کشمیر میں دکھاوے کا خاتمہ

حالیہ دنوںمیںکشمیر کو لے کر دو دکھاووں کا خاتمہ ہوا ہے۔ آپسی شبہات کی بنیاد پر کھڑی جنگ بندی اور گٹھ بندھن ختم ہوگئے ہیں۔ کشمیر کے ایک مشہور صحافی شجاعت بخاری کا قتل ہوا۔ اس وقت اقوام متحدہ کی ایک تنظیم کی کشمیر میںانسانی حقوق کو لے کر رپورٹ آئی۔ حالانکہ سرکار اس پر دکھاوا کرتی رہی۔ کشمیر کی جنگ بندی کا اعلان رمضان کے مہینے کے آغاز میںہوا تھا۔لیکن اس سے قبل دشمنی والے کئی بیان دیے گئے تھے۔ فوجی سربراہ بپن راوت نے کہا تھا کہ وہ لوگ کشمیر کے نوجوانوںکو یہ سمجھائیںگے کہ آزادی کبھی بھی نہیںملنے والی ہے۔ انتہا پسند گروپوں میںنئے لوگ بھرتی ہورہے ہیںاور فوج انھیںیہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس سے کچھ نہیںہونے والا ہے۔
اس پس منظر میںہوئی جنگ بندی مشکل رہی۔ شوپیاں میںتشدد اس لیے بھڑک گیا کہ فوج کی طرف سے دی جارہی افطار کی دعوت کو انھوںنے ٹھکرا دیا۔ کچھ ہی وقت بعد سری نگر میںمظاہرین نے سی آر پی ایف کی ایک پیٹرولنگ گاڑی پر حملہ کردیا اور اس کے بعد گھبرائے ہوئے ڈرائیور نے جس طرح سے گاڑی لے کر بھاگنے کی کوشش کی،اس میںایک شخص پر گاڑی چڑھ گئی اور کئی زخمی ہوگئے۔

 

 

اگلے دن آخری رسومات کے وقت احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے۔ انگریزی روزنامہ’ رائزنگ کشمیر‘ کے ایڈیٹر شجاعت بخادی سے لوگ سوشل میڈیا پر اس لیے ناراض تھے کیونکہ انھوں نے واقعہ کی تصویر شائع کردی تھی۔ سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ان کے خلاف بولنے والوںکو سی آر پی ایف کی کارروائی سے بچاؤ کا حق ہے لیکن تب جب وہ کشمیر کو صرف زمین کا ایک ٹکڑا سمجھتے ہوں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ناقدین کو یہ سوچنا چاہیے کہ کشمیری نوجوانوں کے دل سے موت کا خوف کیوںختم ہوگیا ہے۔ بخاری کی صحافت اور عوامی فورموں پر ان کے رویے کو لے کر ایک طبقے میںناراضگی تھی۔ 14 جون کو بخاری کا قتل کشمیرکی لبرل آواز کو دبانے کی کوشش تھی۔ یہ حیران کرنے والی بات ہے کہ ان کے قتل کے بعد اس کی جانچ کی مانگ کم ہی اٹھی ہے کیونکہ کشمیر میںکسی کو اس طرح کے قانونی عمل پر بھروسہ نہیںہے۔
میڈیا کشمیر کو لے کر انتہا پسند رخ اپنا ئے ہوئے ہے۔ اسے بخاری کے قتل سے یہ لگا کہ بات چیت کا کوئی مطلب نہیںہے۔ خفیہ بیورو کے افسر رہے اور ابھی وزیر اعظم نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے نام پر مقبول ڈوبھال ڈاکٹرائن یہی کہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا جائے۔ جنگ بندی رد کرنے کے ایک طرفہ اعلان سے بھی اس بات کو مضبوطی ملتی ہے۔ مرکزی سرکار کے اس رویے کو جموں و کشمیر کی گٹھ بندھن والی سرکار نہیں قبول کرتی۔ اس لیے بی جے پی نے پی ڈی پی کی سرکار سے حمایت واپس لے کر گورنر راج کا راستہ صاف کر دیا۔
انتخابات میںبی جے پی کو جموں کی زیادہ تر سیٹیںملی تھیں اور کشمیر کی زیادہ تر سیٹوں پر ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود بی جے پی سرکار میںشامل ہوکر اپنا ایجنڈا لاگو کرانا چاہتی تھی۔ اس سے پارٹی کو کوئی واضح فائدہ نہیںہوا۔
شجاعت بخاری ہندوستان کے قومی خیال میںکشمیری پہچان کی کمی کو انڈر لائن کرتے تھے۔ روسو کے الفاظ میں کہا جائے تو آدمی کوئی تعداد نہیںبلکہ اس کی ایک اپنی پہچان ہے۔ کشمیریوں کی اس الگ پہچان کو نئے قوم پرست ماننے کو تیار نہیںہیں۔ اگلے سال لوک سبھا انتخابات میںجیت حاصل کرنے کے ہدف کے ساتھ کام کر رہی بی جے پی ہر چیز کا استعمال کرنا چاہتی ہے۔ میجوریٹرین کی خواہشات کو جزوی طور پر لاگو کرکے کشمیریوں کو الگ تھلگ کرنا چاہتی ہے۔ پوری دنیا میںمیجوریٹریزم کی ایک نئی لہر ہے۔ ایسے میںاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی کشمیر میںحقوق انسانی سے متعلق رپورٹ پاس ہونا ہندوستان کی لاپرواہی کو بھی دکھاتا ہے۔ یہ سرکاروںکی ذمہ داری کی فرسودگی ہے۔ کشمیری لوگوںکے لیے اس کے نتیجے حساب سے پرے ہیں۔
(بشکریہ اکانومک اینڈ پالیٹکل ویکلی)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *