ٹرمپ -پوتین ملاقات :فائدے میں کون ؟

گزشتہ دنوں جب امریکی اور روسی صدور کے درمیان فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں ملاقات ہونی تھی تو پوری دنیا کی نظر ان دونوں رہنمائوں کی میٹنگ پر لگی ہوئی تھی۔امید کی جارہی تھی کہ ان دو طاقتور ترین ملکوں کے سربراہوں کی ملاقات میں کوئی بڑا فیصلہ سامنے آئے گا اور ان کی عالمی پالیسیوں میں کوئی نئی تبدیلی آئے گی۔لیکن جب 16 مئی کو دو گھنٹے دس منٹ تک جاری رہنے والی طویل مٹینگ کے بعد مشترکہ کانفرنس ہوئی اور اس میںدونوںرہنمائوں نے جو بیانات دیئے،تو اس سے خلاصہ ہوگیا کہ وہی پرانی پالیسیوںکو نئے الفاظ میں پھر سے دوہرایا گیا ہے۔ البتہ امریکی صدر کو روس کا دفاع کرتے ہوئے دیکھا گیا۔اس مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ماسکونے امریکی صدارتی انتخاب میں مداخلت نہیں کی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کو روس کے خلاف تحقیقات کے بجائے ہیلری کلنٹن کے خلاف تحقیقات کرنا چاہیے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے ہی ملک کو نشانہ بناتے ہوئے کہہ دیا کہ روس کے حوالے سے امریکا کی پالیسی بے وقوفانہ تھی۔
اس کے بالمقابل روس کے صدر نے جو بیان دیا ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میٹنگ میں روس امریکہ پر چھایا رہا۔ کیونکہ وہ نہ صرف عالمی پالیسی پر اپنے موقف میںکوئی تبدیلی کی بلکہ اس ملاقات کے بارے میں بھی یہ کہہ دیاکہ انہیں اس ملاقات سے کوئی خاص توقعات نہیں تھی۔امریکہ کو ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے روس نے یہ کہہ دیا کہ امریکہ جو روس کو ایران سے دستبردار ہونے کی بات کہتا ہے تو اس سلسلہ میں روس کو تحفظات حاصل ہیں اور ایسا اس لئے کہ ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہوگیا تھا۔
اس ملاقات نے ٹرمپ کے لئے پریشانیاں کھڑی کردی ہیں اورانہیں امریکی عوام کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔دراصل امریکی عوام کو پوری امید تھی کہ صدر ڈونالڈ اس ملاقات میں 2016 میںامریکہ میں ہوئے انتخابات میں روسی مداخلت کی بات اٹھائیں گے لیکن انہوں نے اس معاملے کو اٹھانے کے بجائے روس کو تو کلین چٹ دے دی اور خود اپنے ہی ملک کو نشانہ بنالیا۔اس پر امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے اسپیکر پال رائن کو لکھے گئے اپنے خط میں ڈونالڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے۔
ارکان کاکہنا ہے ٹرمپ کو روس کے ساتھ صدارتی انتخاب میں مداخلت کا تنازع اٹھانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے تنازع اٹھانے کے بجائے ہیلری کلنٹن اور ایف بی آئی کی روسی تحقیقات پر تنقید شروع کردی۔ایوان نمائندگان کے متعدد سینیٹرز نے بھی اپنے بیانات میں ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ روس کی حمایت کرکے ملک کو خود نقصان پہنچا رہے ہیں۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے سربراہ پال رائن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کوسمجھنا چاہیے کہ روس ہمارا حلیف نہیں ہے۔ روس ہماری بنیادی اقدار کا دشمن ہے۔انھوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ روس نے 2016 کے انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

 

 

سینیئر رپبلکن رہنما جان میکین نے کہا کہ یہ کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے شرمناک ترین کارکردگی ہے۔ اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے کسی آمر کے سامنے خود کو اس حد تک نہیں گرایا۔ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما چک شومر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمارے دشمنوں کو تقویت دی ہے اور ہمارے اور ہمارے حلیفوں کے دفاع کو کمزور کیا ہے۔نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس نے ایک بیان میں کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کو کوئی شبہ نہیں کہ روس امریکی جمہوریت کو زک پہنچانے کی کوششیں کر رہا ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ابھی چند ہی روز قبل امریکی محکمہ انصاف نے 12 روسیوں کو انتخابات میں مداخلت کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
بہر کیف اس ملاقات کا دنیا کو جتنی بے چینی سے انتظارتھا ،اس کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ البتہ دونوں سربراہوںکے درمیان کچھ معاہدوں پر دستخط ہوئے اور دو طرفہ تعلقات کی بحالی سمیت تمام معاملات سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر بات چیت کی گئی۔ تجارت، فوجی معاملات، جوہری ہتھیار سمیت دو طرفہ تعلقات پر کچھ رسمی باتیں ہوئیں۔
حالانکہ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے اس بات کو ظاہر کرنے کی بہت کوشش کی کہ ان کی یہ ملاقات کامیاب رہی ہے اور اس ملاقات سے جو توقعات تھی ،اسمیں بہت حد تک کامیابی ملی ہے۔ چنانچہ ملاقات کے اختتام پر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روسی صدرپیوتین سے بے حد تعمیری بات چیت ہوئی، امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت پر کافی دیر بات ہوئی، اس کے علاوہ شام کے مسئلے پربھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روسی صدر کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات پر اعتماد میں لیا اور روس کو ایران پر دباو بڑھانے کیلئے کہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ روس اور امریکا کے تعلقات اب تبدیل ہوچکے ہیں۔ بطور صدر امریکا اور امریکی عوام کا مفاد ترجیحی ہے جب کہ روس کے ساتھ تعمیری مذاکرات نے امن کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ تاہم باہمی مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور روس کے تعلقات میں بہتری پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ لہٰذا تمام معاملات اور اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں گے۔
دوسری جانب صدر پیوتین نے ٹرمپ کے شمالی کوریا کے معاملے پرکردارکو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات اچھی رہی، سرد جنگ ختم ہو گئی۔ امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے جب کہ امریکا کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات پیچیدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔جہاں تک امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے الزامات ہیں تو روس نے کبھی امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی ۔اس پورے بیان سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ خارجہ پالیسی میں روس نے امریکہ کے سامنے کوئی نرمی نہیں دکھائی ۔جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو خارجہ پالیسی میں اس کی طرف سے بھی کوئی تبدیلی کی بات سامنے نہیں آئی۔ البتہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کا دفاع کرکے امریکی صدر نے اپنے سر بدنامی ضرور لے لیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *