کوڑے کے ڈھیر معاملے میں سپریم کورٹ نے لیفٹیننٹ گورنرکولگائی پھٹکار 

lg
دہلی میں کوڑے کے ڈھیر معاملے کی سنوائی کے دوران سپریم کورٹ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کوپھٹکارلگائی ہے۔ایل جی پربرستے ہوئے سپریم کورٹ نے کہاکہ آپ کہہ رہے کہ ہرمعاملے کے ہم انچارج ہیں، سپرمین ہیں۔لیکن لگتاہے کہ آپ کچھ کریں گے نہیں۔سپریم کورٹ نے کہاکہ آپ کولگتاہے کہ آپ کوکوئی چھونہیں سکتا۔عدالت نے کہاکہ آپ آئینی عہدہ پرہیں۔جب کوئی کام آتاہے توآپ بس پاس کردیتے ہیں کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے۔
دہلی میں کوڑے کی ڈھیر(لینڈفل) پرسپریم کورٹ نے ایل جی سے سخت لہجے میں پوچھاکہ بتائیے کہ کتنے دن میں تین لینڈفل سائٹ سے کوڑاہٹے گا۔سپریم کورٹ نے کہاکہ ہمیں اس سے نہیں مطلب کہ آپ میٹنگوں میں چائے -کوفی پیتے ہوئے کیاکررہے ہیں۔آپ بتائیے کہ کوڑاکب ہٹے گا؟ساتھ ہی سپریم کورٹ نے لینڈفل سائٹ کا موازنہ قطب مینارسے کرتے ہوئے کہاکہ دونوں کی اونچائی میں محض 8میٹرکافرق رہ گیاہے۔
ایل جی پرتبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہاکہ آپ کے افسرمسئلے پرمیٹنگ میں جانے کی زحمت نہیں اٹھاتے ہیں۔یہاں تک کہ آپ کولگ رہاہے کہ ریاست کے وزیرصحت کچھ نہیں ہیں،جوکچھ ہوں میں ہوں۔سپریم کورٹ نے ایل جی سے کہاکہ آپ کے افسران کی میٹنگ میں نہیں جاتے ہیں۔سپریم کورٹ نے ایل جی سے کہاکہ ہرمعاملے میں وزیراعلیٰ کومت گھسیٹئے۔آپ کوآسان انگریزی میں یہ بتاناہے کہ کوڑے کا پہاڑکب ہٹائیں گے۔
کورٹ نے پوچھاکہ حلف نامے میں ایل جی نے اختیاراورذمہ داری کی بات کی ہے۔کچڑے اورصاف صفائی کے معاملے میں ان کی ذمہ داری ہے یانہیں؟یاں یانا؟۔ اس پرایل جی کی جانب سے اے ایس جی پنکی آنندنے کہاکہ ،ہاں! ایل جی اوڈائریکشن جاری کرنے کا اختیار487کے تحت ہے۔اس کے بعدکورٹ نے پوچھا کہ کتنے ہدایات جاری کئے؟
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *