ملیشیانے ڈاکٹرذاکرنائک کوہندوستان بھیجنے سے کیاانکار

dr-zakir-naik
متنازع اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملیشیاسرکارنے ہندوستان کے حوالے کرنے سے انکارکردیاہے۔نیوزایجنسی اے این آئی کے مطابق،ملیشیاکے وزیراعظم مہاترمحمدنے آج کہاکہ ڈاکٹرذاکرنائک ہندوستان نہیں بھیجاجائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق، ایک پریس کانفرنس کے درمیان مہاتیر محمد نے کہا کہ جب تک ہمارے ملک میں ذاکر نائیک کوئی پریشانی نہیں کھڑا کرتے ہیں ، ہم انہیں ہندوستان واپس نہیں بھیجیں گے ، کیونکہ نائیک کو ملیشیا کی شہریت ملی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز میڈیامیں خبرگشت کررہی تھی کہ اسلامک اسکالرڈاکٹرذاکرنائک کوآج ہندوستان لایاجاسکتاہے۔بتایاجارہاتھا کہ ملیشیا سرکار ذاکرنائک کوحکومت ہندکوسونپنے کے لئے راضی ہوگئی ہے۔اسے آج رات کوالالمپورسے ممبئی لایاجائے گا۔حالانکہ، اس بیچ نیوزایجنسی اے این آئی کے مطابق، ڈاکٹرذاکرنائک نے ایک بیان جاری کرکے کہاتھا کہ اس کے ہندوستان آنے کی خبرپوری طرح افواہ اورجھوٹی ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ ڈاکٹرذاکرنائک کوہندوستان میں جانبدارانہ طریقے سے مقدمہ چلائے جانے کا ڈرہے، اورجب تک یہ ڈرختم نہیں ہوجاتا، وہ ہندوستان نہیں لوٹے گا۔ذاکرنائک کے مطابق، جب اسے محسوس ہوگاکہ سرکارغیرجانبداراورمنصفانہ رہے گی، وہ اپنے مادروطن ضرورلوٹے گا۔
یادرہے کہ ڈاکٹرذاکرنائک پرالزام ہے کہ انہوں نے بھڑکاؤ تقریرکے ذریعہ سے نفرت پھیلائی۔ ذاکر نائیک نے 2016 میں ہندوستان چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خلاف این آئی اے اور ای ڈی جانچ کررہی ہے۔ ان کے خلاف ٹیرر فنڈنگ ، متنازع تقریر اور منی لانڈرنگ سمیت کئی سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔یہ بھی کہاجاتاہے کہ سال 2016میں بنگلہ دیش کے ڈھاکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں شامل آئی ایس آئی ایس کے دہشت گردذاکرنائک کے تقریروں سے متاثرتھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *