نواز شریف اور مریم نواز مشکل میں جیل کے ایام

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی قید کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت چل رہی ہے ۔یہ اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کو دو مختلف شیڈول کے تحت دس برس اور ایک برس، مریم نواز کو سات برس اور ایک برس جبکہ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایک برس قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ہائی کورٹ کا کیا فیصلہ آتا ہے ،یہ تو آنے والے وقت میں ہی پتہ چلے گا۔ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو اڈیالہ جیل میں کیا کیا سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔
نواز شریف اور ان کی بیٹی کو جیل منتقل کیا گیا تو سب سے پہلے ان کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا جس کے بعد دونوں کو مختلف بیرکوں میں بھیج دیا گیا ۔جیل قوانین کے مطابق جیل حکام اس بات کے پابند ہیں کہ وہ عدالت کی جانب سے کسی بھی سزا یافتہ قیدی جسے قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہو، سے روزانہ کی بنیاد پر کوئی کام کروائیں۔ اس مشقت میں باغبانی، دیگر قیدیوں کو پڑھانا، کچن کی صفائی کے علاوہ قیدیوں کی حجامت کرنے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ اس مشقت میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ابھی تک نواز شریف یا مریم نواز کے ذمہ کوئی کام سپرد نہیں کیا گیا ہے ۔
ان قیدیوں سے مشقت لینے کی ذمہ داری جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے نواز شریف پاکستان کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔ایسے میں ان کے ساتھ عام قیدیوں جیسا سلوک نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ لندن سے پاکستان واپس آرہے تھے تو ان کی گرفتاری سے پہلے یہ طے کیا گیا تھا کہ انہیں سابق وزیراعظم ہونے کی وجہ سے اے کلاس جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز کو بی کیٹیگری کی جیل دی جائے گی۔چونکہ انہیں اے کلاس کی جیل میں رکھا جانا تھا،اسی لئے انہیں لاہور سے اڈیالہ منتقل کیا گیا ۔کیونکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 42 جیلوں میں سے صرف دو جیلیں ایسی ہیں جہاں پر قیدیوں کے لیے اے کلاس کی سہولتیں مہیا ہیں۔ ان دونوں جیلوں میں بہاولپور اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل شامل ہے۔

 

 

خیال رہے کہ جیل میں قیدیوں کو تین کیٹگریز میں رکھا جاتا ہے۔ سی کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل، ڈکیتی، چوری، لڑائی جھگڑے اور معمولی نوعیت کے مقدمات میں سزا یافتہ ہوں۔بی کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل اور لڑائی جھگڑے کے مقدمات میں تو ملوث ہوں تاہم اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔گریجویشن پاس قیدی بھی بی کلاس لینے کا اہل ہوتا ہے۔ اے کلاس کیٹگری اعلیٰ سرکاری افسران کے علاوہ، سابق وفاقی وزرا اور ان قیدیوں کو دی جاتی ہے جو زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہوں۔
جیل مینوئل کے مطابق جن قیدیوں کو اے کلاس دی جاتی ہے انھیں رہائش کے لیے دو کمروں پر محیط ایک الگ سے بیرک دیا جاتا ہے جس کے ایک کمرے کا سائز9×12 فٹ ہوتا ہے۔قیدی کے لیے بیڈ، ایئرکنڈشن، فریج اور ٹی وی کے علاوہ الگ سے باورچی خانہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اے کلاس کے قیدی کو جیل کا کھانا کھانے کی بجائے اپنی پسند کا کھانا پکانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اے کلاس میں رہنے والے قیدی کو دو خدمتگار بھی دیے جاتے ہیں۔اگر قیدی چاہے تو دونوں خدمتگار ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور اگر قیدی چاہے تو خدمتگار کام مکمل کر کے اپنے بیرکوں میں واپس بھی جا سکتے ہیں۔
جن قیدیوں کو بی کلاس دی جاتی ہے ان کو ایک الگ سے کمرہ اور ایک خدمتگار دیا جاتا ہے۔ تاہم اگر جیل سپرنٹنڈنٹ چاہیے تو خدمتگار کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو بھی کر سکتا ہے۔ یہ خدمتگار معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث قیدی ہوتے ہیں ۔پہلے طے یہ تھا کہ نواز شریف کو اے کلاس میں جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز کو بی کلاس قیدی کا درجہ دیاجائے گا۔مگر بعد کی رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جیل بھیجنے کے بعد فیصلے میںترمیم کی گئی اور نواز شریف کو وہ سہولت نہیں دی گئی ہے جس کے وہ مستحق ہوسکتے ہیں۔اس طرح کا اشارہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کے اس خط سے ملتا ہے جو انہوں نے صوبائی حکومت کو لکھا ہے ۔اس خط میں انہوں نے نواز شریف کو جیل میںفراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق شکوہ کیاہے۔
شہباز شریف کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو جیل میں پڑھنے کے لیے اخبار فراہم نہیں کیا جاتا ہے اور سونے کے لیے جو گدا فراہم کیا گیا ہے وہ زمین پر بچھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں جو باتھ روم دیا گیا ہے اس کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے کمرے میں ایئرکنڈیشن بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انھیں کوئی خدمت گار بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف ملک کے تین بار وزیر اعظم رہے ہیں، اس لیے انھیں ان کے استحقاق کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں۔اس خط میں نواز شریف کے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے اور درخواست کی گئی ہے کہ انھیں علاج کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔
ان تینوں مجرمان کو الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملاقات ہو سکتی ہے اور نہ ہی گفتگو۔یاد رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو جب گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا تو اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے دو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں مجرمان کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کیا جائے تاہم اس پر نہ تو عمل درآمد کیا گیا اور نہ ہی نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا گیا۔چونکہ پاکستان کے بارے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ وہاں کے تمام ہی اداروں پر سیاست دانوں کی چھاپ ہوتی ہے ،ایسے میں اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کے ساتھ وہاں کی حکومت کیا رخ اختیار کرتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *