کون ہیں عمران خان؟جانئے کرکٹ سے سیاست تک کاسفراوردلچسپ باتیں

imran

سابق پاکستانی کرکٹر اور ’پاکستان تحریک انصاف ‘کے سربراہ عمران خان کا نام سب سے زیادہ سرخیوں میں ہے۔کرکٹ کے میدان سے سیاست میں آئے عمران خان کانام محتاج تعارف نہیں ہیں۔جس طرح وہ کرکٹ میں سرگرم تھے اسی طرح آج وہ سیاست میں بھی سرگرم ہیں۔بہرکیف پاکستان میں بدھ کے روز ہوئے قومی اور ریاستی انتخابات کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔پاکستان کا اگلاوزیراعظم کون ہوگا ؟اس سوال کا جواب آج ہی مل جائے گا۔کیونکہلنگ کے بعد سے ہی ووٹوں کی گنتی چل رہی ہے۔رجحانوں کے مطابق، مانا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ ملک کی باگ ڈور کرکٹر سے سیاست داں بنے عمران خان کو ملنے جا رہی ہے۔ حالانکہ اس مقام تک پہنچنے میں انہیں 22 سال کا وقت لگ گیا۔آئیے جانتے ہیں کون ہیں عمران خان:
عمران خان پاکستانی سیاست دان اور سابق کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بانی اور تحریک انصاف کے سربراہ، لاہور میں 25 نومبر، 1952ء میں اکرام اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے 1971ء سے 1992ء تک کھیلتے رہے۔

 

 

 

 

 

سیاسی زندگی
25 اپریل، 1996ء کو تحریک انصاف قائم کرکے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت ان کی سیاسی جماعت کو پاکستان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 32، ایوان بالا میں 7، صوبائی اسمبلی سندھ میں 4، صوبائی سمبلی پنجاب میں 30 اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں 59 نشستیں حاصل ہیں۔
3 نومبر، 2007ء4 کو فوجی آمر پرویز مشرف کے “ہنگامی حالت” کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ پولیس کو جْل دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 14 نومبر کو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر “دہشت گردی” قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔ عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اْٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لیکر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کرسکے۔ دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے وزارت عظمی کا منصب طلب کر رہے تھے اور جب اْنہیں انکار کر دیا گیا تو وہ پرویز مشرف کے خلاف ہو گئے۔ 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔

 

 

 

ذاتی زندگی و تعلیم
عمران کی پیدائش 25 نومبر، 1952ء کو لاہور پاکستان میں ہوئی۔ ان کا نام عمران خان نیازی ہے۔ وہ پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی والدہ شوکت خانم صاحبہ زیادہ تر میانوالی میں سکونت پزیر رہیں۔ وہ اکرام اللہ خان نیازی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ عمران خان نے ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل اسکول اور ایچیسن کالج، لاہور سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر اسکول میں تعلیم حاصل کی اور پھر اوکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 1974ء4 میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔
کرکٹ
عمران خان نے کرکٹ کے جہان میں بھی اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس وقت وہ سیاست کی بجائے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ متعارف کرائے جاتے ہیں۔ انہیں کی قیادت میں پاکستان نے 1992ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969ء ۔ 1970ء میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

 

 

 

کرکٹ ٹیسٹ ریکارڈ
انہوں نے 88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں 22.81 کی اوسط سے حاصل کیں۔ 1981ء4 ۔1982ء4 میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کر آؤٹ کیے۔ اور 23 مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 36.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے جن میں سے 5 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور ایڈی لینڈ میں 1991ء4 میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 132 رنز رہا۔ ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو بھارت اور انگلستان کو انگریزی سرزمیں میں ہرایا۔ بطور کپتان انہوں نے 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 14 جیتے اور 8 ہارے اور 26 برابر یا بغیر کسی نتیجے سے ختم ہوئے۔
ون ڈے ریکارڈ
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء4 میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ یہ اعزاز ابھی تک پاکستان صرف ایک دفعہ ہی حاصل کر سکا ہے۔ انھوں نے 175 ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ اور 182 وکٹیں حاصل کیں۔ 3709 رنز 33.41 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ تھا جو انھوں نے سری لنکا کے خلاف 1983ء4 میں کھیلتے ہوئے بنائے۔ ان کی قیادت میں 139 ایک روزہ میچ کھیلے گئے جن میں سے 77 جیتے 57 ہارے، چار بے نتیجہ رہے جبکہ 1 میچ برابر رہا۔
انہوں نے مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو 1975ء4 ، 1979ء4 ، 1983ء4 ، 1987ء4 اور 1992ء4 میں منعقد ہوئے۔
ذاتی زندگی اور سماجی کام
عالمی کرکٹ کپ منعقدہ 1992ء4 کے بعد بین الااقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کے لیے لاہور میں ایشیا کا سب سے بڑا اسپتال شوکت خانم میموریل اسپتال ایک ٹرسٹ کے ذریعے قائم کیا۔ عمران خان پاکستانی عوام کو اس اسپتال کا بانی قرار دیتے ہیں۔
قومی اور بین الااقوامی ایواڈز
انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ بھی ملا۔ علاوہ ازیں 1992ء4 میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء4 ) میں عطا ہوئے۔ آپ ابھی بریڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ (University of Bradford) کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جمائما خان سے شادی
جمائما خان عمران خان کے ساتھ ایک سیاسی جلسہ میں شریک ہیں۔1995ء میں عمران خان نے مرحوم برطانوی ارب پتی تاجر سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی، جمائما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جمائما گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان ہے۔ اس شادی کا شہرہ پوری دنیا میں ہوا اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ 22 جون، 2004ء کو انہوں نے طلاق کا اعلان کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پاتے تھے۔
ریحام خان سے شادی
8 جنوری، 2015ء کو عمران خان برطانوی و پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے۔ 30 اکتوبر، 2015ء کو دونوں نے طلاق کی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کر دی۔
بشری وٹو سے شادی
2017ء کے اواخر اور 2018ء کے آغاز میں کئی خبریں آئیں کہ عمران خان نے اپنی روحانی پیشوا بشری وٹو سے شادی کر لی ہے۔ تاہم عمران خان تحریک انصاف کے دیگر افراد اور مانیکا خاندان نے اس افواہ کی نفی کی۔جنوری 2018ء کو پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ نے ایک بیان جاری کیا کہ عمران خان نے بشری وٹو کو شادی کے لیے پیغام دیا ہے تاہم ابھی اسے قبول نہیں کیا گیا۔[11] 18 فروری 2018ء کو، پی ٹی آئی نے تصدیق کی کہ عمران خان نے بشری وٹو سے شادی کر لی ہے۔
فلم
عمران خان کی جدو جہد پر 2013ء میں ایک فلم کپتان ریلیز ہوئی، جس میں عمران خان کے 1992ء سے لے کر 2013ء تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا گیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیش کاری کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو فلم اور میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے۔
انتخابی مہم میں زخمی
انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی،2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔(موادماخذویکی پیڈیا)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *