ماب لنچنگ پرسپریم کورٹ کا بڑاحکم،جانئے کیاکہا

گؤرکشکوں کے ذریعے تشددکے معاملے میں الگ الگ عرضیوں پرسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ماب لنچنگ کے واقعات کوروکنے کیلئے ہدایات جاری کئے ہیں۔کورٹ چارہفتے میں مرکزاورریاستوں کونافذکرنے کے حکم دےئے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہاکہ کوئی شہری اپنے ہاتھ میں قانون کیسے لے سکتا۔یہ ریاستی سرکاروں کاکام ہے کہ وہ قانون انتظام کوبنائے رکھیں۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے منگل کو گؤرکشا کے نام پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شہری اپنے ہاتھ میں قانون نہیں لے سکتا۔
عدالت نے اپنی سفارش میں کہا کہ مرکزی حکومت گؤ رکشا سے متعلق تشدد کے واقعات کو روک تھام کیلئے الگ سے قانون بنائے۔بنچ نے کہا کہ ’بھیڑ نظام ‘ پر قدغن لگانا اور نظم ونسق نافذ کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔بنچ کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس مشرا نے کہا ’’ خوف و ہراس اور بد نظمی کے حالات میں سرکار کو مثبت قدم اٹھانا ہوتا ہے۔تشدد کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔کوئی بھی شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا‘‘۔
سپریم کورٹ نے گؤرکشا کے نام پر ہونے والے پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لئے الگ سے قانون بنانے کا مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے۔کورٹ نے کہاکہ پارلیمنٹ اس کیلئے قانون بنائے، جس کے تحت بھیڑکے ذریعہ قتل کیلئے سزاکی تجویزہو۔سپریم کورٹ اگست میں معاملے کی اگلی سنوائی کرے گا۔کورٹ نے تحسین پونا والا اور مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کی عرضیو ں پر تفصیلی سماعت کے بعد گزشتہ تین جولائی کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *