مندسور سے اٹھی لپٹیں بی جے پی کے لئے بہت خطرناک

کچھ وقت سے مندسور لگاتار سرخیوں میںبناہوا ہے۔ اس بار معاملہ 7 سال کی بچی کے ساتھ کی گئی درندگی کا ہے جس کے بعد شیو راج چوہان سرکار ریاست میں قانون و نظام کے سوالوںکو لے کر گھیرے میں ہیں۔پچھلے سال کسانوں کے خلاف پولیس کے ذریعہ کی گئی گول کانڈ کی گونج سیاسی حلقوں میںابھی بھی بنی ہی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس دوران مندسور گولی کانڈ سے اٹھی لپٹوں کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ حال میں ہی آئی جانچ رپورٹ میں بھی اس پر خوب لیپا پوتی کی گئی ہے لیکن تمام کوششوںکے باوجود شیو راج سرکار کسانوں کے اس غصے کو دبا پانے میں ناکام رہی ہے۔
مندسور کا اشتعال
ادھر ایک نابالغ بچی کے ساتھ ہوئی آبروریزی کی واردات کے بعد مندسور ایک بار پھر شیو راج سرکار کے خلاف اشتعال ابھرا ہے۔ اس بار ایشو قانو ن و نظام کا ہے اور ریاست میں معصوم بچیوں اور عورتوں کو محفوظ ماحول نہ دے پانے کے لئے کٹہرے میں انہی شیو راج سنگھ چوہان کی سرکار ہے جو خود کو ریاست کی بچیوں کا ماما کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ مہینوں کے دوران مدھیہ پردیش میں ایک کے بعد ایک ہوئی معصوم بچیوں کے آبروریزی کے حادثات نے قانون و نظام پر سنگین سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ پچھلے سال ریاست میں بچیوں کے ساتھ آبروریزی پر پھانسی کا قانون بنایا گیا تھا لیکن یہ طریقہ بھی بے اثر ثابت ہوا ہے۔
مندسور کے حادثے نے پورے ملک کو جھنجھور کر رکھ دیا ہے۔26 جون کے دن بہت حیوانی طریقے سے ایک 7سالہ بچی کا اغوا کرکے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ اس دوران آبروریزی کرنے والوں نے وحشی پن کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اس بچی کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، وہ دہلا دینے والاہے۔ درندوں کے ذریعہ نہ صرف بچی کے ساتھ آبروریز کی گئی بلکہ اس کے خفیہ عضو میں راڈ یالکڑی جیسی کوئی چیز بھی ڈالی گئی جس سے اس کی آنتیں باہر نکل گئی تھیں۔
مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعہ اپنی لاپرواہیوں کے لئے ایک الگ پہچان بنا چکے اندور کے ایم وائی اسپتال میں بچی کے علاج کرائے جانے کے فیصلے کو لے کر بھی سوال اٹھائے گئے۔ اس سلسلہ میں کانگریس لیڈر ویویک تنکھا کا بیان ہے کہ اگر کسی وزیر کو بخار بھی آجائے تو ایئر ایمبولینس بلائی جاتی ہے، اس بچی کے ساتھ حیوانیت ہوئی ہے، اندور کے ایم وائی اسپتال میں اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔سرکار کو اسے ایئر ایمبولینس سے دہلی کے کسی اچھے اسپتال میں علاج کے لئے بھیجنا چاہئے۔ متاثرہ کے خاندان بھی ایم وائی اسپتال میں بچی کے علاج سے مطمئن نہیںتھے۔ متاثرہ کے والد کے ذریعہ الزام لگایا گیا کہ بچی کو تکلیف ہونے اور ایک آنکھ سے دکھائی نہیں دینے کے باوجود اسپتال انتظامیہ کے ذریعہ اسے ڈسچارج کرنے کو کہا گیا۔ اس معاملے میں برسراقتدار بی جے پی کے لیڈروں کی بے شرمی بھی دیکھنے کو ملی۔ متاثرہ کا حال چال جاننے کے لئے حلقہ کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سدھیر گپتا اور ایم ایل اے سدرشن گپتا اسپتال گئے تو اس دوران ایم ایل اے متاثرہ کی ماں سے یہ کہتے ہوئے دکھائی پڑے کہ رکن پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیجئے، خصوصی طور پر آپ کے لئے آئے ہیں۔

 

 

 

 

 

کانگریس کے الزامات
مدھیہ پردیش میں اس سال کے آخر تک اسمبلی انتخابات ہونے کو ہے ۔ایسے میں اپوزیشن اس معاملے کو لے کر برسراقتدار بی جے پی کو گھیرنے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑ رہا ہے۔ کانگریس پارٹی نے مندسور آبروریزی معاملے کو قومی سطح پر اٹھاتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش عورتوں اور بچیوں کے خلاف ہو رہے جرائم کا مرکز بن گیاہے۔ جیو تی رادتیہ سندھیا نے سرکار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی سرکار میں مدھیہ پردیش عصمت دری کرنے والوں کی راجدھانی بن گیا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کی طرف سے بھی ٹویٹ کیا گیا کہ مدھیہ پردیش کے مندسور میں آٹھ سال کی ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوئی ہے، جو زندگی اور موت کے بیچ میں جھول رہی ہے،اس اذیتناک حادثے نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔
کانگریس کے ذریعہ یہ الزام بھی لگایا گیاکہ شیو راج سرکار نے 12سال سے کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ آبروریزی کرنے والوں کو سزائے موت دینے کا قانون تو بنا دیاہے لیکن اس قانون کا ڈر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دراصل مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں 12سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری کرنے والوں کے لئے قانون پاس کیا گیا ہے ۔ پچھلے سال مدھیہ پردیش اسمبلی نے بارہ سال سے کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ ہوئی آبروریزی کے معاملوں میں پھانسی کی سزا طے کرنے کے لئے ’مدھیہ پردیش ترمیم ‘ بل پاس کیا تھا جس کے مطابق، بارہ سال یا اس سے کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری یا اجتماعی عصمت دری کے معاملوں میں جرم ثابت ہونے پر قصورواروں کو کم سے کم 14 سال کی قید اور زیادہ ے زیادہ پھانسی کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ اس سے پہلے ہندوستانی سرکار نے بچوں کے ساتھ بڑھ رہے جرائم کو دیکھتے ہوئے 2012 میں ایک خصوصی قانون ’پاسکو ایکٹ ‘تو موجود ہی تھا، جو بچوں کو چھیڑ خانی ، آبروریزی اور بدکاری جیسے معاملوں سے تحفظ فراہم کرتاہے۔لیکن ان قانونوں کا کوئی خاص اثر ہوتادکھائی نہیں پڑ رہاہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کا تجزیہ
بھوپال میں سوشل آرگنائزیشن ڈیولپمنٹ ڈائیلاگ کے ذریعہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے پچھلے 16 سال کے اعدادو شمار کا تجزیہ کیا گیا ہے جس کے نتائج بھیانک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پچھلے 16 برسوں (2001سے 2016 تک )کے دوران بچوں کے تئیں جرائم کے سب سے زیادہ معاملے (35324 معاملے )مدھیہ پردیش میںدرج ہوئے ہیں اور اس دوران مدھیہ پردیش میں بچوں کے تئیں جرائم کے معاملوں میں 865 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سے ان 16برسوں کے دوران بچوں سے آبروریزی اور سنگین جنسی جرائم کے معاملے بھی سب سے زیادہ ( 23659 معاملے ) مدھیہ پردیش میں ہی درج کئے گئے ہیں، اس دوران یہاں بچوں کے ساتھ آبروریزی کے معاملوں میں 1109 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ بچوں کے تئیں جرائم کے معاملے تو بڑھے ہی ہیں لیکن اسی کے ساتھ ہی عدالتوں میں بچوں کے تئیں جرائم کے ملتوی معاملوں میںبھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان 16 برسوں میں مدھیہ پردیش میں بچوں کے تئیں جرائم کے زیر التوا معاملوں میں 1420 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران جن 404 معاملوں کا ٹرائل پورا ہو چکا ہے، اس میں بھی صرف 157 معاملوں (38.09) میں ہی سزا ہو پائی ہے۔
مذکورہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کسی بھی حساس اور جوابدہ سرکار کی ترجیحات میں بچوں کے تحفظ کا سوال اولین ہونا چاہئے تھالیکن ایسا لگتا ہے کہ شیو راج سنگھ چوہان کے ایجنڈے میں بچوں کے تحفظ کا مسئلہ کم سے کم ہے۔تبھی تو مدھیہ پردیش کے 2018-19 کے کل بجٹ میں سے صرف 0.044 فیصد (2.05 لاکھ کروڑ روپے ) ہی بچوں کی سیکورٹی کے لئے الاٹ کئے گئے تھے۔ وہیں لوگوں کو مفت تیرتھ یاترائیں کرانے کے لئے چلائی جا رہی مکھ منتری تیرھ درشن یوجنا کے لئے 200کروڑ روپے کا الاٹمنٹ کیاگیاہے۔ ترجیحات صاف ہے کہ بچہ ووٹ بینک نہیں ہے۔ اس لئے انہیں ناامیدی کے اندھیرے میں چھوڑ دیا گیاہے جبکہ مفت تیرتھ یاترا کراکے ووٹوں کی فصل اگایا جاسکتاہے۔
محض لفاظی سب کچھ نہیں
بچوں کی سیکورٹی جیسے سنگین اور بنیادیمسئلے پر مدھیہ پردیش سرکار لفاظی اور ڈائیلاگ بازی کرتی ہوئی ہی نظر آرہی ہے جس سے عوامی جذبات کے ابال کو مطمئن کیا جا سکے۔ مندسور آبروریزی کے بعد وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ درندے دھرتی پر بوجھ ہیں۔یہ زمین پر زندہ رہنے کے لائق نہیں ہیں اور ہم یہ یقینی کریں گے کہ ملزم کو سیدھے پھانسی کی سزا دلوائی جاسکے جیسے بیان دیتے ہی نظر آئے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کے ماحول میں پھانسی کی سزا کا اعلان ایک مقبول قدم ہے ۔لیکن ماہرین مانتے ہیں کہ صرف سخت قانون ہی کافی نہیں ہے ۔ کئی بار تو سخت قانونوں سے یہ خطرہ بڑھ جاتاہے کہ کہیں جرائم پیشوں میں اس سے بچنے کے لئے متاثرین کو قتل کرنے کا چلن نہ بڑھ جائے۔ دراصل یہ مسئلہ صرف قصورواروں کو پھانسی دلاکر حل ہو جانے والا نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے جس میں جنسی مساوات کے اقدار کو بڑھاوا دینے، جنسی تعلیم ، قصورواروں کے سماجی بائیکاٹ اور قانون و نظام پر سنجیدگی سے دھیان دینے جیسی باتیں شامل ہیں۔
مندسور گولی کانڈ سے مدھیہ پردیش کے کسان پہلے سے ہی مشتعل تھے لیکن اب آبروریزی کے حادثہ کے بعد سے عام لوگوں میں بھی بگڑتے قانون و نظام کولے کر غصہ دیکھنے کو مل رہاہے۔ مندسور میں ہوئے دونوں واقعات نے اپوزیشن کو حملہآور ہونے کا موقع دے دیاہے۔ پچھلے دو سالوں کے دوران مندسور شیوراج سرکار کے خلاف عوامی غصے کے مرکز کی شکل میں ابھر اہے اور آنے والے اسمبلی انتخابات کے دوران مین اکھاڑہ مندسور ہی ہوگا۔ انتخابی سال میں مندسور سے اٹھی لپٹ برسراقتدار بی جے پی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے جبکہ اپوزیشن کانگریس اس کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانا چاہے گی۔ مندسور کا مالوا نماڑ کی تقریباً 65 سیٹوں پراس کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ظاہر ہے اس کا نقصان برسراقتدار پارٹی بی جے پی کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *