سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نہیں رہے

atal-bihari-vajpayee
سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔انہو ں نے آخری سانس آل انڈیاانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس(ایمس ) میں لی۔ایمس سے جاری تازہ میڈیکل بلیٹن کے مطابق ،آج قریب پانچ بج کرپانچ منٹ پر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا انتقال ہوگیا۔وہ 93سال کے تھے۔اٹل جی کے انتقال کی خبرملتے ہی پوراملک غم میں ڈوب گیا۔ملک کے گوشے گوشے میں غم کی لہردوڑگئی۔

خیال رہے کہ دہلی میں واقع آل انڈیاانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس(ایمس)میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی گذشتہ قریب 9ہفتے سے داخل تھے۔ایمس نے کل رات میڈیکل بلیٹن میں کہا تھاکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کی حالت مزید بگڑگئی ہے ۔ان کی حالت بہت نازک تھی اور انہیں لائف سپورٹنگ ایمس نے شام ساڑھے پانچ بجے میڈیکل بلیٹن جاری کر کے بتایا کہ مسٹر واجپئی نے پانچ بجکر پانچ منٹ پر آخری سانس لی۔ اسپتال کے مطابق گزشتہ 36 گھنٹے سے ان کی حالت مسلسل بگڑتی جارہی تھی اور انہیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا تھا۔ تمام کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہیں جا سکا۔ انہیں گزشتہ 11 جون کو ایمس میں بھرتی کیا گیا تھا۔بہرکیف اٹل بہاری واجپئی کے انتقال پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم مودی سمیت سبھی سرکردہ سیاسی شخصیات نے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔

اٹل جی کے دادا شری شیام لال واجپائی آگرہ کے مشہور گاؤں بٹیشور کے رہنے والے تھے اور وہ سنسکرت کے عالم فاضل تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور بٹیشور سے باہر گوالیار کی ریاست میں ملازمت کرنے کی صلاح دی۔ شری کرشن بہاری واجپائی نے گوالیار جاکر بطور استاد ملازمت شروع کردی اور وہاں شندے کی چھاؤنی میں رہنے لگے۔ وہاں ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تولد ہوئیں۔ اٹل جی کا جنم کرسمس کے مبارک دن 25 دسمبر 1926ء کو ہوا۔
مقامی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گوالیار ہی میں وکٹوریہ کالج سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد کانپور کے ڈی اے وی کالج سے پولیٹیکل سائنس میں فرسٹ کلاس میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی۔ اس کے بعد انہوں نے قانون پڑھنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
اٹل جی آغازِ جوان ہی سے سماجی سرگرمیوں میں مشغول رہنے لگے تھے۔ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرگرم کارکن رہے اور اسٹوڈنٹ یونین کے سکریٹری اور صدر بھی۔ انہوں نے 1942ء کی ’’بھارت چھوڑو‘‘ تحریک میں پرجوش حصہ لیا تھا۔ تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا اور اٹل جی بھی گرفتار ہو گئے اور انھیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔
اٹل بہاری واجپائی دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پہلی مرتبہ 16 مئی 1996ء سے یکم جون 1996ء یعنی 15 دن وزیر اعظم رہے۔ دوسری مرتبہ 19 مارچ 1998ء سے 22 مئی 2004ء تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔
واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ وہ ہندی کے عمدہ شاعر بھی ہیں۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *