مظفر پور کے بعد دیوریا شیلٹر ہوم سیکس ریکٹ لیپا پوتی میں جٹا انتظامیہ

خواتین کے شیلٹر ہومس اور یتیم خانوں میںبچیوںکی حالت زار کا تازہ باب بہار کے مظفر کے بعد اترپردیش کے دیوریا میںبھی کھلا۔ بے سہارا اور مجبور لڑکیوں کے ساتھ اسپانسرڈ زیادتی کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ بدترین سطح کا یہ دھندہ ملک میں لگاتار چل رہا ہے۔ کبھی کبھار واقعات ظاہر ہوجاتے ہیںتو جانچ اور کارروائی کی رسمیںادا ہوتی ہیں۔ پھر معاملہ ٹھنڈا پڑتے ہی دھندہ چالو ہو جاتا ہے۔
ہر بار یہی ہوتا ہے کہ ایسے گھناؤنے دھندے میںلیڈر، نوکرشاہ، سفید پوش، دلال اور سماجی ادارے چلانے والوںکا ’نیکسس‘ اجاگر ہوتا ہے۔ لیکن حکومتی نظام اس کرتوت پر مستقل قابو پانے کا کوئی کارگر حل نہیں نکالتا۔ یہ حل کیوںنہیں ہوتا؟ اس سوال کا جواب باری باری سے اقتدار پر بیٹھنے والے لیڈر اور ان کے تیماردار نوکر شاہ نہیںدے سکتے ۔
معاملہ الجھتا ہی چلا گیا
معاملہ اجاگر ہونے کے بعد جب پولیس نے تلاشی لی تو اترپردیش کے دیوریا میںواقع ویمن شیلٹر ہوم سے 42 میں سے 18 لڑکیاں غائب ملیں۔ لڑکیاںآخر کہاںگئیں؟ دیوریا شیلٹر ہوم سے بھاگی اور بعد میںبرآمد ہوئی ایک لڑکی کا بیان اس سوال کا جواب ہے۔ اس لڑکی نے کہا ہے کہ ہر رات کالی، سفید اور لال رنگ کی کاریںآتی ہیں اور لڑکیوں کو شیلٹر ہوم سے باہر لے جاتی ہیں۔ صبح ان لڑکیوںکو واپس چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن پھر وہ لڑکیاںزار و قطار رونے کے علاوہ کچھ نہیںبول پاتیں۔
عدالتوںکا رول بھی کوئی دودھ کا دھلا نہیںہے۔ ایسے معاملوںمیںعدالتوں کا رول ڈانواڈول ہی ہے۔ دیوریا کے ’وندھیہ واسنی مہیلا پرشکشن ایوم سماجک سیوا سنستھان‘ کے ذریعہ چلانے والے شیلٹر ہوم میںبے ضابطگیاں پائے جانے کے بعد جب اس کی منطوری ملتوی کردی گئی تھی، تب کورٹ نے اس پر روک کیوں لگا دی تھی؟ کیا عدالت کو بھی ایسے واقعات کے رونما ہونے کا انتظار رہتا ہے؟ پروٹیکشن ہوم کی جس منتظمہ گرجا ترپاٹھی کو کورٹ کا ’ اسٹے آرڈر‘ ملا تھا،وہی خاتون جرائم کا دھندہ چلانے کے الزام میںآج گرفتار ہے۔ اس کا پورا خاندان اس دھندے میںملوث تھا۔ منتظمہ کا شوہر اور اس کی بیٹی کنچن لتا ترپاٹھی بھی پکڑی گئی ہے۔ منتظمہ کی بیٹی ہی ادارے کی سپرنٹنڈنٹ تھی۔ اب سب پر انسانی اسمگلنگ کرنے، جسم فروشی کا دھندہ چلانے اور بال شرم سے جڑی دفعات کی دھجیاںاڑانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اب اسٹے آرڈر کے جواز کے بار ے میں عدالت سے کون پوچھے؟ عدالت کا مان سمان ہے۔ بے سہارا عورتوں اور لڑکیوںکا مان سمان تھوڑ ے ہی ہے۔
اب جب مظفر پور اور دیوریا میںایسا واقعہ ہوا تو عدالت نے پوچھنا شروع کیا۔ ہر طرف سے زنا بالجبر اور آبروریزی کی خبریں۔ ملک میںیہ کیا ہورہا ہے؟ ملک کی عدالت عظمیٰ نے یہ سوال سامنے رکھا لیکن ان عدالتوں سے یہ حساب نہیں مانگا ، جنھیںسڑکوںکے گڑھے اور ٹریفک جام تو دکھائی دیتا ہے لیکن بے سہارا لڑکیوں کا سانحہ نہیںدکھائی دیتا۔ چلئے دیر سے ہی سہی، کچھ ٹھوس ہوجائے تو غنیمت۔

 

 

 

 

 

سپریم کورٹ کے سخت اقدامات
سپریم کورٹ نے ایسے بے شرم دھندے کو روکنے کے لیے سخت قدم اٹھانے کی ضرورت محسوس کی ہے اور وزارت خواتین و اطفال سے ملک بھر کے تین ہزار شیلٹر ہومس کے سماجی آڈٹ کی حقیقت اور سروے کی رپورٹیںپیش کرنے کو کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہوجاتا ہے اور سرکار اتنی دیر سے جاگتی ہے، یہ حیرت انگیز ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ مانا کہ ان واقعات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ سب اسٹیٹ اسپانسرڈ سرگرمیاںہیں۔
اس کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ بھی حرکت میںآیا۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ سی بی آئی جانچ کی مانیٹرنگ وہ خود کرے گی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جج یشونت ورما کی بینچ نے واضح طور پر کہا کہ اگر یہ جنسی استحصال کا معاملہ ہے تو سیاستدانوں، وی آئی پی اور پولیس والوں کی ملی بھگت کے بغیر یہ قطعی ممکن نہیںہے۔
ججوںنے ریاستی سرکار کو یہ ہدایت دی کہ اس گورکھ دھندے کو مل رہے سیاست دانوں اور وی آئی پی ہستیوںکے تحفظ کا پتہ لگایا جائے۔ ہائی کورٹ نے اتنے بڑے غیر انسانی کام میںصرف چار افسروںکے خلاف کارروائی کو تسلی بخش نہیںمانا اور پولیس والوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر گہرے سوال اٹھائے ، ہائی کورٹ نے شیلٹر ہوم کی سبھی لڑکیوں کے مجسٹریٹی بیان کی کاپی طلب کرلی ہے اور سر کار سے پوچھا ہے کہ ان لڑ کیوںکو اب کہاں رکھا گیا ہے؟ ان کی حفاظت کے کیا انتظام کیے گئے ہیں اور لاپتہ لڑکیوں کا پتہ لگانے کے لیے کیا کوششیںکی جارہی ہیں؟ کور ٹ نے لڑکیوںکو ڈھونڈنے اور پولیس والوں کی جانچ کی ذمہ داری گورکھپور زون کے اے ڈی جی کو سونپنے کے یوپی سرکار کے فیصلے پر مہر لگائی لیکن واضح طور پر کہا کہ اے ڈی جی نے چار دنوںمیںٹھوس قدم نہیںاٹھائے تو عدالت اگلی سنوائی میںیہ ذمہ داری کسی دیگر ایجنسی کو دے سکتی ہے۔
بچے بھی لاپتہ
دیوریا کے ماں وندھیہ واسنی گرلز شیلٹر ہوم سے 18 لڑکیوںکے علاوہ نوزائیدہ بچوںکے بھی لاپتہ ہونے کی اطلاع عام شہریوںکو پریشان کر رہی ہے جبکہ اب حکومت و انتظامیہ لاپتہ لڑکیوںکی تعداد ثابت کرنے کی حرکتوں میں بھی لگ گئی ہے۔ لڑکیوں اور نوزائیدہ بچوںکی پراسرار گم شدگی د سمبر2017 میںہی ہوئی لیکن حکومت ، انتظامیہ اور بھاشن پر اس سے کوئی فرق نہیںپڑا۔ نوزائیدہ بچوں کی گم شدگی کی اطلاع ’سینٹرل اڈاپشن ر یسورس اتھارٹی‘ کو بھی ملی تھی۔ اتھارٹی نے بچوںکی فلاح و بہبود کمیٹی اور ڈسٹرکٹ پروبیشن افسر (ڈی پی او) سے جانکاری مانگنے کی رسم پوری کرلی لیکن دیوریا سے جانکاری نہیںبھیجے جانے پر کوئی رسپانس نہیںلیا۔
پولیس اور انتظامیہ کی کھال پر بھی نوزائیدہ بچوںکے گم ہونے کا کوئی اثر نہیںپڑا۔ واقعے کے بعد منہ کھولنے کا حوصلہ کر رہے بچوںکی فلاح و بہبود کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ایس کے یادو نے کہا کہ شیلٹر ہوم کی منتظمہ گرجا ترپاٹھی کے آگے پوری حکومت جھکی رہتی تھی۔ یادو نے مانا کہ سات نوزائیدہ بچوں کا رجسٹریشن ہونے کے چھ ماہ بعد بھی انھیںگود دینے کا عمل شروع نہیںکیا گیا۔ اتھارٹی کی طرف سے بچوں کے اڈاپشن کا عمل شروع کرنے کو لے کر ڈی پی او کو کئی مکتوب لکھے گئے لیکن وہاںسے جواب نہیںملا۔ نوزائیدہ بچوں کو گرجا ترپاٹھی کے رجلا میںواقع چائلڈ ہوم میںرکھا گیا تھا۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے بچوںکو گورکھپور میں واقع ’دتّا کیندر‘ میں رکھے جانے کی کافی کوشش کی لیکن گرجا ترپاٹھی کے آگے کمیٹی کی ایک نہیںچلی۔ آخر کار نوزائیدہ بچے غائب ہی ہوگئے۔ پتہ چلا کہ کئی اور نوزائیدہ بچے لاپتہ ہیں۔ اتھارٹی میںان کا رجسٹریشن نہیںکرایا گیا اور آج وہ لاپتہ ہیں۔
اب یہ بات کھل کر سامنے آرہی ہے کہ دیوریا کے ماںودھیہ واسنی گرلز شیلٹر ہوم سمیت پانچ اداروں کی منتظمہ گرجا ترپاٹھی اور اس کے خاندان نے اقتدار تک سیدھی رسائی کا جم کر فائدہ اٹھایااور معصوموں کا شدید استحصال کیا۔ تب سارے ذمہ دار افسر اور ادارے خاموشی اختیار کیے رہے یا مکتوب لکھتے رہے۔ واقعہ اجاگر ہونے کے بعد سب ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے میںلگے ہوئے ہیں ، 23 جون 2017 کو گرجا ترپاٹھی کے ادارے کو بلیک لسٹیڈ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی پولیس اور انتظامیہ کی شہ پر بچیوں کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کو بتائے بغیر وہاں بھیجا جاتا رہا۔ کمیٹی نے اعتراضات درج کیے، ضلع افسر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھالیکن کوئی کارروائی نہیںہوئی۔ یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ پولیس اور انتظامی افسروں کا بھی شیلٹر ہوم میں آناجانا رہتا تھا۔ دیوریا شیلٹر ہوم کو سال 2011 میںگرانٹ ملنا شروع ہوئی لیکن ادارہ 2009 سے ہی چل رہا تھا۔ جون 2017 میںگرانٹ بند ہونے کے بعد بھی شیلٹر ہوم چلتا رہا۔ صاف ہے کہ بغیر گرانٹ پائے ادارہ کیسے چل رہا تھا؟
یوگی کا ایکشن
دیوریا واقعہ اجاگر ہوتے ہی اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے فوراً فعالیت دکھاتے ہوئے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا اعلان کردیا۔ یوگی نے بچاؤ کا بہتر راستہ نکالا۔ سی بی آئی جانچ کے اعلان کے بعد عام لوگ چپ ہو جاتے ہیں۔ وہ ٹوپی ٹرانسفر‘ کا فوری عمل نہیںسمجھ پاتے۔ یوگی نے پچھلی سرکار پر ٹھیکرا پھوڑا اور دیوریا کا ادارہ سال 2009 سے چل رہا تھا اور پچھلی سرکاروں، یعنی بی ایس پی اور ایس پی سرکاروں نے اسے خوب فائدہ کرایا۔ یوگی نے سی بی آئی جانچ کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی جوڑا کہ دیوریا معاملے میں پولیس کے مشکوک کردار کی بھی جانچ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی بھی بھنگ کردی۔
یوگی نے کہا کہ سی بی آئی کے ذریعہ رسمی طور پرجانچ ’ٹیک اوور‘ کرنے تک تین رکنی ایس آئی ٹی ثبوتوں کی نگرانی کرے گی تاکہ اس سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اس ٹیم کی مدد کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے جانکاری دی کہ دیوریا معاملے کی جانچ کے لیے ویمن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی ایڈیشنل چیف سکریٹری رینوکا کمار اورویمن ہیلپ لائن کی ایڈیشنل ڈی جی پی انجو گپتا کی جانچ کمیٹی نے اپنی رپورٹ سرکار کو سونپ دی ہے۔ اس کے بعد ہی دیوریا کے شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کو وارانسی کے شیلٹر ہوم میں شفٹ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ مانا کہ جون 2017 میں دیوریا کے مذکورہ شیلٹر ہوم کی منظوری ختم کردی گئی تھی۔ ضلع انتظامیہ کو اس شیلٹر ہوم کو بند کرنے اور وہاں رہ رہی لڑکیوں کو منتقل کیے جانے کی ہدایت بھی دی گئی تھی لیکن انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیںکی۔ اس جرم کے لیے دیوریا کے ضلع افسر کا تبادلہ کرکے ان کے خلاف چارج شیٹ جاری کی جارہی ہے۔ دیوریا کے سابق ضلع پروبیشن افسر کو بھی معطل کردیا اور رجسٹرار چٹ فنڈ نے بھی حرکت میںآتے ہوئے گورکھپورکے ’اولڈ ایج ہوم‘ کا رجسٹریشن بھی خارج کردیا۔
یوگی سرکار میں منسٹر آف ویمن اینڈ فیملی ویلفیئر ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی نے ایسے موقع پر اپوزیشن پر حملہ کرنے میںکوئی کسر نہیںچھوڑی۔ ڈاکٹر جوشی نے کہا، ’جن کے دور میںان اداروں نے جنم لیا، آج وہی اسے سیاسی روپ دینے میںلگے ہوئے ہیں۔انھوںنے کہا کہ دیوریا کے ریفرینس والے ادارے کو 2009-10 میںمنظوری دے کر چائلڈ شیلٹر ہوم، گرلز شیلٹر ہوم اور ’سدھار گرہ‘ کا کام دیا گیا تھا۔ اس دور میں بی ایس پی اور ایس پی کی سرکاریںتھیں۔ ڈاکٹر جوشی نے ایس پی سرکار کی مدت کار میںہوئے ’سچل پالنا گرہ‘ بدعنوانی معاملہ کا بھی ذکر کیا۔ موجودہ سرکار کی مدت کار میںجو لاپرواہی ، اندیکھی اور ملی بھگت ہوئی اس بارے میںپوچھے گئے سوال پر وزیر موصوف نے کہا کہ ان سارے پہلوؤں کی چھان بین کرکے قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر جوشی نے کہا کہ پابندی لگنے کے بعد بھی پولیس لاوارث بچوں- بچیوں کو شیلٹر ہوم کیسے پہنچاتی رہی؟ یہ سنگین موضوع ہے اور اس کی جانچ کرائی جارہی ہے۔
المیہ
المیہ یہ ہے کہ اترپردیش کے ہر ایک ضلع میںچائلڈ ویلفیئر کمیٹی ہے۔ ان کمیٹیوں کو ہر مہینے کم سے کم 20 اداروں کی جانچ کرنی ہوتی ہے۔ جانچ کے لیے کمیٹی کو سرکار کی طرف سے پیسہ ملتا ہے۔ جب پیسہ خرچ ہوا تو جانچ کیوںنہیںہوئی؟ اور اگرجانچ ہوئی تو شیلٹر ہوم میںچلنے والے مجرمانہ دھندے کا پتہ کیوںنہیں چلا؟یہ سوال مشکوک حالات اور آپسی ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہ بات صحیح ہے کہ ایس پی سرکار کے آخری دور میں کمیٹیوںکی تشکیل کرکے ممبروںکی تقرری کردی گئی تھی۔ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی کہتی ہیںکہ ایس پی سرکار میں جب پبلک سروس کمیشن تک میںممبروںکی تقرری میںدھاندلی ہوئی تو ان اداروں میںدھاندلی نہیںہونے کی کیا گارنٹی ہے؟ ڈاکٹر جوشی کہتی ہیںکہ دیوریا کیس کے خلاف آج جو خاص سیاسی پارٹیوںکے لوگ احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، انھیںبتانا چاہیے کہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی میںممبروںکی تشکیل کس نے کی تھی اور ان ممبروں نے کتنے اداروں کی جانچ کی تھی؟ دیوریا میںاس خاتون کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کا ممبر بنا دیا گیا تھا جو پہلے دیوریا کیس کی کلید ی ملزمہ گرجا ترپارٹی کے ادارے کی کونسلر تھی۔
قابل ذکر ہے کہ دیوریا کا مذکورہ متنازع ادارہ ’اتر پردیش راجیہ سماج کلیان بورڈ‘ کے ذریعہ چلائے جانے والے ’سچل پالنا گرہ‘ میںہوئی بدعنوانی کی سی بی آئی جانچ میںبھی شامل ہے۔ بورڈ کی سابق چیئرمین ڈاکٹر روپل اگروال کا کہنا ہے کہ انھوںنے سینٹرل سوشل ویلفیئر بورڈ ، یوپی سرکار کے ویمن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ اور ویمن ویلفیئر منسٹری کو خط لکھ کر یہ مطلع کیا تھا کہ مختلف سرکاری اسکیموں کا فائدہ مستحقین تک نہیںپہنچ رہا ہے اور اس میںرضاکار اداروں کی ملی بھگت ہے لیکن ان طلاعات کا نوٹس لینے کے بجائے ڈاکٹر اگروال کو ہی چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ڈاکٹر روپل اگروال نے وزیر اعظم نریندر مودی کوخط لکھ کر کہا ہے کہ ان کے ذریعہ اجاگر کئے گئے حقائق کی جانچ کراکر مناسب کارروائی کریں۔
مشتبہ سرگرمیاںہردوئی کے بینی گنج میںواقع بے سہارا عورتوں کے شیلڈر ہوم میںبھی کچھ مشتبہ سرگرمیاں چل ر ہی ہیں لیکن انتظامیہ اس کی چھان بین یا وقت کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے اسے ابھی سے ڈھکنے کی کوشش میںلگا ہے۔ ہردوئی کے ’سوادھار گرہ‘ کا رجسٹر بتاتا ہے کہ وہاںسے 19عورتیںغائب ہیں۔ ہردوئی کا یہ ادارہ بھی ایک این جی او کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ ’سوادھار گرہ‘ میں21عورتوں کے ہونے کے بجائے وہاں صرف دو خواتین ہی پائی گئیں۔ ضلع انتظامیہ نے 19 خواتین کی گم شدگی کے معاملے کی گہرائی میںجانے کے بجائے یہ کہہ دیا کہ یہ مالی فرضی واڑہ ہے۔ سرکاری مدد لینے کے لیے ’سوادھار گرہ‘ کے رجسٹر میں19 خواتین کے فرضی نام بھر دیے گئے تھے۔
المیہ یہ ہے کہ جو ڈائیلاگ ادارہ دہراتا، وہ ڈائیلاگ ضلع انتظامیہ دہرا رہا ہے۔ جبکہ خود ہردوئی کے ضلع افسر نے بینی گنج میںعائشہ گرام ادیوگ سمیتی پہانی کے ذریعہ چلنے والے ’سوادھار گرہ‘ کی جانچ کی تھی۔ ضلع افسر نے’ سوادھار گرہ‘ کے رجسٹر میں21 خواتین کے نام پائے، لیکن موقع پر صرف دو خواتین ملیں۔ پہلے تو ضلع انتظامیہ نے سخت کارروائی کرنے کی بات کہی، پھر کیا ہوا کہ اچانک ضلع انتظامیہ کے سر تال بدل گئے۔ پھر ڈسٹرکٹ پروبیشن افسر سشیل کمار، سنڈیلہ کے تحصیلدار پنکج سکسینہ، قانون گو رام پرکاش مشرا اور بینی گنج کوتوال نے ’سوادھار گرہ‘ کی جانچ کی۔ دوبارہ جانچ کے بعد بتایا گیا کہ رجسٹر میں19 خواتین کے نام فرضی ہیں جبکہ ’سوادھار گرہ‘ کے چلانے والے محمد رضی اور سپرنٹنڈنٹ آرتی’ گرہ‘ میں21 خواتین کے ہونے کی بات پر اڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلع افسر کے معائنے کے وقت شیلٹر ہوم کی خواتین مندر گئی تھیں۔
افسروں کے دوبارہ معائنے میں اسی ہوم میں13 خواتین موجود پائی گئیں۔ ضلع انتظامیہ اس مسئلے پر چپی سادھے ہوئے ہے کہ ’سوادھار گرہ‘ کے رجسٹر میںدرج 19 خواتین کے نام فرضی ہیں تو وہ 13 خواتین کون تھیں جو موقع پر پائی گئیں؟ دال میںکالا ہے لیکن کالا ہٹانے کے بجائے انتظامی افسر دال کو گھونٹنے میںلگے ہیں۔ انتظامیہ نے’ سوادھار گرہ‘ کی منتظمہ اور سپرنٹنڈنٹ کے خلاف فرضی واڑہ کرنے اور کام میںلاپرواہی برتنے کا مقدمہ درج کرانے کی رسم نبھالی ہے۔ دباؤ بڑھنے پر ضلع انتظامیہ نے ’سوادھار گرہ‘ کی سپرنٹنڈنٹ آرتی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ادارے کا منتظم رضی فرار بتایا جارہا ہے۔

 

 

 

لکھنؤ میںبھی حالت بدتر
دیوریا واقعہ سے بھی ویمن اینڈ چائلڈ ویلفیئر محکمے سے جڑے افسروںکی گینڈے جیسی کھال پر کوئی اثر نہیںپڑ رہا ہے۔ راجدھانی لکھنؤ میںجتنے بھی شیلٹر ہوم، یتیم خانے اور ریمانڈ ہوم ہیں،ان کی بدتر حالت کی سرکاری طور پر تصدیقہوئی ہے۔لکھنؤ کے ضلع افسر کوشل راج شرما کے ذریعہ تشکیل کی گئی آٹھ ٹیموں نے مختلف علاقوں میںواقع شیلٹرہومس کی جانچ کی تو بھیانک صورت حال پائی گئی۔ پو ری رپورٹ سرکار کے سامنے پیش کردی گئی ہے لیکن اس رپورٹ میں بھی لوچا ہے۔ رپورٹ میںکچھ اداروں کی منظوری کا ذکر ہے، باقی اداروں کی منظوری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس سے راجدھانی لکھنؤ میںکئی مراکز کے غیر قانونی طور پر چلنے کا خدشہ ہے۔ حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ پر کارروائی کب ہوگی؟ اس پر ایک سینئر انتظامی افسر نے کہا، ’بھگوان جانے۔‘
بہرحال ضلع افسر کے ذریعہ تشکیل کی گئی ٹیموںنے لکھنؤ کے 23گرلز سینٹرز اور ویمن شیلٹر ہومس کی فوری طور پر جانچ کرائی۔ درجن بھر سے زیادہ مراکز میںکوئی سیکورٹی گارڈ نہیںہے اور صاف صفائی کی صورت حال خوفناک ہے۔ لکھنؤ کے مال علاقے میںتیواری کھیڑا میںواقع’ کستوربا گاندھی آواسیہ بالیکا ودیالیہ‘ میںجانچ کے دوران وزیٹر رجسٹر میںگڑبڑی پائی گئی۔ لوگ گرلز اسکول میں دھڑلے سے آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اسے رجسٹر میں درج نہیںکیا جاتا۔ جانچ کرنے پہنچے ملیح آباد کے ایس ڈی ایم جے پرکاش اگنی ہوتری نے چیف وارڈن رنجیتا سنگھ کو نیا رجسٹر بنانے کی سخت ہدایت دی۔
اسٹیٹ ویمن شیلٹر : پراگ نارائن روڈ پر واقع اس ادارے میںرجسٹرڈ سبھی لڑکیاں موقع پر پائی گئیں لیکن اس شیلٹر ہوم کی صفائی ا ور دوسرا انتظام افراتفری کی حالت میںملا۔ ادارے میں ایک بھی خاتون ہوم گارڈ تعینات نہیںہے جبکہ 29 جولائی کو اس ادارے سے ایک ’سنواسنی‘ بھاگ چکی ہے۔ دیانند بال سدن: موتی نگر میںواقع اس ادارے میںرجسٹرڈ سبھی 30 لڑکیاں موقع پر ملیں۔ گندگی کا انبار پایا گیا۔ کھنداری بازار کے لکھنؤ چلڈرن ہوم میںرجسٹرڈسبھی 17 لڑکیاں موقع پر پائی گئیں۔ اس ادارے میںکوئی سیکورٹی گارڈ نہیںہے۔ احاطے میںبے پناہ گندگی ملی۔ اندرا گاندھی نگر کی’ اسنیہ ویلفیئر سوسائٹی‘ (مانسک مہیلا آشرم گرہ) میںرجسٹرڈ سبھی 14 لڑکیاں موقع پر پائی گئیں۔ لڑکیوں نے جانچ ٹیم کو بتایا کہ انھیںنہ تو وقت پر کھانا دیا جاتا ہے اور نہ ہی مقرر کیے گئے مینو پر عمل ہوتا ہے۔ ادارے میں سیکورٹی کا بھی انتظام نہیں ہے۔ اندرا نگر کے آشا جیوتی (مانسک) میںرجسٹرڈ سبھی 16 بچے موقع پر تھے۔ سیکورٹی کے لیے کوئی گارڈ نہیں پایا گیا۔ کمروںاور احاطے میںگندگی پائی گئی۔ علی گنج میںواقع’ شری رام ادیوگک اناتھالیہ‘ میںرجسٹرڈ سبھی 9 لڑکے اور 12 لڑکیاں موقع پر ملیں۔ سیکورٹی کا کوئی انتظام نہیںپایا گیا۔ تروینی نگر کے’ گنگوتری ششو گرہ ‘میں رجسٹرڈ سبھی 12 بچے موقع پر پائے گئے ۔ صفائی کی بے حد کمی پائی گئی۔ چھت پر بنی چاردیواری اتنی چھوٹی پائی گئی کہ بچوںکے پھاند کر بھاگنے میںکوئی دقت نہیں ہوگی۔سیکورٹی کا بھی بندوبست نہیں ہے۔
جانکی پورم میںواقع’ درشٹی ساماجک سنستھان ‘میںرجسٹرڈ س 212 لڑکے لڑکیاں موقع پر ملیں لیکن اس ادارے میںلڑکے اور لڑکیوں کی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ موہان روڈ کے ممتا مانسک مندت بالیکا ودیالیہ میں18 لڑکیاں رجسٹرڈ ہیں لیکن موقع پر صرف 15 لڑکیاں پائی گئیں۔ بتایا گیا کہ تین لڑکیاں گھر گئی ہیں۔ موہان روڈ پر واقع راجکیہ سنکیت موک بدھر ودیالیہ میں95 بچے رجسٹرڈ ہیں لیکن جانچ کے دوران 17 بچے لاپتہ ملے۔ اسکول انتظامیہ نے بتایا کہ 17 بچے اپنے گھر گئے ہیں۔ اسکول کے ٹوائلٹ میںشدید گندگی پائی گئی۔ موہان روڈ پر واقع پریاس ودیالیہ میں39 بچے رجسٹرڈ ہیں لیکن ان میںسے پانچ بچے ندارد ملے۔ ان کے بارے میںبھی کہا گیا کہ وہ گھر گئے ہیں ، اسکول میںرہن سہن اور کمروں کی صفائی کی حالت خراب ملی۔ موہان روڈ کے ہی راجکیہ وشیشیکرت بال گرہ میںسبھی 99رجسٹرڈ بچے موقع پر تو ملے لیکن بال گرہ میںگندگی کا انبار ملا۔ صفائی کا انتظام ہی نہیں ہے۔
دیگر تفصیلات
موہان روڈ پر واقع اسپرش درشٹی بادھت بالیکا انٹر کالج میں 97 لڑکیاںرجسٹرڈ ہیں لیکن موقع پر پانچ لڑکیاںغائب ملیں۔ کالج میںسیکورٹی کا کوئی انتظام نہیںملا موتی نگر میںواقع لیلاوتی منشی (بالیکا) شیلٹر ہوم میں رجسٹرڈ سبھی 62 لڑکیاں موقع پر ملیں۔ صفائی کی حالت بہت خراب پائی گئی۔ موتی نگر میںواقع راجکیہ بالیکا گرہ میںرجسٹرڈ سبھی 60لڑکیاں موقع پر ملیں لیکن بالیکا گرہ کے ٹوائلٹس اور احاطے میںصفائی نہیںملی۔ موتی نگر میںواقع راشٹریہ پشچاتورتی دیکھ ریکھ سنگٹھن (مہیلا) ادارے میںبھی سبھی رجسٹرڈ 47 بچے موقع پر ملے لیکن صفائی کی صورت حال خراب ملی۔ گولا گنج میںواقع بلیو ہیون چلڈرن اسائلم میںرجسٹرڈ سبھی 26 بچے موقع پر ملے لیکن یہاںبھی صفائی کی حالت خراب ہے۔ چوک میںواقع آل انڈیا شیعہ یتیم خانہ میںرجسٹرڈ سبھی 34 بچے موقع پر پائے گئے۔ صفائی کا انتظام تسلی بخش نہیںپایا گیا۔
تکروہی میںواقع سویچھک سنستھا نروان (بالیکا) میںرجسٹرڈ سبھی 90 بچے موقع پر پائے گئے۔ ادرے میںسی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں اور گارڈ بھی تعینات پایا گیا۔ عالم باغ میںواقع اسنیہالیہ میںرجسٹرڈ سبھی 18 لڑکیاں موقع پر پائی گئیں۔ کھانے کے ساتھ سیکورٹی، صفائی اور ٹوائلٹ کی صورت حال نسبتاً صحیح پائی گئی۔ امین آباد میںواقع ممتاز دارالیتامہ سنستھان میںرجسٹرڈ سبھی 87بچے موقع پر تھے۔ صفائی کا بہتر انتظام نہیںملااور ایک ہی گارڈ کی تعیناتی سیکورٹی نظام کی خامی ہے۔ موہن لال گنج میںواقع ڈان باسکو میںرجسٹرڈ سبھی 57 بچے موقع پر ملے۔ یہاںپر بھی محض ایک گارڈ تعینات پایا گیا۔ کرسی روز واقع سویچھک سنستھان آشیرواد ٹرسٹ میںرجسٹرڈ سبھی 19لڑکیاں موقع پر ملیں۔ کھانا اور صاف صفائی تسلی بخش پایا گیا۔

 

 

 

 

نگراں سوالات کے گھیرے میں
بے سہارا خواتین ، لڑکیوں اور بچوں کے ادارے پر نظر رکھنے کے لیے بنے ادرے کیا کررہے تھے؟ عام لوگ کہتے ہیںکہ یہ ادارے بھی غیر قانونی دھندے میںبرابر کے ملوث ہیں۔ یہ محض لاپرواہی کا مسئلہ نہیںہے۔ انتظامیہ سے لے کر پولیس اور چائلڈ ویلفیئر محکمے کی ضلع اکائی سے لے کر مقامی تھانہ ،لوکل انٹیلی جنس یونٹ (ایل آئی یو) بیٹ کے سپاہی اور اینٹی ہیومین ٹریفکنگ محکمے کے افسر- ملازم آخر کیا کرتے رہے کہ جرائم کا دھندہ ہوتا رہا؟ شیلٹر ہومس کی لڑکیاں بدسلوکی کے لیے باہر بھیجی جاتی رہیں لیکن کسی نے اس پر دھیان نہیںدیا؟ یہ صرف لاپرواہی نہیں ہے۔ بات ضلع افسر سے شروع ہوتی ہے۔ ضلع افسر کی ڈیوٹی میںشامل ہے شیلٹر ہومس کا وقتاً فوقتاً جانچ کرتے رہنا۔ پھر اس ڈیوٹی پر عمل کیوںنہیںکیا گیا؟ اگر یہ ڈیوٹی عزم کے ساتھ کی جاتی تو کیا دیوریا جیسا واقعہ ہوتا؟ ضلع کے ایس پی کیا کرتے رہے؟ بے سہارا عورتوں اور بچیوں سے جسم کا دھندہ کرایا جاتا رہا اور ایس پی کو پتہ نہیںچلا؟ یہ ناممکن ہے۔ شیلٹر ہومس کی جانچ کرنے کے واحد کام کے لیے ہر ایک ضلع میں پروبیشن افسر تعینات ہیں۔ وہ کیا کرتے رہے؟
حکومت کے سامنے ڈی پی او کی ایک بھی رپورٹ ایسی نہیںہے جو شیلٹر ہومس میںچل رہے مجرمانہ دھندے کا ذکر کرتی ہو ۔ پولیس کی مقامی خفیہ اکائی (ایل آئی یو) کیا کرتی رہی کہ اسے شیلٹر ہومس کے دھندے کی اطلاع نہیںملی؟ اینٹی ہیومین ٹریفکنگ سیل بھی شک کے گھیرے میںہے۔ شیلٹر ہومس کی لڑ کیوں کو دیوریا سے گورکھپور اور دیگر مقامات پر لے جایا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ بیرونی ممالک میںبھی بھیج دیا گیا لیکن سیل سوتا رہا یا ملا رہا۔ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی) کے اترپردیش راجیہ منتری پریشد نے دیوریا واقعہ پر مذمتی قرارداد پاس کرتے ہوئے صحیح کہا ہے کہ بچیوں کے ساتھ اس طرح کے غیر انسانی جرم افسروں او رلیڈروں کے تحفظ ے بغیر ممکن ہی نہیںہیں۔

 

 

 

 

مینکا گاندھی کی بھی نہیںسنی گئی
مظفر پور- دیوریا کے تازہ واقعہ پر دکھی مینکا گاندھی نے کتنی صحیح اور اصلی بات کہی کہ وہ دو سال سے ہر ایک رکن پارلیمنٹ کو خط لکھ کر درخواست کر رہی تھیں کہ رکن پار لیمنٹ اپنے اپنے حلقے میںبے سہارا عورتوں، لڑکیوں اور یتیم بچوں کے لیے چلنے والے اداروں کی کم سے کم ایک بار جانچ کریں اور وہاں کی صورت حال کے بارے میںانھیںمطلع کریں لیکن کسی بھی رکن پارلیمنٹ نے مینکا کے خط پر دھیان نہیںدیا۔ مینکا کی تشویش ایک لیڈر یا وزیر کی نہیں بلکہ ایک عورت کی تشویش تھی۔ اس تشویش نے تمام اراکین پارلیمنٹ کے اصلی سروکار کو بھری پارلیمنٹ میں نشان زد کیا۔
مینکا نے کہا ہے کہ مظفر پور- دیوریا کے واقعات خوفناک ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ کے تئیں مینکا کی ناراضگی پارلیمنٹ میںظاہر ہوئی، پھر بھی اراکین پارلیمنٹ میں اتنی اخلاقی جرأت نہیںتھی کہ کوئی ایک بھی اٹھ کر اپنی غلطی کے لیے معافی مانگتا اور اس طرف فعال ہوکر سماج میںاترنے کا اعلان کرتا۔ مینکا کا سوال اور اس پر اراکین پارلیمنٹ کی خاموشی ہی اس سوال کا جواب ہے کہ آخر کیوںنہیں حکومت ایسے غلیظ دھندے کو قابو کرنے کا کوئی مستقل طر یقہ اختیار کرتی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *