سپریم کورٹ نے اداکارہ پریہ وارئیر کے خلاف ایف آئی آرمسترد کی

Priya-Prakash-Varrier
کیرالہ کی اداکارہ پریہ پرکاش واریئرکے خلاف تلنگانہ اور مہاراشٹر میں درج ایف آئی آرکو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزا م میں جنوبی ہندستان کی اداکارہ پریہ پرکاش واریر کے خلاف مختلف مقامات پر دائر فوجداری مقدمے آج منسوخ کردیئے۔ گذشتہ 21فروری کو سپریم کورٹ نے ایف آئی آر پر روک لگا دی تھی۔ پریہ پرکاش نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر اپنے خلاف درج معاملوں کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چیف جسٹس دیپک مشرا، جج اے ایم خانولکر اور جج ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ اور مہاراشٹر کے مختلف مقامات پر دائر مقدمات کو منسوخ کرنے سے متعلق اداکارہ پریہ پرکاش کی عرضی منظور کرلی۔ اپنی درخواست میں پریہ پرکاش نے کہا تھا کہ اورو اودار لو کے گانے کے غلط ترجمہ کو بنیاد بنا کر کچھ لوگوں نے کیس درج کراوئے ہیں۔درخواست میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ غیر ملیالی زبان والی دوسری ریاستوں میں بھی ایسے کیس درج کئے جا سکتے ہیں۔ پریہ پرکاش واریئر کے خلاف تلنگانہ اور مہاراشٹر میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
عدالت نے پریہ اور ملیالم فلم ’اور وادار لو‘ کے ڈائرکٹر عمر عبدالوہاب کے خلاف درج مقدمے منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ فلم میں آنکھ مارنے کے منظر سے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 295اے کے التزامات کی قطعی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔عدالت نے کہاکہ اس سے متعلق کسی بھی فوجداری مقدمے کی سماعت نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے ایک سرکاری وکیل پر تبصرہ کیا کہ ’کسی شخص نے فلم میں ایک گانا گایا اور آپ کے پاس مقدمہ درج کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے‘۔
فلم کا گانا ’مانکیہ ملاریہ پووی‘ کے ریلیز ہونے کے ساتھ ہی حیدرآباد میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی اور اس میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ممبئی کی ایک تنظیم نے بھی اس کے تعلق سے معاملہ درج کرایا تھا۔ آخرکار فلم کی اداکارہ اور پروڈیوسر و ڈائرکٹر کو عدالت عظمی جانا پڑا تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *