نظام صحت کا سدھار سرکار کو درپیش سب سے بڑا چیلنج

مرکزی سرکار کا غریبوںکو کم قیمت پر دوائیں اور ضروری طبی سہولتیں مہیا کرانے کا دعویٰ خیالی ثابت ہورہا ہے۔ غریبوں کو سستی شرح پر جینرک دوائیں کرانے کے مقصد سے کھولے گئے زیادہ تر عوامی دوا مراکز سونے اور بیزار پڑے ہوئے ہیں۔ ان مراکز پر ضروری ادویات کی لگاتار کمی واقع ہورہی ہے۔ وزیر اعظم ملک و بیرون ملک کے اسٹیج سے بار بار دوہراتے رہتے ہیں کہ انھوںنے دل کے آپریشن میںلگنے والے’اسٹنٹ‘ کے دام کر دیے ہیں۔ گھٹنوں کے ٹرانسپلانٹ کی شرحیں مقرر کردی ہیں اور 1100 سے زیادہ دواؤں کے دام زمین پر لادیے ہیں۔ لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔ سچ کیا ہے، یہ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
سچائی
مرکز ی وزارت صحت کے ذریعہ ملک بھر میںتین ہزار پانچ سو عوامی دوا مراکز کھولے گئے ہیں ۔دعویٰ یہ کیا جارہا ہے کہ ان مراکز پر چھ سو سے زیادہ جینرک دوائیں بازار کی قیمت سے آدھی تہائی شرحوں پر سبھی ضرورت مندوں کو بانٹی جارہی ہیں۔ مگر سچائی یہ ہے کہ زیادہ تردوا کے مراکز پر 150 سے زیادہ دوائیںدستیاب ہی نہیںہیں۔ ان مراکز پر زندگی بچانے والی دواؤں کا ہمیشہ قحط پڑا رہتاہے۔ سرکاری دعووں پر یقین کریں تو ملک کے چھ سو ضلعوںمیںصرف تین ہزار پانچ سو مرکز کھولے گئے ہیں۔ ظاہر ہے، عوامی دوا مراکز کی اتنی کم تعداد میںضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرپانا ممکن ہی نہیں ہے۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ ملک بھر میںتقریباً ساڑ ھے پانچ لاکھ میڈیکل اسٹور ہیں۔ان میڈیکل اسٹوروں پر جینرک دوائیں نہ تو دستیاب ہوتی ہیں اور نہ ہی اسپتالوںکے ڈاکٹر جینرک دواؤں کے نام اپنے پرچے میں لکھتے ہیں۔ یو پی اے سرکار نے سال 2013 میںغریبوں کو کم قیمت پر دوائیں دستیاب کرانے کے مقصد سے’ ڈرگ پرائس کنٹرول آرڈر‘لاگو کیا تھا۔ اس سے 348 زندگی بچانے والی دواؤں کے داموں میںکمی آنے سے غریب طبقے کے لوگوںکو کچھ ر احت بھی ملی تھی لیکن گزشتہ تین چار سالوں میںصحت سے متعلق خرچوں میںہوئے بے تحاشا اضافہ نے عام آدمی کی کمر پوری طرح توڑ دی ہے۔ نیشنل فار ماسیوٹیکل پرائزنگ اتھارٹی کا بھی یہ ماننا ہے کہ ضروری دواؤں کی مرکزی فہرست میں آنے والی دواؤںکے داموں میںرواںمالی سال میں4-5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ البتہ جو دوائیںاس فہرست کے دائرے سے باہر ہیں، ان کی قیمتیںدس فیصد تک بڑھی ہیں۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی لاگو ہونے سے پرائیویٹ اسپتالوں کا علاج اور مہنگا ہوگیا ہے۔ صاف ہے کہ ملک کے غریبوں کو سستے علاج کا خواب حقیقت سے ابھی کوسوںدور ہے۔
ملک میں صحت سے متعلق بڑ ھتے خرچ کو لے کر ایک برٹش میڈیکل جرنل نے جو تازہ خلاصہ کیا ہے، وہ سچ مچ چونکانے والاہے۔ تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ گزشتہ دس سال میںعام شہری کے علاج کے خرچے میں176 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ ’پر کیپٹا ‘ جی ڈی پی 121 فیصد بڑھی ہے۔ پچھلے دو سالوں میں کچھ دواؤں کے دام دوگنے ہو گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ غریب طبقے کے لوگ علاج کے بوجھ سے تباہ ہوتے جارہے ہیں۔ سروے کے نتیجے بتاتے ہیں کہ پچھلے ایک سال میںتقریباً ساڑھے پانچ کروڑ لوگ علاج کراتے کراتے خط افلاس سے نیچے چلے گئے ہیں۔ ان میںسے 3.8 کروڑ لوگ تو صرف دواؤں پر اپنی گاڑھی کمائی کا پیسہ خرچ کرکے غریب ہوگئے۔

 

 

 

 

ہندوستان کا رینک 184 واں
ہندوستان میںصحت سے متعلق اوسط خرچ خاندان کے کل خرچ کا 10 فیصد مانا جاتا ہے۔ لیکن کینسر، شوگراور قلب کے امراض کی دن بہ دن بڑھتی بیماریوں نے غریب اور مڈل کلاس کا بجٹ ہی بگاڑ دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب ایک عام انسان کے خاندان میں صحت پر ہونے والا خرچ ا س کے کل بجٹ کا 25-30تک پہنچ گیا ہے۔ ان میںبھی حادثوں پر ہونے والا خرچ سب سے بھاری ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ سے یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملک اپنی جی ڈی پی کا 5.2 فیصد، درمیانی درجہ کے ملک 2.5 سے 3.8 فیصد اور غریب ملک 1.4 فیصد طبی سہولتوں پر خرچ کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں ابھی یہ خرچ مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کا صرف 1.2فیصد ہی ہے۔ شاید اسی لیے حفظان صحت پر عوامی خرچ کے معاملے میںہندوستان ابھی 191 ملکوں کی فہرست میں 184 ویں مقام پر بنا ہوا ہے۔
عموماً جمہوری ملکوںمیںعام شہریوں کے علاج کی ذمہ داری سرکار کی ہی ہوتی ہے۔ اس معاملے میں آسٹریلیا کا ٹریک ریکارڈ سب سے اچھا ہے۔ آسٹریلیا میںآئی اے ایس کی طرح ہیلتھ کیئر کا الگ کیڈر بنا ہوا ہے جوعوام کی صحت کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ وہاں اسپتالوں میںدستیاب کل بیڈز کے تقریباً 80 فیصد سرکاری اسپتالوں میں ہیں۔ تقر یباً ایسا ہی حال ملیشیا اور ہانگ کانگ میں بھی ہے۔ دوسری طرف ہمارے ملک میں اسپتالوں میںدستیاب کل بیڈز کے صرف 29 فیصد سرکاری اسپتالوں میںہیں۔ دعوے ہم کتنے بھی کریں لیکن یہ اعداد و شمار ہمارے نظام صحت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
ایک سچائی یہ بھی ہے کہ ملک کے 85فیصد دیہی اور 82 فیصد شہری لوگوں کا کوئی صحت بیمہ نہیں ہے۔ جرمنی اور امریکہ جیسے ملکوںمیںصحت بیمہ کرانا ہر شہری کے لیے ضروری بنا دیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میںنہ تو لوگوں کا دھیان ابھی اس طرف گیا ہے اور نہ سرکار کو ہی لوگوں کی صحت کی واقعی کوئی فکر ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ وزیر اعظم مودی سے لے کر چھٹ بھئیے سرکاری نمائندے تک ملک کی صحت سدھارنے کے نام پر ’فٹنیس چیلنج‘ کا سیاسی ناٹک کرنے میںضرور جٹے ہوئے ہیں۔
حالانکہ آئین میںہر شہری کو ہیلتھ اور ایجوکیشن کی گارنٹی دی گئی ہے ۔ اس کے باوجود ملک میںطبی سہولتوں کا سرکاری تانا بانا اتنا خستہ ہے کہ شہری علاقے کی 70 فیصد اور دیہی علاقے کی 63 فیصد آبادی ابھی بھی پرائیویٹ سیکٹر کی خدمات پر ہی انحصار کرتی ہے۔ ملک کے 58 فیصد اسپتال اور 81 فیصد ڈاکٹر پرائیویٹ سیکٹر میںہی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے سرکار کی طبی خدمات پر ہونے والا خرچ جی ڈی پی کے تناسب میںلگاتار کم ہوتا جارہا ہے۔ اس کے باوجود سرکار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ’مودی کیئر‘ یا ’آیوشمان بھارت یوجنا‘ ملک کے طبی نظام کی تصویر بدل دے گی۔
سرکار کے راستے علاج کے تصور کی ہوا تو پرائیویٹ سیکٹر کے کھلاڑیوں نے پہلے ہی نکال دی ہے ۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ ’آیوشمان بھارت یوجنا‘ کی موجودہ شکل اور پروویژنس سے متفق نہیںہے۔ ملک کی 40 فیصد آبادی کو مفت ہیلتھ کیئر کے دائرے میںلانے والی اس اسکیم میںعلاج پر ہونے والے خرچ کے جو اندازے لگائے گئے ہیں،اس سے نہ تو پرائیویٹ اسپتال خوش ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر۔ سچائی یہ بھی ہے کہ ہرشہری کو طبی سہولت دستیاب کرانے کے لیے ملک میںابھی نہ تو ضروری انفراسٹرکچر ہے اور نہ ہی ڈاکٹر، نرس او رپیرامیڈیکل اسٹاف۔ حالت یہ ہے کہ سرکار کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز 70 سے 80 فیصد تک برسوں سے خالی پڑے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک کے ہانپتے نظام صحت کو سدھارنا سرکار کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ نیشنل ہیلتھ پروفائل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میںگیارہ ہزار کی آبادی پر ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق ایک ہزار کی آبادی پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے۔ اس نظریہ سے دیکھیں تو کم سے کم پانچ لاکھ ڈاکٹروں کی ملک میںفوری ضرورت ہے۔ اب اس تصویر کے دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں۔ ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے میڈیکل کالجوں سے ہر سال تقریباً 67000 ایم بی بی ایس اور 31000 پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر نکل رہے ہیں۔ یہ تب ہے جب مودی سرکار نے گزشتہ چار سال میںایم بی بی ایس کی 15354اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر 12646 سیٹیں بڑھائی ہیں۔ اس طرح دیکھیںتو ملک میںڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے میںہی ابھی پانچ چھ سال اور لگ جائیںگے۔ اسی طرح ملک میں55000 کی آبادی پر ایک سرکاری اسپتال اور 1800 لوگوںکے بیچ اسپتال کے ایک بیڈ کی دستیابی ہے جو عالمی ادارہ صحت کے حساب سے اونٹ کے منہ میں زیرہ جیسی ہے۔
غور طلب یہ بھی ہے کہ ہمار ے ملک میں ماہر ڈاکٹروں کی ابھی بھاری کمی ہے۔ ملک میں اوسطاً ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماہر ڈاکٹر ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میںایسے ڈاکٹروں کی دستیابی کم سے کم اس کی پانچ گنی زیادہ ہے۔ ظاہر ہے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی اس کمی کو پورا کرنے میں ہی کسی بھی سرکار کو ایک دہائی کا لمبا وقت لگ جائے گا۔ مودی سرکار کی لاکھ کوششوں کے باوجود ہندوستان میںایک ہزارنوزائیدہ بچوںمیں34 کی مناسب علاج کے فقدان میںموت ہو رہی ہے۔ اسی طرح ہر ایک لاکھ میں167 زچگیاں بھی طبی سہولیات کے فقدان میںاپنی جان گنوا بیٹھتی ہیں۔ 70 سال کی آزادی کے بعد بھی ملک کی یہ سیاہ تصویرکیا سچ مچ تشویش پیدا کرنے والی نہیںہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *