ا ے ایم یو اور جامعہ میں ایس سی اور ایس ٹی کوٹا کے معاملہ پر چند سوالات

ادھر ہر تھوڑے دنوں پر اقلیتی اداروں بالخصوص علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی ) میںشیڈولڈ کاسٹس (ایس سی) اور شیڈولڈ ٹرائبس (ایس ٹی) کوٹا کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو وزیر اعلیٰ اترپردیش نے یہ معاملہ اٹھایا ۔ انھوںنے صاف طور پر کہا کہ بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کی طرح دلتوںکو اے ایم یو اور جامعہ میں بھی مخصوص کوٹا ملنا چاہیے۔یہ بات کہتے وقت انہوں نے یہ غور نہیں کیا کہ بی ایچ یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے جبکہ اے ایم یو اور جامعہ کے تعلق ے اقلیتی حیثیت کا معاملہ ہے۔
اس کے بعد میدان عمل میں ایس سی اور ایس ٹی کمیشن کے سربراہان بھی آگئے۔اے ایم یو سے نیشنل کمیشن فار شیڈولڈ کاسٹس نے باضابطہ جواب طلب کیا۔ جب اے ایم یو کی طر ف سے یہ جواب سامنے آیا کہ الہ آباد ہائی کورٹ سے 13 برس قبل اے ایم یو کے اقلیتی کردار کے خلاف فیصلہ کے بعد عدالت سے اس وقت کی حکومت اور اے ایم یو کے رجوع کرنے پر اسٹے آرڈر ہوگیا اور تب تک رکنے کو کہا گیا جب تک حتمی فیصلے نہ آجائے، لہٰذا اے ایم یو میںتب سے کوئی اقلیتی کوٹا موجود نہیںہے اور پہلے سے داخلہ کے وقت دیا جارہا انٹرنل کوٹا جاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بلاتفریق مذہب وملت جو طلباء پہلے سے یہاںپڑھ رہے ہیں، وہ انٹرنل کوٹا سے فیضیاب ہوسکتے ہیں۔
جب اے ایم یو کا یہ جواب سامنے آیا تو نیشنل کمیشن فار ایس سی نے سپریم کورٹ میںاس تعلق سے دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا۔ اسے ایسا کرنے کا پورا اختیار ہے مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اقلیتی اداروں کی خصوصی حیثیت کو آخر کیوں سمجھا نہیںجاتا ہے اور کیوں اسے نکار دیا جاتا ہے جبکہ یہ اختیار آئین ہند اور مختلف عدالتی فیصلوں سے اسے حاصل ہے۔

 

 

 

آئین کی دفعہ 30 کے تحت اقلیتیں اپنے تشخص کے تحفظ کی خاطر اپنے بچوںکی تعلیم کے لیے اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کرسکتی ہیں اور انھیںاپنے طور پر چلا بھی سکتی ہیں۔ اب رہی بات حکومت سے ان اقلیتی تعلیمی اداروں کو چلانے کے لیے فنڈ فراہمی کی، تو یہ وہ سوال ہے جسے بی جے پی قیادت والی این ڈی اے سرکار گزشتہ چار برسوں سے اٹھاتی رہی ہے۔ لہٰذا قانونی طور پر ماہرین کو اس سلسلے میںدیکھنا چاہیے کہ اصل صورت حال یا پوزیشن کیا ہے؟
ویسے این سی ایم آئی یعنی نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز جو اقلیتی تعلیمی اداروںکے مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کیے گئے قانون کے تحت وجود میںلایا گیا ہے، گزشتہ 14 برسوں سے متحرک ہے۔ ان دنوں ساڑھے تین برس سے اس کا کوئی چیئرمین نہیںہے۔ مودی حکومت بننے کے بعد جب دس برس سے دو مدت میںخدمات انجام دے رہے جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی ریٹائر ہوگئے تو اس کے بعد سے یہ اہم ترین عہدہ خالی ہے اور اس دوران دہلی ہائی کورٹ اس اہم ترین عہدے پر بحالی کا حکم صادر کرچکا ہے مگر یہ قومی کمیشن ہنوز اپنے سربراہ سے محروم ہے۔ جہاںتک جسٹس ایم ایس اے صدیقی کی اقلیتی تعلیمی اداروںکو سرکاری فنڈ کی فراہمی پر رائے کا سوال ہے، تو وہ اسے قانونی طور پر صحیح سمجھتے ہیں۔ لہٰذا انھوںنے سر کار کے تحت چل رہی سینٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی ادارہ مانا اور اس کے حق میںفیصلہ دیا۔ اس فیصلے کو اس وقت کی کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار نے نافذالعمل بھی قرار دیا اور اس طرح جامعہ اقلیتی حیثیت میںرہ کر سینٹرل یونیورسٹی کے طور پر برقرار رہا اور حکومتی مالی تعاون سے مستفیض ہوتا رہا۔ بہر حال دیگر ماہرین کو بھی اس سلسلے میںتوجہ دینی چاہیے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے۔
اس ضمن میںایک بات اور یہ ہے کہ این سی ایم ای آئی نے ابھی حال میںیہ بیان دیا ہے کہ اس کی رو سے جامعہ ملیہ اسلامیہ تو اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے مگر اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیںہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب سرسید کے ذریعہ 1875 میںایم اے او اسکول اور پھر بعد ازاں ایم اے او کالج قائم ہوا تو وہ سرکاری نہیںتھا اور پھر جب 1920 میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی برطانوی پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کیے گئے قانون کے ذریعہ وجود میںلائی گئی تو اس میںاس کے پیش رو اسکول اور کالج کا کوئی تذکرہ نہیںتھا۔ یہ وہ دلیل ہے جو کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے 2005 میںاپنے فیصلے میںدی تھی اور موجودہ مرکزی سرکار نے بھی یہی موقف عدالت میںرکھا ہے۔
بہر حال عدالت کا فیصلہ ہی اے ایم یو کی قسمت کا فیصلہ کرے گا مگر جامعہ و دیگر اقلیتی اداروںکا معاملہ فی الحال صاف ہے۔جامعہ کے بارے میں این سی ایم ای آئی کا موقف ہے کہ 1988 میں سینٹرل یونیورسٹی بننے سے قبل بھی یہ 1962 میں یو جی سی یعنی سرکار سے منظور شدہ ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی تھی اور اقلیتی حیثیت کے ساتھ تھی۔نیز یہ 1938 میں سرکار کے 1860 سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ سے رجسٹرڈ تھی۔ لہٰذا ان میںایس سی اور ایس ٹی کوٹا کا معاملہ نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *