ملک کے موجودہ حالات پر شاہی امام بخاری کا کانگریس صدر راہل گاندھی کو خط

imam-bukhari
نئی دہلی:جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے کانگریس صدر راہل گاندھی کو خط لکھ کر مسلمانان ہندکے تازہ حالات پر ان کی توجہ مرکوز کی ہے ۔ہندوستھان سماچارکے مطابق،انہوں نے خط میں کہا کہ آج کی سنگین سیاسی اور سماجی صورت حال جس میں فرقہ واریت ، ہندو مسلم منافرت اور آپسی بھائی چارہ سبھی کچھ داؤ پر لگاہواہے۔ ہجومی تشدد کے واقعات میں تقریبا 64 معصوم بے گناہ مسلمانوں کا قتل اور قاتلوں کو کھلی چھوٹ نے وطن عزیز کیلئے ایک غیرمعمولی صورت حال پیداکردی ہے۔ملک آئین سے چلے گا یا بھیڑکے عمل اور فرمان سے؟مسلمانان ہند سابقہ 7 دہائیوں سے سیکولر سیاست جس کی قیادت ہمیشہ کانگریس اور اس جیسی قوتیں کرتی رہی ہیں اور یہ ملک میں سیاسی اور معاشرتی استحکا م میں اپنا کلیدی کردار اداکرتے رہے ہیں۔ آج آپ بھی ہندو پارٹی بننے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، سیکولرزم کے تمام چھوٹے اور بڑے علمبردار مسلمان کا نام لینے سے گھبرارہے ہیں۔ہمارے ساتھ ریاست آج جو سلوک کررہی ہے اس میں آپ کی آواز کہاں ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ سیکولرازم کے علمبرداروں ہی کو اپنا قائد ، سہارا اور ساتھی مانا ، آج آپ کدھر نکل گئے ۔ مسلمانوں میں احساس محرومی کی انتہائی کیفیات ہیں ۔ نوجوانوں کو ڈھارس بندھانا مشکل ہورہاہے ۔ آخر ان زیاتیوں کے ساتھ کب تک ہم ان کو بھٹکنے سے روک پائیں گے۔آئین کی بالادستی ، ہندوستانیت کی بقاء ، سیکولرازم کی پاسداری کے حوالے سے گاندھی ، نہرو اور آزاد کے ہندوستان کو گرھن لگ رہاہے ۔ چوراہوں پر برہنہ کرکے بھیڑ مسلمانوں کو مار مار کر قتل کررہی ہے۔ نہ ہمارا سفرمحفوظ ہے ، نہ کاروبار ، نہ بستیاں اور نہ روزہ مرہ کی زندگی۔انہوں نے کہا کہ آخر ہم کہاں جائیں ۔امید کرتاہوں کہ آپ کا اور تمام سیکولرقوتوں کا ضمیر جاگے گا۔ کیوں کہ آج سوال صرف مسلمانوں ہی کا نہیں ہے۔بلکہ ان اقدار اور روایات کا امتحان ہے جس کی ضمانت آئین دیتاہے۔ اور ریاست اس کی عمل آوری کی پابند ہوتی ہے۔
امام بخاری نے اس موقع پر ان سے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں وزریراعظم کوبھی خط لکھا ہے اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہونے کی حیثیت سے آپ کو اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو متنبہ کرنے کیلئے خطوط ارسال کئے ہیں۔میں ، مسلمانان ہند اور مہذب ہندوستانی معاشرہ ،حکومت سے بروقت اقدامات اور اپوزیشن سے حکومت پر ضروری دباؤ بنانے کی توقع رکھتاہوں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *