مظفرپور :شیلٹر ہوم میں 21 بچیوں کی عصمت دری کی تصدیق

shelter-house
بہارکے مظفرپور ضلع شیلٹرہاؤس میں بچیوں کے ساتھ ہونے والے گھنونے مجرمانہ حرکت کی کہانی کا خلاصہ اب دھیرے دھیرے ہونے لگاہے۔ اس معاملے میں پی ایم سی ایچ نے شیلٹرہوم کی 21بچیوں کے ساتھ ریپ کی تصدیق کردی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ یہاں رہنے والی بچیوں نے اپنے ایک ساتھی کی قتل کرنے کا بھی الزام لگایاہے۔خلاصہ کے بعد جانچ بھی شروع ہوگئی ہے۔ خبرہے کہ فارنسس ٹیم آج پہنچ گئی ہے اور شیلٹر ہوم میں ایک لڑکی کی لاش نکالنے کے لئے وہاں احاطہ کی کھدائی کی جا رہی ہے۔ اس شیلٹر ہوم میں گزشتہ دنوں 21 بچیوں کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ ان تمام ریپ متاثرہ لڑکیوں نے کورٹ میں بتایا تھا کہ ان کے ساتھ رہنے والی ایک لڑکی کی شیلٹر ہوم ملازمین نے اتنی پٹائی کی تھی کہ اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد آنا فانا میں انہوں نے اس کی لاش احاطہ میں ہی دفن کر دی تھی۔
لڑکیوں نے اس کے ساتھ ہی اس جگہ کی بھی نشان دہی کی ہے جس کے بعد ثبوت حاصل کرنے کے لئے احاطہ کی کھدائی کی جا رہی ہے۔ مجسٹریٹ کی نگرانی میں ہو رہی کھدائی کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔خبرہے کہ فی الحال یہاں رہنے والی سبھی بچیوں کودوسرے شیلٹر ہوم میں شفٹ کردیاگیاہے۔

 

واضح ہو کہ ممبئی کی تنظیم ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی ٹیم نے شیلٹر ہوم کی سوشل آڈٹ رپورٹ میں 21 لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا انکشاف کیا تھا۔میڈیکل جانچ میں 16بچیوں سے ریپ کی تصدیق کے بعد گذشتہ مہینے پولس نے کئی ملزموں کوگرفتار کرلیاتھا۔اب تک اس معاملے میں گرفتارلوگوں کی تعداد10ہوگئی ہیں۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیاتھا جب ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس نے بچیوں سے بات چیت کی بنیادپررپورٹ تیارکی تھی۔اس کے بعد بہارسوشل ویلفیئرڈپارٹمنٹ نے ایف آئی آر درج کرایاتھا۔ اس بیچ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سال 2013 سے 2018 کے درمیان یہاں سے چھ لڑکیاں غائب ہو گئیں۔ ان لڑکیوں کے غائب ہونے کا کوئی پولیس ریکارڈ نہیں ہے۔بہر کیف پولس کے مطابق، معاملے میں دیگرملزموں کی تلاش کی جارہی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *