ملی کونسل کے زیراہتماماندور میں ’’موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘‘کے عنوان پرجلسۂ عام

milli-council
نئی دہلی‘ آل انڈیا ملی کونسل مدھیہ پردیش کے کنوینر اور معروف ملی وسماجی کارکن منیر احمد خاں کی خصوصی دعوت پر سی آر پی لائن اندور کے ایم وائی ہاسپیٹل کے عقب میں واقع ’’اپنا شادیانہ (ہال)‘‘ مسجد کمپاؤنڈ میں خصوصی جلسۂ عام کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت مفتئ مالوہ، حضرت مولانا ولی اللہ ندوی نے کی۔ واضح رہے کہ مذکورہ اجلاس میں مغربی وجنوبی ہند کی متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی اور اجلاس کو خطاب کیا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی اور جنوبی ہند کی معروف علمی وملی شخصیت، حضرت مولانا شاہ قادری سید مصطفی رفاعی جیلانی ندوی، سجادہ نشین خانقاہ رفاعیہ قادریہ بنگلور ومعاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل تھے۔ اس موقع پر انھوں نے جہاں ملک کی مجموعی صورت حال اور ملت مسلمہ کے حالات کے تناظر میں اجتماعی ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنا خطاب کیا، وہیں یہ بھی فرمایا کہ ہمارا یہ ملک ایک عظیم جمہوریہ ہے، یہاں اقتدار کی منتقلی ووٹوں کی طاقت سے ہوتی ہے، عام لوگوں کے ووٹوں سے ہی سرکار بنتی ہے اور ملک کے دستور کے مطابق نظام چلایا جاتا ہے۔ رائے دہندگان کے ایک ایک ووٹ کی قیمت ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمارے سماج کو ایک ایک ووٹ کی قیمت واہمیت سمجھ کر ووٹ کاسٹ کرنا چاہیے اور ووٹ کے فیصد بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے موقع پر اپنے تمام افراد خاندان کے ساتھ آپ متحرک رہیں اور اپنا ایک ووٹ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔ مولانا سید رفاعی نے تمام شرکاء جلسہ سے یہ بھی اپیل کی کہ اگر آپ کا یا آپ کے خاندان کے افراد کا نام فہرست رائے دہندگان سے غائب ہے تو بلاتاخیر متوجہ ہوں اور ہر سطح پر اپنی یہ کوشش کریں کہ آنے والے انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ میں ہمارے نام لازماً درج ہو جائیں۔
آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور کرناٹک وقف بورڈ کے چیئرمین، سید شاہد احمد بنگلور نے کہا کہ مسلمانوں کو موجودہ صورت حال میں بے حد منظم اور بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ملت اسلامیہ کو اس سلسلہ میں بھی بیدار کیا کہ وہ وقف اراضیات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیں اور اس سے آمدنی کے ذرائع پیدا کر کے ملت کی ہمہ جہت ترقی کے کاموں کی طرف دھیان مرکوز کریں۔
آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے نائب صدر اور ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن، مشائخ صوفی باقر ارشد قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ملت مسلمہ اپنے مقاصد اصلیہ سے بھٹک جاتی ہے تو اُسے نہ عزت ملتی ہے اور نہ ہی اقتدار واختیار۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو خودشناسی کی دولت سے بہرہ ور ہونا ہو گا اور اللہ کے نبی، ہادئ اعظم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنی زندگی کے لیے رہنما بنانا ہو گا۔ اس کے بغیر ہم دین ودنیا دونوں میں سرفرازی سے محروم رہیں گے۔
اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے قاضئ شہر، قاضی ابو ریحان فاروقی ندوی نے کہا کہ آج ملک بھر سے ملی کونسل کے مؤقر نمائندگان وذمہ داران، ملت اسلامیہ کو تعلیمی وسماجی بیداری کی طرف متوجہ کرنے کے لیے متعدد ریاستوں کے دورے کر رہے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کی معرکۃ الآراء گفتگو اور مشوروں سے استفادہ کریں۔ اجلاس کے صدر، مفتی مالوہ، مولانا ولی اللہ ندوی نے کہا کہ سبھی سماج میں اچھے اور برے دونوں طرح کے افراد ہوتے ہیں لیکن غلط لوگوں کی تعداد بے حد کم ہے۔ ملک میں امن وامان کی فضا ہمیشہ قائم رہی ہے، ہمیں اپنے کردار وعمل سے مذہب سے بالاتر ہو کر ملک کی وحدت اور اس کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ملی کونسل مدھیہ پردیش کے کنوینر اور شہر اندور کی معروف شخصیت منیر احمد خاں نے بھی ملت کو تعلیم کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تمام شعبہ ہائے حیات میں پختہ کردار وعمل کے ساتھ ملت کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے، تعلیم کے بغیر ملت تاریکی کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتی۔ انھوں نے تمام شرکاء جلسہ کے تئیں اظہار امتنان وتشکر بھی کیا۔ واضح رہے کہ جلسہ کی مکمل نظامت قاضی (مفتی) ذکاء اللہ ندوی نے کی۔ اجلاس کے مہمان خصوصی ودیگر اہم مقررین کا استقبال جہاں مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سابق چیئرمین، ڈاکٹر نظام الدین نے کیا وہیں انجمن اصلاح المسلمین کے ارکان عبد الرشید، محمد اسحاق غوری، شیخ محمد اقبال ساجد، قاضی خورشید محمد خان کے علاوہ دیگر حضرات نے اجلاس کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *