستان میںمیرے صحافی دوست ہیں۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد جب میںنے ان سے بات چیت کی تو انھوں نے کہا کہ عمران خان اپنے اس اسپتال کو اور ایک بڑے یتیم خانے کو چلانے کے لیے اچھے لوگوںکی تلاش میں رہتے تھے۔ لیکن ان کی بدقسمتی ہے کہ ان کی ایک بھی شادی کامیاب نہیںہوئی اور جنھوںنے بھی ان سے شادی کی، وہ ان کی شہرت، دولت اور چمک دمک کو سمیٹنے کی کوشش کرتی دکھائی دیں۔ نتیجتاً ان کی کوئی بھی شادی کامیاب نہیںہوئی۔ ان کی موجودہ بیوی کے ساتھ بھی ان کے بہت اچھے رشتے نہیںہیں۔ اب عمران وزیر اعظم ہیں، اس لیے ہو سکتا ہے کہ پھر سے قصے سامنے آئیں لیکن اس میں ابھی تھوڑا وقت لگے گا۔

 

 

 

 

عمران خان کو تاریخ نے ایسا ہی موقع دیا ہے، جیسا وہ بہتوں کو دیتی ہے۔ عمران خان کے ساتھ دو چیزیں ہندوستانی میڈیا یا ہندوستانی عوام سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہمارے اور پاکستان کے بیچ میں اتنی نفرت ہے کہ نہ وہ ہماری خوشی دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی خوشی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ دوسرا ان دونوںملکوں کے بیچ کوئی بھی واقعہ کوئی بھی بات چیت بغیر ناک کا سوال بنے پور ی نہیںہوتی۔
ہندوستان – پاکستان کے بیچ کرکٹ میچ کھیل نہیں رہتا، دشمنی میںبدل جاتا ہے۔ اس میچ کو لے کر طرح طرح کی الزام تراشیاں ہوتی ر ہی ہیں۔ پہلے یہ حالت ہاکی کے ساتھ تھی اور اب کرکٹ کے ساتھ ہے۔ دوسری طرف ہم دونوں ایک ساتھ آزاد ہوئے۔ ہم نے اپنے یہاں جمہوریت کو بنائے رکھا۔ پاکستان میںجمہوریت کا بچنا ہی ایک حیرت انگیز چیز ہے کیونکہ بیچ میں جمہوریت کو فوج نے ختم کردیا تھا۔ لیکن پچھلے دو تین انتخابات سے وہاںپر ووٹ پڑ تے ہیں اور کم و بیش لوگ اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جمہوری سرکاریں کام نہیں کر پاتیں ، انھیںکبھی غیر ملکی طاقتوں کا شکار ہونا پڑتا ہے اور کبھی پاکستان کی فوج کے غصے کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
پاکستان میںفوج بھی رہی، پاکستان میں جمہوری سرکاریں بھی رہیں لیکن انھوںنے پاکستان کے مسائل حل کرکے کوئی کارگر نتیجہ دکھایا ہو، ایسا ابھی تک دکھائی نہیںدیتا۔ اس کے باوجود عمران خان کا شروع کا بیان ایک امید جگاتا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔ اس کا ہمیںخیر مقدم کرنا چاہیے۔ انھوںنے سارے سوالوں پر بات چیت کی، اپنی رائے ظاہر کی اور ساتھ ہی وزیر اعظم مودی پر حملہ بھی کیا۔ کوئی دوسرا بھی وزیر اعظم ہوتا تو عمران خان کو حملہ کرنا ہی تھا کیونکہ پاکستان میںکوئی بھی وزیر اعظم اپنا دیش پریم ثابت کرنے کے لیے ہندوستان کے خلاف زہر نہ اگلے تو ہندوستان کا ایجنٹ مان لیا جائے گا۔ ہمارے یہاں بھی یہی حالت ہے۔ اگر ہمیںاپنا دیش پر یم ملک کو دکھانا ہے تو ہمیںپاکستان کے خلاف بات کرنی پڑتی ہے۔
پھر بھی عمران خان کے سامنے ایک ایسا موقع ہے کہ وہ اگر سمجھداری کے ساتھ کام کریںاور پاکستان کے لوگوں کی زندگی کو تھوڑا سا بھی صحیح سمت کی طرف لے جا پائیں تو نہ صرف پاکستان کی جمہوریت کی تاریخ بلکہ دنیا کی جمہوریت کی تاریخ عمران خان کو ہمیشہ یاد کرے گی۔ آج عمران خان کی تصویر پاکستان میں سب سے بڑی ہے۔ وہاںکے نوجوان، خاص طور سے طلبہ اور طالبات،عمران خان کے پیچھے ہیں۔ عمران خان اگر نوجوانوں کے لیے کچھ کر پائیں اور اس موقع کا فائدہ اٹھاکر دہشت گردی کو کنٹرول کرپائیں تو عمران خان پاکستان کی تاریخ کے سب سے اچھے وزیر اعظم مانے جائیںگے۔

 

 

 

 

عمران خان اگر پاکستان کی فوج کو سمجھ پائیں او ر اگر انھیںپاکستان کی فوج کی حمایت حاصل ہے تو ہندوستان – پاکستان کے رشتوں میںایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ پاکستان کی فوج، پاکستان کے لوگ اس نفرت کو ایک طرف رکھ دیں جو انگریز ہمیںجاتے جاتے دے گئے تھے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم دونوںمل کر عالمی طاقت بننے کے راستے پر چل سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، غریبی سے مل کر لڑ سکتے ہیں۔ دونوںمل کر مشترکہ تجارت کی ایک حیرت انگیز مثال پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے عمران خان کو ہی ہمت دکھانی پڑے گی۔ نواز شریف ہمت دکھانا چاہتے تھے لیکن نہیںدکھا پائے۔ اب یہ موقع تاریخ نے عمران خان کو دیا ہے۔ عمران خان اگر سچ مچ ہمت کے ساتھ اپنے لوگوں کے لیے کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں پاکستان ہمیشہ یاد رکھے گا۔ انھیںچاہیے کہ وہ روایتی طر یقوں کوچھوڑ کر اپنے ہمسایوں، خاص طور سے ہندوستان کو چڑانے کے لیے ایسے بیان نہ دیں جس سے ثابت ہو جائے کہ عمران بھی ان ہی لوگوںمیںسے ایک ہیںجو لوگ اب تک پاکستان کے بنیادی سوالوں کو نظرانداز کرکے جذباتی سوالوںمیںالجھتے رہے ہیں۔ تاریخ کا دیا ہوا یہ موقع عمران خان کو اب پاکستان میںتاریخی آدمی بناتا ہے یا عام وزیر اعظم، دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا۔ کرکٹ میںوہ اچھے کپتان رہے ہیں، سیاست میںبھی وہ اچھی پاری کھیلیںگے،ایسی ’ شبھ کامنائیں‘ عمران خان کو ضرور دینی چاہئیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *