سوئس بینکوں میں جمع ہندوستانیوں کا پیسہ پچاس فیصد اچھال کالا دھن تو نہیں

سوئس بینکوں میں جمع ہندوستانیوں کے پیسے، جسے عام طور پر کالا دھن کا نام دیا جاتا ہے ،پچھلے کئی برسوں سے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اس سلسلہ میں اکثر کئی طرح کی باتیں سننے اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں، جن میں سے کچھ افواہ ہوتی ہیں اور کچھ حقیقت بھی ۔ پچھلے سال دسمبر مہینے میں سوئٹزر لینڈ کے جولیئس بائر بینک کے سابق ملازم روڈالف ایلمر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ہندوستانی کریکٹروں ، فلمی ہستیوں اور سیاست سے جڑے لوگوں کے سوئس بینک کھاتوں کی جانکاریاں ہیں۔ ظاہر ہے اس خبر نے ملک میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ وہیں ان پیسوں کی واپسی کے لئے یوگ گرو بابا رام دیو سے لے کر سابق وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی تک مہم چلا چکے ہیں۔
بہر حال ہندوستان میں سوئس بینک ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔اس کی وجہ ہے 2017 میں یہاں کے بینکوں میں ہندوستان سے جمع ہونے والے پیسوں میں 50 فیصد کا اضافہ۔ سوئٹزر لینڈ کے سینٹرل بینکنگ اتھورائزیشن سوئس نیشنل بینک ( ایس این بی ) کے ذریعہ جاری سالانہ اعدادو شمار کے مطابق، 2017 میں یہاں کے بینکوں میں جمع ہندوستانیو ں کا پیسہ 7,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔غور طلب ہے کہ پچھلے تین برسوں سے یہ رجحان نیچے کی طرف جا رہا تھا، جس کی وجہ کالے دھن پر ہندوستانی سرکار کی کارروائی بتائی جا رہی تھی۔ ان اعدادو شمار میں دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ 2017 میں دنیا کے دیگر ملکوں کے گراہکوں کے پیسوں میں صرف 3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ دراصل ایس این بی نے 7,000کروڑ روپے کے اعدادو شمار کو تین درجوں میں کلاسیفائڈ کیا ہے: سیدھے گراہکوں کے ذریعہ جمع پیسے، دوسرے بینکوں کے ذریعہ جمع پیسے اور دیگر لائبلیٹی جیسے سیکورٹیز کے ذریعہ جمع پیسے۔ ان تینوں درجوں میں زبردست اچھال دیکھنے کو ملی ہے۔ ایس این بی کے مطابق، گراہکوں نے براہ راست 3200 کروڑ روپے جمع کئے، وہیں دیگر بینکوں کے ذریعہ سے 1050کروڑ اور سیکورٹی وغیرہ کے توسط سے 2640 کروڑ روپے جمع ہوئے۔

 

 

 

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ہندوستانی پیسوں میں یہ اچھال کیوں آئی ؟تو اس کا جو سب سے آسان جواب نظر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ 2016 میں سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کے جمع پیسوں میں 45 فیصد کی ریکارڈ گراوٹ درج کی گئی تھی۔ اس سال یہاں ہندوستانی گراہکوں کے 4500کروڑ روپے جمع تھے۔ لہٰذا اب اس میں اچھال آنا ہی تھا۔ اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانی پیسوں کا ریکارڈ 2006 میں قائم ہوا تھا۔ اس سال یہ اعدادو شمار 23,000 کروڑ روپے کا تھا۔یہاں دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ سوئس بینکوںسے ہندوستانی کالا دھن واپس لانے کی چرچا 2006 سے بہت پہلے شروع ہو گئی تھی، لیکن اس کے باوجود یہاں ہندوستانی پیسوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا تھا۔ 2006 کے بعد بھی یہاں ہندوستانی پیسوں میں دو بار بڑی اچھال 2011(12فیصد)اور 2013 (43فیصد ) میں دیکھنے کو ملی ۔یہاں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ 2016 میں ان اعدادو شمار میں جو 45فیصد کی گراوٹ درج کی گئی تھی اور اس کے بعد جو 50فیصد کی اچھال آئی ہے، وہ پچھلے 20برسوں کے رجحانوں کے مطابق لگتی ہے۔
غور طلب ہے کہ عالمی دبائو کے بعد سوئٹزر لینڈ سرکار نے کالے دھن پر کئی ملکوں کے ساتھ آٹومیٹک ایکسچنج آف انفارمیشن کا سمجھوتہ کیا تھا۔ہندوستان بھی اس میں شامل تھا۔ اس سمجھوتے کو لے کر سوئٹزر لینڈ میں کافی مخالفت ہوئی تھی۔ معاملہ عدالت تک بھی پہنچا لیکن پچھلے سال نومبر کے مہینے میں سوئس پارلیمنٹ کے اس سمجھوتے پر منظوری کے بعد اب اسے لاگو کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں پچھلے ہی سال دسمبر میں ہندوستان نے سوئٹزرلینڈ سے ایک اور سمجھوتہ کیا، جس کے تحت یکم جنوری 2018 سے سوئٹزرلینڈ اپنے بینکوں میں ہندوستانی کھاتوں سے متعلق اطلاعات ہندوستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔
بہر حال اس خلاصے کے بعد اپوزیشن نے سرکار اور کالے دھن کے خلاف اس کی مہم کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ یہاں تک کہ خود بی جے پی رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے بھی ان اعدادو شمار کو لے کر سرکار پر طنز کیا۔ جواب میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی طرف سے توضیح آئی کہ سوئس بینکوں میں جمع تمام پیسے کالا دھن نہیں ہیں، خاص طور پر تب جبکہ ہندوستان میں پرسنل ٹیکس کلیکشن میں 44 فیصد کا اضافہ ہوا ہے لیکن شاید ارون جیٹلی یہ بھول گئے ہیں کہ اس طرح کا خیال پیدا کرنے میں ان کی سرکار کا ہی کردار رہا ہے کہ سوئس بینکوں میں جمع سارے پیسے بلیک منی ہیں۔
بہر حال یہ سوال تو اٹھ ہی سکتا ہے کہ جب 2017 میں سوئس بینکوںمیں دنیا کے دیگر ملکوں کی حصہ داری میں صرف 3 فیصد کا اضافہ ہوا، تو ہندوستانی حصہ داری میںاتنی بڑی اچھال کیوں؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ سوئٹزر لینڈ کے ساتھ یہ سمجھوتہ یکم جنوری 2018 کے بعد لاگو ہوگا اور تب تک وہاں اپنا کالا دھن کھپایا جاسکتا ہے۔ ساتھ میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ یکم جنوری 2018 سے پہلے کی اطلاعات کا کیا ہوگا؟2014 کے بعد جو پیسے سوئس بینکوں سے نکالے گئے، وہ گئے کہاں؟کیا اس کا کوئی حساب ہے؟سرکار کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ روڈالف ایلمر کے خلاصے پر کیا کارروائی ہوئی ہے؟صرف یہ کہہ کر سرکار اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتی ہے کہ سوئس بینکوں میں جمع سارے پیسے کالا دھن نہیں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *