وزیر اعظم مودی کی کسان ریلی کے دوران حادثہ

west-bengal
مغربی بنگال کے مدناپورمیں وزیراعظم نریندرمودی کی ریلی میں ان کے خطاب کے دوران پنڈال کا ایک حصہ گرگیا، جس میں 20سے 22بی جے پی کارکنان زخمی ہوگئے ۔حادثے کودیکھتے ہوئے پی ایم مودی نے ان کے تحفظ میں تعینات ایس پی جی اہلکاروں سے زخمیوں کی مددکرنے کیلئے کہا،اورزخمیوں کوموٹرسائیکل اورپی ایم کی ایمبولینس میں اسپتال پہنچایاگیا۔ریلی کے فوراً بعد وزیراعظم مودی بذات خودزخمی کارکنان کودیکھنے کیلئے اسپتال پہنچے۔خبروں کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی کی مدنی پور میں منعقد ہ کسان ریلی میں شدید بارش کی وجہ سے پنڈال گرنے سے 22افرادزخمی ہوگئے ، جنہیں مدنا پور اسپتال میں داخل کرایا گیاہے۔وزیرا عظم نے اسپتال جاکر زخمیوں سے ملاقات کی اور علاج میں ہرممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

بہرکیف آج ریلی میں پی ایم مودی ممتابنرجی پرحملہ بولتے ہوئے کہاکہ ’’ماں ماٹی مانوش‘ کے نعرے کا اصلی چہرے سبھی دکھناچاہئے۔یہاں ’مخالفین کاقتل ‘ کرنے والا سنڈیکیٹ کام کررہاہے۔اس سنڈیکیٹ کی اجازت کے بنامغربی بنگال میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔یہاں تک کہ یہاں ’پوجا‘کرنابھی مشکل ہوگیاہے۔مدناپورمیں پی ایم مودی نے یہ بھی کہاکہ یہاں کام کررہاسنڈیکیٹ ووٹ بینک کی خاطربنایاگیاہے، اوراقتدارمیں بنے رہنے کیلئے اس کا استعمال ہورہاہے۔پی ایم نے کہا کہ ’’ہم نے کسانوں کیلئے اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے کہ آج ترنمول کانگریس کو بھی اس پروگرام میں ہمارے استقبال کیلئے جھنڈے لگانے پڑے ہیں اور ان کو اپنی تصویر لگانی پڑی ہے۔یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی نہیں بلکہ کسانوں کی جیت ہے۔
وزیرا عظم مودی نے کہا کہ کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے بعد کمیونسٹوں نے بنگال کو جس حالت میں پہنچایا تھا ، آج ممتا کے دور اقتدار میں اس سے بھی خراب حالات ہوچکے ہیں۔یہاں سنڈیکٹ ہے، جبراًوصولی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنڈیکٹ کے ذریعہ کسانوں سے ان کا حق چھینا جاتا ہے۔سنڈیکٹ کے ذریعہ مخالفین پر حملے کرائے جاتے ہیں۔سنڈیکٹ کے ذریعہ غریبوں پر مظالم کیے جاتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرکے کوئی بھی سماج اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *