پارلیمنٹ، عہدہ اور ملک کا وقار گر رہا ہے

جیسے جیسے الیکشن نزدیک آرہا ہے،ویسے ویسے سیاسی حرارت بڑھ رہی ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کی زبان میںبھی اسی رفتار سے گراوٹ آ رہی ہے۔ یہ جمہوریت کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔ الیکشن تو ہر پانچ سال میںہوتے ہیں، ایک پارٹی جیتے گی،دوسری ہارے گی۔ فطری بات ہے کہ مودی دوبارہ وزیر اعظم بننا چاہیںگے۔ لیکن پانچ سال بعد آپ کی مقبولیت اتنی رہ ہی نہیںسکتی، جتنی پہلے تھی۔ کیونکہ کچھ غلطیاں آپ نے (مودی سرکار) کی ہوںگی، لوگوں کو مایوس کیا ہوگا، کچھ وعدے کیے تھے، پورے نہیںہوں گے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیںہے۔ لیکن مودی جی کو ہار برداشت نہیںہے کیوں؟ کیونکہ ان کا مائنڈ سیٹ جمہوری نہیںہے ۔ ان کا رویہ ڈکٹیٹوریل ہے۔
آر ایس ایس مودی جی کا پیرنٹ آرگنائزیشن ہے۔ اس میںڈیموکریسی کا سوال ہی نہیںہے۔ وہاں کبھی الیکشن ہوتے ہی نہیںہیں۔ موجودہ سرسنگھ چالک نئے سر سنگھ چالک کا سلیکشن کرکے جاتا ہے۔ ہٹلر بھی ایک انتخابی عمل سے چنا گیا تھا۔ پھر اس نے ایساکام کیا کہ جمہوریت ختم ہوگئی۔ اندراگاندھی نے بھی غلطی کی تھی ایمرجنسی لگاکر۔ 19مہینے میںسمجھ گئیںکہ غلطی ہوگئی ہے۔ انھوںنے الیکشن کرایا، ہار گئیں، اپوزیشن میںبیٹھیں اور تین سال بعد پھراقتدار میں آگئیں۔
مودی جی کے دل میںکیا ہے؟ بی جے پی اور سنگھ کے لوگ مجھ سے ملتے رہتے ہیں۔ سب کا کہنا ہے کہ 200سے 220 سیٹیںملیںتو سمجھئے کہ مودی ہار گئے۔ لیکن ان لوگوںکا کہنا ہے کہ مودی جی کا مزاج عادت چھوڑنے والا نہیںہے۔ وہ کسی بھی طرح سرکار بنائیںگے۔ یہ بھی جمہوریت میںٹھیک ہے۔ بات اصولوں کی ہے۔ پچھلے تین چار مہینے سے وزیر اعظم صاحب کی زبان میںگراوٹ آرہی ہے۔ انھوںنے جے پور میںکہا کہ کانگریس کے اتنے لیڈر بیل پر ہیں تو کانگریس کا نام بیل گاڑی پارٹی ہوگیا۔ یہ اسکول کے بچے بیل کو بیل بولیں تو ٹھیک ہے، چھوٹے ایم ایل اے، چھٹ بھئیے بولیں تو ٹھیک ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم ایسا بولیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ غلطی سے پی ایم کے عہدے پر آگئے ہیں۔ آپ کا مزاج لوکل میونسپل کارپوریٹر کا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ ایسی زبان سے آپ کی عزت بڑھے گی۔ نہیں،بلکہ گراوٹ آئے گی۔ آپ کے جو 18 فیصد بھکت ہیں، وہ ہنسیں گے ۔ بولیںگے کہ کیا بولے مودی جی۔ جو 31 فیصد ووٹ آپ کو ملے تھے، اس میںکمی آتی جارہی ہے ۔

 

 

 

لوگ پی ایم جیسے عہدے پرپہنچتے ہیں تو انکساری آتی ہے لیکن آپ کے ساتھ تو الٹا ہوگیا۔ آپ کی شخصیت گر گئی۔ لوک سبھا میںکانگریس چیف جسٹس کے خلاف مواخذہ لائی۔ یہ ایک سیاسی عمل ہے۔ اس کا ذکر آئین میںہے۔ لیکن اسپیکر نے پارلیمنٹ کا وقار گرادیا۔ 50 ممبر اگر کہتے ہیں تو اسپیکر کو کوئی اختیار نہیں ہے اس کو رجیکٹ کرنے کا۔ اس سے ڈرنے کی کیا بات تھی۔ تین رکنی کمیٹی بنا دیتے۔ وہ کمیٹی تین چار مہینے میںرپورٹ دے دیتی ۔ رپورٹ جب تک آتی، الیکشن آجاتا۔ پھر نئی پارلیمنٹ دیکھتی کہ کیا کرنا ہے؟ اتنے ڈرپوک ہیں بی جے پی کے لوگ کہ اس درخواست کو ہی خارج کرادیا۔ سمترا مہاجن بہت اچھی عورت ہیں۔ میںان کو جانتا ہوں،ا ن کی عزت بھی کرتا ہوں۔ لیکن سرکار ان کا بھی وقار گرا رہی ہے۔ سرکار لوک سبھا کے وقار کو بھی گرا رہی ہے۔
وینکیا نائیڈو صاحب نائب صدر ہیں۔ ان کو بھی وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔ جب وہ نائب وزیر اعلیٰ بنے تھے تو روز بی جے پی کے ترجمان کی طرح بات کرتے تھے۔ آپ آئینی عہدے پر ہیں۔ اگر آپ کو پسند نہیں ہے تو استعفیٰ دے دیجئے اور واپس پھر سے پارٹی کا کام کریے۔ لیکن پوسٹ پر رہ کر پوسٹ کا وقار مت گرائیے۔
گزشتہ دنوں چرچا ہوئی کہ کانگریس مسلمانوںکی پارٹی ہے۔ نرملا سیتا رمن وزیر دفاع ہیں۔ وہ ملک کا نہیںبلکہ پارٹی کا دفاع کرتی ہیں۔ پریس والوں نے کچھ الٹا کہہ دیا کہ کانگریس مسلمانوںکی پارٹی ہے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مسلمانوں کی بھی پارٹی ہے اور مسلمانوں کی پارٹی ہے، میںزمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن نرملا دیوی سیتا رمن جی نے حملہ بول دیا ، کانگریس نے تردید کردی۔ پھر بھی اگلے دن وزیر اعظم خود کہتے ہیںکہ کانگریس صرف مسلمانوںکی پارٹی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیںکہ طلاق ثلاثہ کا مدعا اٹھاکر مسلمان عورتیں آپ کی طرف ہوگئیں۔ آپ کھلواڑ کر رہے ہیںاپنے آپ سے اور ملک سے بھی۔ یہ سب سماجی مدعے ہوتے ہیں۔ سماجی اور اخلاقی مسائل اگر قانون سے حل ہوتے تو رام راجیہ آجاتا۔ قانون اپنی جگہ ہے، اس کی حد ہے ۔
قانون ہونا چاہیے لیکن سماج سدھار کا کام الگ ہے۔ شادی ، بیاہ، طلاق کے معاملے ہیں تو اسے مسلم سماج ہی ٹھیک کرسکتا ہے۔ ان مسائل کا کوئی کوئک فکس سالیوشن سوچنابے وقوفی ہے۔ بی جے پی والے کانگریس کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ لیکن کانگریس کبھی بولے گی ہی نہیں کہ وہ مسلمانوںکی پارٹی ہے۔ کیوں بولے گی؟ جواہر لعل نہرو کشمیری پنڈت تھے، پوجا پاٹھ والے لوگ تھے۔ ہاں، سیکولر ہیں۔ سیکولر مطلب آئین میںلکھا ہوا ہے کہ قانونی حق سب کا برابر ہے۔ اگر زمین کا جھگڑا ہے تو کورٹ یہ نہیںدیکھ سکتا ہے کہ یہ ہندو ہے اور یہ مسلمان ہے، اس لیے ہندو کے فیور میںفیصلہ دے دے۔ جو صحیح ہوگا، وہی فیصلہ دے گا۔ یہی کانگریس کہتی ہے۔ مودی جی کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ جب تک آپ وزیر اعظم ہیں، پورے ملک کی میراث آپ کے ہاتھ میںہے۔ آپ کو ایسی کوئی بات نہیںکرنی چاہیے، جس سے ملک کا وقار گرے اور سماج میں’دراؤ‘ پھیلے۔

 

 

نئی ورکنگ کمیٹی سے مایوس ہیں کانگریس کارکنان

 

 

 

اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس آجائے ، اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ آپ کو کیا لگتا ہے کہ راہل گاندھی کے منہ میںکوئی جھوٹی بات آپ ڈال دیںگے تو مسلمان آپ کو ووٹ دے دیںگے۔ گرو گولولکر کی کتاب میںلکھا ہے کہ برٹش سے لڑنے میں وقت اور انرجی مت خرچ کریے، ہندوستان کے اصلی دشمن مسلمان، عیسائی او رکمیونسٹ ہیں، ان سے لڑیے۔ بی جے پی کے من میں آج بھی وہی جذبہ ہے۔ دلوںکو توڑ کر لوگوںسے گالی گلوج کرکے آپ اقتدار میں آگئے ہیں لیکن ملک کیسے چلائیںگے۔ ملک کسانوںکا ہے،مزدوروںکا ہے ، دکانداروں کا ہے، چھوٹے لوگوں کا ہے، ان کا دل کیسے جیتیںگے آپ؟
ہندوستان میںچھ لاکھ گاؤںہیں۔ ہندو مسلمان آس پاس رہتے ہیں۔ بی جے پی کی چلے تو روز دنگا فساد ہوجائے گا پورے گاؤں میں۔پھر پولیس کیا کیا کرے گی۔ گاؤںمیںدنگا فساد کیوںنہیںہوتا ہے؟ کیونکہ ہندو ہیںہم ، سناتن دھرم والے ہیںہم ۔ وسو دیو کٹمبکم والے ہیں۔ آر ایس ایس کی چھوٹی سوچ یا ہندوتو کی سوچ کے ساتھ ایک چھوٹا دھڑا چلا گیا ہے۔ اس سے کچھ نہیںہوتا۔
پانچ سال میںسب سے زیادہ نقصان بی جے پی نے کیا ہے۔ اگر یہ دوبارہ پی ایم بن گئے تو آر ایس ایس تو ختم ہوجائے گا۔ آر ایس ایس کو بچاناہے تو مودی جیسا وزیر اعظم نہیںچلے گا۔ بی جے پی کی سرکار بنے ضرورلیکن کوئی نیا بن جائے۔ آر ایس ایس اپنا ایجنڈا چلائے۔ لیکن اتنا زہر پھیل جائے گا تو سرکارصحیح کام نہیںکر پائے گی۔ مودی جی کا کیا ارادہ ہے، مجھے نہیںپتہ۔ گجرات میںانھوںنے آر ایس ایس کو ختم کردیا، سب کو بھگا دیا۔ جتنا نقصان چار سال میںآر ایس ایس کو ہوا، اتنا پہلے کبھی نہیںہوا۔ ان کے کسی بھی آدمی سے بات کیجئے، کلیان آشرم ہو، اکھل بھارتیہ پریشد ہو، سب صدمے میںہیں۔ ذاتی طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیںکہ ہم کیا بولیں، ہماری سرکار ہے لیکن ہمیںشرم آتی ہے۔ مودی جی بڑی بڑی اخلاقی باتیںکرتے تھے کہ کانگریس کرپٹ ہے، رشوت لیتی ہے وغیرہ۔ آج وہی کام بی جے پی والے کر رہے ہیں۔ کانگریس کے سارے الگ الگ وزیر اعلیٰ پیسے لیتے تھے۔ بی جے پی میںیہ سینٹرلائز ہوگیا ہے۔ صرف امت شاہ پیسہ لیتے ہیں۔ میں نہیںجانتا کہ بی جے پی میں اکاؤنٹنگ ہوتی ہے یا نہیںہوتی ہے۔ پہلے ہوتی تھی۔ مجھے تعریف کرنی پڑے گی کہ اٹل بہاری واجپئی کا 60 واںجنم دن تھا۔ ممبئی میںلوگوںنے کہا کہ چندہ کرکے ساٹھ لاکھ ر وپے کی تھیلی انھیںبھینٹ کریںگے۔ اس وقت پارٹی میںاتنا ڈسپلن تھا کہ ہر ایک کو اکاؤنٹ معلوم تھا کہ اس آدمی نے گیارہ ہزار دیے ہیں،کس نے کتنے دیے ہیں۔ تب اکاؤنٹ میں پانچ روپے کی ہیرا پھیری نہیںہوتی تھی جبکہ کانگریس میںہوتی تھی اور دوسری پالیٹکل پارٹی میںبھی ہوتی تھی۔ اب وہ سب نہیںرہا۔ اب حمام میںسب ننگے ہیں۔ امت شاہ نے کانگریس کو اوور ٹیک کر لیا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے، یہ سب روکیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *