اے ایم یو اور جامعہ میں دلت ریزرویشن کا شوشہ اصل مقصد مسلمانوں اور دلتوں میں دوری پیدا کرنا

سماجی ہم آ ہنگی ، برابری ، انصاف اور آزادی ایک بہترانسانی معا شرے کے لیے ضروری ہے۔ اس میں مثبت اور تعمیری سیاست کا اہم رول ہو تاہے۔مگر آج کی تاریخ میں مثبت اور تعمیر ی سیاست بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ زیادہ تر نفرت، فرقہ پرستی اور ایک دوسرے سے لٹرنے لٹرانے کی سیاست کر کے اپنے مفاد اور اقتدارکا تحفظ کیا جاتا ہے۔ یہ سیاست کبھی اکثریت و اقلیت کے نام پر کی جاتی ہے توکبھی مندر ومسجد، لوجہاد، سنسکر تی کے نام پر تو کبھی دلت اور مسلم کے نام پر ۔یہ سارے جتن بنیادی ں مسائل سے تو جہ ہٹانے اور پبلک سروکار والے مسائل کے متعلق ضروری سوالات سے بچنے کے لیے کیے جاتے ہیں جب دھرم کے حوالے سے عقل پر جذباتیت حاوی ہو جاتی تو بہت کم لوگ ضروری سوال کر پاتے ہیں۔یہ کسی بھی سیاست داں اور بر سر اقتدار پارٹی اور اس کے سر برا ہوں اور لیڈروں کے لیے آ سان ہو تا ہے۔ دلتوں اور مسلم اقلیت کے ساتھ قانون کو ہاتھ میں لے کرپور ے ملک میںجو کچھ ہو رہا ہے ، وہ سب کے سامنے ہے ، چاہے دلت ہوں یا آدیواسی یا دیگرمحنت کش طبقات کے لوگ یا مسلم اقلیت ، سب تھوڑے بہت فر ق کے ساتھ محرومی کے شکار ہیں ۔ان کو زندگی کے مختلف شعبوں میں متناسب اور منصفا نہ نما ئندگی، آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع حا صل ہونے چاہئیں۔اس کے لیے راہ ہموار کر نے کے بجائے اشرافی طبقے محروموں کو محروموں سے لڑانے کا آسان راستہ تلاش کر لیتے ہیں اور اس کا ماضی سے ایک سلسلہ ہے ۔اگر یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آتیہ ناتھ نے علی گڑھ مسلم یونیور سٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دلتو ں کے لیے بھی ریزرویشن کی بات کہی ہے تو یہ کوئی نٔی بات نہیں ہے بلکہ یہ جانا پہچانا پرانا حربہ ہے۔
دلتوں کے لیے ریزرویشن ، کوئی بڑا مسٔلہ نہیں ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیور سٹی اور جامعہ ملیہ کی دیگر یونیورسٹیوں سے تھوڑی سی الگ مسلم شناخت ہے، اس لیے دلت مسلم میں ٹکراؤ پیدا کر نے کے مقصد سے ان میں دلتوں کوریزرویشن دینے کا مطالبہ بلکہ شوشہ چھوڑا گیا ہے تا کہ مسلمانوں کی طرف سے کچھ ایسا ردعمل سامنے آجائے جسے دلتوں اور مسلم اقلیت میں دوری ، نفرت اور تصادم پیدا کر نے کے لیے آسانی سے استعمال کیا جا سکے۔ دیگر سیاسی پارٹیوں میں شامل اشرافی طبقے کے افراد کے ساتھ خاص طور سے بی جے پی اور سنگھ پر منواد کو بڑھا اور تحفظ دینے کے ساتھ دلت آدیواسی مخالف ہو نے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ لوگ دیکھتے رہے ہیں کہ ان سے وابستہ اور ذہنیت کے افراد، دلت ، آدیواسی اوراقلیتوں خصوصاً مسلم، عیسائی اقلیت کو ظلم و زیادتی اور قتل کا نشانہ بنا تے ہیں ۔ اس سے تحفظ کے لیے محروموں میں ایکا اتحاد بھی پیدا ہو جا تا ہے۔ نتیجے میں بی جے پی کو سیاسی نقصان اور اقتدار سے محرومی سے دو چار بھی ہو نا پڑتا ہے۔ بہار اور دیگر ریاستوں میں اس کے خلاف انتخابی نتیجے سامنے آئے ہیں، ان میں دلت آدیواسی اور دیگر محنت کش رائے دہندگان کا اہم رول ہے۔اس کو دیکھتے ہوئے ان میں باہمی تصادم کے حالات پیدا کر کے اپنے حق میں ما حول بنانے کی کو شش کی جا تی ہے اور اس میں بسااوقات کا میابی مل جا تی ہے ۔
اسی کے پیش نظر بہت سوچ سمجھ کر ایک منصوبے کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ میں بھی دلتوں کو ریزرویشن کی بات اچھالی گئی ہے۔ تا کہ سنگھ اور بی جے پی کا ریزرویشن مخالف ذہن سامنے نہ آسکے۔ گروگولولکر نے بنچ آف تھاٹس میں ریزرویشن کی مخالفت کی ہے۔ یہ ہر واقف حال کو معلوم ہے۔ سنگھ کے کلیدی مناصب پر فائزعہدے دار مختلف انداز میں ریزرویشن پالیسی پر تنقید کر تے رہے ہیں ۔اس کے لیے بسا اوقات دلتوں کے سامنے مسلمانوں کو پیش کر دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم ریزرویشن کے مخالف نہیںہیں بلکہ مسلم ریزرویشن کی صورت میں تمہارے ریزرویشن کے تحفظ کی کوشش کرتے ہیں۔ چاہے آدتیہ ناتھ یوگی ہویا دیگرلیڈ ر، ان کو دلتوں کوریزرویشن دینے دلانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے بلکہ ان کے نام پر سیاست ، دیگر پارٹیوں کو نشانہ بنانے اور محروموں میں تصادم کا ماحول پیداکرکے ریاست اور مرکز میں اقتدار کی راہ ہموار کرنا اصل مقصد ہے ۔

 

 

 

بی جے پی کے لیے 2019 کے عام انتخابات میں بہت کم دن رہ گئے ہیں، اس کے لئے یاستوں اور مرکز میں اقتدار کو بحال اور بچائے رکھنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ سب محسوس کررہے ہیں کہ آنے والے عام انتخابات ،2014 کے عام انتخابات سے بہت کچھ مختلف ہوں گے ، سنگھ کو بھی اپنے عزائم و مقاصد کی تکمیل کے لیے بی جے پی کا اقتدار میں رہنا ضروری ہے ۔ انتخابات میں کامیابی کے لیے دیگر فارمولوں میں سے ایک فارمولہ دلت ، اقلیت اور مسلم -دلت میں تصادم بھی ہے۔ تاکہ دلت بی جے پی کو اپنے حقوق کی محافظ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ ہو کر الیکشن میں جیت دلاسکیں ۔ اس بات کے لیے بہت باریکی اور سوچ سمجھ کر الفاظ کا انتخاب اور وقتی طورسے بھر م میںڈالنے کے لیے یہ سوالات اچھا لے جاتے ہیں۔اگر آدمی سمجھ داری سے کام نہ لے تو گمراہ ہونے میں دیر نہیں لگتی ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ کہتے ہیں کہ بی جے پی پر دلت مخالف ہونے کا الزام لگا نے والوںکو چاہیے کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یو نیور سٹی میں دلتوں کے لیے ریزرویشن کی آواز اٹھائیں اور اس کو یقینی بنانے کے لیے تحر یک چلائیں۔ دلتوں کے غم خواروں نے کبھی اس جانب توجہ نہیں دی کہ آخر ان دونوں یونیورسٹیوں میں دلت -ریزویشن سے محروم کیوں ہیں ،اس تعلق سے سماج کے کسی شخص نے آواز نہیں اٹھائی ۔ یہ سب بنارس ہندو یونیورسٹی کی طرح مرکزی یونیورسیٹیاں ہیں اور انہیں یوجی سی سے گرانٹ ملتی ہے ۔ اس کے متعلق کوئی قلم کا ر نہ لکھتا ہے اور نہ دلت بھائی ہی آواز اٹھاتے ہیں ۔
بیان کے اس اقتباس کو غور سے پڑھاجائے تو بآسانی سمجھاجاسکتا ہے کہ ساری ذمہ داریاں دوسروں پر ڈال دی گئی ہیں ۔ سنگھ اور بی جے پی نے پہلے کبھی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دلتوں کے ریزرویشن کی آواز نہیں اٹھائی تھی اور نہ اس کے لیے کوئی تحریک ہی چلائی ہے ۔اب بھی تحریک چلانے اورآواز اٹھانے کہ ذمہ داری ’دلتوں ــ کے دیگر غمخواروں‘ پر ڈال دی گئی ہے ۔ بی جے پی کے لیڈروں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اقتدار میںرہتے ہوئے اپوزیشن کی زبان استعمال کرتی ہے ۔ جوپارٹی اقتدار میں ہوتی ہے وہ کام کرنے کے لیے خود مختار ہوتی ہے ۔ اس کے لیے کوئی زیادہ معنی مطلب نہیں ہوتا ہے ۔ سینٹرل یونیورسٹیاں مرکزی سر کارکے تحت ہوتی ہیں۔ اگر ان میں کسی کی تعلیم کے لیے کوئی قانونی یاعملی رکاوٹ ہے تو اسے دور کرنے کی مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے ۔ کیا اتنی چھوٹی سی بات یوگی آدتیہ ناتھ کو معلوم نہیں ہے ؟ کیا یہ کام یونیورسٹی کے چانسلر، وائس چانسلر یا اس کے طلبہ کا ہے یا اقتدار سے باہر پارٹیوں کا؟ اگر یوگی آدتیہ ناتھ یا بی جے پی کے دیگرلیڈر اور سنگھ کے ذمہ دار ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دلتوں کو ریزرویشن دینے دلانے کے معاملے میں مخلص ہوتے تو وہ اس سلسلہ میں پبلک بیان دینے کے بجائے مرکزی سرکار اور دیگر ذمہ داروں کو خط لکھتے یا براہ راست بات کرتے۔ اسے ہر سمجھ دار اچھی طرح سمجھ سکتا ہے ۔
ادھر حالیہ کچھ دنوں میں دلت ، محنت کش اور مسلم ایک دوسرے کے پروگراموں میں جس طرح شریک ہورہے ہیں اور دلتوں میں جس طرح بی جے پی کو لے کر ناراضی پائی جاتی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے ایک تیر سے دو شکار کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ دلتوں کی بی جے پی سے ناراضی کم ہو جائے ۔دوسرے یہ کہ دلت ، مسلم میں دوری پیدا ہوجائے ۔ اس کا اندازہ لکا لیاگیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دلتوں کے لیے ریزرویشن کی آوازاٹھائی جائے گی تو کچھ لوگ اس کے خلاف یقینا ردعمل کریں گے تو اس کو بہانہ بنا کر ماحول بنا دیاجائے گا کہ دیکھو مسلمان، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ والے دلتوں کی ترقی اورریزویشن کے مخالف ہیں ۔اس حالت میں ان کے طلبہ اور ر دیگر افراد کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں تھوڑی سی بے احتیاطی معاملے کو بگاڑ سکتی ہے ، چاہے علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کا معاملہ ہو یاجامعہ ملیہ ،دونوں میں دلتوں کے ریزرویشن کا مسئلہ قانون سے جڑاہواہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا متعلقہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتاہے کہ 2019 کے عام انتخابات سے پہلے فیصلہ آجائے گا۔لیکن اس سے پہلے بی جے پی دونوں یونیورسٹیوں میں دلتوں کے لیے ریزرویشن کے محض نعرے سے کام نکال لینا چاہتی ہے ۔اسے دلت قیادت بھی یقینا سمجھ رہی ہوگی کہ یہ محض چھلاوہ ہے جس کا عملی حل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں مسلم قیادت کو بھی بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ جس طر ح کچھ حضرات کھلے عام مسلم امیدوار کو کامیاب بنانے کی بات کررہے ہیں، اس سے معاملہ دوسرے رخ پر جاسکتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *