شجاعت بخاری کے چاروں اخبارات کا مستقبل ؟

سرینگر کی پریس کالونی ، جہاں درجنوں مقامی ، قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور متعدد نیوز چینلز کے دفاتر واقع ہیں، میں داخل ہوتے ہی داہنی طرف والی دیو قامت عمارت کی دوسری اور تیسری منزلوں پر رائزنگ کشمیر (انگریزی)، روزنامہ بلند کشمیر (اُردو)، روزنامہ سنگرمال ( کشمیری ) ، ہفتہ وار کشمیر پرچم کے دفاتر ہیں۔ یہ چاروں اخبارات ’’ کشمیر میڈیا ہائوس ‘‘ نام کے بینر کے تحت شائع ہورہے ہیں اور اخبارات تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے رہے ہیں۔
دفتر میں گھستے ہی ایک چھوٹا سا کمرہ مقفل نظر آتا ہے۔ یہی وہ کمرہ ہے ، جہاں شجاعت بخاری بیٹھا کرتے تھے ۔اخبار کے ایک سینئر ایڈیٹر دانش نبی کہتے ہیں ، ’’ سر کا کمرہ اُس دن سے بند ہے، کئی بار ہم نے طے کیا کہ اسے کھولیں گے ، لیکن یہ کمرہ کھولنے اور اسکے اندر جانے کے لئے جس جرات اور ہمت کی ضرورت ہے، وہ ہم جٹا نہیں پارہے ہیں۔‘‘
14جون کی شام 7بجکر15 منٹ پر جب شجاعت بخاری اس کمرے سے آخری بار گھر جانے کے لئے نکلے تھے، انہیں کیا پتہ تھا کہ اُن کے قاتل دفتر کے باہر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔عمارت سے باہر نکلتے ہی شجاعت پچاس فٹ کی دوری پر کھڑی اپنی گاڑی کی طرف چلدیئے۔ وہ گاڑی کی عقب والی سیٹ پر بیٹھ کر موبائل فون کے ساتھ لگ گئے ۔اُن کا ایک سیکورٹی گارڈ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور دوسرا سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی پریس کالونی سے جانے لگی تو تین حملہ آوروں نے رائفلیں نکال کر گاڑی میں سوار تینوں افراد پر ان کے دہانے کھول دیئے۔ کچھ لمحوں میں تینوں انسانی زندگیاں گل ہوگئیں۔

 

 

 

دانش کہتے ہیں، ’’ مجھے آج بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ ہمارے باس اب موجود نہیں ہیں۔ ‘‘اس منحوس دن کو یاد کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا، ’’ میں گھر میں بیٹھا تھا، افطاری کے لئے دسترخوان بچھا ہوا تھا،میرے ہاتھ میں فون تھا، اچانک واٹس ایپ کی میسج آگئی کہ شجاعت بخاری قاتلانہ حملے میں مارے گئے ہیں۔یہ الفاظ مجھے اس قدر حواس باختہ کرگئے کہ مجھے آج بھی یاد نہیں کہ میں گھر سے کیسے نکلا اور گاڑی کیسے نکالی اور دفتر کی جانب کیسے چلدیا۔میرے ذہن میں گھر سے دفتر تک کے سفر کا کوئی منظر موجود نہیں ہے۔پریس کالونی پہنچنے پر پتہ چلا کہ شجاعت صاحب کی لاش پولیس کنٹرول روم میں ہے اور ہمارے سارے سٹاف ممبران وہاں پہنچ چکے تھے۔کنٹرول سے ایک آدھ گھنٹے کے بعد شجاعت کی لاش اسکے آبائی گائوں کریری کے لئے روانہ کردی گئی اور ہم ( سٹاف ممبران ) نے دفتر میں جمع ہوجانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
راشد مقبول ، کشمیر پرچم کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں ، کا کہنا ہے کہ دفتر میں سب جمع ہوئے ۔ ہم سب دم بخود تھے اور یہ فیصلہ نہیں کرپارہے تھے کہ ہمیں کریری کے لئے ابھی نکلنا چاہیے یا پھر رات کی آخری پہر یعنی سحری کے بعد۔اسی اثنا میں ’’گریٹر کشمیر‘‘ کے مالک و ایڈیٹر فیاض احمد کلو ، ’’کشمیر لائف‘‘ کے ایڈیٹر مسعود حسین اور روزنامہ’’ آفاق‘‘ کے ایڈیٹر معرفت قادری وادر ہوئے ۔ ان تینوں سینئر صحافیوں ، جو کشمیر ایڈیٹرس گلڈ کے عہدیدار بھی ہیں ، نے ہم سب سٹاف ممبران کو جمع کرکے مشورہ دیا کہ ’’کل کا رائزنگ کشمیر شائع ہوجانا چاہیے۔‘‘ کچھ ہی دیر بعد سٹاف ممبران روتے بلکتے ہوئے اپنے اپنے کمپوٹرس پر بیٹھ گئے ۔ شجاعت بخاری سے منسوب اخبار کا شمارہ تیار کیا جانے لگا۔
دانش کہتے ہیں ، ’’ یقین کریں ، ہم میں سے کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا لکھیں اور لکھنا کیسے شروع کریں ۔ ‘‘ بہرحال شجاعت کی تربیت میں پنپنے والے رائزنگ کشمیر کے صحافیوں کی ٹیم جٹ گئی ۔ اس اخبار کے کئی سابق اراکین اور صحافی بھی مدد کے لئے پہنچے ۔ چند گھنٹوں میں آٹھ صفحات پر مشتمل رائزنگ کشمیر کا خصوصی شمارہ تیار ہوچکا تھا۔ اخبار چھاپہ خانہ بھیج دیا گیا اور خود سٹاف ممبران اپنے ایڈیٹر انچیف کاآخری دیدار کرنے کے لئے کریری کی طرف چل دیئے۔15جون کی صبح شجاعت بخاری دفن ہوجانے سے پہلے اُن کے نام سے منسوب اخبار شہر و دیہات میں پہنچ چکا تھا۔
رائزنگ کشمیر کے سٹاف ممبران کی اس غیر معمولی کائوش کو سراہنے والوں میں سب سے پہلے شخص سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ تھے جنہوں نے رات کے دوران ہی نہ صرف رائزنگ کشمیر کا صفحہ اول ، جس پر شجاعت کی فل پیچ تصویر لگی ہوئی تھی ، کو سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کردیا ۔بلکہ اخبار کے اراکین کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’’ شجاعت ایسا چاہتے‘‘ ۔ یعنی وہ یہی چاہتے کہ ان کے مرنے پر بھی اخبار کی اشاعت نہ رک جائے۔
چار ہفتے گزرگئے ۔ آج رائزنگ کشمیر ، بلند کشمیر ، کشمیر پرچم اور سنگرمال تسلسل کے ساتھ شائع ہورہے ہیں۔ لیکن سٹاف ممبران کو شدت کے ساتھ اپنے باس کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ راشد مقبول کہتے ہیں،’’ ہم سب پر عزم ہیں۔ اخبارات کی اشاعت رکے گی نہیں لیکن ہمیں قدم قدم پر شجاعت صاحب کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ ‘‘ راشد نے اپنی ایک تحریر میں ان الفاظ میں شجاعت کی بلند ہمت اور حوصلے کا تذکرہ کیا ہے، ’’معاملہ چاہے کتنا ہی بڑا یا پیچیدہ ہو ، ایک بار انکے قلم کی زد پڑی تو میدان سر کرنا چشم زدن کی بات بن جاتی تھی ۔ شجاعت تیز تھے ،بہت تیز ۔ وہ فیصلہ لینے میں اور اسکو عمل میں لانے میں زیادہ وقت نہ لگاتے تھے ۔ اکثر اپنے ماتحت افراد کو سست روی پر ٹوکتے ۔ مجھ سے کہتے کہ صحافت میں اتنی فرصت کہاں ہے کہ مضمون کو گھستے جائیے اور پیٹتے جائیے ۔ ان کا قدم پرُ اعتماد اور عزم محکم تھا ۔ کسی چیز کی ٹھان لی تو کر گذرتے ۔ انکی یہی پھرتی ،یہی تیزی اور یہی عزم و رادہ تھا کہ انہوں نے ایک دہائی میں ایک نہیں ،دو نہیں ،بلکہ چار اخبار وہ بھی چار مختلف زبانوں میں جاری کیے، جن میں سے ہر ایک آج ایک الگ ادارے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔‘‘
دانش کہتے ہیں ، ’’پہلے ہم اخبارمیں شائع ہونے والی اہم خبروں کے بارے میںشجاعت صاحب سے صلاح و مشورہ کرتے تھے۔ ان کی رائے لیتے تھے ۔ آج ہمیں سب کچھ خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے اراکین ادارہ خود کو یتیم محسوس کررہے ہیں۔‘‘

 

 

 

شجاعت بخاری کے افرد خانہ نے سٹاف ممبران ، جن کی تعداد 70سے زیادہ ہے، کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی ۔ راشد کے بقول ’’ لیکن یہ ہم ہی جانتے ہیں، ہمیں سب سے زیادہ اخبار میں شائع ہونے والے مواد کے بارے میں صلاح و مشورے کی ضرورت پڑتی ہے، جو شجاعت ہی دے سکتے تھے ۔ اُن کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔ہمارے لئے اُن کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتاہے۔ ‘‘
اس وقت یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ شجاعت بخاری کے چار اخبارات کامیابی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ پائیں گے یا نہیں ۔ بالکل اسی طرح جس طرح یہ کہنا مشکل ہے کہ شجاعت کو مارنے والے کبھی قانون کے شکنجے میں آئیں گے بھی یا نہیں۔ چار ہفتے گزر گئے لیکن ابھی اس تحقیق میں کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ صرف پولیس کے دعوے سننے کو ملے ہیں۔ پولیس کہتی ہے کہ شجاعت کا قتل تین افراد نے کیاہے، جن میں پاکستانی شہری نوید جٹ بھی شامل ہے۔ نوید جٹ اسی سال فروری میں قید سے فرار ہوا، جسے سرینگر سینٹرل جیل ، جہاں وہ 2016ے قید تھا ،سے چیک اپ کے لئے شہر کے صدر اسپتال لایا گیا تھا۔فرار ہوتے ہوئے ، اس نے ایک پولیس اہلکار کو قتل کیا تھا۔ واقعہ کے دو دن بعد اس نے فیس بک پر اپنی تصویر جس میں اسے ایک اور جنگجو کے ہمراہ اسلحہ ہاتھوں میں لئے دیکھا جاسکتا تھا، کو اپ لوڈ کیا۔ یعنی فرار ہوجانے کے بعد وہ ساڑھے چار ماہ تک شہر میں ہی کہیں موجود تھااور اسکے بعد اس نے اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ لال چوک جیسے ہائی سیکورٹی ژون میں ایک عالمی شہرت یافتہ صحافی کو قتل کرنے کے بعد وہ فرارہوا ۔ وہ اب بھی یہیں کہیں ہے۔ لیکن پولیس کو اس بارے میں کوئی اتہ پتہ نہیں ۔ اس سارے معاملے کے تناظر میں یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا واقعی سرینگر شہر میں حکومت اور سیکورٹی ایجنسیوں کا کوئی کنٹرول ہے ؟
غور طلب بات یہ ہے کہ شجاعت کو مارنے والے پستول لیکر نہیں آئے تھے ، جسے چھپانا قدرے آسان ہے ، بلکہ وہ پولیس کی اب تک کی تحقیق کے مطابق تین AK47رائفلیں لیکر اور موٹر سائیکل پر سوار ہوکر سٹی سینٹر کے سب سے اہم علاقے یعنی پریس کالونی تک پہنچ گئے ۔ واقعہ انجام دینے کے بعد واپس بھی چلے گئے ۔ پریس کالونی لال چوک کے گھنٹہ گھر سے چند سو گز کی دوری پر واقع ہے۔ آدھے کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر پولیس اسٹیشن ہے جسے سرینگر کے چند بڑے اور اہم پولیس اسٹیشنوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جہاں شجاعت کو اسکے دو محافظوں سمیت قتل کیا گیا ، اس جگہ سے صرف پچاس گز کی دوری پر فورسز کا بنکر قائم ہے، جہاں ہر وقت کم از کم آٹھ اہلکار تعینات رہتے ہیں۔لیکن ان سب کی پرواہ کئے بغیر حملہ آور موقع پر پہنچے ۔ تین افراد کو بھون ڈالا اور پھر بائیک پر سوار ہوکر واپس بھی چل دیئے اور پولیس تاحال سوائے مبینہ حملہ آوروں کی شناخت ظاہر کرنے کے کچھ نہیں کر پائی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ان چار اخبارات ، جن کے شجاعت بانی ایڈیٹر اور مالک تھے، کے مستقبل کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے اور شجاعت کے قتل میں پولیس کی تحقیق سے بالآخر کیا نتیجہ برآمد ہوگا، اس بارے میں بھی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *