قبائلی ذیلی پلان ترقی نہیں، بربادی لایا

یوجنا آیوگ کے ذریعہ سجھائی گئی اور حکومت ہند کے ذریعہ اپنائی گئی ایک یوجنا ہے ٹرائبل سب پلان یا قبائلی ذیلی پلان۔ مختصراً ایک ایسا فنڈ جس کااستعمال کانکنی سے متاثرہ قبائلی علاقوں اور قبائلی کمیونٹیز کے لیے کیا جانا تھا۔ہرایک وزارت کو اپنے بجٹ کا ایک خاص حصہ ٹرائبل سب پلان میںدینا ہوتا ہے۔اس طرح گزشتہ کچھ سالوںمیںاس فنڈ میںسیکڑوں کروڑ روپے جمع بھی ہوئے لیکن وہ پیسہ کہاںخرچ ہوا؟ ایک لائن میںکہیںتو قبائلیوں کی ترقی کے لیے مقرر ہ پیسہ ان کی تباہی کی زمین تیار کرنے میںخرچ کر دیا گیا۔ ’چوتھی دنیا‘ کی خصوصی رپورٹ۔۔۔
عام طور پر ملک کے قبائلی علاقوں میںہی کانکنی کے کام سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ خواہ کوئلے کی کانکنی کی بات ہو یا کسی دیگر معدنیات کی۔ سماجی ترقی کے تئیں ذمہ دار سرکار نے کانکنی کے علاقوں میںکانکنی سے ہونے والے مسائل اور اس کی وجہ سے بے گھر ہونے والے قبائلی کمیونٹی کی مناسب مدد کے لیے ’ٹرائبل سب پلان‘ قبائلی ذیلی پلان کے نام سے ایک اسکیم بنائی تھی۔
ٹرائبل سب پلان یعنی ٹی ایس پی کو اب (یوجنا آیوگ کے نیتی آیوگ بننے کے بعد) شیڈولڈ ٹرائب کمپونینٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خصوصی رپورٹ میںہم صرف کول منسٹری اور منسٹری آف مائنس سے حق اطلاع کے تحت ملی دستاویزوں کی بنیاد پر ہی آپ کو بتائیںگے کہ کیسے قبائلیوںکی ترقی کے لیے مختص پیسے کا استعمال دیگر کاموں میںکیا گیا۔ یہ دیگر کام بھی اس طرح کے ہیں، جس سے آگے چل کر ایک بار پھر سے قبائلیوں کی نقل مکانی ہی ہوگی یا انھیںدیگر مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔ غور طلب ہے کہ یہ دو وزارتیں ہی ایسی ہیںجن کا کانکنی کا کام سب سے زیادہ ہے اور جس سے قبائلی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

 

 

 

پلان کا مقصد
سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ٹرائبل سب پلان کا مقصد کیا ہے؟ یوجنا آیوگ نے یہ واضح طور پر بتایا ہے کہ ٹرائبل سب پلان کے تحت مختص پیسے کا استعمال قبائلیوں ( شیڈول ٹرائب) کی مجموعی ترقی کے لیے کرنا ہے۔اس پیسے سے ایسی اسکیمیں بنائی جانی چاہئیں ، جن سے قبائلی کمیونٹی کو براہ راست فائدہ ہو۔ اس کے لیے یوجنا آیوگ نے کوئلہ وزارت کے ٹرائبل سب پلان کے تحت بجٹ کا 8.2 فیصد اور منسٹری آف مائنس کے لیے 4 فیصد رقم مقرر کی تھی۔ ظاہر ہے کہ دونوں وزارتوں نے ہر مالی سال میں اس پلان کے تحت مقررہ رقم جمع بھی کرائی لیکن اس کا استعمال کہاںہوا؟ کیا ان پیسوں کا استعمال سچ مچ آدیواسی یا قبائلی کمیونٹیز کی ترقی کے لیے ہوا؟
2010-11 سے 2017-18کے بیچ دونوں وزارتوںنے اس مد میںکتنا پیسہ مختص کیا، کتنا پیسہ خرچ کیا اور کس کام میںخرچ کیا، اسے لے کر دہلی کے آر ٹی آئی کارکن سنجے بسو نے دونوں وزارتوں میںحق اطلاع کے تحت عرضی ڈالی تھی۔ آر ٹی آئی سے ملے جواب سے جو سچ ہمارے سامنے آتا ہے، وہ چونکانے والا ہے۔ یہ جواب بتاتے ہیںکہ کیسے ٹی ایس پی فنڈ کو ایسے کاموں کے لیے ڈائیورٹ کردیا گیاجو آدیواسیوں یعنی قبائلیوں کی ترقی کی جگہ الٹے ان کی تباہی کا سبب بنیںگے۔ خود کول منسٹری اورمنسٹری آف مائنس کے اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ ٹرائبل سب پلان کا پیسہ ان کاموں کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جو کسی بھی قیمت پر قبائلیوںکی ترقی سے جڑے کام نہیں مانے جاسکتے۔
پیسہ کہاںخرچ ہوا؟
ٓٓٓٓٓاعداد و شمار اور آر ٹی آئی دستاویز کے مطابق ٹرائبل سب پلان کا پیسہ کول منسٹری نے کوئلہ کمپنیوں (سی سی ایل، ایس سی سی ایل، ایم سی ایل) کو مختص کردیا۔ ان کوئلہ کمپنیوں نے قبائلیوں کی بہبود کا کام کرنے کی جگہ اس پیسے کا ریجنل ایکسپلوریشن ، اسٹوئنگ، ڈٹیلڈ ڈرلنگ اور کانوں کی حفاظت میں استعمال کیا۔ یہاں ریجنل ایکسپلوریشن، ڈٹیلڈ ڈریلنگ اور کنزرویشن سیفٹی کا سیدھا تعلق کان، کانکنی کا پتہ لگانے اور کان کی حفاظت وغیرہ سے ہے۔ ظاہر ہے ان کاموںکا مقصد مستقبل میںاور زیادہ کانکنی کے امکانات تلاش کرنا اور مائنس کا پتہ لگانا ہے۔ جس ٹرائبل سب پلان کا پیسہ ٹرائبل کمیونٹی کی ترقی کے لیے ہونا تھا، وہی پیسہ ٹرائبل کمیونٹی کے لیے آگے کی مصیبت لانے کا سبب بن رہا ہے۔ وہیں مائنس منسٹری کے تحت آنے والے ادارے جیولوجیکل سروے آف انڈیا کو 2010-11سے 2017-18 کے بیچ ٹرائبل سب پلان کے تحت 6621 لاکھ روپے ملے۔ اس پیسے کا خرچ اس نے کولکاتا، ناگپور، جے پور، حیدرآباد، لکھنؤ اور شیلانگ علاقے میں معدنیات کے ذخائر کا پتہ لگانے میںکیا۔ اس کے لیے اس نے سروے اور میپنگ وغیرہ کیے، جس پر یہ پیسہ خرچ ہوا۔
205کروڑ روپے میں بھی ترقی ندارد
26 فروری 2018 کو ئلہ وزارت نے آرٹی آئی کے جواب میںبتایا کہ وزارت ٹرائبل سب پلان کے تحت ریاستوں کو فنڈ نہیںدیتی بلکہ یہ فنڈ سرکاری کوئلہ کمپنیوں اور سینٹرل مائن پلاننگ اینڈ ڈیزائن انسٹی ٹیوٹ لمٹیڈ (سی ایم پی ڈی آئی ایل) کو جاری کیا جاتا ہے۔ 2011-12 سے 2017-18 کے بیچ پرموشنل ریجنل ایکسپلوریشن یعنی کوئلے کے ذخائر کا پتہ لگانے کے لیے کل 41 کروڑ 59 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ وہیں ڈٹیلڈ ڈریلنگ کے لیے کمپنی کو 82 کروڑ 32 لاکھ روپے ملے۔ سی ایم پی ڈی آئی ایل نے ٹی ایس پی کے پیسے کو چھتیس گڑھ ، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش اور اڑیسہ کے 20 بلاک میں کوئلے کے ذخائر کا پتہ لگانے میںخرچ کردیے۔ باقاعدہ 14 بلاک میںکمپنی نے جیوگرافیکل رپورٹ بھی مہیا کرادی ۔ وہیں 6 جگہ ابھی پتہ لگانے کا کام کیا جا رہا ہے ۔ سی ایم پی ڈی آئی ایل نے ڈٹیلنگ ڈرلنگ کے لیے جاری ٹی ایس پی کے تحت مختص پیسے کا استعمال چھتیس گڑھ کے نو بلاک، اوڈیشہ کے دو بلاک اور مدھیہ پردیش کے 4بلاک میںکیا۔ دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ ان کاموںمیں سی ایم پی ڈی آئی ایل کا حقیقی خرچ کہیںزیادہ تھا۔ مثلاً ایکسپلوریشن کے لیے اس نے کل 122.87 کروڑ روپے خرچ کیے لیکن اسی میں اس نے ٹرائبل سب پلان کے تحت مختص 41.59 روپے بھی ملادیے۔
کوئلہ وزارت کے ہی ایک دیگر ادارے آفس آف دی کول کنٹرولر، کولکاتا، نے بتایا کہ ٹرائبل سب پلان فنڈ سینٹرل کول فیلڈ لمٹیڈ (سی سی ایل) ، سنگرینی کوئلریز کمپنی لمٹیڈ (ایس سی سی ایل ) اور مہا ندی کول فیلڈ (ایم سی ایل) کو دے دیا گیا۔ ان سرکاری کول کمپنیوں نے اس پیسے سے جھارکھنڈ، آندھر اپردیش، اوڈیشہ اور تلنگانہ میںاسٹوئنگ اور پروٹیکٹو ورک جیسے کام کرائے۔ اسٹوئنگ کے آسان معنی ہیں کان کو دباؤ سے محفوظ کرنا۔ آر ٹی آئی دستاویزوںکے مطابق، ان کاموں پر ان سرکاری کمپنیوں نے 2012-13 میں12 کروڑ71 لاکھ، 2013-14 میں13 کروڑ 10 لاکھ، 2014-15میں 15کروڑ 17 لاکھ، 2015-16میں13 کروڑ 94 لاکھ، 2016-17 میں16 کروڑ 53 لاکھ اور 2017-18میں16 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے ۔ سوال یہ ہے کہ سیکڑوں کروڑ روپے کے ٹرائبل سب پلان میں ٹرائبل کی ترقی کہاںہے؟
قبائلی ترقی کی وزارت کیا کر رہی ہے؟
اس ملک میں ایک قبائلی ترقی کی وزارت بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس وزارت کے وزیر کیا کر رہے ہیں؟ وہ بھی تب جب اس وزارت کو ان سبھی حقائق کی جانکاری ہے۔ 2015 میںاسی وزارت نے سوال اٹھایا تھا کہ ٹی ایس پی فنڈ کا استعمال دیگر کاموں میںکیوںکیا جارہا ہے؟ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وزارت کے اعتراض کے بعد بھی اس پر توجہ نہیںدی گئی اور یہ کام اب تک جاری ہے۔ قبائلی معاملوںکی وزارت کے مطابق کل 37وزارت اور محکموں کو ٹی ایس پی کا فنڈ دیا جاتا ہے اور 289 اسکیمیںٹی ایس پی میں شامل ہیں لیکن پیسہ کہاںخرچ ہو رہا ہے؟ یہ سب سے بڑاسوال ہے۔

 

 

 

 

ترقی نہیں تباہی
کوئلہ، کان ، کانکنی اور قبائلی علاقوں کے ایکسپرٹ اور سینئر وکیل سُدیپ شریواستو سے جب ’چوتھی دنیا‘ نے بات چیت کی تو ان کا کہنا تھا کہ آدیواسی سب سے زیادہ کول اور مائن منسٹری سے متاثر ہوتے ہیں۔ آدیواسی علاقوںمیںکوئلے کے بھنڈار اور معدنیات ملنے پر انھیںبے گھر ہونا پڑتا ہے۔ ایسے میںآدیواسیوں کی بہبود پر خرچ کیے جانے والے ٹی ایس پی کا پیسہ انھیںآگے بھی اجاڑنے اور نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ حیران کرنے والی بات ہے۔ قاعدے سے ٹی ایس پی کا پیسہ تو سیدھے ریاست کے قبائلی ترقی کے محکمے کو دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے حساب سے مقامی سطح پر آدیواسیوںکی بہبود کے لیے اس کا استعمال کرسکے۔
آر ٹی آئی کارکن سنجے بسو کہتے ہیںکہ آئین کے سیکشن 275(1) میں وضاحت کی گئی ہے کہ قبائلی کمیونٹی کی ترقی کیسے کی جائے گی۔ اس لیے مرکزی سرکار نے ٹرائبل سب پلان کی اسکیم بنائی تھی۔ انھوں نے ٹی ایس پی خرچ کیے جانے کے طریقے سے الگ ایک اور اہم مدعا اٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کول اور مائن منسٹری ٹی ایس پی فنڈ کے لیے مقررہ رقم دستیاب نہیںکرا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر مائنس منسٹری نے 2017-18 میںکل بجٹ کا صرف 1.92 فیصد ہی ٹی ایس پی کے لیے مختص کیاجبکہ کول منسٹری نے 4.56 فیصد۔ سنجے بسو کہتے ہیں کہ کول اینڈ مائنس منسٹری نے قبائلیوںکی بہبود پر ٹی ایس پی کا ایک پیسہ خرچ نہیںکیا۔ اس کی جگہ یہ پیسہ قبائلیوںکو بحران میں مبتلا کرنے کے لیے خرچ کیا گیا۔
کیا کر رہی ہیںدیگر وزارتیں؟
یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ دیگر وزارتیں ، جنھیںٹی ایس پی فنڈ میںپیسہ دینا ہے، وہ اس پیسے کا استعمال کہاںکر رہی ہیں اورکیسے کر رہی ہیں؟ دیگر وزارتوں کی فی الحال کوئی دستاویز تو دستیاب نہیں ہے لیکن 2015 کی کیگ آڈٹ رپورٹ بتاتی ہے کہ ایسی ریاستوں کو بھی ٹی ایس پی فنڈ جاری کیے گئے جہاں 2011 کی مردم شماری کے مطابق قبائلی آبادی ہے ہی نہیں۔ 2010 میںیوجنا آیوگ نے کہا تھا کہ اگر ٹی ایس پی فنڈ کا استعمال نہیںہو پاتا ہے تو اسے قبائلی معاملوں کی وزارت کو دے دیا جائے تاکہ اس فنڈ کا استعمال کرسکے۔ لیکن اس ہدایت پر بھی آج تک کوئی عمل نہیںہوا ہے۔
اب سرکار یہ کہہ سکتی ہے کہ ٹی ایس پی کو کوئی آئینی یا قانونی تحفظ حاصل نہیںہے، اس لیے اس کا ڈائیورزن کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کیا یہ اخلاقی کام مانا جاسکتا ہے؟ جس کام کے لیے فنڈ مختص ہو، اسکیم بنی ہو، اس اسکیم کا اور اس فنڈ کا استعمال ٹھیک اس کے الٹ کیا جائے، تو اسے کیا کہیںگے، اخلاقی جرم یا بدعنوانی؟ آپ خود طے کیجئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *