ناک میں کیڑے کی بیماری کے علاج کیلئے اے ایم یو کے ڈاکٹروں کی اہم تحقیق 

Dr-Abu-Saeed
آئیورمیکٹِن دوا کا استعمال ابھی تک جوئیں ختم کرنے اور خارش سے نجات حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا تھا مگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)کے ڈاکٹروں کی ایک نئی اور اہم تحقیق کے مطابق اس دوا کو اب ناک میں کیڑوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔ معلوم ہو کہ ناک میں کیڑ ے کی بیماری عمر رسیدہ افراد اور جسم کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے والے غریب لوگوں میں عام طور سے پائی جاتی ہے۔ اس موضوع پر جے این ایم سی کے ای این ٹی شعبہ کے ڈاکٹر ابو سعید، ڈاکٹر آفتاب احمد، پروفیسر ایس سی شرما اور پروفیسر ایس ابرار حسن کا ایک تحقیقی مقالہ’ ’انڈین جرنل آف اوٹولیرنگولوجی اینڈ ہیڈ اینڈ نیک سرجری‘میں شائع ہوا ہے۔
جے این ایم سی کے ای این ٹی شعبہ کے ڈاکٹروں نے اس اہم تحقیق کے آغاز میں تیس سے ساٹھ سال کی عمر کے 80؍مریضوں کا گہرائی سے جائزہ لیا جو ناک سے خون آنے، چہرے پر سوجن اور سردرد کی بیماری میں مبتلا تھے اورچھینکتے وقت ان کی ناک سے کیڑے بھی نکلتے تھے۔ ان مریضوں کے کان، ناک وغیرہ کا معائنہ کیا گیا اور پھر انھیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کے مریضوں کو آئیورمیکٹِن کی 6؍ایم جی دی گئی۔ تحقیق میں پتہ چلا کہ ایک گروپ جس کا دوسرے طریقوں سے علاج کیا جارہا تھا ان کے کیڑے ختم ہونے میں تقریباً42گھنٹے لگے جب کہ جن مریضوں کو آئیورمیکٹِن دوا دی گئی ان کے کیڑے 24گھنٹے میں ختم ہوگئے۔
یہ بیماری مکھیوں کے انسان کی ناک میں داخل ہوکر انڈا دینے سے پیدا ہوتی ہے۔اس بارے میں اپنا ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے ای این ٹی شعبہ کے سربراہ پروفیسر ایس سی شرما نے کہاکہ اس تحقیق سے ڈاکٹروں کے لئے آسانی پیدا ہوگی اور ناک کے کیڑوں کو ہٹانے کے اُس روایتی علاج کی ضرورت نہیں رہے گی جس میں کلوروفارم اور تارپین کا تیل استعمال کیا جاتا تھا۔ای این ٹی شعبہ کے پروفیسرکے چندرا، پروفیسر پی کمار اور ڈاکٹر مہتاب عالم نے ڈاکٹروں کی ٹیم کو اس نئی اور کارآمد تحقیق کے لئے مبارکباد پیش کی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *