لنچنگ بنا سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں موضوع بحث

کسی بھی مہذب سماج کے لیے ماب لنچنگ ایک ناقابل قبول لعنت ہے۔ جہاں تک ہندوستانی سماج کا تعلق ہے، ماب لنچنگ کے واقعات کسی نہ کسی ایشو پر پہلے بھی ہوتے رہے ہیں مگر 2014 میں بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دور میں اس نے ایک بھیانک شکل اختیار کر لی ہے۔ اتنی بھیانک شکل کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو بڑ ے ہی سخت الفاظ اور انداز میں لنچنگ سے نمٹنے کے لیے خصوصی قانون بنانے کے لیے حکومت وقت کو کہنا پڑا۔ پھر اتناہی نہیں، چند دنوںبعد پارلیمنٹ کے دونوںایوانوں میںیہ موضوع بحث بنا ۔ یہ وہی لمحہ تھا جب مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے علی الاعلان کہا کہ ماب لنچنگ کے واقعات ملک کے لیے بدقسمتی ہیں اور اس میںاضافہ کی وجہ فیک نیوز ہے۔
ماب لنچنگ کے واقعات میںمودی حکومت کے دوران جب سے اضافہ ہوا ہے، تب سے، صرف ابھی سے نہیں ، یہ ایشو قومی ہی نہیں بین الاقوامی طور پر سخت باعث تشویش بنا ہوا ہے۔ جہاں بعض بین الاقوامی اداروں و ایجنسیوںنے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے،وہیںپی ایم نریندرمودی نے اس کی سخت مذمت کی ہے اور اسے روکنے کی تلقین کی ہے۔ مگر اس کے باوجود ماب لنچنگ کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیںلے رہا ہے۔ اسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق نائب صدر جمہوریہ ہند محمد حامد انصاری نے یہ کہہ دیا کہ وزیر اعظم کی تلقین کے باوجود لنچنگ کے واقعات نہیںرکے۔
لنچنگ کے واقعات میںفیک نیوز اور سوشل میڈیا کے کردار سے انکار ممکن نہیںہے ،مگر اس بات سے بھی انکار نہیںکیا جاسکتا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے مخصوص ذہنیت کار فرما ہے اور اسے کچلنے کے لیے خصوصی قانون الگ سے وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہ بات ہے جس سے مرکزی حکومت اب تک انکار کرتی رہی ہے اور سپریم کورٹ نے اسے اس جانب متوجہ کیا ہے۔
اس تلخ بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ گئو رکشا یا گائے کی حفاظت کے نام پر جانوروںکے تاجروں کو ٹارگیٹ کرنے کے لیے پر ہجوم تشدد سے لے کر لنچنگ نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے اور یہ سب اس لیے ہوا کہ ملک میںموجود قوانین کے ذریعہ ان سے نمٹا نہیںجاسکا، جس کے نتیجے میں مخصوص ذہنیت کو مزید پروان چڑھنے کا بھرپور موقع ملا۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ گائے کے تحفظ کے نام پر پرہجوم تشدد منظم ویجی لینٹزم تھا جبکہ چوری کے نام پر ہلاکت بظاہر اچانک اور غیر منصوبہ بند پرتشدد واقعات محسوس ہوتے ہیںجنھیں افواہوں اور خوف و ہراس پیدا کرنے والے سوشل میڈیا کے میسجز نے ہوادی۔

 

 

گزشتہ برس عدالت عظمیٰ نے مرکز اورریاستوںکو متنبہ کیا تھا کہ جب گئو رکشا کے نام پر قانون کو ویجی لینٹس اپنے ہاتھوںمیںلینے لگیںتو وہ (مرکزی اور ریاستی حکومتیں) خاموش نہیںرہ سکتیں۔ اس وقت عدالت عظمیٰ نے ریاستوںسے یہ بھی کہا تھا کہ یہ بھیڑ سے نمٹنے کے لیے ہر ایک ضلع میںنوڈل آفیسر مقرر کریں۔ یہ صحیح ہے کہ اس کے بعد گئو رکشا کے نام پر ماب لنچنگ میںقدرے کمی محسوس ہوئی مگر بچہ چوری یا اغوا کے نام پر ہلاکت اور حملے بڑ ھے، جس کا شکار عام آدمی ہوتا رہا۔
ایسے واقعات میںپولیس کا کہنا ہے کہ بچہ چوری کرنے کے بارے میںمیسجنگ ایپس کے ذریعے ہے ویڈیوز و دیگر میسجز کا سرکولیشن اصل وجہ ہے۔ اپنے 45 صفحاتی فیصلے میںسپریم کورٹ نے خاص طور سے شمولیاتی سوشل آرڈر، بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور فروغ پاتے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کے لیے عدم احترام سے جڑے سماجی و سیاسی فریم ورک میںلنچنگ اور ویجی لینٹ تشدد کی نشاندہی کی ہے۔ عدالت عظمیٰ کی اس بات میںبڑا وزن محسوس ہوتا ہے کہ جب ہیٹ کرائم یعنی نفرت آمیز جرم جو کہ نارواداری ، فکری و نظریاتی برتری اور تعصب کی پیداوار ہوتو اسے برداشت نہیںکیا جاسکتا ہے۔
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ تین ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کی چیف جسٹس کی سربراہی والی مخصوص بینچ نے احتیاطی تدابیر، سزا اور دیگر راہوں و طریقوں کے علاوہ لنچنگ کو ایک علیحدہ آفینس یعنی جرم بنانے کی بات کی ہے اس کا واضح طور پر اس ضمن میںکہنا ہے کہ کوئی مخصوص قانون اس معاملے میں ملوث افراد کے درمیان ’خوف کے احساس کو پیدا‘ کرے گا۔ ویسے یہ ایک الگ سوال ہے اور بحث کا موضوع ہے کہ جب خاص طور سے قتل اور پرہجوم تشدد پہلے سے موجود قوانین سے کورہو رہے ہیں تو کیا ایک خصوصی قانون کوئی زیادہ اثر دکھا پائے گا؟ مگر عدالت عظمیٰ کی یہ بات بھی یہ غور کرتے وقت ملحوظ رکھنی پڑے گی کہ اس میسج کو بھیجتے وقت عدالت نے اس بات کو یقینی مانا ہے کہ اس ایشو کو کارپیٹ کے نیچے دبایا نہیں جاسکتا ہے۔ اسی لیے اس نے حکومت کو اس جنون کو کچلنے کے لیے خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔
لہٰذا سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میںایک ایسا قانون وضع کیا جانا چاہیے جو کہ جامع ہو اور صرف لنچنگ کے واقعات کی ہی احاطہ بندی نہ کرتا ہو بلکہ دیگر متعلقہ عوامل کو بھی ملحوظ رکھتا ہو۔ علاوہ ازیںیہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس مجوزہ خصوصی قانون کے تحت ان ذمہ دار افراد کو بھی سزا دینے کا اہتمام ہو جو کہ اس طرح کے جرائم کو روکنے کے لیے اختیار رکھنے کے باوجود کچھ نہیںکرتے ہیں یا جرم کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دراصل لاء ایند آرڈر مشنری پر ذمہ داری ڈالتا ہے کہ وہ لنچنگ کو روکے اور ایسا کرنے والوں کو سزا دے۔ مگر ہمیںسپریم کورٹ کی اس بات پر ضرور دھیان دینا چاہیے کہ ان سب جرائم میں تعصب کی موجودگی اور تکثیریت اور تنوع کو قبول نہ کرنا بھی بڑے ذمہ دار اور محرک ہیں۔ کیونکہ اسی سے ایک ایسا ماحول بنتا ہے جہاںانسانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور جس سے اظہار خیال کی آزادی اور ذاتی پسند کے حقوق خطرے میںپڑ جاتے ہیں۔
ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ لنچنگ یا کسی بھی جرم کو ختم کرنے کے لیے قانون یا لاء اینڈ آرڈر کا اپنا رول تو ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ سماج میںرواداری اور تنوع نیز تکثیریت کا بھی رول ہے جو کہ قبل الذکر رول سے زیادہ اہم ہے۔ لہٰذا سماج میںرواداری ، تکثیریت اورتنوع پر دھیان دینے کی اصل ضرورت ہے۔ تبھی ملک میںفرقہ وارانہ ہم آہنگی پنپ سکتی ہے اور امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *