ڈاکٹرذاکرنائک معاملے پرملیشیاسرکارمیں پھوٹ

naik
اسلامی اسکالرڈاکٹرذاکرنائک کے حوالگی سے انکارپرملیشیائی انسانی وسائل وزیرنے اپنی سرکارکی تنقیدکی ہے۔میڈیاپورٹس کے مطابق، انسانی وسائل وزیرنے کابینہ کی میٹنگ میں ڈاکٹرذاکرنائک کے حوالگی کولیکرسرکارکونصیحت دی ہے۔انہو ں نے کہاہے کہ سرکارقوانین پرعمل کرتے ہوئے ذاکرنائک کوحوالگی کرکے ہندوستان بھیج دیناچاہئے۔انہو ں نے ملیشیاکے وزیراعظم مہاترمحمدکوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ کسی ایک شخص کواس متعلق میں فیصلہ لینے کا حق نہیں ہے۔ یہ سرکارکیلئے ٹھیک نہیں ہے۔گویاایک طرح سے نائک معاملے پرپھوٹ پڑگئے ہیںملائشیائی انسانی وسائل کے وزیرایم کلزیگران نے کہا ہے کہ ایسے معاملات میں ملکی قوانین کے مطابق قدم اٹھایا جائے۔ کوئی انفرادی شخص یا حکومت یہ طے نہیں کرسکتی کہ ذاکر نائک کو جو انفورسمینٹ ڈائرکٹوریٹ کو مطلوب ہیں، ہندوستان کے حوالے کیا جائے یانہیں۔مقامی میڈیا نے وزیرموصوف کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’’اہم بات یہ ہے کہ حکومت ہند (نائک کی واپسی کی) درخواست کرے۔‘‘گووند سنگ دیو اور زیویر جے کمار نامی دو دیگر وزیروں نے بھی کابینی میٹنگ میں اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ یہ میٹنگ بدھ کو ہوئی تھی۔ مسٹر کلزیگراں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’میں ملائشیائی لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جب بھی ہندوستان جانا ہوگا میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے ان سے بھی اس بابت بات کروں گا۔‘‘
بہرکیف ملائشیائی راجدھانی میں یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ بعض وزیروں نے کابینی میٹنگ میں اس معاملے کو اٹھایا ہے اور یہ اصرار کیا ہے کہ کوئی بھی انفرادی طور پر یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ انہیں ملک بدر کیا جائے یا نہیں۔ادھرملائشیائی وزیر کے اس بیان سے چند گھنٹوں قبل دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا تھا کہ نائک کی حوالگی کی ہندوستان کی درخواست ملائشیائی حکام کے نزدیک زیر غور ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *