ہم جنس پرستی جرم ہے یا نہیں ؟ سپریم کورٹ میں دفعہ 377 پر سماعت آج سے

homosexuality
ہم جنس پرستی کوجرم ماننے والی آئی پی سی دفعہ 377کوغیرقانونی قراردینے کی مانگ کرنے والی عرضیوں پرسپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ آج 10جولائی سے سنوائی شروع کرے گی۔اس سے پہلے پیرکوسپریم کورٹ نے مرکزکی چارہفتے کیلئے سنوائی ٹالنے کے درخواست کوٹھکرادیا۔چیف جسٹس دیپک مشرانے کہاکہ سنوائی ٹالی نہیں نہیں جائے گی۔ پانچ ججوں کی آئینی بینچ میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) دیپک مشرا ،جسٹس روہنگٹن آر نریمن ،جسٹس اے ایم کھانولکر ،جسٹس ڈیوائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا شامل ہیں۔
بہرکیف سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ ہم جنس پرستی ( ہومو سیکسولٹی) کو جرم ٹھہرانے والی تعزیرات ہند ( آئی پی سی ) کی دفعہ 377 پر سماعت کرنے والی ہے۔ سپریم کورٹ نے سال 2013 میں دلی ہائی کورٹ کے 2009 کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے دو بالغوں کے درمیان آپسی رضامندی سے بنائے گئے رلیشن کو جرم کے زمرہ میں ڈال دیا تھا۔
خیال رہے کہ ہندوستان میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیا گیا ہے۔یادرہے کہ دفعہ377 کو انگریزوں نے 1862 میں نافذ کیا تھا۔اس قانون کے تحت غیر فطری سیکس کو غیر قانونی ٹھہرایا گیا ہے۔ اگر کوئی خاتون۔مرد آپسی رضامندی سے بھی غیر فطری سیکس کرتے ہیں تو اس دفعہ کے تحت 10 سال کی سزا اور جرمانہ کا التزام ہے۔سپریم کورٹ آج یعنی منگل 10جولائی کو ہم جنس پرستی کو جرم ماننے والی آئی پی سی کی دفعہ ۔377 کو لیکر دائر ہوئی عرضیوں کی سماعت کرنے جا رہا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *