اب مطالبہ بدھسٹ پرسنل لاء کا

اترپردیش میں لوک سبھا انتخابات کے پہلے سیاسی رائتا بکھیرنے کی تیاریاں سطح پر دکھائی پڑنے لگی ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ شرعیہ کورٹ تشکیل کرنے کے مسئلے پر لگاتار سرخیوں میں ہے تو دلت پولرائزیشن کی کوششوں کے تحت بدھسٹ پرسنل لاء لانے کی مانگ اچانک رفتار پکڑنے لگی ہے۔ مسلمانوں اور دلتوں کو ایک شامیانے کے نیچے لانے کی سیاسی قواعد پہلے سے چل ہی رہی تھی کہ بودھسٹ پرسنل لاء کے لئے نئے سرے سے لڑائی کے اعلان نے اس قواعد کو اور طاقت دے دیاہے۔
اصل غرض
بدھسٹ پرسنل لاء کے مسئلے پر پارلیمنٹ سیشن کے دوران جلوس اور احتجاج کے ذریعہ دہلی کو انتباہ دینے کے پیچھے بی جے پی کو انتباہ اور اپوزیشن کو لبھانے کا ارادہ متوقع ہے۔ بی جے پی کے کئی اراکین پارلیمنٹ اوراسمبلیزاس مہم میں شامل ہیں۔سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بی جے پی کے خلاف کھلی بغاوت اور بی جے پی اعلیٰ کمان کو دبائو میں لینے کی چال دونوں ہے۔ بی جے پی سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کی اتر پردیش میں شروع ہوئی سیاسی سرگرمیاں بدھسٹ پرسنل لاء کے محور کے ارد گرد گھوم رہی ہیں۔ اس مانگ کے زور پکڑنے میں اپوزیشن پارٹیوں کو اپنا فائدہ اور بی جے پی کا نقصان دکھائی دے رہا ہے۔ اس لئے اپوزیشن پارٹیاں اس مہم کو ہوا دے رہی ہیں۔
دوسری طرف مسلمانوں اور دلتوں کے اتحاد کی سیاسی چال کودو متضاد اسٹریم میں لے جانے کی بی جے پی کی کوشش جاری ہے۔ یہ کوشش دلتوں کے ہندوستان بند میں مسلمانوں کی سرگرمی اور پرجوش حصہ داری کے بعد سنجیدگی سے آگے بڑھی ہے۔ بی جے پی سرکار ایک طرف مسلمانوں کے تین طلاق مسئلے کو آئینی جامہ پہنانے کے بعد مسلمانوں میں رائج حلالہ اور تعدد ازدواج کے چلن کو ختم کر کے مسلم عورتوں کی جذباتی حمایت بٹورنے پر لگ گئی ہے تو دوسری طرف دلتوں کے لئے پروموشن میں ریزرویشن کے ساتھ ساتھ او بی سی ریزرویشن کا الگ فارمولہ لانے سمیت کئی دیگر سہولتوں کا پٹارا کھولنے جا رہی ہے، تاکہ مخالف سمت میں پولرائزیشن کی صورت حال قطعی نہ بن پائے۔
راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ زمینی سطح پر دلت کارکنوں، وکیلوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی لسٹ تیار کر رہاہے۔ اس لسٹ کی بنیاد پر بی جے پی سرکار انہیں مختلف محکموں، کارپوریشنوں، کمیٹیوں، کمیشنوں اور بورڈوں کے صدر ،نائب صدر کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے صلاح کاروں اور سرکاری وکیل کے مختلف عہدوں پر مقرر کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اسے 2019 انتخابات کے پہلے لاگو کیا جائے گا۔
اترپردیش میں بی جے پی کی سرکار بنے تقریباً ڈیڑھ سال ہو چکے ،لیکن یہ کام ملتوی پڑا ہوا ہے۔ بی جے پی اس کے عین موقع پر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ سرکاری وکیل کے مختلف عہدوں کو چھوڑ کر باقی عہدہ ریاستی وزیر کے برابر ہیں۔ اس تقرری کے ذریعہ بی جے پی دلتوں کے ساتھ ساتھ انتہائی پسماندوں اور پسماندہ برادری کے لوگوں کو بھی مطمئن کرے گی۔ سبکدوش سماج وادی پارٹی سرکار نے تقریبا ً100 لیڈروں کو الگ الگ کارپوریشنوں کا صدر، نائب صدر اور محکموں کا صلاح کار مقرر کیا تھا۔ 19 مئی 2017 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے اگلے ہی دن یوگی آدتیہ ناتھ نے سبھی غیر سرکاری صلاح کاروں، کارپوریشنوں، محکموں اور کمیٹیوں میں صدور، نائب صدور اور اراکین کو ہٹانے کا فرمان جاری کر دیا تھا۔

 

 

 

 

الگ مذہب کا مطالبہ
’دھم چیتنا یاترا ‘ نکال کر یا امبیڈکر جینتی کو سماجی ہارمونی دیوس کے طور پر منا کر اور دلتوں کے گھر کھانا کھاکر بی جے پی دلتوں کو متاثر کرنے کی کوشش عرصے سے کرتی آرہی ہے لیکن مسلم-دلت اتحاد کی سیاست پر اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا۔ بلکہ یہ اور تیز ہوتا گیا۔ ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کے بے جا استعمال پر سپریم کورت کے فیصلے کے خلاف اپوزیشن سے حوصلہ پاکر دلت تنظیموں کے بھارت بند میں دلتوں سے زیادہ مسلمانوں کی حصہ داری نے اس سیاست کو کافی سخت کردیا۔ اسی سیاسی سختی میں تیل ڈالنے کا کام کر رہی ہے بدھسٹ پرسنل لاء کی مانگ۔
2014 کے لوک سبھا انتخابات کے پہلے بھی یہ مانگ اٹھا کر دلتوں کو حرکت میں لانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس وقت یہ مہم زیادہ توجہ نہیں بٹور سکی۔ آل انڈیا ایکشن کمیٹی فار بدھسٹ پرسنل لاء کی طرف سے وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کو میمورنڈم سونپ کر بدھسٹ پرسنل لاء اور بدھسٹ کوڈ آف کنڈکٹ لاگو کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ کمیٹی کی مانگ ہے کہ جسٹس این این وینکٹ چلیا کمیٹی کی سفارشوں کے مطابق آئین کی دفعات 25(2)(B) میں ترمیم کرکے بدھسٹوں کو الگ مذہب کی شکل میں درج کیا جائے۔
بدھسٹ پرسنل لاء کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بدھسٹوں پر ہندو قانون لاگو ہے۔ ہندوستانی آئین کی دفعہ 25(2)(B) کے تحت بودھ دھرم ہندو دھرم میں ضم ہے۔ بودھ پرسنل لاء لائے بغیر بودھ مذہب ہندو مذہب سے الگ نہیں ہو سکتا۔ 2002 میں کانسٹی ٹیوشن ریویو کمیشن اور 2017 میں سپریم کورٹ الگ بودھ قانون بنانے کی حمایت کر چکا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ بدھسٹ پرسنل لاء پر زور دینے کے لئے دہلی گھیرنے کی مہم میں خاس طور پر اتر پردیش کے دلتوں کو ساتھ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ صاف ہے کہ اس اپیل کے سیاسی معنی ہیں۔ کیونکہ بی جے پی کے کئی اراکین پارلیمنٹ ، ایم ایل ایز اور کارکنان اس اپیل کی تشہیر کرنے میں بڑی گہرائی سے لگے تھے۔
ان میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے کا نام اول ہے جنہوں نے 15 جولائی کو لکھنؤ کے عوامی اسٹیج سے کہا کہ ملک میں افراتفری کی صورت حال بنی ہوئی ہے اور آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ میں کسی کارروائی سے نہیں ڈرتی۔ اگر حق پانے کے لئے مجھے قربانی بھی دینی پڑی تو پیچھے نہیں ہٹوں گی لیکن خاموش نہیں رہوں گی۔ بابا صاحب کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے لڑائی کرتی رہوںگی ۔
ساوتری بائی نے کہا کہ بی جے پی لکھنؤ اور الٰہ آباد کا نام بدل کر بہوجن سماج پارٹی کی تاریخ مٹانے کی سازش کررہی ہے۔ ابھی حال ہی میں اپریل مہینے میں بھی بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے نے’ نمو بودھائے جن سیوا کمیٹی ‘ کے اسٹیج سے بی جے پی قیادت کو للکارا تھا اور کہا تھا کہ بی جے پی آئین کو کمزور کر رہی ہے۔ دلت یا آدیواسی مسئلوں پر دلت اراکین پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جاتاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں رکن پارلیمنٹ بنے رہنے یا آئندہ انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ بی جے پی رکن کے اس پیغام کو بی جے پی قیادت کو دبائو میں لینے کی پیش بندی کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
بی جے پی کو درپیش چیلنجز
بہر حال بی جے پی قیادت کو ایسی چیلنجز اور پیش بندیاں کئی دلت لیڈروں کی طرف سے مل رہے ہیں۔ یوگی سرکار میں کابینہ وزیر اوم پرکاش راج بھر کا باغیانہ تماشہ کچھ دنوں پہلے لوگ دیکھ ہی چکے ہیں۔ راج بھر کو منانے کے لئے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کو لکھنو آنا پڑا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی رکن پارلیمنٹ اشوک دوہرے ، چھوٹے لال کھروار ، چودھری بابو لال اور ڈاکٹر یشونت سنگھ بھی اسی تماشہ کی لائن میں شامل ہو گئے۔ دوہرے نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر یو پی میں دلتوں کے ہراساں کئے جانے کی شکایت کی تو یشونت نے مودی سرکار پر ہی نشانہ سادھ لیا اور کہا کہ مرکز نے چار برسوں میں دلتوں کے حق کا ایک بھی کام نہیں کیا ہے۔ چودھری نے رام شنکر کٹھیریا کے ساتھ ساتھ بی جے پی قیادت کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ ان لوگوں نے ہریجن ایکٹ کو دھندہ بنا رکھا ہے۔
بی جے پی قیادت دلت اراکین پارلیمنٹ کے بغاوتی تیور کو کائونٹر بیلنس کرنے کے لئے مرکزی وزیر کرشنا راج، ایس ٹی ؍ایس سی کمیشن کے صدر رام شنکر کٹھیریا، ایم پی کوشل کیشور سمیت کئی لیڈروں کے ذریعہ دلت حق کے لئے کئے گئے کام کے بیورے کے ساتھ بی جے پی کے دلت دوست ہونے کا پیغام شائع کررہاہے۔ بی جے پی کے یہ دلت اراکین دلتوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ ایس سی ؍ایس ٹی کے لئے ریزرویشن 131 لوک سبھا سیٹوں میں سے 66 دلت ایم پی بی جے پی کے ہیں اور اتر پردیش کے ایم ایل ایز میں بھی 87 فیصد دلت ایم ایل اے بی جے پی کے ہی ہیں۔ ملک کے صدر عہدہ کے لئے بھی بی جے پی نے دلت لیڈر رام ناتھ کووند کو ہی چنا۔ دلتوں کے لئے کئے گئے کام کا بیورا دلتوں کے سامنے رکھا جارہاہے۔
بی جے پی کا سخت فیصلہ
بی جے پی قیادت نے یہ طے کر لیا ہے کہ بغاوتی تیور اور دبائو کی پالیسی اختیار کرنے والے اراکین کو 2019 کے انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ ٹکٹ کٹتا دیکھ کر بی جے پی کے کئی اراکین سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کے پاس منڈلانے لگے ہیں۔2014 کے لوک سبھا انتخابات میں جو لوگ مودی لہر میں بہہ کر رکن بن گئے اور اپنی کوئی سیاسی اور عوامی نمائندگی میں حصہ داری نہیں دے پائے ،انہیں بی جے پی اس بار موقع نہیں دینے جارہی ہے۔ بی جے پی نے تقریباً دو درجن ایسے لوگوں کو ایم پی بنایاجو سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس چھوڑ کر آئے تھے۔ سنگھ نے پارٹی کوایسے کئی ایم پی کی لسٹ سونپی ہے جو انتخاب جیتنے کے بعد کبھی اپنے پارلیمانی حلقے میں گئے ہی نہیں۔ یہ چہرے اب سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کے گلیارے میں اپنا نام چلوا رہے ہیں۔
بی جے پی کے ٹکٹ سے محروم ہونے والے چہروں میں رابرٹس گنج کے بی جے پی ایم پی چھوٹے لال کھروار، لال گنج سے ایم پی نیلم سونکر، بہرائچ کی ایم پی ساوتری بائی پھولے، اٹاوہ کے ایم پی اشوک کمار دوہرے ، نگینہ کے ایم پی ڈاکٹر یشونت سنگھ، فتح پور سکری کے ایم پی چودھری بابو لال، الٰہ آباد کے ایم پی شیام چرن گپتا، دیوریہ کے ایم پی کلراج مشر، کانپور کے ایم پی ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، جھانسی کی ایم پی سادھوی اوما بھارتی سمیت کئی لیڈر شامل ہیں۔ سادھوی تو خود ہی انتخاب لڑنے کے تئیں اپنی ہچکچاہٹ دکھا چکی ہیں اور ڈاکٹر جوشی اور کلراج عمر کے بی جے پی معیار پر درکنار کر دیئے جائیںگے۔ سادھوی ، جوشی اور مشر کو چھوڑ کر دیگر سبھی لیڈر بی جے پی قیادت کے خلاف آگ اگلتے رہے ہیں۔اس بار پتہ کٹنے والے کچھ اہم چہروں میں ورون گاندھی کا نام بھی لیا جارہاہے لیکن بہت دبی زبان سے۔ سینئروں کو چھوڑ کر باقی سارے لیڈر ٹکٹ پانے کے لئے سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی قیادت کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔
بی ایس پی کو بی جے پی بھی لپکنے کو تیار
بی جے پی کے سینئر آرگنائزر گلیارے میں بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ بھی اندرونی میل ملاپ کی چرچا چل رہی ہے۔ کچھ سینئر لیڈروں کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو خطرے کا احساس ہوا تو اتر پردیش کی گدی مایاوتی کو دینے ، مرکزی سرکار میں اہم وزارت دینے اور ا طمینان بخش سیٹیں دے کر ساتھ ساتھ انتخاب لڑنے کا معاہدہ بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کے اندر کی یہ چرچا فی الحال تو قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیںہے ،لیکن سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی، کانگریس ، آرایل ڈی اور ساتھ میں آنے والی دیگر پارٹیوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم اور قیادت کو لے کر جو کھینچا تانی ہونے والی ہے، اس کا اثر ابھی سے دکھائی دے رہاہے۔ بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے ساتھ انتخاب لڑنے والی پارٹیوں کو جیتنے کی گارنٹی ہے۔ اگر بہو جن سماج پارٹی بی جے پی کے ساتھ آئی تو یو پی میں بی جے پی سب سے بڑی اتحادی پارٹی ہوگی۔
مستقبل کے مہاگٹھ بندھن میں قیادت کو لے کر جو بحران کھڑا ہونے والا ہے، اسے مایاوتی اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ کیونکہ بہو جن سماج پارٹی کے منڈلیہ کانفرنس میں مایاوتی کو وزیر اعظم بنانے کے لئے کیا گیا کال سماج وادی پارٹی – کانگریس خیمے کو ہضم نہیں ہوا ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے حال میں ہوئی منڈلیہ کانفرنس میں بہو جن سماج پارٹی کے لیڈروں نے مایاوتی کو اپوزیشن اور تمام علاقائی پارٹیوں کی لیڈرہونے کااعلان کیااور انہیں آئندہ وزیر اعظم بنانے کے تئیں وعدے کو دوہرایا ۔ بہو جن سماج پارٹی کے نیشنل جنرل سکریٹری اور کو آرڈینیٹر ویر سنگھ نے کہاکہ ملک کی سبھی علاقائی پارٹیوں نے بہن جی کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ اب انہیں وزیر اعظم بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
بہو جن سماج پارٹی کی خواہشات کا ابھار دیکھتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی فوراً اتر پردیش میں ’دلت چیتنا یاترا‘ کی شروعات کر دی اور یاترا کے لکھنو پہنچنے پر اس کے استقبال میں سیاسی بیان جاری کئے۔ لیکن مایاوتی کا نام نہیں لیا۔ اکھلیش نے بس اتنا ہی کہا کہ سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی تال میل سے وزیر اعظم نریندر مودی کا باڈی لنگویج گڑبڑا گیا ہے۔ اس کے بعد اکھلیش یادو نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو ہی فوکس میںرکھا اور کہا کہ کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی بتانے والی بی جے پی یہ نہیں سمجھتی کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ملک کے شہریوں کی ہوتی ہے۔کسی مخصوص مذہب کی نہیں۔ اکھلیش بولے کہ وزیر اعظم تاریخ بتادیں ،سماج وادی پارٹی انتخابات کے لئے تیار ہے۔
سماج وادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بی جے پی کسی بھی طرح سماج وادی پارٹی – بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن کو توڑنا چاہتی ہے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ بہو جن سماج پارٹی کا تال میل کانگریس سے ہو جائے لیکن سماج وادی پارٹی کے ساتھ تال میل نہ رہے لیکن جس طرح کی صورت حال بن رہی ہے، اس سے بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس کے بیچ تال میل کے امکانات کم لگ رہے ہیں۔ کانگریس کے لیڈر ہی بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ تامل میل کے حق میں نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ راجستھان میں اسمبلی انتخابات کے پہلے کانگریس اور بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ تال میل کی کوششوں کا تقریباً خاتمہ ہی ہوگیا ہے۔راجستھان ریاستی کانگریس کے صدر سچن پائلٹ نے صاف صاف کہہ دیاہے کہ کانگریس راجستھان میں بی جے پی کو اکیلے دم پرہرا سکتی ہے،اسے بہو جن سماج پارٹی سے تال میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پائلٹ نے کہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی سے مقابلہ کرنے کے لئے کانگریس کو کسی دوسری پارٹی کا ہاتھ پکڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے انتخابات میں کانگریس مایاوتی کے ساتھ تال میل کی منشا ظاہر کرچکی ہے۔
ایس پی-بی ایس پی’فرسٹریٹیڈ‘ لوگوں کی جماعت: وزیر قانون
اتر پردیش کے وزیر قانون برجیش پاٹھک سماج وادی پارٹی – بہو جن سماج پارٹی گٹھ جوڑ کو ’فرسٹریٹیڈ‘ لوگوں کی جماعت کہتے ہیں۔ پاٹھک کہتے ہیں کہ گٹھ بندھن سے 2019 کے انتخابات پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ ضمنی انتخابات میں شکست کے لئے سماج وادی پارٹی – بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن کو ذمہ دار ماننے کے بجاے وزیر قانون کہتے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں ان کی جیت یا بی جے پی کی ہار کی وجوہات مقامی ہیں، ا س سے انہیں کسی مغالطے میں نہیں رہنا چاہئے ۔ ضمنی انتخابات کی ہار جیت مقامی سمیکرن پر طے ہوتی ہے، جبکہ عام انتخابات وسیع مسائل اور اہداف پر طے ہوتے ہیں۔ ضمنی انتخابات سے ملک کی مرکزی حکومت طے نہیں ہوتی۔ جب وزیر اعظم کی شکل میں نریندر مودی کا نام آتا ہے تو کسی کو دوسرا کوئی بہتر متبادل نہیں دکھائی دیتا۔
سماج وادی پارٹی – بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن کے معاملے پر وزیر قانون کہتے ہیں کہ دیکھئے کچھ فرسٹریٹیڈ لوگ اکٹھا ہوئے ہیں، جنہیں اپنی ہی زمین کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔یہ اپنی زمین کھو چکے ہیں ۔اگر خدا نہ نخواستہ گٹھ بندھن ٹوٹ گیا تو ان کا کوئی اور چھور پتہ نہیں چلے گا۔ انتخابی معیار کو پار کرنا ان کے لئے مشکل ہو جائے گا۔یہ سب ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کسی طرح انتخابی معیار پار کرنا چاہتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی-بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن تفریق اور اختلاف کی زمین پر کھڑا ہے ۔ نظریاتی بنیاد پر ان میں کوئی مساوات نہیں ہے۔ دونوں پارٹیوں میں عداوت بوتھ کی سطح تک حاوی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سماج وادی پارٹی کے لوگ دلتوں کو بوتھ کی سطح تک کس طرح پیٹتے اور ہراساں کرتے ہیں۔یہ کسی بھی طرح سے اکٹھا نہیں ہو پائیںگے۔
بی جے پی کے اندر دلت واد کے نام پر یاحکومت کی خواہشات کو لے کر نظر اندازی کے رویے کو لے کر جو اختلاف اور بغاوت کے سُر سامنے ہورہے ہیں،اسے لے کر اترپردیش کے وزیر قانون برجیش پاٹھک کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ٹکٹ کے لئے پریشان ہیں۔وہ جان چکے ہیں کہ انتخاب میں وہ ہاریں گے اور بی جے پی قیادت انہیں ہارنے کے لئے ٹکٹ نہیں دینے جارہی ہے۔ اسی مایوسی میں وہ اختلاف کے سر بولتے ہیں اور پارٹی قیادت، وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے خلاف اناپ شناپ بیان بازیاں کرتے ہیں۔
برجیش پاٹھک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی پھر سے بڑی اکثریت سے جیتے گی اور نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں سرکار بنائے گی۔ بی جے پی کی اس جیت میں اتر پردیش ریاست اپنا وہی کردار ادا کرے گی جس طرح وہ2014 میں نبھا چکی ہے۔ پاٹھک کہتے ہیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے دور حکومت میں ریاست بہترین ترقی کررہی ہے۔لاء اینڈ آرڈر پوری طرح پٹری پر ہے۔ سماج وادی پارٹی کے دور کی افراتری اور غنڈہ راج ختم ہو چکا ہے۔
اپنے محکمہ کی کارکردگی کے بارے میں پوچھنے پر برجیش پاٹھک کہتے ہیں کہ جہاں تک محکمہ قانون کا سوال ہے تو ہماری سب سے بڑی فکر تھی کہ جہاں 42 لاکھ سے زیادہ مقدمے عدالتوں میں زیر التوا ہوں،اس کو نمٹانے کے لئے کیا کیا جائے۔ہم نے کافی تعداد میں عدلیہ افسروں کی تقرریاں کی اور وہ سرگرمی اب بھی جاری ہے۔وزیر اعلیٰ نے سبھی اضلاع میں مستقل لوک عدالتوں کی تشکیل کرکے اس سمت میں سب سے بڑا کام کیا۔ اترپردیش ملک کی پہلی ایسی ریاست بنی جہاں سبھی اضلاع میں مستقل لوک عدالتیں تشکیل ہو گئی ہیں۔پہلے لوک عدالتیں میلے کی طرح تتر بتر لگتی تھیں، اب وہ مستقل طور پر لگ رہی ہیںاور ان میں سی جے ایم سطح کے آفیسر کی تقرری سکریٹری کے بطور کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں عدلیہ افسروں کے جو عہدے خالی تھے ،ان پر تقرری کے ساتھ ساتھ 100 عہدے اضافی سیشن جج سطح کے،100 عہدے سول جج سینئر ڈویژن کے اور 330 عہدے سول جج جونیئر ڈویژن کے پیدا کئے گئے ہیں، جن پر تقرری کا اشتہار کچھ ہی دنوں میں پبلک سروس کمیشن شائع کرنے والا ہے ۔
بڑی تعداد میں پینڈنگ پڑے خاندانی تنازعات کے جلدی نپٹارے کے لئے ہم نے 110خاندانی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ لیاہے۔ خاتون ہراساں کے معاملوں کونپٹانے کیلئے 100فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کیاگیا ہے۔دلت ہراساں کے معاملے نپٹانے کیلئے الگ سے 25فاسٹ ٹریک کورٹ کی بنیاد ڈالی گئی ہے۔سب جانتے ہیں کہ ملکی -غیرملکی کارباریوں کوسرکارمایہ کاری کیلئے یوپی میں بلایاجارہاہے۔ انہیں قانونی سہولیات ملیںاس کیلئے پہلی بار اترپردیش میں 13نئے کامرشیل کورٹ کھولنے کا فیصلہ لیاگیاہے۔ پردیش کے صنعتی اوربزنس سرگرمیوں والے ضلعوں میں کامرشیل کورٹس قائم کیاجارہاہے۔ لکھنؤ میں بھی یہ عدالت کام کرے گی۔ پہلے سول عدالتوں میں ہی کامرشیل تنازعات کی سنوائی ہوتی تھی اور اس میں غیرمتوقع تاخیر ہونے کے باعث سرمایہ کاری کرنے والے صنعت کارپریشان ہوتے تھے۔عدلیہ افسروں کوکامرشیل تنازعہ نپٹانے کیلئے مناسب ٹریننگ بھی نہیں تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔اب باقاعدہ تربیت یافتہ عدلیہ افسروں کوکامرشیل کورٹس میں تعینات کیا جا رہا ہے ۔ ڈسٹرکٹ جج کے سپرٹائم اسکیل سطح والے ججوں کو باقاعدہ ٹریننگ دے کامرشیل کورٹس کا جج بنا یا جا رہا ہے۔
وزیرقانونی برجیش پاٹھک کہتے ہیں کہ اسی طرح دیگر وزارتوں میں بھی بنا کسی شورشرابے کے کام ہورہے ہیں، زمینی سطح پرعوام کوفائدہ مل رہاہے ۔ دوسری پارٹیوں نے بھی یوپی میں کبھی نہ کبھی اقتدارسنبھالی ہے، انہوں نے کیا کیا اوریوگی سرکار نے ان ڈیڑھ سالوں میں کیا کیا، اسے عوام دیکھ -سمجھ رہاہے اورفائدہ اٹھا رہاہے۔ اسلئے ہمیں عوام کا سپورٹ مل رہاہے۔ چلتے چلتے پاٹھک بولے، ’ کام ہم کر رہے ہیں تو ووٹ کیا دوسرے کو ملے گا؟‘

 

 

 

 

 

ریزرویشن کا عدم توازن دورکرکے نسلی ایکویشن گڈ مڈ کرنے کی فراق میں ہے بی جے پی
الیکشن کا ماحول گرما نے سے پہلے بی جے پی ذاتی توازن کے حساب سے ریزرویشن کا نیا فارمولہ نافذ کرنے پرکام کر رہی ہے۔ اس کی ضرب تقسیم کی قواعد چل رہی ہے۔ بی جے پی کی حکمت عملی کو جاننے والے خاص لوگوں میں شامل ایک لیڈر نے کہاکہ یہ فارمولہ ذاتی سیاست کرنے والی سماج وادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کے لیڈروں کو مشکل میں ڈالنے والا ہے۔ اس کا اثر گٹھ بندھن کے مساوات پرپڑے گا۔ پچھڑے اوربہت پچھڑے طبقے میں سیندھ لگانے کیلئے ریزرویشن میں بدلا ؤ کی تیاری چل رہی ہے ۔ اتر پردیش میں سماجی جسٹس کمیٹی پہلے سے تشکیل ہے۔
راجناتھ سنگھ کے وزیراعلیٰ مدت کار میں 28جون 2001کو اس کی تشکیل ہوئی تھی۔ اب یوگی آدتیہ ناتھ سرکار نے پردیش میں دیگر پچھڑے طبقے سماجی جسٹس کمیٹی کی تشکیل بھی کردی ہے۔ سماجی جسٹس کمیٹی نے پچھڑی اور شیڈول کاسٹ ذاتیوں کو دئیے جانے والے ریزرویشن کو سب سے نچلے پائیدان پرکھڑے اوبی سی؍ شیڈول کاسٹ طبقے کے لوگوں تک پہنچانے کیلئے ریزرویشن کے اندر ریزرویشن کی سفارش کی تھی۔ کمیٹی نے دیگر پچھڑے طبقے کی سبھی 79ذات برادریوں کو لوک سیوا-یوجن میں نمائندگی کا تجزیہ کرپا یا تھا کہ اترپردیش میں پچھڑے طبقے کی تقسیم نہ ہونے کے باعث 2.3فیصد ذات ہی 27فیصد ریزرویشن کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اس سے دیگرپسماندہ ریزرویشن کے فائدہ سے محروم ہورہی ہیں۔’متناسب نمائندگی انڈیکس ‘ کے معیار پر 79ذاتوں کو سیوا-یوجن کی صورتحال کا مطالعہ کرنے کے بعد کمیٹی نے پایاتھا کہ دیگر پسماندہ طبقے میں کچھ ذات برادری آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ریزرویشن کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔دوسری طرف زیادہ تر ذات اپنی آبادی کے تناسب سے کم فائدہ اٹھا پارہی ہیں۔ اس سماجی عدم توازن کو دیکھتے ہوئے سماجی جسٹس کمیٹی نے اوبی سی کی تین کٹیگری :پسماندہ طبقے ، بہت پسماندہ طبقے اورانتہائی پسماندہ طبقہ بنانے کی سفارش کی تھی۔ تب راجناتھ سنگھ اس سفارش کولاگو نہیں کرا پائے تھے۔ اب یوگی آدتیہ ناتھ اسے عمل میں لانے جارہے ہیں۔ حالانکہ اس فارمولے کوبہار میں لاگو کرکے وہاں کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بہت پسماندہ اورانتہائی پسماندہ طبقے کے لوگوں کے چہیتے بن گئے۔
صاف ہے کہ اس فارمولے کے نافذ ہونے سے خاص طورپر سماج وادی پارٹی کو زیا دہ پریشانی ہونے والی ہے۔آپ سمجھ ہی رہے ہوں گے کہ یوپی میں اوبی سی فہرست میں شامل 79ذات میں سے کن ایک-دو خاص ذات کوریزرویشن کا پورا فائدہ ملتا رہا ہے۔ راجناتھ سنگھ کا اوبی سی فارمولہ نافذ ہونے سے ریزرویشن کا فائدہ کوشواہا، موریہ، شاکیہ، مالی ، سینی ، کاچھی، کوئری، لودھ، راجبھر، بند، نشاد، ملاح، کیوٹ، مانجھی، کہار، دھیور، رائکوار، کشیپ، بھورجی-کاندو، چوہان، پرجاپتی، بڑھئی، نائی ، لوہار، گڑیریا جیسی ذاتیوں کوملے گا۔
ریزرویشن کا فائدہ لینے کا اعدادوشمار یہ ہے کہ 9فیصد آبادی والے یادوؤں کی سرکاری نوکریوں میں 132فیصد حصہ داری ہے اورپانچ فیصد آبادی والی کورمی ذات کی سرکاری نوکریوں میں 242 فیصد حصہ داری ہے جبکہ دوسری طرف 14فیصد آبادی والی 63ذاتوں کی حصہ داری صرف 77فیصد ہے۔ سرکار نے اگر ان پسماندہ ذات میں یکساں حصہ داری کا انتظام کردیا تو یادوؤں کا حصہ نوکری میں کم ہوجائے گا اور چھوٹی چھوٹی انتہائی پسماندہ ذات کی حصہ داری بڑھ جائے گی۔
ریٹائرڈ جج راگھویندر کمار کی صدارت میں تشکیل دیگر پسماندہ طبقہ سماجی جسٹس کمیٹی جاٹ ذات سمیت دیگر پسماندہ طبقہ میں شامل مختلف ذات اورطبقوں کے پسماندگی کی موجودہ صورتحال کا لگاکر اپنی سفارش سرکار سامنے پیش کرے گی، جس کی بنیادپرپسماندوں کوریزرویشن کا فائدہ دینے کا نیانظام نافذ ہوگا۔کمیٹی موجودہ وقت میں پسماندہ طبقہ کے تحت آنے والے مختلف طبقوں اور ذاتیوں کی موجودہ سماجی ، اقتصادی اورتعلیمی صورتحال کا مطالعہ کرے گی اور پردیش میں نافذ ریزرویشن انتظام کے تحت تعلیمی شعبے میں پسماندہ طبقہ کے مختلف طبقوں اور ذات کی حصہ داری کا پتہ لگائے گی۔ کمیٹی یوپی کی ریزرویشن انتظام کے تحت سرکاری سروسزمیں پسماندہ طبقوں کے مختلف ذات کی حصہ داری کا اندازہ کرے گی اورریزرویشن کے فائدہ میں اوبی سی کی سبھی ذات کی یکساں حصہ داری پرمرکوز رپورٹ سرکار کودے گی۔
اب اس کا پالیٹکل ایکویشن بھی سمجھتے چلتے ہیں۔ بی جے پی کا یہ فارمولہ سارے ذات برادری ایکویشنوں کوادھر ادھرکردے گا۔ظاہرہے کہ ذات کی بنیاد پر گٹھ بندھن اورمہا گٹھ بندھن کا سیاسی فائدہ اٹھا نے کی منشا بھی گڈ مڈ ہوجائے گی۔ اترپردیش میں دیش کی سب سے زیادہ 80لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ یوپی میں دیگر پسماندہ طبقہ کی ذات برادری کی آبادی قریب 45فیصد ہے۔ ان میں غیر یادو اوبی سی ذات برادریاں 36فیصد سے زائد ہیں۔ریزرویشن کا نیا’ دیگر پسماندہ طبقہ سماجی انصاف‘ والا فارمولہ نافذ ہوا تو 36فیصد اوبی سی آبادی بی جے پی کے اثروالے علاقہ میں چلی جائے گی۔ بی جے پی اسی جگاڑ میں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *