پی ایم مودی کا پلاسٹک سے نجات کا اعلان ٹھوس منصوبہ کا فقدان

ایک بار استعمال کئے جانے والے پلاسٹک پر پابندی لگانا تب تک ناکافی ہے جب تک قانون ٹھیک سے نافذ نہ ہوں اور استعمال کرنے والے بیدار نہ ہوں۔بڑے اعلانات سے بدلائو نہیں آتے، اس کے لئے حقائق پر مبنی عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عالمی یوم ماحولیات پر 5جون کو وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ اعلان کیا کہ 2022 تک ہندوستان میں ایک بار استعمال کئے جانے والے پلاسٹک کا استعمال بند ہو جائے گا۔ لیکن اس ہدف کو تب تک حاصل کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں دکھائی دیتا ہے۔
پلاسٹک کی کھوج 1898 میں ہوئی لیکن بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار 1939 میں شروع ہوئی۔تب سے لے کر ہماری زندگی میں اس کا بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔یہ سستا، ہلکا اور لچیلا ہے۔ اس لئے اس کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ ایک طرح کے اکانومک ڈیولپمنٹ ماڈل کا نمونہ بھی ہے جس کی درآمدات ہم نے پرانے صنعتی ملکوں سے کیا ہے۔ نئی چیزوں کے استعمال پر زور ہونے سے ہی صنعت کا پہیا چلتا ہے۔ اس لئے اس ماڈل کی جگہ نئے ماڈل کو اپنانا سوچ کے پرے لگتا ہے ۔لیکن اسی سے وہ کلچر پیدا ہوئی ہے جسے اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام ’پلاسٹک کی آفت ‘ کہہ رہا ہے۔
آج ہمارے پاس شواہد ہیں کہ ہمارے سمندروں میں 15 کروڑ پلاسٹک کچرا جمع ہے۔ سمندر میں رہنے والے جاندار اور پودوںپر اس کا بے حد برا اثر پڑ رہا ہے۔ سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ مائیکرو پلاسٹک پینے کے پانی کے سوتے تک پہنچ کر فوڈ سائیکل میں داخل ہورہے ہیں۔نل سے آنے والے پانی کی حال میں ہوئے جانچ سے یہ بات نکل کر آئی کہ امریکہ اور لبنان کے بعد ہندوستان میں پینے کا پانی مائیکرو پلاسٹک کی وجہ سے سب سے زیادہ آلودہ ہیں۔
ہندوستان کے 82.4 فیصد پانی کے نمونوں میں مائیکرو پلاسٹک پایا گیا۔ پانی اور کھانے کے ذریعہ جسم کے اندر جانے سے صحت پر کیا اثر پڑتا ہے ؟ اس کا تجزیہ ابھی جاری ہے ۔لیکن یہ بے حد تشویشناک موضوع ہے کہ پلاسٹک کچرے سے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ہورہی ہے۔ 1950 سے پوری دنیا میں 8.3 ارب ٹن پلاسٹک کی پیداوار ہوئی ہے۔ لیکن اس کے 20 فیصد کی ہی سائیکلنگ ہو پائی ہے ۔باقی پلاسٹک یا تو سمندر میں ہے ، یا پہاڑوں کی ڈھلان پر، یا ندیوں میں یا دیگر آبی سوتوں میں یا پھر لینڈ فل اور کچرے کے پہاڑ میں۔ یہ چیلنج تنا بڑا ہو گیاہے کہ ہمیں پیداوار اوور کنزیوم کے بارے میں نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

 

ہندوستان میں ابھی تک جو قدم اٹھائے گئے ہیں، وہ بے حد شروعاتی سطح کے ہیں۔ابھی تک 18ریاستوں نے کچھ خاص شہروں میں ایک بار استعمال کئے جا سکنے والے پلاسٹک پر پابندی لگایا ہے لیکن کہیں بھی یہ کامیاب نہیں ہے۔ اس معاملے میں سب سے کامیاب ریاست سکم ہے۔یہاں 1998 سے پابندی لگی ہوئی ہے کہ لیکن اب تک یہ پوری طرح سے موثر نہیں ہو پایا ہے ۔لیکن اس نے لوگوں میں بیداری پیدا کیا ہے اور متبادل تلاش کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے ۔
دہلی اور چنڈی گڑھ میں پابندی کے باوجود اس بارے میں بیداری کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ اگر اتنی چھوٹی ریاستوں میں یہ حال ہے تو مہاراشٹر جیسی بڑی ریاست میں پابندی لگانا کتنا مؤثر ہوگا۔یہاں حال ہی میں اس بارے میں سخت قانون نافذ کئے گئے ہیں۔
2014 میں ٹاکسک لنک تجزیہ میں مسئلے کے دو ڈی مینشن کی پہچان کی گئی تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ پلاسٹک کیئری بیگ آسانی سے اور سستے ریٹ پر دکانداروں خاص طور پر سبزی یا گوشت بیچنے والوں کو دستیاب ہے۔دوسری بات یہ ہے استعمال کرنے والوں میں بیداری کا کافی فقدان ہے ۔اس کے ساتھ ہی ماحولیات سے متعلق قوانین کا ٹھیک سے نفاذ نہیں ہوتا ہے۔اس تجزیہ میں یہ کہا گیا تھا کہ شخصی طور پر استعمال کرنے والوں کو اس کے استعمال سے فائدہ ہوتا ہے لیکن اجتماعی طور پر سماج کو نقصان ہو رہا ہے۔
پابندی اور انتباہ اپنی جگہ ہیں لیکن اصلی چیلنج ایسے پلاسٹک کی پیداوارکو بند کرنے کا ہے۔ ہندوستان میں 85 سے 90 فیصد پلاسٹک کی پیداوار چھوٹے اور درمیانی علاقے میں ہے اور ضابطہ اخلاق سے باہر ہے ۔ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کل پلاسٹک کچرے میں 48 فیصد حصوں کی حصہ داری بڑی کمپنیوں کی کھانے پینے کی پیکنگ والے پلاسٹک کی ہے ۔اس لئے ہمیں وسیع صنعت کاری کی ذمہ داری کا قانون لاگو کرکے انہیں جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے جو ری سائیکل نہیں کئے جا سکنے والے پلاسٹک کا استعمال پیکنگ کے لئے کررہے ہیں۔ اسکے علاوہ پلاسٹک کے دوسرے متبادلوں جیسے تباہ ہو سکنے والی چیزوں سے بننے والے بیگ، کاغذ سے بننے والے بیگ اور کپڑے کے بیگ کو بھی کفایتی قیمت پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔بالآخر سب سے ضروری یہ ہے کہ صارفین آسانیاں اور ماحولیاتی آفت میں سے خود ایک کا انتخاب کریں۔(بشکریہ اکانومک اینڈ پالٹیکل ویکلی)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *