یوپی کے دیوریا میں مظفرپور جیسے سیکس ریکٹ کا پردہ فاش

devarya
بہارکے مظفرپورشیلٹرہوم میں بچیوں کے ساتھ عصمت دری معاملہ ابھی ٹھنڈابھی نہیں ہواہے کہ اب اترپردیش کے دیوریا میں بھی ایک ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے۔دراصل،اترپردیش کی دیوریاپولس نے اتوارکودیررات کوتوالی صدرعلاقے میں ایک مبینہ شیلٹرہوم سے سیکس ریکیٹ کا خلاصہ کرتے ہوئے وہاں سے 24خواتین اورکچھ بچوں کوآزادکرایاگیاہے۔جبکہ 18لڑکیوں کا پتہ نہیں چل سکاہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن پی کنے نے بتایا کہ صدر کوتوالی علاقے میں خواتین کی تربیت اور سماجی خدمت کے نام پر چلائے جانے والے ماں سندھیا واسنی گرلز شیلٹر کی منظوری پر حکومت نے روک لگا دی تھی۔اس کے بعد بھی اس ادارے میں لڑکیوں اور بچوں نیز خواتین کو غیر قانونی طور پر رکھا جاتا تھا۔ اتوار کی شب بیتیا بہار کی ایک لڑکی اس شیلٹر سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی جس نے پولیس کو اس شیلٹر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے بارے میں بتایا۔ جس کے بعد پولیس نے یہ کارروائی انجام دی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ یہاں رہنے والی 15 سے 18 سال کی لڑکیوں سے جسم فروشی کرائی جا رہی تھی۔ اس معاملے کا پردہ فاش ہونے پر پولیس نے موقع سے 24 خواتین اور بچوں کو آزاد کرا لیا ہے۔ ادارے کو سیل کرکے ان کے منتظم گریجا ترپاٹھی اور اس کے شوہر موہن ترپاٹھی کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔ ادارے کی سربراہ کنچن لتا موقع سے فرار ہے۔ اس سلسلے میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کنے نے بتایا کہ اس مبینہ ادارے میں 42 خواتین اور بچوں کے رہنے کی اطلاع تھی جن میں 18 بچے، خواتین اور لڑکیاں لاپتہ بتائی جا رہی ہیں۔ پولیس ان کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے۔
یادرہے کہ دہلی کے جنترمنترپرتمام اپوزیشن پارٹیوں نے مظفرپورشیلٹر ہوم کے واقعہ کو انسانیت کو شرمسارکردینے والا واقعہ قراردیا ہے۔بہارمیں بھی بی جے پی راج اوریوپی میں بھی بی جے پی کی یوگی راج ہے۔اب دیکھنے یوگی حکومت کیا کارروائی کرتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *