حکومت کا سہولیات کا دعویٰ عازمین حج پر مالی بوجھ کا دبائو بڑھا

حج سبسڈی کے کم ہوجانے اور سعودی حکومت کی طرف سے کچھ اشیاء کے چارچز میں اضافہ کردینے کی وجہ سے حاجیوں پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ اس دوران وزارت اقلیتی امور کی طرف سے حاجیوں کو سہولیات پہنچانے اور حج کوٹا کو بڑھانے کی بات کہی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بات میں کتنی سچائی ہے۔حکومت حاجیوں کو سہولت پہنچانے کے لئے کیا کیا اقدامات کررہی ہے اور کہاں پر کوتاہیاں برتی گئی ہیں۔ان تمام صورت حال پر اس مضمون میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
حج 2018 کا موسم آچکا ہے۔ عازمین 14جولائی سے مدینہ منورہ کے لئے پرواز شروع کرچکے ہیں۔ اس مرتبہ ہندوستان سے کل ایک لاکھ 75 ہزار25 عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے۔ان میں ایک لاکھ 28ہزار 702 عازمین حج کمیٹی آف انڈیا کے توسط سے جائیںگے، جن میںتقریبا 47 فیصد خواتین ہیں اور46ہزار 323 پرائیویٹ ٹور آپریٹر کے ذریعہ حج پر روانہ ہوں گے۔ایسا پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ امسال 1308خواتین بغیر محرم کے سفر حج پر جارہی ہیں ، ان کے ساتھ کوئی مرد رشتہ دار نہیں ہوگا۔
بدلی ہوئی صورت حال
گزشتہ سال سال حج سبسڈی کی رقم خاطر خواہ ہونے کے سبب عازمین کو بڑی راحت ملی تھی اور کرایہ سمیت دیگر اخراجات عام حاجیوں کے لئے قابل برداشت تھے جبکہ اس مرتبہ ایک تو حج سبسڈی کم ہے، دوسرے سعودی حکومت نے بھی کئی طرح کے اضافی چارچز لگا دیئے ہیں ۔اس دوہری مار نے حاجیوں کو زبردست مالی دبائو میں ڈال دیا ہے۔دراصل 2017 میں ایک لاکھ 24 ہزار 852 عازمین حج کے لئے 1030 کروڑ روپے بطور سبسڈی فضائی کمپنیوں کو ہوائی جہاز میں سیٹ کے طور پر دیئے گئے تھے جبکہ 2018 میں یہ کم ہوکر ایک لاکھ 28 ہزار 702 حاجیوں کے لئے صرف 973 کروڑ روپے ہی دیئے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے 57 کروڑ روپے کم ہے۔ دوسری طرف سعودی حکومت نے رہائش وغیرہ پر ٹیکس نافذکرنے کے علاوہ قربانی کے جانور پر بھی ٹیکس بڑھا دیا ہے ۔ اس دو طرفی دبائو یعنی حج سبسڈی کے کم ہونے اور سعودی حکومت کی طرف سے اضافی ٹیکس لگانے کے عمل نے پہلے سے ہی مالی بوجھ میں دبے ہوئے حاجیوں پر10 ہزار روپے کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
یہ اضافی بوجھ یقینا ان حاجیوں کے لئے برداشت کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے جنہوں نے عمر کے بیشتر حصوں تک تھوڑا تھوڑا پیسے جمع کرکے سفر حج پر جانے کا حوصلہ کیا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس اضافے کے باوجود وزیر اقلیتی امورکی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ عازمین حج پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑنے دیا جائے گاجبکہ حج کمیٹی آف انڈیا ان تمام عازمین سے 10 جولائی تک ٹیکس کی کل رقم جمع کرواچکی ہے۔
یہی نہیں حج کمیٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ اضافی رقم جمع نہ کرنے والوں کا ٹکٹ منسوخ کیا جاسکتا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر موصوف کا دعویٰ حج کمیٹی کے اس عمل سے میل نہیں کھاتا ہے ۔کیونکہ امسال عازمین حج سے گزشتہ سال کی بہ نسبت زائد رقم وصول کی گئی ہے۔مثال کے طور پر اترپردیش سے جانے والے عازمین سے گرین زمرہ کے لئے دو لاکھ 59 ہزار 7 سو روپے اور عزیزیہ والوں سے دو لاکھ 24ہزار 950 روپے اور قربانی کے جانور کے 8 ہزار 360 روپے جمع کرایا گیا ہے ۔ جبکہ گزشتہ سال سینٹرل حج کمیٹی نے گرین زمرہ کے عازمین سے دو لاکھ 36 ہزار 950 اور عزیزیہ والوں سے دو لاکھ تین ہزار پانچ سو روپے اور قربانی کے لئے 8 ہزار روپے جمع کرائے تھے۔ پھر یہ کہ امسال حج سبسڈی تو ختم کردی گئی لیکن عازمین حج کو اپنی پسند کے ایئر لائن سے جانے کی چھوٹ بھی نہیں دی گئی جس کے سبب حج کے لئے منتخب ایئر لائنز من مانی کرایہ وصول کررہی ہیں جوکہ عازمین کی جیبوں پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے ۔

 

 

 

 

مسئلہ سبسڈی کا
قابل ذکر ہے کہ جس وقت یہ سبسڈی ختم کی جارہی تھی تو اس کو بحال کرنے کے لئے آوازیں اٹھی تھیں۔اس سلسلہ میں سب سے اہم رول تمل ناڈ و حکومت کا تھا جس نے اسے پھر سے بحال کرنے کیلئے مرکز پر دبائو بنایا تھا لیکن یہ حکم سپریم کورٹ کی طرف سے دیا گیا تھا۔ لہٰذا اس دبائو کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ اب تمل ناڈو کی حکومت نے اس سلسلہ میںایک اہم فیصلہ لیا ہے۔فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ریاست سے حج پر جانے والے حاجیوں کے لئے 6 کروڑ روپے کی سبسڈی دے گی۔اس اعلان کے تحت 3ہزار 728 افراد سفر کریں گے ۔حج سبسڈی کے تعلق سے وزیر اعلیٰ کے پلئی سوامی کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت جس طرح ہندو زائرین اور عیسائیوں کوان کے غیر ملکی مذہبی سفر کے لئے گرانٹ دیتی ہے، اسی طرح کاتعاون سفر حج کیلئے اب مسلمانوں کو بھی دیاجائے گا۔بہر کیف یہ اقدام ایک ریاستی حکومت کی طرف سے کیا گیا ہے ۔
جہاں تک مرکزی حکومت کی بات ہے تو یقینا کچھ کام ہوئے ہیں لیکن کئی مواقع پر اس عمل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔جیسے مرکزی وزیر کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ حکومت ہند کی سفارش پر حج کوٹہ میں اضافہ کیا گیا ہے اور اب تک جو ایک لاکھ 25 ہزار عازمین، حج کے لئے جاتے تھے، اسے بڑھا کر ایک لاکھ 75 ہزار کردیا گیا ہے۔ اگر کہانی کے پیچھے جائیں تو اندازہ ہوگا کہ فی الواقع ایسا نہیں ہے۔
دراصل 2013 میں جب حرم شریف کی توسیع کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہواتھا تو اس توسیع کی وجہ سے حرم کے اطراف میں سینکڑوں ہوٹل اور مکانات منہدم کئے گئے جس سے رہائشی جگہ میں کمی ہوگئی۔ اس کمی کی وجہ سے سعودی حکومت نے دنیا بھر کے ان ملکوں سے جہاں سے حجاج بڑی تعداد میں آتے ہیں،کے کوٹے میں 20 فیصد کٹوتی کردی تھی ۔یہ کٹوتی اس وقت تک کے لئے تھی ،جب تک کہ توسیع کا کام پورا نہ ہوجائے۔یہ کام 2017 میں پورا ہوگیا تو پھر سابق کوٹے کو لوٹا دیا گیا۔ لہٰذا 2018 میں عازمین کی جو تعداد ہے یہ دراصل وہی پرانی تعداد ہے ۔مگر حکومت اس بحالی کو نیا کارنامہ بتا رہی ہے۔
چند سوالات
سچ تو یہ ہے کہ 2012 تک جو ایک لاکھ 70ہزار حاجیوں کی منظوری تھی ،وہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق تھی،لہٰذا اگرموجودہ حکومت واقعی اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسے سعودی حکومت سے اپیل کرنی چاہئے کہ وہ ہندوستانی حاجیوں کی تعداد کو مردم شماری 2011 کے مطابق کر کے پہلے کی تعداد ایعنی یک لاکھ 70 ہزار پر مزید اضافہ کرئے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔
گزشتہ سال حج کے موسم میں ہی ’’چوتھی دنیا‘‘ نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی سے ایک سوال پوچھا تھا کہ وہ مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے حاجیوں کا کوٹا حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ہیں؟ تو اس وقت انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہم نے 2011 کی مردم شماری میں مسلمانوں کے اعدادو شمار کی کاپی اقوام متحدہ میں بھیج دی ہے۔وہاں سے تصدیق آنے کے بعد ہی سعودی حکومت اسے تسلیم کرے گی اور پھر اس کے بعد کوٹہ میں مزید اضافہ پر بات چیت ہوسکتی ہے۔اس بات کو ایک سال گزر گئے مگر اب تک وہ معاملہ پروسیس میں ہی پڑا ہوا ہے اور 2001 کی مردم شماری کے تناسب سے ہی عازمین کوحج کے لئے بھیجا جارہا ہے جوکہ اتنی بڑی آبادی کے لئے یقینا کم ہے۔
البتہ حکومت نے ایک قابل ستائش قدم یہ اٹھایا ہے کہ گزشتہ کوٹہ کے علاوہ مزید پانچ ہزار حاجیوں کی اجازت الگ سے حاصل کی ہے اور اسی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک اتنی بڑی تعداد میں کبھی حاجی نہیں گئے۔ اس دعویٰ میں سچائی ہے مگرپوری نہیں ۔جو کوٹہ اضافہ کے طور پر لیا گیا ہے ،وہ مشروط اجازت ہے۔سعودی حکومت نے پانچ ہزار حاجیوں کے اضافی کوٹے کے ساتھ یہ شرط لگا دی ہے کہ انہیں منیٰ میں قیام کے دوران خیموں میں جگہ مہیا نہیں ہوگی۔انہیں منی کی بائونڈری کے باہر قیام کرنا ہوگا۔اس شرط کے ساتھ سعودی حکومت نے مزید پانچ ہزار حاجیوں کو منظوری دی ہے۔ ان پانچ ہزار حاجیوں میں سے 3677 عازمین حج کمیٹی کے تحت اور 1323 پرائیویٹ ٹور آپریٹرزکے تحت حج پر جائیںگے مگر یہ تمام لوگ منیٰ بائونڈری سے باہر ہی قیام کریں گے۔
حج کمیٹی کو جو کوٹہ ملا ہے، اسے 16ریاستوں میں مسلم آبادی کے تناسب سے تقسیم کردیا گیا ہے۔اس کوٹہ میں ان حاجیوں کو ترجیح دی جائے گی جو 56-59سال کے ہیں اور مسلسل پانچ سال سے درخواست دیتے چلے آرہے ہیں۔بہر کیف آبادی کے تناسب سے جو سیٹیں الاٹ کی گئی ہیں، ان میں اترپردیش کو 1297،مہاراشٹر کو437 ،چنڈی گڑھ کو 17، دہلی کو 73، گجرات کو 197، ہریانہ کو60، جموں و کشمیر کو 289، کرناٹک کو266، کیرالہ کو 299، مدھیہ پردیش کو 161، اڑیسہ کو 31، راجستھان کو 210، تمل ناڈو کو 143 ،اترا کھنڈ کو47 اور تلنگانہ کو 150سیٹیں ملی ہیں۔
پانی کے جہاز کا وعدہ
حکومت نے گزشتہ سال ہی یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ سال 2018 سے بذریعہ پانی جہاز عازمین کو حج پر بھیجا جائے گاتاکہ حاجیوں پر کم سے کم مالی بوجھ پڑے ۔مگر یہ وعدہ بھی محض وعدہ ہی رہا،اس کو عملی جامہ پہنایا نہیں جاسکا۔البتہ ایک اطلاع کے مطابق بحری جہاز سے سفر کے لئے گلوبل ٹینڈر جاری کردیا گیا ہے ،اب دیکھنا ہے کہ اس پر کب تک عمل ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 1994 تک عازمین پانی جہاز سے سفر حج پر جایا کرتے تھے۔ یہ جہاز ممبئی سے جدہ 2 ہزار 300 میل کا فاصلہ 7 سے 10دنوں میں طے کرتا تھا۔اتنے دنوں تک سمندری ماحول میں رہنے کی وجہ سیعازمین سخت پریشانیوںمیں مبتلا ہوجاتے تھے بلکہ سمندری آب و ہوا کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے کئی حاجی شدید بیمار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔
اس پریشان کن صورت حال کی وجہ سے حکومت ہند نے پانی جہاز کے سفر کو روک دیا تھا اور اس کی جگہ ہوائی جہاز سے حاجیوں کو بھیجا جانے لگا۔چونکہ ہوائی جہاز کا خرچ پانی جہاز کی بہ نسبت زیادہ ہوتا ہے جو کہ ہر شخص کے بس سے باہر کی بات ہے ۔لہٰذ ا حکومت نے سبسڈی دے کر اس اضافی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن اب ماڈرن ٹکنالوجی سے تیار پانی جہاز اس مسافت کو محض دو سے ڈھائی دنوں میں طے کرسکتا ہے اور اس میں ایک ساتھ تقریباً 5 ہزار لوگ سفر کرسکتے ہیں ۔اس لئے حکومت سنجیدہ ہوکر پھر سے پانی جہاز کو چلانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔اس سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ پہلے کی بہ نسبت کم وقت میں ممبئی سے جدہ پہنچ سکتے ہیں اور اس طرح سے انہیں پہلے کی طرح پریشانیوں کاسامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔لیکن اس کے لئے حکومت کو انتہائی سنجیدگی دکھانی ہوگی ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ یقینا عازمین کے لئے حکومت کایہ ایک بڑا تحفہ ہوگا۔

 

 

 

 

گرین کٹیگری کی سہولت
حج 2018 میں گرین کٹیگری بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سعودی حکومت نے 2013 سے ماقبل کے کوٹے کو بحال کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ توسیعی کام مکمل ہوچکا ہے ۔ اس سے یہ سمجھا جارہا ہے کہ حرم شریف کے اطراف میں موجود ہوٹلز مہمانوں کے لئے پورے طورپر کھل چکے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی گرین کٹیگری میں بہت سے ہوٹل بند پڑے ہوئے ہیں اور اس علاقے میں حاجیوں کو قیام کرنے کی گنجائش کم ہے۔
عام طورپر ایسا سمجھا جاتا ہے کہ گرین کٹیگری کی عمارتیں حرم شریف سے بالکل متصل ہوتی ہیں۔جبکہ ایسا نہیں ہے۔ حدود حرم سے ڈیڑھ کلو میٹر کے علاقے میں جو رہائش گاہیں ہوتی ہیںیا یوں کہیں کہ 1000 میٹر کے کے فاصلے تک کے جو کمرے ہوتے ہیں ،وہ گرین گٹیگری کہلاتے ہیں ۔اس علاقے کے ہوٹلوں میں کھانا پکانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے اس لئے جو لوگ گرین کٹیگری میں قیام کرتے ہیں ،انہیں کھانے پینے کی ہر ضرورت باہر سے پوری کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ ڈیڑھ کلو میٹر سے لے کر 7-8 کلو میٹر کے فاصلے تک پر واقع رہائش گاہیں عزیزیہ کے زمرے میں آتی ہیں۔چونکہ فاصلہ زیادہ ہوتا ہے اور یہاں تقریباً ایک لاکھ 12 ہزار عازمین قیام کریںگے۔ان تمام عازمین کو حرم شریف تک لانے و لیجانے کے لئے قونصل کی طرف سے ہر وقت ایئر کنڈیشنڈ بسیں دوڑتی رہتی ہیں۔
یوں تو ہر حاجی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ گرین کٹیگری میں ہی قیام کرے تاکہ نفلی طو اف اور پنج وقتہ نماز کے لئے حرم میں آنا آسان ہو ۔مگر ظاہر سی بات ہے کہ سب کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔ کچھ لوگ پیسے زیادہ لگنے کی وجہ سے تو کچھ جگہ کم ہونے کی وجہ سے اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ امسال 14 ہزار عازمین نے گرین کٹیگری کے لئے درخواستیں دی تھیں، لیکن حرم شریف کے توسیعی عمل کی وجہ سے بہت سے ہوٹل منہدم کردیئے گئے ہیں اور بہت سے زیر تعمیر ہے، لہٰذ ا حرم شریف کے اطراف میں رہائش گاہ کا ملنا دشوار ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام خواہش مندوں کو اس علاقے میں جگہ نہیں مل پائی ہے۔ حج ہائوس جدہ سے جو اطلاع دی گئی ہے ،اس کے مطابق قونصل نے بھاگ دوڑ کرکے 12 ہزار عازمین کے لئے گرین کٹیگری میں کمرہ حاصل کرلیا ہے جبکہ اس کے لئے درخواست دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔ جنہیں گرین کٹیگری میں جگہ نہیں ملی ہے،انہیں اب عزیزیہ میں ہی قیام کرنا ہو گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *