شجاعت بخاری بے خوف صحافت کی مشعل تھے

کسی کی پہچان اس کے جانے کے بعد اس کا لکھاہوا اوراس کا بولا ہواثبوت کی شکل میں ہمارے سامنے رہتاہے۔ شجاعت بخاری اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔تقریباً 15 سے زیادہ گولیوں نے انہیں ہم سے چھین لیا ۔یہ گولیاں چلانے والے ہاتھ کسی کے تھے اورگولیاں چلوانے والے حکم کسی اورکے تھے ، جانچ میں چاہے جونکلے، لیکن سچائی یہ ہے کہ وقت کے بے رحم ہاتھوں نے شجاعت بھائی کوہم سے چھین لیا۔
شجاعت بخاری کیاتھے۔یہ ان کے لکھے ہوئے تمام اداریوں میں ایڈٹ پیج آرٹیکلس میں اورساری دنیامیں بولے گئے ان کے الفاظ نے ان کی ایسی شخصیت بنادی ہے جس کے اوپرکسی کوبھی رشک ہوسکتاہے۔ شجاعت بخاری نے جولکھا وہی بولا اوراسے ہی جیا، انہیں اپنی نجی خوشی سے زیادہ کشمیرکے لوگوں کے دکھ درد ، ان کی تکلیف، ان کے آنسوؤں نے اپنا بنادیاتھا۔انہو ںنے اپناوقت ، اپنے فیملی کوکم اورکشمیرکے لوگو ں کو زیادہ دیاتھا۔ شجاعت بخاری کی زندگی میںبہت سارے اتارچڑھاؤ آئے، لوگوں کے غصے کا نشانہ بنے ۔ دوبار انہیں مارنے کی کوشش ہوئی لیکن وہ ان حملوں سے ، یاجان لینے کی کوشش سے کبھی ڈرے نہیں، اوریہیں شجاعت بخاری کا کرداراتنابڑاہوگیاتھا کہ وہ لوگوں کیلئے ایک مثال بن گیا۔

 

 

 

 

آخری بات چیت
شجاعت بخاری سے میری آخری بات چیت ان کی شہادت سے تقریباً ایک ہفتے پہلے ہوئی تھی۔ میں جنوبی کشمیرکے طلباسے ملنے کیلئے ڈگری کالجوں اورہائرسیکنڈری اسکول میں گیاتھا۔پھرمیں کشمیرکے انٹلکچول سے ملااورتاجروں سے ملا۔ ان لوگوں سے ملا جوسیاست کے اس طبقے میں پہنچ گئے ہیں جن کے سامنے کوئی بہت صاف راستہ نہیں ہے، اورساتھ ہی میں ان نوجوانوں سے ملا جونوجوان سسٹم کے کرپشن کا شکارہوگئے ہیں۔ یہ سب جب میں نے اپنے اخبار’چوتھی دنیا‘ کیلئے لکھ لیا تومجھے فکرہوئی کہ کشمیرکے لوگوں تک یہ سب کچھ کیسے پہنچے ؟۔شجاعت بخاری اس وقت بیرون ملک میں تھے اورکئی سیمیناروں میں کشمیرکی صحیح تصویررکھ رہے تھے ۔انہو ںنے فون سے مجھے کہاکہ آپ اسے ’رائزنگ کشمیر‘کوبھیجئے اورہم اسے سلسلہ واربہتراندازسے شائع کریں گے۔ ان کے یہ کہتے ہی میں نے ان تحریروں کوشجاعت بخاری کے حکم کے مطابق رائزنگ کشمیرمیں دانش صاحب کے پاس بھیج دیا۔ سلسلہ وار ڈھنگ سے یہتحریریں چھپنی شروع ہوگئیں ۔جس دن دوسری قسط چھپی اسی دن شجاعت بخاری کے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا اورانہیں شہید کردیا گیا،اس دن انہو ںنے اپنے آخری ٹویٹ میں ایک ٹویٹ میرے اسی دن چھپے آرٹیکل کا دیااوردوسرایواین اوکی کشمیرمیں ہیومن رائٹس کی صورتحال کو لیکردیئے گئے یواین اوکے ریزولیوشن کا دیا۔ان کی شہادت کے اگلے دن ان کا جنازہ نکلااوراس سے اگلے دن پھرمیرے آرٹیکل کا آخری حصہ ان کے اخبارمیں شائع ہوا۔ ہوسکتاہے شایدوہ یہ حکم دے گئے ہوں کہ سیریلائزکرنے میں اتنے وقفے کی ضرورت نہیں ہے۔ میںزندگی میں جب تک میں سانسیں لوں گا، یہ واقعہ ہمیشہ میرے ذہن میں گونجتارہے گا۔
جشن ریختہ دہلی میں اردوکے لوگوں کیلئے بہت مشہورموقع ہوتاجب ہندوستان سے ، ساری دنیاسے اردو کے چاہنے والے اکٹھے ہوتے ہیں اورجشن مناتے ہیں۔ اس بار کے جشن ریختہ میں اچانک کسی نے میرے کاندھے کے پیچھے ہاتھ رکھا ، میں نے مڑکردیکھا تووہ شجاعت بخاری تھے ، ان کے ساتھ ایک خوبصورت خاتون تھیں۔شجاعت بخاری نے ہمیشہ کی طرح مسکراکرگرم جوشی سے گلے لگایا۔ میں نے گلے لگتے ہوئے شکایت کی کہ کیابھائی آپ آئے اورخبربھی نہیں ہوئی۔اس کے جواب میں انہو ںنے محترمہ سے تعارف کرایا۔ وہ ان کی اہلیہ تھیں۔ہم دس منٹ ساتھ کھڑے ہوکرباتیں کرتے رہے اورپھر چار قدم الگ ہٹ کرباتیں کرنے لگے ۔ان کی محترمہ جی موبائل پرکسی سے باتیں کررہی تھیں۔اوران دس منٹ میں ہم نے کشمیرکے حالات کا جائزہ لیااورانہو ںنے کہاکہ آپ جلد ہی پھرکشمیر کیوں نہیں آتے ،تین مہینے کا وقفہ بہت بڑاوقفہ ہوتاہے ۔اسلئے میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میںجلد ہی سرینگر آؤں گا۔افسوس جب میں ساؤتھ کشمیرکے سفرپر کشمیر گیا تو شجاعت بھائی بیرون ملک میں تھے۔ اورجب وہ لوٹے توایسے لوٹے کہ پھروقت کے ہاتھوں نے انہیں اس راستے پربھیج دیاجہاں سے کوئی لوٹتانہیں۔
اچھاخاصہ نوجوان ،سمجھدار، ایساجرنلسٹ جیسا جرنلسٹ ہونے کو لوگ پسند کریں، جولوگوں کوموٹیویٹ کرتاہے،جولوگوں کی سمجھ کے بند جالے کھولتاہے۔پچھلی دنوں جب بھی شجاعت بخاری سے بات چیت ہوئی تویہی طے ہواکہ ہم ہندوستان کے مختلف حصوں میں جائیںاورکشمیرکی بات کورکھیں ۔ اس میں کئی خطرے تھے، میں نے ان خطروں سے انہیں واقف کرایا کہ ہوسکتاہے کہ کچھ لوگ مخالفت کریں ۔توشجاعت بھائی نے کہاکہ کیافرق پڑتاہے۔ویسے ہم کون خوشی کے ماحول میں جی رہے رہیں ،ہر جگہ ایسے لوگ مل ہی جاتے ہیںجوغلط فہمی کا شکارہوکرایکسٹریم ویواپنالیتے ہیں۔اور شجاعت

 

 

 

بخاری کی یہ بات اب مجھے ہمیشہ یادآتی ہے۔
شجاعت بخاری سے ایک میری بہت اہم ملاقات دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل کے ایک سیمینارمیں ہوئی تھی، جوسیمینارکشمیر کو لیکرہوا تھا۔اس سے پہلے میں،ابھے دوبے اوراشوک وانکھیڑے 2016میں کشمیرگئے جب کشمیرتناؤ سے بھرپورتھااورکشمیری نوجوان سڑکوں پرتھے، پتھر اور سیکوریٹی فورسزکے بیچ میں جوگل بندی چل رہی تھی۔وہاں سے لوٹ کرمیں نے پرائم منسٹرکے نام ایک خط لکھا، جس خط نے ساری دنیامیں ہلچل مچادی اوراس ہلچل کے پیچھے شجاعت بخاری کا دماغ تھا۔
وہ خط ’چوتھی دنیا‘میں چھپنے کے ساتھ’ رائزنگ کشمیر‘ میں پوری طرح شائع ہوا، اورشجاعت بخاری نے میرے پرائم منسٹرکو لکھے ہوئے اس خط کوساری دنیامیں وائرل کردیا، دنیا کے نہ جانے کن کن اخباروں میں وہ خط شائع ہوا۔دراصل ،شجاعت بخاری کشمیرکے نوجوانوں کا، کشمیرکی عورتوںکا، کشمیرکے رہنے والوں کا درد دنیاکے سامنے رکھنے میں اپناامپورٹنٹ رول مانتے تھے۔انہو ںنے اس سیمینار میں کہاکہ کشمیرکوسمجھنے کیلئے سنتوش بھارتیہ کے ذریعہ پرائم منسٹر کولکھے ہوئے خط کوپڑھنااسلئے ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد کچھ پڑھنے کی ضرورت رہ نہیں جاتی۔
مجھے یادہے کہ پاکستان کے اخباروں نے اس خط کوہندوستان کے خلاف ایک ثبوت کے طورپردنیاکے سامنے پیش کیا۔تومیں نے شجاعت بخاری سے کہاکہ میں نے یہ سوچ کر خط نہیں لکھاتھاکہ میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کے خلاف ایک ہتھیارکے طورپراستعمال کیاجاؤں ،توشجاعت بخاری نے کہاکہ آپ فوراً ایک دوسراآرٹیکل لکھئے اوراس کی مذمت کیجئے۔
میں نے پھرلکھااورمیں نے کہاکہ ہمارے دیش کاسوال ہے، پاکستان کواپنے دیش کے لوگوں کی تکلیف کی فکرکرنی چاہئے۔ہمارے دیش کے بارے میں سوچنے کیلئے، سرکارکے سامنے سوال رکھنے کیلئے اورسرکار کوسمجھانے کیلئے ہم کافی ہیں۔اس کے لئے پاکستان اپنے حق میں اسے استعمال نہ کرے۔یہ نہ انصاف کے مناسب ہے اورنہ انسانیت کے حق میں ہے۔اس کے بعدپاکستان کے کئی ٹیلی ویزن چینلوں سے مجھے فون آئے اورمیں نے ان سے یہی کہااورانہو ںنے میری اس بات کی پروزورحمایت کی کہ میں نے یہ صحیح بات کہی۔اس کیلئے میں پاکستان کی جرنلسٹ برادری کا شکریہ اداکرتاہوں۔
آج جب شجاعت بخاری ہمارے بیچ میں نہیں ہیں۔ان کا مسکراتاہواچہرہ ،ان کی کہی ہوئی باتیں ،ان کے لکھے ہوئے آرٹیکلس اوران کاوہ بے خوف سوچنے کا طریقہ ،ہمیشہ یہ سکھاتارہے گاکہ چاہے کسی بھی طرح کا حملہ ہوجس میں جان بھی چلی جائے لیکن ایک جرنلسٹ کا فرض ہے کہ وہ سچائی کولکھتارہے۔سچائی ہی لکھے اورسچائی کے علاوہ کچھ نہ لکھے۔ شجاعت بخاری کا نہ رہناشایدان طاقتوں کی ایک بڑی ہارہے جوشجاعت بخاری کی آواز بند کرنا چاہتے تھے یاان کے لکھنے کولوگوں کے بیچ پہنچنے سے روکناچاہتے تھے۔ شجاعت بخاری سوچنے سمجھنے والوں کے بیچ میں ، انٹلیکچولس کے بیچ میں،کشمیراورہندوستان کے بیچ میں اوران لوگو ںکے بیچ میں جوسچائی کاجرنلزم کرناچاہتے ہیں، سورج مکھی کی طرح ہمیشہ کھلے اورمسکراتے رہیں گے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *