امام کی تنخواہ عام مزدور سے بھی کم کیوں ؟

جب کوئی مذہبی کام ہوتو اس وقت محلے کی مسجد کے امام کو یاد کیا جاتا ہے۔جنازہ پڑھانا ہو ، ،قرآن خوانی کرانی ہو، نومولود بچے کے کان میں اذان دینی ہے ، نکاح پڑھوانا ہے تو اس وقت امام صاحب کو بلایا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ان کی خوب عزت بھی کی جاتی ہے لیکن جب اسی امام کی تنخواہ کی بات آتی ہے تو ہم معاشرے کے سب سے نچلی سطح پر انہیں رکھتے ہیں۔مساجد میں 24گھنٹوں تک ڈیوٹی کرنے والے ان اماموں کی تنخواہ ایک عام مزدور سے بھی کم ہوتی ہے۔
اگر کسی پینٹر کو دہاڑی پر لائیں،کسی کارپینٹر کو گھر پر کام کرنے کے لئے بلائیں تو وہ 5-6 سو یومیہ سے کم نہیں لیتا ہے ۔یہی نہیں وہ گھنٹے کے حساب سے 8 گھنٹے ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد اپنی پوری مزدوری لیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ مگر 24 گھنٹے تک ڈیوٹی پر تعینات رہنے والے امام کے لئے جب تنخواہ مقرر کرنے کی بات آتی ہے تو عام مزدور سے بھی کم تنخواہ دی جاتی ہے۔قومی راجدھانی دہلی میں حکومت کی طرف سے مزدوری کرنے والوں کی جو تنخواہ مقرر کی گئی ہے ،ایک امام کی تنخواہ اس سے بھی کم ہوتی ہے۔
دہلی حکومت کا فیصلہ
دہلی حکومت کی طرف سے ہوئے فیصلے کے مطابق نچلے درجہ کے مزدور کو 13350 روپے ماہانہ،درمیانہ کو 14698 روپے اور اول درجہ کے ورکر کو 16182 روپے ہے جبکہ ایک حافظ، مفتی، مولوی جسے یہ تمام علوم حاصل کرنے میں 10 سے 15 سال کا وقت لگتاہے ،ان کی تنخواہ اس مقررہ معیار سے بہت کم ہوتی ہے۔ دہلی وقف بورڈ اپنے امام کو دس ہزار روپے تنخواہ دیتا ہے جو کہ ایک نچلے درجے کے مزدور سے بھی کم ہے ۔یہی نہیں ، جہاں امام مساجد کی منتظمہ کمیٹی کے زیر اثر ہوتے ہیں وہاں تو اور بھی برا حال ہے۔ شاید ہی ایسی کوئی مسجد ہو جہاں امام کو دس ہزار سے زیادہ تنخواہ ملتی ہو۔ حد تو یہ ہے کہ کروڑوں کے بجٹ سے قائم مساجد میں بھی ائمہ کی تنخواہوں کی حالت بہت بہتر نہیں ہے۔گائوں اور دیہات کی مسجدوں کی بات تو دور ،راجدھانی دہلی کی مساجد کے احوال بھی اسی سے ملتے جلتے ہیں۔
اگر امام صاحبان کا تقابل سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کرام سے کریں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ ٹیچر کی تنخواہ امام مسجد سے پانچ گنازیادہ ہے۔ اس وقت بھی ایک عام ٹیچر کی تنخواہ 50 سے60 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔جبکہ امام صاحب کی تنخواہ اس کی چوتھائی بھی نہیں۔اس کے علاوہ ٹیچر یا دیگر سرکاری ملازمین کو متعدد سہولتیں فراہم ہوتی ہیں ۔انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد تاحیات پنشن ملتی ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت بھی۔ لیکن امام صاحب اگربوڑھے ہوجائیں یا کسی بیماری کی وجہ سے معذورہوجائیں اور امامت کے قابل نہ رہیں تو انہیں اپنااور بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے در در بھٹکنا پڑتا ہے ۔خدانخواستہ اگر موت واقع ہوجائے تو ان کے لواحقین کے سر پر ہاتھ رکھنیکے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا گویا امام مسجد ہر جگہ معاشرے کے بے رحمانہ رویے کا شکار رہتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا 1993 کا فیصلہاماموں سے حکومت کی بے اعتنائی اور ان کی خستہ حالی کو دیکھتے ہوئے ہی 13 مئی1993 میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلہ میں کہا تھا کہ امام چونکہ24 گھنٹے ڈیوتی کر تے ہیں اور وہ اپنی قوم کے مذہبی لیڈر ہوتے ہیں ، اس لئے ا نہیں فرسٹ کلاس سرکاری آفیسر کا درجہ دیتے ہوئے اسی کے مطابق تنخواہ دی جانی چاہے ۔مگر آج تک سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر عمل نہیں ہوسکا جبکہ 2011 میں پارلیمنٹ میںتین بڑی پارٹیوں کے لیڈران نے اس معاملہ پر بحث بھی کی تھی۔ 2010 میں لوک سبھا کے اندر وقفہ صفر میں راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو پرشاد یادو نے حکومت سے اس بات کی یقین دہانی چاہی تھی کہ 1993 میں سپریم کورٹ نے ائمہ کی تنخواہوں کو سرکاری گریڈ کے مطابق دینے کی جو بات کہی تھی ، اس پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ کیاہے؟ اس پر لیڈر آف دی ہائوس پرنب مکھرجی نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ائمہ کی تنخواہوں کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ مگر زمینی سطح پر سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر نہ تو کانگریس نے عمل کیا اور نہ ہی بعد میں آنے والی بی جے پی کی سرکار نے کوئی توجہ دی۔

 

ضرور پڑھیں

کیا پی ڈی پی روبہ زوال ہے؟

 

 

ریاستوں میں حالت اور بدتر
کچھ ریاستیں تو ایسی ہیں جہاں آج بھی ان اماموں کی تنخواہ دو سے تین ہزار کے درمیان ہی ہے۔ ایسی ریاستوں میں مدھیہ پردیش شامل ہے جو اپنے مساجد کے ائمہ کوانتہائی کم تنخواہ دیتی ہے۔وہاں کی متعدد مسلم تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ ریاستی حکومت مسلم مفاد کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے جوفرمان جاری کیا تھا اس کے مطابق آئمہ کو پانچ ہزار چار سو روپیہ اورموذنین کو چار ہزار چار سو روپیہ ماہانہ ادا کیا جانا تھا ۔ اگر حکومت اس وقت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ان کی تنخواہ نافذ کردیتی تو آج تقریبا 25 سال میں ائمہ کی تنخواہیں سرکاری ملازمین کی طرح بڑھتے ہوئے اتنی ضرور ہوجاتی جس سے یہ اپنا گزر بسر آسانی کے ساتھ کرسکتے تھے۔کئی ریاستوں کے کئی وقف بورڈ نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ اس کی وقف جائیداد سے اتنی آمدنی نہیں ہے جس سے وہ اماموں کی تنخواہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق دے سکے۔اسی لئے وہ اس کو نافذ کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ عذر کسی حد تک درست بھی ہوسکتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 19 ریاستوں میں وقف کی بڑی بڑی جائیدادوں پر یا تو سرکاری ادارے، زمین مافیا یا کرایہ داروں نے قبضہ کررکھا ہے ۔اب ان کاکرایہ نہ تو سرکاری ادارے ادا کررہے ہیں اور نہ ہی مافیاگروپ زمین واپس کررہے ہیں اور نہ ہی کرایہ دار کرایہ میں اضافہ کررہے ہیں۔وہ آج تک ہزاروں روپے میں ادا ہونے والے کرایہ کو چند روپیوں میں ادا کرتے ہیں۔’’چوتھی دنیا ‘‘ بار ہا لکھ چکاہے کہ وقف کی جتنی جائیدادیں ہیں ،اگر ان تمام کو بورڈ کے حوالے کردیا جائے تو نہ صرف ائمہ کے مسائل حل ہوجائیں گے بلکہ ملک کے تمام مسلمانوں کو سرکاری امداد کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔اب یہ کام مرکزی اور ریاستی سرکاروں کا ہے کہ وہ ان وقف جائیداد کو بازیاب کرکے وقف بورڈ کو موثر کردار میں لانے کی کوشش کرے تاکہ ائمہ کی خستہ حالت کو بہتر بنایا جاسکے۔
ائمہ کی معاشی تنگدستی
جہاںتک راجدھانی دہلی کی بات ہے تو ایک تو کم تنخواہ اور اوپر سے وقت پر نہیں ۔مطلب کریلا نیم چڑھا ۔اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان ائمہ کو اپنے بچوںکی پرورش میں کتنی مشکلوںکا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔ان مشکلوں کو حل کرانے کے لئے کچھ ماہ قبل ائمہ کا ایک وفد وزیر اعلیٰ کجریوال سے ملا تھا۔اس وفد میں مولانا ساجد رشیدی بھی شامل تھے۔اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہا تھا کہ جو تنخواہیں ہمیں ملتی ہیں اس میں ہم نہ اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کرپا رہے ہیں اور نہ ہی اپنے گھر کے دیگر اخراجات، کیونکہ آپ بھی جانتے ہیں کہ مہنگائی بہت ہے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ ہماری تنخواہ میں آپ فوری طور پر خاطر خواہ اضافہ کریں جس کو وزیر اعلی نے فوراً قبول کیا اور وعدہ کیاکہ تنخواہ میں اضافہ ہوگا ئیے۔ مگر وعدہ صرف وعدہ ہی رہا ،ایفا نہ ہوا۔
ایک بات جسے سوچ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ کم تنخواہ ہونے کے باوجود آج تک کسی امام نے سڑک پر اتر کر احتجاج یا مظاہرہ نہیں کیا۔ کبھی ایسا بھی سننے میں نہیں آیاکہ پیسہ کم ہونے کی وجہ سے کوئی امام دیر سے نماز پڑھاتا ہو یا پانچ میں سے تین نماز پڑھا تا ہو۔وہ تو اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھا رہے ہیں مگر ان کے مقتدی کبھی ان کے بارے میں نہیں سوچتے۔بلکہ کچھ لوگ تو امام کی اس تنخواہ کو ہی بہت سمجھتے ہیں اور جب کبھی کچھ دینے کی بات آتی ہے، جیسے رمضان میں قرآن مکمل ہونے کے بعد تراویح پڑھانے والے امام کو نذرانہ دینے کی بات آتی ہے تو ایسے مقتدی مسئلہ پوچھتے ہوئے پھرتے ہیں کہ نذرانہ دینا جائز ہے یا نہیں۔
ہاں، اس میں ایک غلطی ان مدارس کی بھی ہے جہاں ان ائمہ کو تیار کیا جاتاہے۔ ایسے مدارس صرف دینی تعلیم دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اس نے دین کا ایک مبلغ تیار کردیا ۔جبکہ عصری تعلیم اور پروفیشنل کورس کا بندوبست ہو تو یہ ائمہ مساجد کی منتظمہ کمیٹی پر منحصر رہنے کے بجائے علاحدہ کچھ کام بھی کرلیں۔
بہر کیف راجدھانی دہلی سمیت متعدد ریاستوں میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمدنہ کئے جانے کے سبب آ ل انڈیا تنظیم ائمہ مساجد کے صدر مولانا عمیر الیاسی اس معاملہ پرکئی مرتبہ بڑی مہم چلا چکے ہیں اور اسی تنظیم کی کوششوں سے سپریم کورٹ کا وہ تاریخی فیصلہ بھی آیا تھا۔لہٰذا اب تنظیم ایک مرتبہ پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا پروگرام بنا رہی ہے اور اس مرتبہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ لاگو نہ ہونے پر توہین عدالت کی عرضی داخل کرنے کے لئے جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *