آر جے ڈی اور جے ڈی یو بہار میں مسلمانوں کا بہی خواہ کون؟

اس سال بہار میں افطار پارٹیوںکے ذریعہ ایک دلچسپ واقعہ سامنے آیا۔ مسلمانوں کا ووٹ پانے کے دعویدار جے ڈی یو اور آر جے ڈی کی طرف سے ایک ہی دن افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ کئی لوگ یہ قیاس لگانے میںلگے رہے کہ کس افطار پارٹی میںزیادہ مسلمان پہنچے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی پارٹیوں نے عید ملن کا ایسا کوئی اہتمام نہ تو کیا اور نہ ہی وہ ایسے کسی اہتمام میں دکھائی دیے۔ ایسے میں اس سوال پر غور کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ مسلمان آخر کس طرف جھکیں گے اور ان کی طرف کون جھکے گا؟ مسلمان کس پارٹی کو اپنائیںگے اور انھیںاپنی پالیسیوں اور اسکیموں سے کون اپنا ثابت کرنے کی کوشش کرے گا؟
مسلمانوںکا بہی خواہ کون؟
آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد اورجے ڈی یو صدر نتیش کمار میں مسلمانوں کو لے کر سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ لالو پرساد کے پاس ایم وائی ایکوئیشن ہونے کا دعویٰ ہے جو سچ بھی ہو سکتا ہے، جبکہ نتیش کمار کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن نتیش کمار کو جو بات الگ کرتی ہے،وہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے انھیںاس بات کے باوجود ووٹ دیا کہ انھوں نے بی جے پی کے ساتھ آر جے ڈی کے خلاف لڑائی لڑی اور جیت حاصل کی۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ گجرات کے گودھرا کیس اور بعد کے فسادات کی خوفناکی کے باوجود نتیش بی جے پی کے ساتھ بنے تھے۔ دوسری طرف لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) سپریمو اپنے سیاسی فائدے کے لیے ہی سہی، مگر اخلاقیات کی دہائی دے کر بی جے پی سرکار سے الگ ہوگئے تھے ۔
مسلمانوںکو پیغام دینے کے لحاظ سے بہار کی دو مذہبی تنظیموںکو آر جے ڈی اور جے ڈی یو دونوں اہمیت دیتے رہے ہیں۔ حالانکہ کئی دیگر مسلم تنظیموں سے رابطہ قائم کرنے میںیا تو ان کی دلچسپی نہیںرہی یا اس میںوہ کامیاب نہیںہیں۔ مثال کے طور پر امارت اہل حدیث اور جماعت اسلامی ہند کی بہار برانچ سے شاید ہی ان دونوںپارٹیوں کا کوئی رابطہ عوامی ہوا ہو۔
امارت شرعیہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو دونوںکے لیے سب سے اہم مسلم تنظیم رہی ہے۔ اس حوالے سے وہ بات یاد رکھنے کی ہے جب نتیش سرکار کے ایک مسلم وزیر کو امارت شرعیہ میںحاضری دینی پڑی تھی اور اپنے بیان کے لیے معافی مانگنی پڑی تھی۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیںکہ یہ کام وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اشارے پر ہوا تھا۔ تنیش کمار کے امارت شرعیہ سے اچھے تعلق رہے ہیں۔ حالانکہ دونوں طرف سے اسے بہت تشہیردینے کی کو شش نہیںکی گئی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ یاد دلانا اہم ہے کہ یہاں کے ایک سینئر عہدیدار کو سرکار کنٹرو ل کمیٹی میںاہم ذمہ داری دی گئی تھی۔
دوسری طرف فی الحال ادارہ شرعیہ سے جڑے رہے مولانا غلام رسول بلیاوی جے ڈی یو کے ایم ایل سی ہیں اور راجیہ سبھا ممبر رہ چکے ہیں۔ بہار میںپسماندہ سیاست کے رہنما علی انور کے شرد یادو کے ساتھ چلے جانے سے نتیش کمار کے پاس غلام رسول بلیاوی کو بے حدبھروسہ مند چہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ بلیاوی کے ذریعہ ادارہ شرعیہ میںجے ڈی یو کی پکڑ مضبوط بنائے رکھنے کی پالیسی کو حالیہ د نوں میںگہرا دھکا لگا ہے۔
حقیقت میںحکومت خواہ آر جے ڈی کی ہو یا جے ڈی یو کی، ریاستی سرکار کے پاس ایسے کچھ بورڈ یا کمیٹی ہیں جن کے صدارتی عہدے پر بحالی لالی پاپ کا کام کرتی ہے۔ دونوں پارٹیاں اپنی سرکار میںان عہدوں پر ایسے لوگ کو بحال کرتی ہیں جو انھیںہر طرح کی تنقیدوں سے بچانے میںڈھال کا کام کریں۔ ظاہر ہے ایسے لوگ اپنی لال بتی کی فکر میںقوم کی فکر اسی حد تک کرتے ہیں جب تک کہ ان کی لال بتی کی لالی کم نہیںہوتی۔

 

 

 

 

نتیش کی مسلمانوںسے قربت؟
برسر اقتدار قیادت کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ لال بتی سے ممنون قوم کے لیڈروں کے سہارے مسلم ووٹ لینے کی بات بھول جائے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے احسان تلے لیڈروں سے اپنی حفاظت کا خواب چھوڑ دینا اہم لگتا ہے۔ جب سے نتیش کمار نے آر جے ڈی سے ا لگ ہو کر دوبارہ بی جے پی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے، مسلمانوں میںان کی مقبولیت اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچی مانی جارہی ہے۔ اس کا اظہار شاید مین اسٹریم میڈیا میںکم ہوا ہو لیکن سوشل میڈیا پر نتیش کمار اور ان کے حامیوںسے تیکھے سوال کیے گئے۔
نتیش کمار کی مسلمانوں میں گرتی مقبولیت کو دیکھنے کا ایک موقع جوگبنی ضمنی انتخاب کے نتیجے سے بھی ملا۔ نتیش کمار کے ترجمان لگاتار جے ڈی یو کے امیدوار کی جیت کے دعوے کر رہے تھے۔ جے ڈی یو امیدوار کی جیت کے لیے کئی مولاناؤں کی طرف سے اردو میںاپیل بھی جاری کی گئی۔ نئے نویلے ایم ایل سی بھی میدان میںاتارے گئے لیکن جیسا کہتے ہیںکہ سب تدبیریں رکھی رہ گئیں۔ اس ضمنی انتخاب کے نتیجے کو آر جے ڈی کے امیدوار کی جیت سے زیادہ نتیش کما رکو ہرانے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ نتیش کمار یا ان کے پالیسی سازوںنے کیا سوچ کر یہ فیصلہ لیا ،یہ تو کسی نے صاف طور پر نہیںبتایا لیکن جس طرح ان کی پارٹی نے ’دین بچاؤ- دیش بچاؤ‘ پروگرام کے ختم ہوتے ہوتے ایک انجان سے شخص کو ایم ایل سی بنانے کا اعلان کیا، اس کی زبردست تنقید ہونے لگی۔ اسے صاف طور پر مسلم کمیونٹی کو دھوکا دینے اور بدھو سمجھنے والا قدم مانا گیا۔ اور یہ اس حد تک ہوا کہ امارت شرعیہ کے امیر کو بھی تیکھی تنقید کا سامنا کرنا پڑاتھا، جنھیں بڑی عقیدت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ امیر شریعت حضرت مولاناولی رحمانی پر قوم کو بیچنے تک کا الزام لگا۔ مولانا رحمانی خود طویل عرصہ تک کانگریس کے ایم ایل سی رہ چکے ہیں اور ناقدوںکو لگا کہ نتیش کمار نے ان کے ہی اشارے پر ان کے ایک مبینہ چہیتے کو ایم ایل سی بنادیا۔ ان کے جیسی تجربہ کار مانی جانے والی شخصیت کو اس واقعہ سے کتنی فضیحت کا سامنا کرنا پڑا، وہ پہلے شاید ہی ہوا ہو۔ یہاںتک کہ انھیںاپنی ذاتی زندگی کے بارے میںبھی سوالوںکا سامنا کرنا پڑا ۔ ان حالات میں امارت شرعیہ نے نتیش کمار سے دوری بنانے کی پالیسی اپنائی۔ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ نتیش کمار کو امارت کے کسی پروگرام میں یا امارت کے کسی رہنما کو نتیش کمار کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے نہیںدیکھا گیا۔
ان سارے تنازعوں اور بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے الزام کے بعد نتیش کمار نے مسلمانوں کے بار ے میںیا ان کی شکایتوںکے بارے میںکھل کر شاید ہی کچھ کہا ہولیکن حالیہ دنوںمیںان کی طرف سے کیے گئے اعلانات قابل غور ہیں۔ طویل عرصہ سے بہار میںاردو مترجمین کی بحالی بند تھی۔ ریاستی سرکار نے ہر بلاک میں اردو مترجمین کی ویکنسی کااعلان کیا۔ اسی طرح حج کے سفر پر لگنے والے جی ایس ٹی کو ختم کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی کو خط لکھنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے سپہ سالاروں نے یہ یقینی بنایا کہ یہ اعلان اخبارات کے پہلے صفحے پر جگہ پائیں۔
دوسری طرف آر جے ڈی کی طرف سے مسلمانوں کو اپنی طرف مرکوز کرنے کے لیے کوئی خاص پہل نہیںدیکھی گئی ہے۔ شاید انھیںاس بات پر بھروسہ ہے کہ مسلمان بی جے پی کی طرف جھک نہیںسکتے اور نتیش سے تو وہ ویسے بھی خار کھائے بیٹھے ہیں۔ آر جے ڈی کی مشکل یہ ہے کہ اس کے مکھیا فی الوقت ایکٹو پالیٹکس میںنہیں دکھائی دے سکتے۔جیل سے باہر رہنے کا وقت بھی بہت کم بچا ہے۔ ان کے دونوں بیٹوں میںان بن کی خبریںسرخیاں بن چکی ہیں۔ ایسے میںاتنے اہم معاملے میںکوئی ٹھوس فیصلہ ان کی ترجیح میںبھی نہیںدکھائی دے رہا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ روایتی طور پر مسلمانوں کا ووٹ آر جے ڈی کو ملتا رہا ہے لیکن مسلمانوں کا نوجوان طبقہ اب یہ پوچھنے لگا ہے کہ آر جے ڈی کے پاس مسلمانوں کے لیے کیا ایجنڈا ہے؟ ٹکٹ دینے کی بات تو ابھی دور ہے لیکن آر جے ڈی کے تنظیمی ڈھانچے میںانھیںکیا رول دیا گیا ہے؟ ایک اکیلے عبدالباری صدیقی کا نام لے کر آر جے ڈی اس نوجوان نسل کو مطمئن کرلے گی، ایسا ماننے کی کوئی وجہ نہیںہے ۔ پوچھنے کو تو لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ عبدالباری صدیقی کو ان کی وفاداری کے بدلے میںایسا کیا مل گیا؟ دونوںایوانوںمیںفی الحال اپوزیشن کے مکھیا کا عہدہ کس کے پاس ہے؟ اس میںکوئی شک نہیںکہ مسلمان نتیش کمار کے بارے میںشاید ہی نرمی دکھائیں لیکن ان کے ایجنڈے میںسیکورٹی کی بات اب اکیلی ترجیح نہیںرہی۔ اب وہ بھی سیاسی حصہ داری کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اقتصادی بہتری،روزگار اور تعلیم ان کے ایجنڈے میںٹاپ پر ہیں۔ ایسے میںمسلمانوں کی مفت میںساتھ پانے کی عادت اس بار شاید ہی چلے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *