نتیش حکومت میں اقلیت پوری طرح نظر انداز

نتیش کمار کی قیادت والی بہار کی این ڈی اے حکومت میں اقلیت اور اقلیتی مفادات پوری طرح نظر انداز ہیں۔ دعوے اور دکھاوے تو بہت ہیں مگر زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ بی جے پی کی گود میں دوبارہ بیٹھنے کے بعد اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کا تعلق محض دکھاوا بن کر رہ گیا ہے۔ ساری توجہ دلتوں پر مرکوز ہوکر رہ گئی ہیں۔ عظیم اتحاد کی حکومت کے درمیان نتیش حکومت میں 4مسلم وزراء تھے مگر اب صرف ایک وزیرہیں اور وہ بھی ایسے مسلم ہیں جنہیں مسلمانوں کاہی ایک بڑا طبقہ مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اب مسلمانوں کے حق میں لب کشائی سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان کے پاس باقی تمام کاموں کیلئے وقت ہے مگر محکمہ اقلیتی فلاح کے کاموں کی مانیٹرنگ اور اقلیتی اداروں کی تشکیل نو کیلئے وقت نہیں ہے۔
ریاستی اقلیتی کمیشن بغیر سربراہ کے
بہار کے تقریباڈھائی کروڑ اقلیتوں کے مفادات کی نگرانی کرنے اور انصاف دلانے کیلئے قائم کئے گئے اقلیتی کمیشن کا عرصے سے کوئی سربراہ نہیں ہے جس کے نتیجے میں بہار ریاستی اقلیتی کمیشن بے جان پڑا ہوا ہے۔ ریاست کے مسلم ، سکھ، عسائی، بودھ، جین اور پارسی اقلیتوںکے ساتھ جب بھی کوئی ناانصافی ہوتی ہے تو وہ آئینی کمیشن کی پناہ میں جاتے ہیں۔ مگر جب کمیشن ہی غیر فعال ہو تو اقلیتی عوام جن میں دوکروڑ مسلمان شامل ہیں، اپنی فریاد لے کر کہاں جائیں؟۔ ویسے تو قومی اقلیتی کمیشن کی طرح ریاستی اقلیتی کمیشن کو بھی آئینی درجہ حاصل نہیں ہے۔ اسلئے کمیشن کے چیئر مین کسی معاملے میں سرکاری افسران کو ہدایت تو جاری کرسکتے ہیں، انہیں طلب کرکے وضاحت بھی طلب کرسکتے ہیں اور ان کی سرزنش بھی کرسکتے ہیں مگر حکم عدولی پر وہ کوئی سزا نہیں دے سکتے۔ ان کی اس مجبوری کا فائدہ افسران اٹھاتے ہیں اور ٹال مٹول کا رویہ اپناتے ہیں۔ پھر بھی شرماً اور لحاظاً کچھ کام ہوہی جاتا ہے۔ افسران کو بھی ایسا محسوس ہوتاہے کہ کوئی ہے جو ان پر نظر رکھتا ہے اور ان کی کلاس لے سکتا ہے۔ مگر جب سربراہ ہی نہ ہو تو افسران بالکل بے لگام ہوجاتے ہیں اور عوام بھی خود کو بے سہارا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بہار میں دیگر تمام کمیشنوں کے پاس آئینی اختیارات ہیں مگر اقلیتی کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ جب بھی ریاستی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجات دے کر اسے بااختیار بنانے کا مطالبہ ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ نتیش کمار یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ قومی اقلیتی کمیشن کو ہی آئینی درجہ حاصل نہیں ہے تو ریاستی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجہ کیسے دیاجاسکتا ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن کو جب یہ حیثیت حاصل ہوگی ، تب دیکھا جائے گا۔ قومی اقلیتی کمیشن کو آئینی درجہ دینے میں کسی حکومت کی دلچسپی نہیں رہی تو مودی جیسی مسلم مخالف حکومت سے تو اس کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی ہے۔ بی جے پی تو شروع سے ہی اقلیتی کمیشن کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ وہ تو اس کے قیام کو ہی غیر ضروری مانتی ہے۔ ایسے میں مرکز اور بہار سمیت اٹھارہ ریاستوں میں اقلیتی کمیشن کا وجود برقرار ہے، یہی بہت بڑی بات ہے۔ حال ہی میں جب یہ معاملہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے سامنے آیاتو انہوںنے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت ہوئی ہے، اس لئے وہ پہلے سے ہی بااختیار ہے۔ البتہ کوئی کمی یا دشواری ہوگی تو ہم اسے اپنے طورپر حل کریںگے۔

 

 

 

اب جب بی جے پی وزیر کو اقلیتی کمیشن کی بے ضابطگی کا احساس نہیں ہے تو بی جے پی کی مدد سے حکومت چلارہے نتیش کمار کو کیونکر احساس ہوگا؟ نتیش حکومت بار بار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ 2005تک اقلیتی فلاح کا بجٹ اتنا تھا جسے بڑھاکر ہم نے اتنا کردیا۔ مگر اس کا فائدہ مسلمانوں کو کتنا پہنچا ،اس پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ وزیر اعلیٰ تمام سرکاری محکموں کی مانیٹرنگ خود کرتے ہیں مگرمحکمہ اقلیتی فلاح جس کے بجٹ میں اضافہ کاوہ دعویٰ کرتے ہیں، اس کی مانیٹرنگ کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ مانیٹرنگ نہ ہونے کے سبب اس کا فائدہ اقلیتوں کو نہیں پہنچ پاتا ہے اور عوام میں یہ پیغام جاتا ہے کہ حکومت ان کیلئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ مانیٹرنگ نہ ہونے سے بھی یہ تاثر عام ہوتا ہے کہ اس محکمہ میں کوئی کام نہیں ہورہاہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بجٹ میں اضافہ کے دعوے کے باوجود زمین پر کوئی کام نظر نہیں آرہاہے۔ وزیر اعلیٰ اس پر کوئی دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ تمام اقلیتی فلاح کی اسکیمیں بیروکریٹس کے رحم وکرم پر ہیں۔ بدلے ہوئے حالات میں وزیر اعلیٰ اب مسلمانوں کی زیادہ بات بھی نہیں کرتے ہیں۔ شاید بی جے پی سے قربت کا اثر ہے۔ اب عام انتخابات قریب ہیں ، اب تو وہ اور بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں کریںگے یا ان کے مفاد کا کوئی کام کرنا نہیں چاہیںگے ۔ کیونکہ بی جے پی کی یہی پالیسی ہے اور اسی پالیسی پر عمل کرکے وہ بی جے پی ووٹ بینک کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ این آر سی جیسے اہم ترین نیشنل ایشو پر ان کا ابھی تک منہ نہ کھولنا، ان کی اسی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ بہار کے مسلمان ان تمام چیزوں کو دیکھ بھی رہے ہیں اور سمجھ بھی رہے ہیں۔ پہلے مسلم وزراء ہوتے تھے تو وزیر اعلیٰ کی کمی پوری کرتے تھے۔ عوام کے درمیان جاتے تھے۔ کچھ صفائی پیش کرتے تھے۔ اب تو وہ بھی نہیں ہورہاہے۔ ایک نام ونہاد مسلم وزیر اقلیتی فلاح میں ہیں بھی تو ان کے پاس مسلمانوں کیلئے وقت ہی نہیں ہے۔ وہ مسلمانوں کے جلسوں اور پروگراموں میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اسلئے مسلمانوں کے ساتھ حکومت کا رابطہ پہلے جیسا نہیں رہ گیا ہے۔ مسلم تنظیموں اور اداروں کے سربراہ براہ راست وزیراعلیٰ سے مل کر مسلمانوں کے مسائل پر گفتگو بھی کرنا چاہتے ہیں تو وزیر اعلیٰ کے پاس ان کیلئے وقت ہی نہیں ہوتاہے۔ ہزار کوشش کے باوجود وزیراعلیٰ سے وقت لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتاہے۔ وزیر اعلیٰ تو مسلم عوامی نمائندوں اور مذہبی رہنمائوں سے بھی ملنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ تہواروں کے موقع پر مبارکبادی کے پیغامات، مزاروں اور خانقاہوں پر حاضری کوہی وہ کافی سمجھتے ہیں۔

 

 

 

عجیب و غریب صورت حال
حکمراں اتحاد میں شامل بی جے پی کا تو ریاستی اسمبلی یا کونسل میں کوئی مسلم عوامی نمائندہ ہی نہیں ہے۔ نتیش کی پارٹی جے ڈی یو کے ارکان اسمبلی و کونسل اپنے ہی خول میں سمائے رہتے ہیں۔ وہ قانون سازیہ کے اندر مسلمانوں کے مسائل اٹھانے سے گریز کرتے ہیں اور اکثر خاموش ہی رہتے ہیں۔ عوامی مسائل خاص طور سے مسلمانوں کے مسائل پر ان کی کوئی گرفت نہیں ہے۔ مسائل سے واقفیت میں ان کی کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ اس لئے وہ یا تو بے تعلق بنے رہتے ہیں یا فضول کے سوال ڈالتے رہتے ہیں۔کچھ لوگ بے شک مسائل سے واقفیت رکھتے ہیں اس خیال سے کہ کہیں وزیر اعلیٰ ان سے ناراض نہ ہوجائیں وہ مسلمانوں کے مسلمانوں کے مسائل اٹھانے یا سرکاری کوتاہی کی نشان دہی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ کچھ لوگ دوسرے فرقہ اور طبقہ کے مسائل اٹھاتے رہتے ہیں مگر ان میں یہ صلاحیت نظر نہیں آتی کہ وہ دوسرے طبقہ کے عوامی نمائندوں کو مسلمانوں کے مسائل اٹھانے پر آمادہ کرسکیں۔ یہ ایک کامیاب حکمت عملی ہوسکتی ہے کہ مسلم عوامی نمائندے غیر مسلموں کے مسائل اٹھائیں اور غیر مسلم عوامی نمائندے مسلمانوں کے مسائل اٹھائیں۔ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ مگر ایسا بھی نہیں ہورہاہے۔ اس لئے مسلمانوں میں حکومت سے مایوسی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے نمائندوں سے بھی ناراض ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسرے فرقہ اور طبقہ عوامی نمائندہ اپنے مسائل کو جانتے بھی ہیں اور اس پر متحدہ موقف بھی اپناتے ہیں۔ وہ پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی بات حکومت سے منوالیتے ہیں۔ مگر مسلم عوامی نمائندے وہ بھی نہیں کرپارہے ہیں۔
ریاست میں بہت ساری مرکزی اور ریاستی فلاحی اسکیمیں چل رہی ہیں مگر ان میں سے کسی میں بھی مسلمانوں کو آبادی کے تناسب میں تو کیا، آنٹے میں نمک کے برابر بھی نمائندگی نہیں مل رہی ہے۔ مگر کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں ہے۔ خود حکومت کے سربراہ کو بھی کوئی فکر نہیں ہے۔ حکومت کی ساری توجہ 7عزائم کی تکمیل پر ہیں۔ بے شک اس کا فائدہ سب کو پہنچنے والا ہے۔ مگر کچھ خاص مسائل اقلیتوں اور دلتوں کے ہیں، ان پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ دلتوں پر تو حکومت کا پورا دھیان ہے۔ مگر اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں پر کوئی دھیان نہیں ہے۔ انہیں یہ بات سمجھانے والا کوئی نہیں ہے کہ دلتوں کی طرح اقلیت بھی اس ریاست اور ملک کا حصہ ہے اور ان کا بھی اس ملک کے وسائل پر برابر کا حصہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *