آسام:این آر سی معاملے میں مولانابد ر الدین اجمل کو عدالت عظمیٰ پر بھروسہ

badruddin-ajmal
آسام میں نیشنل رجسٹرآف سٹیزن (این آرسی) کا دوسرا اورآخری ڈرافٹ (مسودہ)جاری ہوگیاہے۔ڈرافٹ کے مطابق، آسام میں 40لاکھ لوگوں کوشہریت نہیں ملی ہے۔ این آرسی کے مطابق، کل 2کروڑ89لاکھ 83ہزار668لوگ ہندوستان کے شہری ہیں،آسام میں کل آبادی 3کروڑ29لاکھ ہیں۔ اس فہرست کے مطابق 40لاکھ آسامی شہریوں پر تلوار لٹک گئی ہے ۔این آر سی کے اس فہرست کے آنے کے بعد آسام میں افرا تفری کا ماحول ہے۔حالانکہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ذریعہ دیئے گئے بیان سے ان شہریوں میں تھوڑی امید کی کرن جاگی ہے ۔راج ناتھ سنگھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سبھی لوگوں کو شہریت ثابت کرنے کاموقع فراہم کیا جائے گا ۔اس درمیان عدالت میں قانونی لڑائی لڑ رہے جمعیۃ علماء ہند صوبہ آسام کے صدر اور ممبر آف پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل کا کہنا ہے کہ انہیں اس فیصلے کی پہلے سے ہی توقع تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت عظمیٰ پر پورا بھروسہ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے آسام کے لوگوں کو بڑی راحت ملے گی۔
مولانا بدر الدین اجمل نے کہا ہے کہ آسام میں شہریت کا معاملہ کافی پرانا ہے ۔گزشتہ کانگریس کی سرکار اس معاملے کو حل کرنے کے بجائے ہمیشہ ٹال مٹول کارویہ اپنائے ہوئے تھی۔موجودہ بی جے پی کی حکومت بھی اس معاملے میں کافی سست رفتاری سے کام کر رہی تھی۔انہوں نے کہاکہ عدالت عظمیٰ نے آسام سرکار کو این آر سی کی لسٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد حکومت کے ذریعہ لسٹ جاری کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی غیر ملکی کے ساتھ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی شہری یہاں پر رہ رہا ہے تو حکومت اس کے ساتھ جو بھی سلوک کرے گی اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ این آر سی نے جلد بازی میں لسٹ جاری کی ہے اور بہت سارے لوگوں کا نام آناً فاناً میں کاٹا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام کاٹے گئے ہیں انہیں دوبارہ سے اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا اور اگرانہیں وہاں سے انصاف نہیں ملا تو ان کے لئے عدالت کا راستہ کھلاہوا ہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *