شری مہاویر پرساد آر مرارکا جنم شتابدی برس صنعت کار جنھوں نے ٹرسٹی شپ لاگو کیا

اگر کوئی شخص1961 میں کتاب لکھے۔ کتاب بھی’ سماجواد ایک اددھین‘ کا نچوڑ ہو اور وہ شخص ضد کرے کہ میںاس کتاب کو تب تک عام نہیںکروںگا جب تک مشہور سماجوادی اور سروودے رہنما، جنھیںبعد میںلوک نائک جے پرکاش نارائن کے نام سے جانا گیا ، اس کا پیش لفظ نہیںلکھیںگے۔ کتاب 1961میںلکھی گئی اور 1962 تک ان کی الماری میںبند رہی۔ ان کے ایک دوست راجیشور پٹیل جی کی وجہ سے جے پر کاش جی نے کتاب کا پیش لفظ لکھنا شروع کیا۔ انھوںنے پہلے کتاب پڑھی۔ آپ اس کتاب کے پیش لفظ کو پڑ ھیں (باکس) اور تب آپ سمجھ پائیں گے کہ اس شخص کے بارے میں جے پرکاش جی کیا کہتے ہیں۔جب جے پرکاش جی نے پیش لفظ لکھ دیا تو ایم آر صاحب نے اسے فوراً شائع کرایا۔ بھارتی پرکاشن نے اسے چھاپا تھا۔ بعد میں ان کے بیٹے شری کمل مرارکا نے 2011 میں دوبارہ چھپوایا اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی بازار میںآگیا۔ تبھی پتہ چلا کہ ایم آر مرارکا کیا تھے۔
آپ اس واقعہ سے اندازہ لگا سکتے ہیںکہ وہ شخص عوام کے مفادات کے تئیں کتنا سروکار رکھنے والا شخص ہے اور وہ شخص کتنا ضدی اور منفرد ہے۔ یہ منفرد پن اس شخص کو نہ صرف اپنے سماج میں منفرد بناتا ہے بلکہ ملک میںبھی منفرد بناتا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ شخص سیاسی کارکن نہیںہے، کسی سیاسی نظریہ کا رہنما نہیںہے۔ وہ شخص بزنس کلاس سے آتا ہے۔ ان کا نام شری مہاویر پرساد آر مرارکا ہے، جنھیںلوگ ایم آر صاحب کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ سال ایم آر مرارکا کی پیدائش صدی کا سال ہے۔ اس لیے آج یہ موقع ہے کہ اس شخص سے جڑی کچھ باتوں کو پرکھا جائے۔ کم سے کم وہ بات میںآپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں، جس نے مجھے پرجوش کردیاتھا۔
مل میںمزدوروںکی ساجھے داری
1956 میں ملک کے اولین وزیر اعظم شری جواہر لعل نہرو اندور آئے تھے۔ اندور میںایک حکم چند مل تھی۔ اس مل کا کام شری ایم آر مرارکا کی دیکھ ریکھ میں ہوتاتھا۔ انھوںنے ہندوستان میںپہلی بار اپنی مل میںگاندھی جی کے ٹرسٹی شپ اصول کو نافذ کیا۔ ملک میںگھنشیام داس بڑلا بھی تھے، جنھوںنے گاندھی جی کے سرپرست کے طور پر اپنے کو مشتہر کر رکھا تھا۔ جمنا لال بجاج بھی تھے، جنھوںنے گاندھی جی کو اپنا ’پوشیہ‘ ڈکلیئر کر رکھا تھا اوربھی کئی بڑے صنعت کار رہے ہوںگے لیکن کسی نے بھی گاندھی کے کسی اصول کو نافذ نہیںکیا۔ لیکن شری ایم آر مرارکا نے حکم چند مل میںمزدوروں کی ساجھیداری کی گاندھی جی کے ٹرسٹی شپ اصول کو لاگو کیا۔ اسی کا افتتاح کرنے ہندوستان کے اولین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اندور آئے تھے اور انھوںنے خوشی کے ساتھ ایم آر مرارکا کی شان میںبہت ساری باتیںکہی تھیں۔
اس وقت تاجر طبقے کے بیچ ان کے اس انوٹھے قدم نے ہلچل تو مچائی ہی تھی لیکن وہ اتنے منکسرالمزاج تھے کہ انھوںنے اپنے اس قدم کا کوئی فائدہ اپنے لیے نہیںاٹھایا۔ انھوںنے سماج کا مطالعہ کیا،سماج کے تضاد کو جانا، اسے سمجھا، کہاں کہاں پریشانیاں ہیں، ان کا کیا حل ہوسکتا ہے،اسے اپنے نظریہ سے دیکھا اور پھر انھوںنے ایک کتاب لکھی، جس کا نام انھوںنے ’سماجواد کا ادھین ‘ رکھا۔ وہ کتاب دستی تحریر کی شکل میںان کی الماری میںبند رہی۔ جب جے پرکاش نارائن نے پیش لفظ لکھ دیا۔ یہ کتاب ان کے بیٹے شری مرارکا نے 2011 میں دوبارہ شائع کرائی اور وہ کتاب ہمارے سامنے ہے۔
ان کے دوستوںمیں شری ہریش سالوے کے والداین کے پی سالوے ، جسٹس شرد اروند بوبڑے کے والد شری اروند بوبڑے جیسے لوگ شامل تھے۔ ایک بار این کے پی سالوے اوبرائے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور وہاں ایم آر صاحب سے ان کی ملاقات چل رہی تھی۔ اسی وقت دلیپ کمار صاحب، این کے پی سالوے صاحب سے کوئی صلاح لینے آئے۔ این کے پی سالوے صاحب نے ایم آر صاحب سے کہا کہ یہ یوسف صاحب ہیں، ان کا مسئلہ ہے، اس کا حل کیا ہے؟ یوسف خان ، جنھیںدلیپ کمار صاحب کے نام سے جانتے ہیں، بڑے حیران رہ گئے کہ خود این کے پی سالوے صاحب کسی سے رائے مانگ رہے ہیں تو وہ کتنا بڑا آدمی ہوگا۔ اس کے بعد ان کا تعلق ایم آر صاحب سے ہو گیا۔
ایم آر صاحب کے جانے کے بعد ان کے بیٹے کمل مرارکا سے بھی جب دلیپ صاحب ملتے ہیں تو انھیںگلے لگاکر اسی بے تکلفی سے بات کرتے ہیں، جس کی شروعات انھوں نے ایم آر صاحب اور این کے پی سالوے کے ساتھ کی تھی۔ ایم آر صاحب کی ایک خاصیت تھی کہ جو ان کے پاس آتا تھا، اسے وہ صحیح صلاح دیتے تھے۔ ان کے سماج میںیعنی مارواڑی سماج میںمشہور تھا کہ اگر صحیح رائے لینی ہے اور کسی مسئلے کا صحیح حل نکالنا ہے تو مہاویر پرساد جی کے پاس جانا چاہیے۔ ان کے سماج کے زیادہ تر لوگ ان کے پاس رائے لینے کے لیے آتے تھے، جنھیںوہ صحیح صلاح دیتے تھے۔ مسئلہ چاہے خاندان کا ہو یا کمپنی کا ہو، ان کے رشتہ دار اور رشتہ داروں کے رشتہ داربھی ایم آر صاحب کے پاس آتے رہتے تھے اور وہ دن بھر لوگوںسے بات چیت کرتے رہتے تھے۔ انھیںلوگوں کے مسائل سلجھانا اور انھیںایمانداری سے صلاح دینا بہت اچھا لگتا تھا۔ انھیںسیانا مانا جاتا تھا۔ ان کے بارے میںمانا جاتا تھا کہ عقل مندی کی صلاح لینی چاہیے تو مہاویر پرساد جی کے پاس جانا چاہیے۔ ان کے ایک دوست ایم آر پارپیا سینئر وکیل تھے۔ ہیرا لال ٹھکر تھے۔ دراصل ان کے ساتھ ان کی چرچا کبھی سیاسی نہیںہوتی تھی۔ دانشورانہ بحث میںانھیںبہت مزہ آتا تھا۔ دانشورانہ بحث کے ساتھ ساتھ وہ شطرنج کے بہت شوقین تھے۔ شطرنج کھیلتے ہوئے انھوںنے ایک بار کمل مرارکا کو بتایا کہ انٹیلی جنٹ ہونا کیا ہے۔ کہا کہ ایک چوبے جی ہیں، جو میرے ساتھ لگاتار شطرنج کھیلتے ہیں، کبھی کبھی مجھے ہرا بھی دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ یہ انٹیلی جنٹ ہیں،ہاںانھیں شطرنج کھیلنا آگیا ہے۔ وہ روزانہ صبح 10 بجے سے 12 بجے تک شطرنج کھیلتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا شوق یا سب سے بڑا پیشن شوگر مل تھی، جسے وہ دیکھتے تھے۔ گنا کی پیداوار کرنے والے کسانوںسے ان کا بہت اچھا رشتہ تھا۔ گنا کسان انھیںاپنے والد کی طرح مانتے تھے کیونکہ وہ گنا کسانوں کے سارے مسائل کو حل کرتے تھے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک مل سے چار پانچ ہزار گنا کسان جڑے رہتے ہیں اور ان سب کا ایم آر صاحب سے ذاتی رشتہ تھا۔ ایم آر صاحب نے سمجھایا کہ بغیر آپسی تعاون کے کبھی کام نہیںچلتا۔ یہ سیکھ کمل مرارکا کی سوچ میںقطب تارے کی طرح چپک گئی۔ وہ ان سے ملی سیکھ پر حرف بہ حرف پر عمل کرتے ہیں۔

 

 

 

ہندی کے اسکالر
حالانکہ وہ کبھی اپنے بیٹے کمل مرارکا کے طریقے سے متفق نہیںتھے۔ گینن ڈنکرلی آئی اور اسی کے ساتھ حالات کے تحت ساری چینی ملیںانھیںبند کرنی پڑیں۔ وہ اپنے دوست سی پی مہتا صاحب سے کہتے تھے کہ کمل گینن ڈنکرلی چلا نہیں پائے گا، کیونکہ وہ وہاں وقت ہی نہیںدیتا ہے۔ لیکن سی پی مہتا انھیںسمجھاتے تھے کہ کمل کی کمپنی پر پوری پکڑ ہے۔ آپ بھلے ہی کمل کے طریقے سے متفق نہیںہوں لیکن کمل کمپنی کو بہت اچھی طرح چلائیںگے۔ ایم آر صاحب مسکرا دیتے تھے۔ وہ خاندان میںاپنی بیٹیوںسے زیادہ نزدیک تھے اور ان سے ادبی بحث کرتے تھے۔ لیکن کمل مرارکا جب کوئی رائے دیتے تھے تو اپنی بیوی سے کہتے تھے ، دیکھو تمہارا بیٹا کیا کہہ رہا ہے۔ پیار پیار سے کمل جی کو زندگی کے ان پہلوؤں کی سیکھ دیتے تھے اور شاید اپنے سبھی بچوںکو سیکھ دیتے ہوںگے، جسے انھوںنے اپنے تجربہ سے سیکھا تھا۔انھیں کالی داس اور غالب سب سے پیارے تھے۔ وہ ہندی کے اسکالر تھے۔
انھیں ہندی شعراء میںتقریباً سارے شاعر پسند تھے۔ ایودھیا سنگھ اپادھیائے ہری اودھ، سمترا نندن پنت، رام دھاری سنگھ دنکر، سوریہ کانت ترپاٹھی نرالا، ہری ونش رائے بچن وغیرہ سبھی کی کتابوں کا کلیکشن ان کے پاس تھااور ان سبھی لوگوںسے ان کے ادبی تعلقات بھی تھے۔ بچن جی کی ہر کتاب پر وہ ان کے دستخط لیتے تھے۔بچن جی کے دستخط بہت منفرد تھے۔ پریہ پرواس، رگھوونش کا پہلا شلوک انھوں نے اپنے بیٹے کمل مرارکا کو ہنسی ہنسی میںسکھادیا۔ وہ زیادہ گجراتی اور ہندی ڈرامہ دیکھتے تھے اور ڈرامہ کے بہت پرستار بھی تھے۔ کیلاش سیکسریا نے جو ہمیشہ ایم آر صاحب سے ملتے رہتے تھے اور آج ہمارے بیچ ہیں، مجھے بتایا کہ ایم آر صاحب سے ملنے اس وقت کے وزیر اعلیٰ مرار جی دیسائی آئے کیونکہ ایم آر صاحب نے انکم ٹیکس کو لے کر ایک کتاب لکھی تھی۔ کتاب چھپے، اس کے پہلے اس کی چرچا ہوگئی۔ مرار جی بھائی نے ایم آر صاحب سے گزارش کی کہ آپ اس کتاب کو شائع نہیں کرائیے، ورنہ انکم ٹیکس محکمہ پر بہت اثر پڑے گا۔ دراصل ایم آر صاحب انکم ٹیکس کے ماہر تھے۔ انھوںنے انکم ٹیکس کے برے اور صحیح پہلو کو لے کر ایک کتاب لکھی تھی۔ انھوںنے مرارجی بھائی کو وچن دیا تھا کہ یہ کتاب شائع نہیںہوگی۔ اس کتاب کی دستی تحریر ابھی بھی ان کی الماری میںپڑی ہوئی ہے۔ ان کے لکھے کسی نوٹ کو انکم ٹیکس کمشنر بہت دھیان سے پڑھتے تھے اور زیادہ تر میںانھوںنے ضابطوں کو غلط پایا اور ایم آر صاحب کو صحیح۔
سماجواد کی پیروی ایک سرمایہ دار کے ذریعہ
ایم آر صاحب ، گاندھی جی اور پنڈت جی سے بہت متاثر تھے۔ لیکن وہ پرستار سردار پٹیل کے تھے اور انھیںزیادہ سمجھتے تھے۔ ایم آر صاحب کی زندگی، ان کی سوچ اور شخصیت کو سمجھنا ہو تو ان کی لکھی کتاب پڑھنی چاہیے۔ سماجواد ایک ادھین‘ میںایم آر صاحب نے کہا ہے کہ سرمایہ داری کے بحران کا حل سماجواد کے راستے ہی ممکن ہے۔ سب سے اچھی بات ، جسے مست رام کپور نے اپنے الفاظ میں کہا کہ سماجواد کی پیروی ایک سرمایہ دار کے ذریعہ کی گئی ہے، یہ سب سے حیرت انگیز پہلو ہے۔ جارج برناڈ شاہ کی مشہور کتاب ’دی انٹیلی جنٹ ویمنس گائیڈ ٹو سوشلزم‘ سے ممکنہ طور پر متاثر یہ کتاب دنیا کے موجودہ اقتصادی بحران کو سمجھنے میں لوگوںکی مدد کر سکتی ہے۔ اس کے کچھ باب بہت دھیان سے پڑھنے کے لائق ہیں۔ جیسے فالتو دھن کی مایا، لاگت پونجی کے مختلف روپ، پونجی بازار، سٹہ، بینکنگ مدرا اور مدرا نینترن وغیرہ۔ یہ کتاب آپ پڑھیںگے تو آپ کو نہیںلگے گا کہ آپ نے اس سے ملتے جلتے موضوعات کو کہیںاور پڑھا ہے۔ زندگی کے تجربہ سے سیکھی ہوئی باتیں،جسے اصول میںتبدیل کرکے ایم آر صاحب نے لکھا ہے، ویسی کتاب ہندوستان میں اور کوئی دوسری نہیںدکھائی دیتی۔ یہ شاستریہ کتاب نہیںہے، زندگی کا علم ہے۔ مست رام کپور جی کا کہنا ہے کہ جیسے گلاب رائے بروکر نے گجراتی زبان کو اقتصادی دنیا کی پراسرار وادیوں کی جانکاری سے خوش حال بنایا،اسی طرح ایم آر صاحب کی یہ کتاب بھی ہندی زبان کو اقتصادی دنیا کی گہری جانکاری سے خوشحال بناتی ہے۔ کیپٹلزم اور کمیونزم ، دونوں سے ہٹ کر تیسرے راستے سماجواد کی سفارش ایم آر صاحب نے کی ہے اور یہ اس لیے اہم ہوجاتی ہے کیونکہ ایم آر صاحب خود بزنس کلاس سے آتے ہیں۔
اس کتاب میں بہت کچھ اور بھی ہے۔ اس کے حصوں کو دیکھیںتو آپ کو مزیدار چیزیںملیںگی۔ بھرشٹاچار بنام پرمٹ پرپیڑن، منوشیہ کا ینتری کرن، سہکاریتا آندولن، کمپنیوں کا اوترن، پیڑت شرمک ورگ، فیکٹری ایکٹ، ورگ یدھ، استری کامگار، دھن کی قیمت،پونجی بازار، معاوضہ، ادیوگ کے سنچالن کا راشٹریہ کرن، قانونی لوٹ مار وغیرہ ابواب بہت معنی رکھتے ہیں۔ صحافت کیا ہے اور کیسے سرمایہ داروں نے صحافت کو اپنی جیب میںرکھ لیا ہے، صحافت کیسی ہونی چاہیے، اس کے بارے میںبھی ایم آر صاحب نے بہت تفصیل سے اس کتاب میںلکھا ہے۔
میںایم آر صاحب کی تعریف میںبہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔ اس لیے لکھنا چاہتاہوں کہ وہ شخص اس وقت ہمارے سامنے تھا، جب ہندوستان آزاد ہوا تھا اور آزادی کے راستے پر نئے قدم بڑھنے شروع ہوئے تھے۔ ایسے وقت ہمت کے ساتھ ان اصولوں کو اپنی زندگی میںلاگو کرنا بالکل ویسا ہی تھا جیسا پتھریلے اور اندھیرے راستے پر چلتے ہوئے لوگوں کو مشعل کی روشنی دکھانا۔ ایم آر صاحب کی تشخیص مارواڑی سماج نے نہیںکی۔ ایم آر صاحب کی تشخیص اس ملک نے بھی نہیںکی۔ ایم آر صاحب اپنی تعریف چاہتے بھی نہیں تھے۔ لیکن ان دنوںایسی شخصیت کا ہونا آج ہمیںیہ بتاتا ہے کہ کس ہمت کے ساتھ اپنے خاندان، اپنے سماج اور ملک کو اپنی بات کہنی چاہیے، ایٹرنل ڈسکشن کرنا چاہیے۔ تبھی آج کہنا پڑتا ہے کہ ایم آر صاحب، کمل مرارکا کے والد نہیں بلکہ کمل مرارکا ایم آر صاحب جیسے کامیاب اور دانشور سرمایہ دار کی اولاد ہیں۔ شاید اسی لیے کمل مرارکا آج نڈر ہیں، نظریاتی طور پر امیر ہیں۔ ایم آر صاحب کی ایک ڈیوائس مجھے ان ہی کے بیٹے شری کمل مرارکا نے بتائی۔ انھوںنے بتایا کہ ان کا چندر شیکھر جی سے بہت اچھا رشتہ تھا۔ چندر شیکھر جی ان کے گھر آکر قیام کرتے تھے کیونکہ ایم آر صاحب کے چھوٹے بھائی آر آر مرارکا مشہور رکن پارلیمنٹ تھے اور لوک لیکھا سمیتی کے چیئرمین تھے۔ دونوں بھائی ایک ساتھ رہتے تھے۔ جب چندر شیکھر جی ممبئی آتے تھے تو ان ہی کے گھر ٹھہرتے تھے۔ ہمیشہ ایم آر صاحب کہتے تھے کہ یہ شخص ایک دن وزیر اعظم بنے گا۔ باقی موضوعات پر اپنی صاف رائے رکھنے والے ایم آر صاحب کی یہ پیش گوئی 1990 میںتب صحیح ہوئی جب چندر شیکھر جی ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ وہ ایک شعر اکثر گنگناتے تھے:
قصیدے سے چلتا ہے نہ یہ دوہے سے چلتا ہے
سمجھ لو خوب کار سلطنت لوہے سے چلتا ہے

 

 

 

(لوک نائک جے پرکاش نارائن کے ذریعہ تحریر کردہ ’سماجواد ایک ادھین‘ کتاب کا پیش لفظ)
سماجواد پر چرچا کے لیے اس کتاب کا خیرمقدم ہونا چاہیے
یہ خوشی کی بات ہے کہ ملک کے دولت مندوں میں سماج کے بنیادی سوالوں پر غور کرنے کی دلچسپی بیدار ہو رہی ہے ۔عام طور سے ان کی دلچسپی ٹریڈ انڈسٹری کے سوالوںتک محدود ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں شری مہاویر مرارکا پیشکش قابل ستائش ہے۔ اچھا ہوتا اگر کتاب کی’ رچنا‘ کچھ زیادہ منظم ہوتی اور ڈگریشن کم ہوتا۔ کئی موضوع پر مصنف کے خیال کچھ نرالے سے ہی ہیںلیکن انھوںنے جرأت اور وضاحت سے انھیںظاہر کیا ہے۔
سماجواد موجودہ دور کا ایک اہم موضوع ہے اور اس کا ادب بڑا ہی وسیع او رسنجیدہ ہے۔ سماجواد کے اہم مقاصد جہاں قابل قبول ہیں، وہاں انکو حاصل کرنے میں اقدامات کے تعلق سے گہرا اختلاف ہے۔ ابھی کے صنعتی نقطہ نظر سے پچھڑے ہوئے ملکوں میںسماجواد کی تعمیر کی کوشش غیر جمہوری ڈھنگ سے کی گئی ہے۔ قدرتی طورپر اس میںکامیابی جزوی طور پر ہی ہوئی ہے۔ ہندوستان دنیا کا پہلا پسماندہ ملک ہے جہاں یہ کوشش جمہوریت کے وسائل سے کی جارہی ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ سماجواد کی وسیع بحث اس ملک میں ہو۔ اس نقطہ نظر سے بھی اس کتاب کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔
سماجواد کی تعمیر کے تجربوں سے ایک بات بڑی واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ سماجواد کی سچی تعمیر صرف سماج کے قوانین اور اداروں کی تبدیلی سے نہیںہوسکتی۔ سماجواد کی جو اخلاقی اور ثقافتی قدریں ہیں، وہ جب تک جن مانس میںنہیں پہنچ جاتیں، تب تک سماجوادی ثقافت کی تعمیر نہیںہوسکتی۔ یہ کام سیاست اور اقتدار کے ذریعہ نہیںکیا جاسکتا۔ اس کے لیے وسیع پبلک ایجوکیشن کی ضرورت ہوگی۔ بدقسمتی سے دنیا کے سماجوادیوں کا دھیان اس فرض کی طرف کم گیا ہے۔ اقتدار کی لڑائی تک ہی ان کی کوشش محدود رہتی ہے۔ اس ملک میںمہاتما گاندھی کی رہنمائی کے سبب سروودے آندولن کی شکل میںیہ کوشش ہورہی ہے۔ سماجواد کی طرف یہ ایک نیا قدم ہے۔
بمبئی جے پرکاش نارائن
26-07-1962

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *