مطلوب ہے فی الوقت رواداری اور ہم آہنگی

ریمیٹنسزپلیئر ویسٹرن یونین کا گزشتہ 20 جون کو بہت ہی چونکانے والا ایک سروے آیا ہے۔ اس سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کی نئی نسل کی اکثریت کا یہ احساس ہے کہ گزشتہ تین برسوںمیںمذہبی اختلافات اور نیشنلسٹ سیاست کے بڑے خطروں کے طور پر ابھرنے سے دنیا زیادہ تقسیم ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق، 69 فیصد لوگوںکے مطابق، 2015کے بالمقابل سماج میںانتشار بڑھا ہے۔ دس افراد میںپانچ سے زیادہ افراد کو اندیشہ ہے کہ 2030 تک معاشرتی طور پر مزید تقسیم ہوگی۔ یہ امر یقینا تشویشناک ہے۔
اس سروے کی روشنی میں1980 اور اواخر 1990 کی دہائی کے درمیان پیدا ہوئے افراد کا احساس ہے کہ مذہبی اختلافات اور نیشنلسٹ سیاست ، گلوبل شہریت اور سرحد کے بغیر معاشرہ کے لیے سب سے بڑے خطرات ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ تارکین وطن اور نسل پرستی کا خوف ہے۔ یہ سروے انتشار والی سیاست اور سماجی پولرائزیشن جو کہ لنچنگ و دیگر نفرت آمیز جرائم جیسے واقعات کی جڑ میںخصوصی طورپر دیکھنے کو ملتی ہے، کامبین ثبوت ہے۔ اس سروے کی روشنی میںعالمی طور پر نسل پرستی اور تارکین وطن گلوبلائزیشن کے لیے خطرے کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
جہاںتک ہندوستان کا سوال ہے، یہاں مذہبی اختلافات اور نیشنلسٹ سیاست دوسرے خطرات کو ابھارتے ہیں۔ اس کی بدترین مثال چند ریاستوں میںگزشتہ تین برسوں میںمسلمانوں ، دلتوں و دیگر کمزور طبقات کی لنچنگ کے شرمناک اور وحشیانہ واقعات ہیں۔
ایسا ہی لنچنگ کا ایک حالیہ واقعہ گزشتہ 18 جون 2018 کو ریاست اترپردیش میں ہاپوڑ ضلع کے بجھیڑہ خرد گاؤں میںگئو رکشا کے نام پر ہوا قاتلانہ اور وحشیانہ حملہ ہے۔ اس شرمناک واقعہ میںبیس برس سے زائد عرصہ سے جانوروں کے خرید و فروخت پیشے سے وابستہ 45 سالہ قاسم نے اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ دراصل ہوا یہ کہ کسی نے فون کرکے قاسم کو بتایا کہ فلاں جگہ سستے جانور بک رہے ہیں اور پھر جب وہ وہاں پہنچے تو ان پر قاتلانہ حملہ کردیا گیا۔ یہ تفصیلات بھی سامنے آئی ہیںکہ اس وقت ہاپوڑ سے تعلق رکھنے والے سمیع الدین، جن کی عمر 62 برس ہے، جب قاسم کو بچانے کے لیے وہاںپہنچے تو انھیںبھی بڑی بے دردی کے ساتھ زدوکوب کیا گیا۔ انھیںبھی زبردست چوٹ آئی۔ویسے مرحوم قاسم غازی آباد کے پلکھوہ کے رہنے والے تھے۔

 

 

 

 

جماعت اسلامی ہند جس کے نائب امیر نصرت علی اور سکریٹری جنرل محمد سلیم کی قیادت میںاعلیٰ سطحی وفد پلکوہ گیا تھا، کا اس لنچنگ کے تناظر میںیہ سوال اٹھانا بہت ہی بروقت ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب رکے گا؟ اس کی سماجی و سیاسی کارکنان سے یہ اپیل بھی مناسب ہے کہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات جن سے ملک کی فضا زہر آلود ہوتی ہو، فرقہ وارانہ منافرت بڑھتی ہواور دنیا میںبھی ملک کی ساکھ خراب ہوتی ہو، ان کی روک تھام کے لیے وہ سامنے آئیں۔
ویسٹرن یونین کا مذکورہ بالا سروے تو 20 سے 36 برس کی عمر کے 10 ہزار افراد کا 15 ممالک میںکیا گیا ہے جن میں844 افراد ہندوستان کے ہیں مگر یہ تلخ حقیقت کامن ہے کہ گزشتہ تین برسوں میںمذہبی اختلافات اور نیشنلسٹ سیاست کے خطرات کے سامنے آنے سے سماجی انتشار اور تقسیم بڑھی ہے۔ اس کے نتیجے میںتنوع کمزور ہوا ہے اور عدم رواداری و عدم ہم آہنگی میںکافی اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گئو رکشا کے نام پر انسانی جان جیسی قیمتی شے کا بھی خیال نہیںرہتا اور پھر لنچنگ جیسے گھناؤنے اور شرمناک کام سے بھی نفرت نہیںہوتی۔
لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ سماجی انتشار اور تقسیم کو روکنے کے لیے سماج میںتنوع کو فروغ دیا جائے اور رواداری کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی کو بھی بڑھایا جائے۔ دراصل ہندوستان جیسے ملک کی ہمیشہ سے یہی خاصیت رہی ہے کہ مختلف الخیال اور مختلف الفکر افراد کی یہ دنیا میںبہترین آماجگاہ مانی جاتی رہی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پھر سے اسے ایک ایسا چمن بنایا جائے جہاں اختلافات کو انگیز کرنے کا ماحول برقرار رہے۔
بہرحال یہ اچھی بات ہے کہ 69 فیصد نئی نسل کے لوگ مذہبی بنیاد پر اختلافات کی بنیاد پر سماجی انتشار و تقسیم کو سنجیدگی سے محسوس کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر نئی نسل اس بات کو محسوس کرنے لگی ہے تو یہ سماجی تقسیم ہر حال میںختم ہوکر رہے گی اور اسی میںملک و قوم کی بھلائی ہے اور اسی میںامن کا قیام بھی ممکن ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *