آر ٹی آئی کا انکشاف چار برس میں اقلیتی اسکالر شپ کی تقسیم مایوس کن

ابھی حال میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اے جے کے ایم سی آر سی کے طالب علم ماجد عالم اور صحافی عادل بٹ کے ذریعے فائل کی گئی آر ٹی آئی سے اقلیتی اسکالر شپ سے متعلق جو ڈاٹا سامنے آئے ہیں، وہ بڑے ہی چونکانے والے ہیں۔ اس کے مطابق وزارت اقلیتی امور کی پری میٹرک اسکیم کے تحت مذکورہ اسکالر شپ سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد 2013-14 میں 7.5 ملین سے کم ہوکر 2017-18 میں 4.4 ملین تک نیچے پہنچ چکی ہے۔ عیاں رہے کہ 2017-18 میں اقلیتی اسکالرشپ کے لئے کل رجسٹر کئے گئے 96 لاکھ 50 ہزار 248 طلباء میں سے صرف 44 لاکھ 74 ہزار 452 طلباء کو پیسہ ملا۔ ڈاٹا کے دوسرے سیٹ سے یہ بھی معلوم ہو اکہ پری میٹرک اسکالر شپ کے لئے رجسٹر کئے گئے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد میں 31 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اس اسکیم کے تحت وزارت اقلیتی امور انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کو رسز سمیت سینئر سکنڈری سطح میں یا اس سے اوپر تعلیم حاصل کررہے طلباء کو اسکالر شپ دیتی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اسکالر شپ کے لئے اپلائی کرنے والوں کی تعداد 2013-14 میں 1.3 ملین سے بڑھ کر 2017-18 میں 1.7 ملین تک جہاں پہنچ گئی ، وہیں اسکالر شپ حاصل کرنے والوںکی تعداد 2013-14 میں 8لاکھ 90 ہزار 467 سے کم ہوکر 2017-18 میں 6 لاکھ 6 ہزار 282 تک نیچے آگئی۔
ویسے یہ بھی عجیب بات ہے کہ جہاں ایک طرف پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے، وہیں پروفیشنل کورسز میں تعلیم حاصل کررہے طلباء کو دی جانے والی میرٹ کم رمینس اسکالر شپ بہت کم متاثر ہوئی ۔حالانکہ اسکالرشپ کے لئے درخواست دینے والوںکی تعداد 2013-14 میں 1.3 ملین سے بڑھ کر 2017-18 میں 1.7 ملین ہوگئی مگر جانچ کے بعد اسکالرشپ حاصل کرنے والوںکی تعداد 2013-14 میں 8 لاکھ 90ہزار 467 سے کم ہو کر 2017-18 میں 6 لاکھ 6ہزار 282 ہوگئی۔
اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی جبکہ پروفیشنل کورسز کررہے طلباء کا میرٹ کم مینس اسکالر شپ بہت کم متاثر ہوا۔ حالانکہ اس اسکالر شپ کے درخواست دہندوں کی تعداد 2013-14 میں 3 لاکھ 26 ہزار 723 تھی جو کہ گھٹ کر 2017-18 میں 2 لاکھ 49 ہزار 229 تک نیچے آگئی مگر اسکالر شپ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بڑا نمایاں فرق سامنے نہیں آیا اور اس طرح یہ تعداد 2013-14 میں ایک لاکھ 428 کے بالمقابل 2017-18 میں ایک لاکھ 9 ہزار 632 رہی۔
قابل ذکر ہے کہ آر ٹی آئی کے ڈاٹا کے ملنے کے بعد آر ٹی آئی کے مذکورہ بالا درخواست دہندوں نے اسکالر شپ حاصل کررہے چند طلباء سے بات کی تو اس سے جو معلومات ملیں، وہ بھی بری اہم ہیں۔ ریاست اترپردیش میں مرادآباد کے ایک طالب علم، جو کہ اتراکھنڈ میں ایک پرائیویٹ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، نے کہا کہ انہیں سکنڈری اسکول کی تعلیم کے دوران دس ہزار روپے کی اسکالر شپ ملی تھی مگر یہ اسکالرشپ انجینئرنگ میں اس سال رک گئی جس سے وہ سخت پریشان ہیں ۔
اسکالر شپ کی تعداد میں کمی کو مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور سیدھے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر اسکیم سے جوڑ کر اسے ذمہ دار بتاتے ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ اسکیم کو حکومت نے لکیج سے بچنے کے لئے شروع کی ہے۔ بہر حال ان کے اس دعویٰ کے برعکس ڈاٹا سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہرسال درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا واسطہ اسکالر شپ کی کم ہوتی ہوئی تعداد سے ہوتاہے۔ مرکزی وزیر کو آر ٹی آئی کے درخواست دہندوں کے اس دعوے سے اتفاق نہیں ہے کہ بہت سے طلباء کو اسکالر شپ نہیں ملی ہے کیونکہ آر ٹی آئی کا یہ ڈاٹا وزارت کے ذریعے پیش کئے گئے دعوئوں سے میل نہیں کھاتا ہے۔

 

 

 

 

یہ بھی حیرت انگیز ہے کہ 2014 سے اب تک پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے بجٹ میں چار برس گزرنے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس پر مختار عباس نقوی کا تو سیدھے یہ کہنا ہے کہ ’’اسکالر شپ بجٹ پر مبنی ہوتاہے، مطالبہ یا ڈیمانڈ پر یہ منحصر نہیں ہوتا ہے۔ ویسے ہماری کوشش ہے کہ اسے ڈیمانڈ سے جوڑا جائے‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ اس حکومت کے تحت فنڈ میں اضافہ ہوا بھی ہے۔ دونوں اسکیموں کے فنڈس 2014 کے عام انتخابات کے فوراً بعد ایک برس کے لئے بڑھائے گئے تھے لیکن اس کے بعد اسے پھر کم کردیا گیا۔
عیاں رہے کہ میرٹ کی مینس اسکالر شپ کو مختص کیاگیا فنڈ 2013-14 میںدیئے گئے فنڈ 270 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2014-15 میں 335 کروڑ روپے کردیا گیا جبکہ پوسٹ میٹرک اسکیم کے لئے یہ 548 کروڑ روپے سے بڑھ کر 598 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح پری میٹرک اسکالر شپ کے لئے یہ فنڈ 950 کروڑ روپے سے بڑھ کر1100 کروڑ روپے تک جا پہنچا۔ اسی کے ساتھ ساتھ میریٹ کم مینس اسکالر شپ دیئے گئے طلباء کی بھی تعداد 2013-14 میں ایک لاکھ 22 ہزار 428 سے بڑھ کر 2014-15 میں ایک لاکھ 38 ہزار 770 تک آگئی ۔
یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ حکومت نے 2017 میں دعویٰ کیا تھاکہ مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور نے 2016-17 کے فنڈ 2832.46 کروڑ روپے میں اضافہ کرکے 2017-18 میں 4534.96 کروڑ روپے کردیا تھا جبکہ تلخ حقیقت یہ رہی کہ اسکالر شپ کی رقم بڑی حد تک 2013-14 میں تقسیم کی گئی رقم کے برابر رہی۔ پری میٹرک اسکالر شپ کے لئے مختص کیاگیافنڈ 2017-18 میں 950 کروڑ روپے ہی رہا جو کہ 2013-14 میںاتنا ہی تھا۔ یہی حالت پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کی رہی جو کہ 2013-14 میں 548 کروڑ روپے کے بالمقابل 2017-18 میں 550 کروڑ روپے پر آکر رکا۔ ویسے بعد کے برسوں میں میریٹ کم مینس اسکالر شپ میں رجحان مثبت رہا ۔
آر ٹی آئی کے ان تمام ڈاٹا سے یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے اقتدار میں 2014 میں آنے کے بعد بحیثیت مجموعی اقلیتی طلباء کو مل رہی اسکالر شپ اور اس کی فنڈنگ میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اقلیتی طلباء کا تعلیم کے میدان میںامپاورمنٹ کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے کوسوں دور ہے۔ جہاں تک دعوئوں کی بات ہے، اس معاملے میں سابقہ کانگریس قیادت والی یو پی اے سرکار بھی بہت مختلف نہیں تھی۔ اس کے دور میں بھی وزارت اقلیتی امور مستقل دعویٰ کرتی رہی کہ اقلیتی اسکالر شپ سے حالت میں سدھار ہو رہا ہے اور سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بیشتر نکات پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ ’چوتھی دنیا ‘ نے مختلف وزارتوں کے ویب سائٹس سے ہی ڈاٹا نکال کر ان دعوئوں کی نکتہ بہ نکتہ حقیقت سامنے رکھ دی تھی ۔
بہر حال یہ بھی تلخ حقیقت ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی وزارت اقلیتی امور بھی اسی قسم کا دعویٰ کررہی ہے مگر حقائق کو تو کوئی مٹانہیں سکتا ہے، وہی دراصل صحیح پوزیشن بتاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *