خواتین کا امپاورمنٹ مسلم تنظیمیں بھی مجرم

ان دنوں ہندوستان میں مسلمانوں کی کم و بیش ڈیڑھ درجن بڑی سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں ہیں مگر معدودے چند کو چھوڑ کر ان میں تنظیمی سطحوں پر خواتین ندارد ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟کیا مذہبی یا شرعی طور پر ان تنظیموں میں خواتین کی شمولیت پر ممانعت ہے یا ان تنظیموں کی پالیسی ساز باڈیوں میںان کی موجودگی پر کوئی روک ہے؟ملک و ملت کی تعمیر نو اور اصلاح میں خواتین کاان تنظیموں میں کوئی رول کیوں نہیں ہے؟
سیاسی مسلم تنظیمیں
کل تقریبا ڈیڑھ درجن بڑی تنظیموں میں ایک درجن کے قریب سیاسی ہیں۔ان میں انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) ، آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف )، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم )، پیس پارٹی آف انڈیا، راشٹریہ علماء کونسل ، مسلم مجلس یوپی، اتحاد ملت کونسل، مسلم پالٹیکل کونسل آف انڈیا، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، منی تھیا مکل کچی (ایم کے کے ) ، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ( ایس ڈی پی آئی ) اور جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) اور نیشنل کانفرنس (این سی ) قابل ذکر ہیں۔
مگر جموں و کشمیر کی مذکورہ بالا دونوں سیاسی پارٹیوں کو چھوڑ کر صرف ایک ہی سیاسی پارٹی مسلم لیگ ہے جس میں صرف ایک لاکھ خواتین ارکان ہی نہیں بلکہ اس کی پالیسی ساز باڈیز میں بھی خواتین شامل ہیں۔ سال رواںکے اوائل میں پارٹی کے اندر خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر انہیں تنظیم کے اندر متناسب نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا اور پھر پارٹی کی 60 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز باڈی اسٹیٹ سکریٹریٹ میں تین خواتین قمر النساء انوار، نور بینا رشید اور کے پی مری یومّا کو شامل کیا گیا۔ ویسے ریاستی ورکنگ کمیٹی میں خواتین پہلے سے موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اس کا الگ سے ویمن ونگ بھی ہے۔
ان تفصیلات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم سیاسی پارٹیوں میں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی میں مسلم خواتین کے لئے کوئی خصوصی ایجنڈا نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اس ایک پارٹی کی پالیسی ساز باڈی میں انہیں نمائندگی تو ملی مگر پورے 60 برس میں کوئی بھی خاتون پارلیمنٹ یا اسمبلی نہیں پہنچی۔ یعنی مسلم خواتین کا سیاسی امپاورمنٹ مسلم سیاسی پاریٹوں کے پلیٹ فارم سے سوچا ہی نہیں گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف مسلم سیاسی پارٹیوں کی تنگ سوچ یا عدم وسعت نظری کی وجہ سے مسلم خواتین سیاسی طور پر ڈس امپاور بنی رہیں، وہیں دوسری طرف پورے 70 برس میں دیگر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے محض 18 مسلم خواتین ٹکٹ حاصل کرکے پارلیمنٹ پہنچ پائیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں مسلم خواتین کی 70 برس میں اس ناقابل ذکر تعداد پر نہ مسلم ؛سیاسی پارٹیوں اور نہ ہی دیگر سیاسی پارٹیوں کو سوچنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب پارلیمنٹ میں خواتین کے 33 فیصد ریزرویشن کے بات ہوتی ہے تو اس میںمسلم خواتین کے لئے کوٹا در کوٹا کا ایشو بھی مسلم یادیگر پارٹیاں نہیں اٹھاتی ہیں۔حالانکہ چونکانے والا امریہ ہے کہ 1952 سے لے کر 2014 تک کل 603 منتخب خاتون ارکان لوک سبھا میں مسلم خواتین محض 2.9 فیصد اور پارلیمانی تاریخ میں کل 8449 اراکین لوک سبھامیں مسلم خواتین محض 0.2فیصد ہیں۔
یہاں یہ تذکرہ بھی بے محل نہ ہوگا کہ آزادی کے بعد 70 برس میں کسی دیگر پارٹیوں کے ٹکٹ پر ہی مسلم خواتین منتخب ہوکر پارلیمنٹ پہنچی ہیں ۔اس تلخ حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ آزادی کے بعد اقتدار میں سب سے زیادہ لمبے عرصے تک رہنے والی کانگریس نے صرف دس مسلم خواتین کو لوک سبھا میں بھیجا ہے جبکہ سیاسی پارٹیوں میں بہوجن سماج پارٹی، نیشنل کانفرنس اور ترنمول کانگریس کی دو دو اور سماج وادی پارٹی نیز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک ایک رکن پارلیمنٹ ایوان زیریں میں پہنچ پائی ہیں۔ وہیں یہ بات بھی چونکانے والی ہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری اور فیڈرل ڈھانچے کے ملک میں مسلم خواتین کی 70 برسوں میں مذکورہ نمائندگی 29ریاستوں میں سے صرف 6 ریاستوں اترپردیش، مدھیہ پردیش، آسام، مغربی بنگال، جموں و کشمیر اور گجرات سے ممکن ہو پائی ہے۔ یہ بات یقینا قابل غور ہے کہ اتنی ساری سیاسی پارٹیوں بشمول مسلم سیاسی پارٹیوں اور 29 ریاستوں نیز 7 یونین ٹیری ٹوریز کے درمیان صرف 6 ریاستیں ہی مسلم کمیونٹی کی خواتین کو امپاور کرنے کے لئے لوک سبھا میں بھیج پائیں جبکہ دیگر 23 ریاستوں اور 7یونین ٹیری ٹوریز میں مسلم خواتین کی آبادی ناقابل شمار ہر گز نہیں ہے۔
جہاں تک 16 لو ک سبھائوں میں کل مسلم نمائندگی بشمول مسلم خواتین کا سوال ہے، پہلی لوک سبھا میں 22، دوسری میں 19، تیسری میں 26 ،چوتھی میں 28، پانچویں میں 32، چھٹی میں 33، ساتویں میں 51، آٹھویں میں 48، نویں میں 31،دسویں میں 21،گیارہویں میں 24، بارہویں میں 27 ، تیرہویں میں 30،چودہویں میں32 ، پندرہویں میں 30 اور سولہویں لوک سبھا میں 23 مسلمان منتخب ہوکر آئے ہیں۔70 برسوں میں ان کی کل تعداد 477 ہوتی ہے۔
یہ تو حال ہے مسلم سیاسی تنظیموں میں خواتین کا اور اسی کے ساتھ ساتھ مسلم سیاسی تنظیموں کی خواتین سے مجموعی طور پر بے رخی اور عدم دلچسپی کا۔یہ تو غنیمت ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کی برائے نام دلچسپی کے سبب آزادہندوستان کے 70برسوں میں کم سے کم 18 مسلم خواتین لوک سبھا میں منتخب ہوکر پہنچ پائیں۔

 

 

 

 

غیر سیاسی مسلم تنظیمیں
اب آئیے، ذرا جائزہ لیں غیر سیاسی مسلم تنظیموں کا۔ اس وقت ملت کی جوبڑی باوقار قابل ذکر تنظیمیں ہیں، ان میں جمعیت علماء ہند (ارشد مدنی ) ، جمعیت علماء ہند (محمود مدنی )، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا ملی کونسل اورتھینک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس )شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شیعہ اور بوہرہ طبقوں میں بھی متعدد تنظیمیں سرگرم اور فعال ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں مسلم تنظیموں ، اداروں اور شخصیات کے 54 سالہ وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بھی ہیں۔
یہ امر بھی کم چونکانے والا نہیں ہے کہ جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا ملی کونسل، انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز ، آل انڈیامسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی مسلم تنظیموں کے وفاق کو چھوڑ کر دونوں جمعیت علماء ہند اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند جیسی قدیم، پر وقار اور تعداد کے لحاظ سے بڑی تنظیموں کے ڈھانچہ میں خواتین کو دور رکھا گیاہے۔یہ نہ اس کی رکنیت اور نہ ہی اس کی فیصلہ ساز باڈیز میں کہیں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ان تنظیموں کے مختلف ذمہ داروں سے بات کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ اس تعلق سے بچتے رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے یہ بات تو کھل کر سامنے آہی گئی کہ ابتدا ہی سے خواتین کو ان تنظیموں سے دور رکھا گیا ہے۔ ان تنظیموں کے دستوروں میں بھی خواتین کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔البتہ ان کے بڑے جلسوں اور میٹنگوں میں تقریروں اور وعظ و نصیحت کو سننے کے لئے خواتین کو ضرور بلایا جاتاہے اور الگ سے پردے کا اہتمام کرتے ہوئے انہیں ان جلسوں اور میٹنگوں میں شرکت کرایاجاتا ہے۔ویسے ان کے بعض ذمہ داروں سے جب یہ دریافت کیا گیاکہ کیا خواتین کو ان تنظیموں کے ڈھانچوں اور سرگرمیوں سے دور رکھنے کا سبب مذہبی ؍شرعی طور پر ممانعت ہے تو نام نہ شائع کرنے کی شرط پر یہ کہا گیاکہ شرعی طور پر ایسی کوئی مما نعت نہیں ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ مسلم تنظیمیں خواتین کے مسائل اور ایشوز سے دلچسپی رکھتی ہیں مگر اس عمل میں خواتین کو شریک یا شامل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
یہ تینوں تنظیمیں مسلم تنظیموں میں سب سے قدیم ہیں اور تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑی بھی ہیں۔خواتین کو ان کے تنظیمی ڈھانچوں اور عمل دخل سے دور رکھنا یقینا ملک و ملت کا بڑا نقصان ہے۔ اس پر ان تنظیموں کے ذمہ داران کو غور و فکر کرنا چاہئے۔ کیونکہ ملت میں خواتین کی تعداد کم و بیش نصف تو ہے ہی۔ لہٰذا ان کے مسائل اور ایشوز پر غور و فکر کے لئے ان تنظیموں میں خواتین کی شمولیت تو ضروری ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہوجاتی ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس سلسلے میں مسلم خواتین کو خود ہی اس ایشو کو اٹھانا ہوگا اور ان تنظیموں کے ذمہ داروں سے بات چیت کرنی ہوگی۔ تبھی ضرورت اور نصح و خیر خواہی کے جذبے سے یہ بڑی اور قدیم تنظیموں کا جز لاینفک بن کر اس کے پلیٹ فارم سے خواتین کے ایشوز کو اٹھا پائیں گی اور مسلم خواتین کے امپاورمنٹ میں نمایاں رول ادا کرپائیںگی۔
معدودے چند سنجیدہ تنظیمیں
مسلم کمیونٹی میں جو غیر سیاسی تنظیمیں اور ادارے خواتین کی تنظیموں میں شرکت، اپنی فیصلہ ساز باڈیوں میں ان کی نمائندگی اور ان کی سرگرمیوں اور عمل و دخل کے تعلق سے سنجیدہ اور حساس ہیں، ان میں جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا ملی کونسل، انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز ، آل انڈیامسلم مجلس مشاورت ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ قابل ذکر ہیں۔
ان تمام مذکورہ بالا غیر سیاسی مسلم تنظیموں میں جماعت اسلامی ہند تقسیم وطن کے بعد سب سے قدیم اور ملک گیر ہے۔یہ کیڈر بیسڈ بھی ہے۔اقامت دین اس کا نصب العین ہے ۔ تنظیم کے اندر شورائی نظام ہونے کے سبب پوری تنظیم جمہوری مزاج رکھتی ہے۔ اسی بنیاد پر یہ کہا جاتاہے کہ مسلمانوں کی تنظیموں میں جماعت اسلامی ہند واحد ایسی تنظیم ہے جہاں مکمل طور پر جمہوریت قائم ہے ۔دستور جماعت اسلامی ہند میں جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے، ہر سطح پر یعنی مقامی، حلقہ اور مرکز میں خواتین کے شعبے موجود ہیں۔ مرکز اور ہر حلقہ میں سکریٹری کے ساتھ مشاورتی کمیٹی ہے۔ مرکز میں 7سکریٹریوں میں سے ایک خاتون ہیں۔ یہ نانڈیر (مہاراشٹر ) کی عطیہ صدیقہ ہیں۔ جماعت میں کل 10ہزار 56ارکان میں 1955 خواتین ہیں جبکہ اس کی 146 رکنی مجلس نمائندگا میں کل 22 (15فیصد) خواتین ہیں۔ ضابطے کے مطابق، الگ الگ 70 ارکان پر ایک ایک ایک مرد و خاتون منتخب ہوتے ہیں۔ فی الوقت مرکزی مجلس شوریٰ میں کوئی خاتون رکن نہیں ہیں مگر یہ خصوصی مدعوئین کے طور پر مرکزی مجلس شوریٰ کی میٹنگوں میں بلائی جاتی ہیں۔ویسے مرکزی مجلس شوریٰ میں ان کے منتخب ہونے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔یہ منتخب ہوکر وہاں پہنچ سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں پورے ملک میں 20حلقوں میں 20 ناظمہ ہیں اور 7 حلقوں میں خواتین وہاں کی شوریٰ میں موجود ہیں۔مثال کے طور پر تلنگانہ میں ناصرہ خانم ، کرناٹک میں ساجدہ النساء اور امۃ الرزاق ،کیرل میں رحمت النساء اور زہریٰ کے کے، تمل ناڈو میں امتہ الوحید فاخرہ ،گجرات میں عارفہ پروین، بنگال میں نعیمہ انصاری اور راجستھان میں ناصرہ زبیری حلقہ ؍ ریاست کی شوریٰ کی ارکان ہیں۔ دیگر حلقوں کی شوریٰ میں یہ خصوصی مدعوئین کے طور پر بلائی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ جماعت کی طلباء تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن ( ایس آئی او ) کی طرح طالبات کی علاحدہ تنظیم گرلز اسلامک آرگنائزیشن ( جی آئی او ) بھی قائم ہے اور یہ 20حلقوں میں سے بیشتر میں پائی جاتی ہے ۔
جماعت اسلامی ہند واحد تنظیم ہے جس میں خواتین صحیح معنوں میںامپاورڈ ہیں اور تنظیم کے جز کے طور پر سرگرم عمل ہیں۔ تنظیم کے اندر ان کا اپنا نظم بھی قائم ہے جو کہ مرکز ی اور مقامی سطح تک ہے۔یہ امتیاز مسلم کمیونٹی میں دوسری کسی تنظیم کو حاصل نہیں ہے۔ منتخب ارکان مجلس نمائندگان برائے میقات اپریل 2015 تا 2019 کی فہرست کی روشنی میں کل 146 ارکان میں جو 22خواتین ارکان ہیں، وہ حلقہ بنگال سے ریحانہ سلطانہ، حلقہ اترپردیش مشرق سے تسنیم نزہت، حلقہ اترپردیش مغرب سے رافعہ شمسی، حلقہ راجستھان سے ناصرہ زبیری، حلقہ مدھیہ پردیش سے ماہ ناز اسماعیل ، حلقہ مہاراشٹر سے عطیہ صدیقہ، منیرہ خانم اور بشریٰ ناہید ، حلقہ تلنگانہ و اڈیسہ سے ناصرہ خانم ، زبیدہ بیگم ، نسیم سلطانہ،سیدہ ساجدہ بیگم، خورشید فرزانہ اور خالدہ پروین، حلقہ آندھرا پردیش سے خورشید جہاں، حلقہ کرناٹک سے ساجدہ النساء اور امۃ الرزاق ، حلقہ تمل ناڈو و پانڈیچری سے امۃ الوحید فاخرہ اور حلقہ کیرل اورانڈمان سے زہریٰ کے کے، پی وی رحیمہ بی، عائشہ ای سی اور کے صفیہ علی ہیں۔سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہند محمد سلیم انجینئر اپنی تنظیم میں خواتین کو اہمیت دینے کی ضرورت پر زور ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ جماعت پورے معاشرے میں ایک انقلاب لانا چاہتی ہے اور وہ انقلاب خواتین کو بغیر ساتھ لئے اور ان کے فعال کردار کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جماعت نے 1956 میں باضابطہ دستور بنتے وقت اس کا خیال رکھا کہ جماعت کی رکنیت میں مرد و خواتین میں کوئی امتیاز نہ ہو اور پھر 2003 کے بعد باقاعدہ ان کی نمائندگی کو مجلس نمائندگان میں یقینی بنایا گیا جبکہ اس سے پہلے بھی جن حلقوں میں خواتین کا کام اچھا تھا، وہاں خواتین منتخب ہوکر نمائندگان اور حلقوں کی شوریٰ میں آتی رہی تھیں۔ البتہ مرکزی مجلس شوریٰ میں خواتین کے منتخب نہ ہونے کی صورت میں انہیں خصوصی مدعوین کے تحت شوریٰ کے اجلاس میں شریک کرایا جاتاہے۔
ان تمام تفصیلات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جماعت کے اندر شورائی ؍جمہوری نظام پوری طرح قائم ہے اور یہ اسی کے ساتھ ساتھ خواتین کے امپاورمنٹ کے لئے سنجیدہ اور یکسوبھی ہے۔ نیز ان کا امپاورمنٹ ان ہی کے ذریعے چاہتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب خواتین امپاور ہوں گی تو پورے معاشرے کو امپاور کرنے کے لئے خود ہی اہم کردار ادا کرپائیںگی۔ جماعت کے خواتین کے تعلق سے یہ اقدام یقینا ملک و ملت کے لئے قابل تقلید ہے۔اگر یہ رجحان ملت اسلامیہ ہند کی دیگر تنظیموں میں بھی پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے تو خواتین کے امپاورمنٹ کی کوشش میں یہ عمل بہت ہی معاون و مددگار ثابت ہوگا۔

 

 

 

 

 

ویسے یہ رجحان دیگر غیر سیاسی تنظیموں میں کچھ نہ کچھ دیکھنے کو ملنے لگا ہے ۔ مثال کے طور پر آل انڈیا ملی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز کو ہی لیں۔ اس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم کہتے ہیں کہ دو برس قبل آل انڈیا ملی کونسل کے دستور میں اضافہ کرکے علاحدہ ویمن ونگ کا فیصلہ کیا گیا ۔اس اضافہ کے بعد میسور میں ویمن ونگ بنانے کا پہلا فیصلہ ہوا۔ ویسے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جغرافیہ کی پروفیسر داکٹر حسینہ ہاشیہ ابتدا سے ملی کونسل کی رکن ہیں۔ ڈاکٹر عالم یہ بھی کہتے ہیں کہ خواتین کی تنظیمی طور پر شمولیت پر کوئی ممانعت تو کہیں نہیں ہے مگر ماضی کے ٹریڈیشن کے غلبہ کے سبب خواتین مسلم تنظیموں میں بہت کم دکھائی دیتی ہیں اور کچھ تنظیموں میں موجود نہیں بھی ہیں۔ ان کے مطابق، ویمن ونگ کے مکمل ہونے پر خواتین میں سے کسی کو ملی کونسل کا باضابطہ سکریٹری بھی بنایاجاسکتاہے۔ فی الوقت ملی کونسل میں 300 اساسی ارکان ہیں۔
اسی طرح آئی او ایس میں بھی یہ رجحان دکھائی دیتاہے۔ اس کی 100رکنی جنرل باڈی میں دس خواتین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں گورننگ کونسل میں دو خواتین ڈاکٹر حسینہ ہاشیہ اور وزارت رورل پلاننگ کی فرحت آزاد ہیں ۔فی الحال تنظیمی ذمہ داروں میں کوئی خاتون نہیں ہیں۔ ویسے کارکنان میں تین خواتین موجود ہیں۔
آئی او ایس چیئر مین ڈاکٹر محمد منظور عالم کے مطابق، تقریباً پانچ برس قبل کالیکٹ ( کیرل ) میں آئی او ایس کے سینٹر فار ویمن اسٹڈیز کا قیام عمل میں آیا ہے تاکہ ویمن اسٹڈیز پر فوکس کیا جاسکے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کاٹارگٹ خواتین کی مخصوص یونیورسٹی کا قیام بھی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں خواتین کے مختلف امور پر بھی تحقیقی کام ہوا ہے جس میں ویمن امپاورمنٹ کا اہم و ضخیم کام بھی شامل ہے۔ نیز خواتین کے ایشوز پرد و عالمی اور چار پانچ قومی کانفرنسیں بھی ہوچکی ہیں۔پیپل فرنٹ آف انڈیا کی بھی ویمن ونگ ہے جس کی قومی صدر اے ایس سینبا ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ برس ایک معروف بزنس تائیکون،حقوق انسانی کارکن، ہیرا گروپ کی بانی اور سی ای او ڈاکٹر نوہیرہ شیخ نے آل انڈیا مہیلاامپاورمنٹ پارٹی ( اے آئی ایم ای پی ) کے نام سے خواتین کی ایک نئی مخصوص سیاسی پارٹی قائم کی ہے۔ اس پارٹی نے کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا مگر رزلٹ مایوس کن رہا۔ اس تنظیم کا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میںخواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن متعین ہو مگر یہ مسلم خواتین کے مخصوص کوٹا در کوٹا پر خاموش ہے۔
مسلم تنظیموں کے 54سالہ وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں کل 216 ارکان ہیں جن میں محض پانچ خواتین ہیں۔ 2016 تک اس میں 216 ارکان میں صرف دو خواتین نصرت شیروانی اور عظمی ناہید تھیں۔ تب نوید حامد کے صدر بننے کے بعد مزید تین ممدوحہ ماجد، رکن مجلس عاملہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، بدر سعید، تمل ناڈو کی سابق ایم ایل اے اور ملک کی کسی ریاست میں وقف بورڈ کی اولین چیئر پرسن اور نکہت فاطمہ کی اس میں شمولیت ہوئی ۔بعد ازاںمسلم پرسنل لاء بورڈ کی سابق رکن اور مولانا محمد سالم قاسمی کی صاحبزادی عظمٰی ناہیدمشاورت کی 20 رکنی مجلس عاملہ کی منتخب رکن اور نائب صدر بنیں۔ یہ یقینا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ 46 سالہ وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں کل 251 ارکان ہیں جن میں خواتین 30 ہیں اور 51 کی مجلس عاملہ میں 5سیٹیں خواتین کے لئے ریزرو ہیں۔مجلس عاملہ کی یہ پانچوں ارکان یہ اسماء زہریٰ، نور جہاں شکیل، ممدوحہ ماجد ، پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی اور صبیحہ صدیقی ہیں۔ دو برس قبل بورڈ نے ویمن ونگ بنایا جس کی کنوینر اسماء زہریٰ ہیں۔بہر حال آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ میں خواتین کی حیثیت سے مطمئن نہ ہونا آل انڈیا مسلم ویمن مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کا سبب بنا۔ اس کی بانی صدر شائستہ عنبر کہتی ہیں کہ فروری 2005 میںمسلم خواتین کا مخصوص بورڈ اسی لئے وجود میں لایا گیا ۔فی الوقت اس میں 25ایگزیکٹیو س ہیں اور دو نائب صدور عافیہ خاں،عالمہ اور ناز افشاں رضوی ، شیعہ دانشور کے علاوہ جنرل سکریٹری عائشہ سنبل ہیں۔
مسلم تنظیموں کی ذمہ داریاں
ان تمام تجزیئے سے چند تلخ حقائق سامنے آتے ہیں جنہیں ہم ہر گز نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ دراصل تقسیم وطن کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کا ہمہ جہتی امپاورمنٹ گرما گرم اور اہم موضوع رہا ہے۔ اس پر ہر پارٹی سیاسی روٹیاں سینکتی ہے لیکن سچر کمیٹی رپورٹ نے ان کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے۔ یہ درحقیقت مسلمانوں کی سیاسی، معاشی و تعلیمی زبوں حالی کا سچا اور معتبر رپورٹ کارڈ ہے جس میں ہر پارٹی اور سرکار اپنا نامۂ اعمال دیکھ سکتی ہے۔سوچا اور سمجھا جاسکتاہے کہ جب پورے مسلم سماج کی یہ صورت ھال ہے تو پھر مسلم خواتین کس مقام پر کھڑی ہوں گی۔ یہاں فطری طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ سرکار نے اپنے آئینی و قانونی فرائض انجام دینے میں سنگین کوتاہیاں کیں لیکن کیا مسلم سماج نے خود اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور کیا اس نے بحیثیت مجموعی اور خصوصاً مسلم خواتین کے وہ حقوق ادا کرانے کی کوشش کی جس کی تاکید و رہنمائی اسلام کرتا ہے۔ ان سیاسی اور دینی تنظیموں میں سے بیشتر نے جن کا قیام ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے ہوا ہے، انہوں نے مسلم خواتین کو سیاسی ، معاشرتی ، خانگی اور معاشی طور پر امپاور کرنے کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے۔
افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ معدودے چند مسلم تنظیموں کو چھوڑ کر بہت مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے۔یقینا یہ مجرمانہ کوتاہی ہے۔ سرکار کی اپنی ذمہ داری اپنی جگہ لیکن ان تنظیموں کو آئینہ میں اپنا چہرہ بھی دیکھنا چاہئے۔ اس بات کا غیر جانبداری سے حقائق پر مبنی جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے کہ مسلم سماج کو درپایش چیلنجوں میں زیادہ تر یہ بھی ہے کہ اس نے مسلم خواتین کو ہر محاذ پر پسماندگی کا شکار بنا دیا ہے۔ مسلم تنظیموں کو یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ یہ صرف پروپیگنڈہ اور الزام نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے ۔لہٰذا اس کے تدارک کے لئے ٹھوس و عملی اقدامات کرنا وقت کی ضرورت اور اہم تقاضہ بھی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *