سرکار کا کسانوں کے حقیقی مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے

اب یہ صاف ہے کہ اگلے سال 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی دشواریاں بڑھ گئی ہیں۔ اس کے کئی اشارے ہیں۔ لیکن اب تو وزیر اعظم کی زبان میں ، ان کے سلوک سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بالکل بوکھلا گئے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ بات ہاتھ سے جا رہی ہے۔ پہلے کشمیر کو ہی لیجئے۔ کشمیر حساس موضوع ہے۔ مفتی محمد سعید کے ساتھ بی جے پی نے جو سرکار بنائی تھی، وہی غلط قدم تھا لیکن یہ پارٹی کے حق میں تھا۔ کیونکہ سرکار بن رہی ہے،15-10 وزیر بن جائیں گے اور پیسے بنائیں گے۔ کشمیر ، ناگالینڈ، ارونا چل، میزورم بارڈراسٹیٹ ہیں۔ کشمیر ایک الگ سوال ہے۔ وہاں پر پالٹیکس کھیلنے میں لکشمن ریکھا کھینچ دینی چاہئے۔ ایک حد تک پالٹیکس کھیلنی چاہئے اور بعد میں اپنا ہاتھ کھینچ لینا چاہئے۔ یہ بات کسے سمجھائی جائے گی؟
کانگریس سمجھتی تھی،کانگریس ایک حد کے باہر نہیں گئی۔ 1964 میں ایک بار چلی گئی تھی۔اس کا انجام آج تک بھگت رہے ہیں۔ اس کے بعد فاروق عبد اللہ کانگریس کے خلاف جاکر وزیر اعلیٰ بن گئے۔ اندرا گاندھی کو برداشت نہیں ہوا۔ آج کشمیر کا جو مسئلہ ہے ، وہ اس کے بعد پید اہوا ہے۔ اب یہ لوگ (بی جے پی والے ) سمجھتے نہیں ہیں ۔ اندرا گاندھی کی غلطی سے تو آپ سیکھ لو یاخود غلطی کرکے سیکھوگے۔ بی جے پی ایک بات کو لے کر کلیئر ہے کہ آرٹیکل 370 ہٹانے سے ہی کشمیر کا الحاق ہندوستان میں ہوگا، تبھی مسئلے کا حل ہوگا۔ ایک طرف پی ڈی پی 370 ہٹانے کے حق میں نہیں ہے۔ پی ڈی پی چاہتی ہے کہ پاکستان سے بات چیت ہو اور ایسا حل نکلے جس سے ہندوستان اور پاکستان دونوں خوش ہو۔ ایسے نظریہ والی پارٹی کے ساتھ بی جے پی کو سرکار بنانے کی ضرورت کیوں تھی؟مفتی صاحب کا انتقال ہو گیا۔ مفتی صاحب کے جنازے میںدو ہزار آدمی نہیں تھے۔ مفتی صاحب سمجھتے تھے کہ شیخ عبد اللہ کے بعد سب سے بڑے لیڈر وہی ہیں لیکن یہ بھرم ٹوٹ گیا۔
محبوبہ مفتی کو بھی عوام کی توقعات سمجھ لینی چاہئے تھی۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ سرکار بنا لی۔ بی جے پی نے محبوبہ سرکار سے حمایت واپس لے لیا۔ پھر گورنر راج لگا۔ پچھلے 12 مہینے سے دکھائی دے رہا تھا کہ گورنر رول ہی اس سرکار سے اچھا متبادل ہوگا۔ حالانکہ گورنر رول جمہوریت میں اچھا نہیں ہوتا ہے لیکن ایک الگ صورت حال ہے وہاں۔ اب خبر آرہی ہے کہ بی جے پی کشمیرمیں سرکار بنانے کی فراق میں ہے ۔جیسے توڑ پھوڑ کر گوا، منی پور میں کیا۔ یہی کام کانگریس کرتی رہی ہے بابا آدم کے زمانے سے۔ جیسے اندرا گاندھی نے غلطی کی، فاروق عبدا للہ سرکار کے لوگوں کو توڑ کر دوسرے کی سرکار بنا دی۔ اب بی جے پی چاہتی ہے کہ پی ڈی پی کو توڑ کر سرکار بنا لیاجائے۔وہ کون ایم ایل اے ہے جو پی ڈی پی چھوڑ کر بی جے پی جوائن کریں گے۔ پبلک میں منہ دکھانے لائق رہیں گے؟
ابھی بھی میری صلاح ہے مودی جی کو ۔آپ پارٹی والوں کو منع کردیجئے کہ ایسی بیوقوفی نہ کریں۔ یہ ملک کو بالکل نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اگر آپ سرکار بنا بھی لیں گے تو کشمیر مسئلے کا حل نکالنا اور مشکل ہو جائے گا۔ مجھے تو تعجب ہونے لگا ہے کہ تین چار سال میں مودی جی نے کس طرح کی سیاسی ذہنیت کی تعمیر کی ہے۔ پیسہ ، اشتہار، اخبار، گالی گلوچ، جھوٹ -سچ، یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ بی جے پی کس بات کے لئے ’کانگریس مکت بھارت‘ چاہتی تھی۔ مودی جی نے صاف کیا کہ کانگریس مکت سے میرا مطلب پارٹی سے نہیں ہے، ہم کانگریس کلچر سے مکتی چاہتے ہیں ۔لیکن بی جے پی جو کر رہی ہے ،اس سے تو لگتا ہے کہ بی جے پی کانگریس سے بہت آگے جارہی ہے۔

 

 

 

 

بہت سوچ کر آئین بنا تھا ۔ جواہر لعل نہرو ہوں، چاہے سردار پٹیل ہوں، چاہے بابا صاحب امبیڈکر ہوِں، انہوں نے جو آئین بنایا تھا، اس کا بھی احترام نہیں ہو رہا ہے۔ کوئی آدمی جیتے کچھ سوچ کر اور پیسہ لے کر دوسری طرف چلا جائے، وزیر بن جائے۔ اب تو سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا کہ اینٹی ڈیفکشن ایکٹ سے بھی آگے کچھ ہو سکتاہے کیا؟حالانکہ میری رائے یہ ہے کہ اس ایکٹ سے نقصان ہو اہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ مودی جی نے 2013 سے مئی 2014 تک کیاکیا کہا تھا اور اب کہاں پہنچ گئے۔ اس بات کا جواب نہیں ہے۔ ایک بھی پرفارمینس نہیں ہے اور مودی جی کی شخصیت میں جو کمزوری ہے وہ یہ ہے کہ وہ حقیقت سے انکار کرتے ہیں۔وہ کبھی حقیقت کو ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ کہنے کو تیار نہیں ہیں کہ ہاں بھائی میں نے 100 کام کہے تھے،50-40 کام ہوئے ہیں ۔لیکن کام ہوئے 40 ہیں اور بولیں گے کہ 100 پورا ہو گیا، آپ کو دِکھ نہیں رہا۔ ابھی مودی جی جے پور گئے تھے، کرسیاں خالی تھیں۔ وسندھرا راجے کی سرکار کافی ناپسندیدہ ہے وہاں، مودی جی وہاں کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو توپتہ ہے کہ پہلے کی سرکاروں نے کیا کیا، 60 سال میں کتنا ڈیولپمنٹ ہوا ہے۔ عوام ہنس رہے ہوں گے۔ جتنا آپ کا اعتماد باقی ہے اسے تو بچائے۔ ملک کے وزیر اعظم ہیں آپ۔ملک کے وزیر اعظم کو ایسی بات نہیں کرنی چاہئے، جو سنتے ہی لگے کہ غلط بات ہے۔
ابھی سرکار نے دھان کا مینیمم سپورٹ پرائس کا اعلان کیاہے۔ اس کے پیچھے بھی سیاست ہے۔ انتخاب کا وقت ہے۔ جس ریاست میں جو فصل اگتی ہے ، اس کا دام بڑھا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش۔سرکار کا کسانوں کے حقیقی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آج کسان غصے میں ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کسانوں کے مسئلے کو لے کر شیو راج سنگھ چوہان کچھ بھی بولتے رہتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے کسانوں نے طے کر لیا ہے کہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیںگے۔ بی جے پی بولتی رہی کہ کمل ناتھ، جیوتی رادتیہ میں جھگڑا ہے۔
آر ایس ایس کو لے کر مجھے تعجب ہے۔ 90 سال پرانا ادارہ ہے۔ کیا نہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہندو سناتن دھرم کو ختم کردیں گے مودی جی۔ کوئی گائے لے کر جارہاہے تو بغیر جانے سمجھے آدمی کو مار دیں گے اور بولیں گے کہ گائے کاٹنے کیلئے لے کر جا رہا تھا۔ کہاں رہ رہے ہیں ہم لوگ۔ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔ اندرا گاندھی نے اپنی تانا شاہی چلائی 19 مہینے ۔ وہ سمجھ گئیں کہ یہ کتنا خطرناک ہے۔ اسے واپس لے لیا۔ الیکشن کروایا، ہار گئیں، اپوزیشن میں بیٹھیں، تین سال بعد واپس آ گئیں اقتدار میں۔ ان سے سیکھئے کچھ۔ فل اسٹاپ دنیا کی انتہا نہیں ہے، ہندوستان کی جمہوریت کی انتہا نہیں ہے۔ وہ ایک پڑائو ہے، پانچ سال میں ایک پڑائو آتا ہے، لیکن اگر آپ چاہیں گے کہ این – کین – پرکورن جیتنا ہی ہے تو یہ غلط ہے۔ اس کے لئے بی جے پی جو کرریی ہے، میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے بی جے پی اپنا وقار بڑھا رہی ہے۔ بی جے پی اپناراستہ بھول گئی ہے، جہاں سے چلے تھے۔ میں سمجھتا ہوں، گمراہ ہو گئی ہے۔ جی پی ایس کی ضرورت ہے بی جے پی کو۔ واپس ٹریک پر آئیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *