مودی کے کبیر پریم کی سیاست ؟

وزیراعظم نریندر مودی جب مگہر گئے تو عام لوگوں، اخبار والوں اور نیوز چینل والوں کا ایک ہی سوال پورے زورو شور سے ہورہا تھا کہ مودی کے کبیر پریم کی سیاست کیا ہے؟ کچھ میڈیا والوں نے تو راگ درباری میں لکھ بھی دیا کہ مودی نے سیاست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا، کبیر کے نام پر دلتوں اور پچھڑوںکو جوڑ لیا وغیرہ وغیرہ۔لیکن یہ سب خیالی آسمان پر پتنگ اڑانے جیسا ہے۔ نریندر مودی کے پارلیمانی دور کار کا یہ آخری سال ہے۔ مودی بنارس کے رکن پارلیمنٹ ہیں، جہاں سنت کبیر کی جائے پیدائش لہر تارا ہے اور اس جگہ پر عالمی شہرت یافتہ کبیر چورا ہے۔ مودی اپنے پورے دور کار میں ایک بار بھی نہ تو سنت کبیر کے لہرتارا پراکٹیو استھل پر گئے اور نہ کبھی کبیر چورا ’ مول گادی ‘ کی طرف جھانکا۔ یہ نریندر مودی کے کبیر پریم کی اصلیت ہے۔
اصل مقصد
کبیر کی آخری آرامگاہ مگہر جانے کے پیچھے بھی مودی کا کوئی کبیر پریم نہیں ہے،بلکہ اس کے پیچھے بی جے پی کی توسیع کی وہ خطرناک حقیقت ہے جو کسی بھی ادارے کو اپنی سامراجیت کے ما تحت کرنے کے لئے کلبلا تی رہتی ہے۔ مگہر کو بی جے پی کے اجگر چبا جانا چاہتے ہیں اور وزیر اعظم مودی اس منصوبے پر مہر لگانے آئے تھے۔ مگہر میں کبیر نروان استھلی(زیادت گاہ ) کے لئے الگ سے پانچ سو ایکڑ زمین اورنگ زیب نے کبیر چورا مول گادی کو دی تھی۔ یہ زمین کچھ بی جے پی کے لوگوں کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ بی جے پی کو یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کبیر ہی ایک ایسے سنت ہوئے جنہوں نے دونوں مذاہب کی ریکھا مٹا دی۔ جتنے ہندو کبیر کو مانتے ہیں، اتنے ہی مسلمان کبیرسے عقیدت رکھتے ہیں۔ مٹھ کی کل جائیداد پر بھی بی جے پی کے مگر مچھوں کی نگاہ لگی ہوئی ہے۔ وہ مگہر کے ساتھ ساتھ سہ جنواں کے بلوا منجھریا آشرم اور زراعتی فارم پر بھی قبضہ کرنے کا چکر چلا رہے ہیں۔بات سننے میں تھوری کڑوی لگتی ہے، لیکن مگہر کو لے کر جس طرح کا غیر روایتی اور ناپسندیدہ ماحول پیدا کیا گیا،اسے سنیںگے تب لگے گا کہ خبر میںجس زبان کا استعمال کیا جارہا ہے،وہ کافی نرم اور اصولی ہے۔
مگہر مٹھ پر قبضہ کرنے کے معاملے میںلگے بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی کافی دنوں سے مگہر میں مودی کا پروگرام کرانے پر لگے ہوئے تھے۔ کبیر پیٹھ اور پیٹھا دھیش کے تئیں بی جے پی رکن پارلیمنٹ جن غیر روایتی اور غیر اخلاقی لفظوں کا استعمال کررہے ہیں، وہ سنت وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کیا سمجھ میں نہیں آرہا ہے ؟ایک سنت کے دور حکومت میں دوسرے سنت کے تئیں بدسلوکی بی جے پی کی اصل شبیہ ہے۔مودی کا مگہرپروگرام دیکھ کر عوام کو لگا ہوگا کہ یہ پروگرام اترپردیش سرکار کے تعاون سے ہواہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پروگرام کی کھچڑی پہلے سے کہیں اور پک رہی تھی۔ اس کھچڑی کا مزہ انہیں بھی سمجھ میں آیا جو وزیر اعظم کے مگہر اجلاس میں موجود تھے اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی کو مودی کی طرف سے مل رہی ترجیحات کو غور سے دیکھ رہے تھے۔
سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ہی مگہر مٹھ کے مین کنٹرولر کبیر شورا مول گدی پیٹھا دھیش سنت ویویک داس اچاریہ کو اس پروگرام سے الگ رکھا گیا اور رکن پارلیمنٹ نے ان کے تئیں نازیبا لفظوں کا استعمال کیا۔ ملک بھر کے کبیر مٹھ قانوناً کبیر چورا وارانسی مول گادی کے تحت آتے ہیں۔ کبیر چورا کے چیف مہنت سنت ویویک داس اچاریہ ہیں۔ پروگرام کے بارے میں انہیں باضابطہ اطلاع تک نہیں بھیجی گئی۔ کبیر چورا کی طرف سے مقرر مگہر مٹھ کے منیجر وِچار داس کی بھکتی کبیر چورا کے بجائے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے تئیں ہے۔مٹھ کی جائیداد کو جعلسازی کرکے بیچنے اور زمینیں اپنے نام کرانے کے جرم میں وچار داس ابھی حال ہی میں جیل کاٹ کر آئے ہیں۔ ستم ظریقی دیکھئے کہ اسی وچار داس کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی سنت کبیر کی سمادھی پر شردھانجلی پیش کرتے ہوئے خوش ہورہے تھے۔

 

 

 

 

 

غیر قانونی سرگرمیوں پر مہر
وزیر اعظم نریندر مودی مگہر میں منعقد غیر قانونی پروگرام میں شریک ہونے آئے تھے اور مگہر میںچل رہی غیر قانونی سرگرمیوں پر مہر لگانے کاغیر معمولی کام کررہے تھے۔وزیر اعظم یاوزیر اعلیٰ کا یہ کیسا مواصلاتی نظام ہے جس نے گہرے تنازعات میں گھرے مذہبی مقامات پر پی ایم یا سی ایم کو آنے سے نہیں روکا یاآنے سے پہلے انہیں آگاہ نہیں کیا؟آپ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر کو اطلاع دینے والی انٹلی جینس بیورو (آئی بی ) اور وزیر اعلیٰ دفتر کو اطلاع مہیا کرانے والی لوک انٹلی جینس یونٹ (ایل آئی یو )، دونوں نے اپنی اپنی اپنی ذمہ داری پوری کی تھیں۔ آئی بی نے پی ایم آفس کو اور ایل آئی یو نے سی ایم آفس کو اس بارے میں پہلے ہی ساری اطلاعات دے دی تھیں۔ ان محکموں کے آفیسر کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کا کام اطلاع کرنا اور آگاہ کرنا ہے، یہ کام ہم لوگوں نے بخوبی کیا۔ ہماری اطلاعات یہ مانیں یا نہ مانیں، یہ انکا اختیار ہے۔ آپ سمجھ رہے ہیں نہ ، آپریشن مگہر بی جے پی کے لئے کتنا ضروری تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کبیر چورا مول گدی کے چیف مہنت سنت ویویک داس اچاریہ نے ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پہلے ہی خط لکھ کر مگہر اور سہ جنواں کے کبیر مٹھوں پر قبضہ کرنے کی کوششوں کی تفصیل سے جانکاری دے رکھی تھی۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے سنت مہنت کے خط کو کوئی اہمیت نہیں دی اور وہی کرتے رہے جو بی جے پی بساط پر طے ہوتا گیا۔ آئی بی کو یہ اطلاع تھی کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے گرگوں نے مگہر مٹھ کے اندر قبضہ جما لیا ہے اور مٹھ کے دو کمروں میں رکن پارلیمنٹ کے گرگے بیٹھتے ہیں۔ ان کمروں میں کبیر کے فوٹو کے بجائے مودی کی تصویر لگی تھی، جسے ویویک داس نے ہٹوا دیا تھا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کو اس بات کا اتنا غصہ تھا کہ ان کے گرگوں نے کبیر چورا مٹھ کے چیف مہنت ویویک داس کی ہی تصویر پھینک دی اور اسے پیروں سے کچلا۔ وزیراعظم کے آنے کے ہفتہ بھر پہلے بی جے پی کے لوگوں نے مٹھ کے دونوں کمروں سے اپنے سامان ہٹا لیا۔ کبیر مٹھ اور آشرم سالیسیٹیشن آف پالٹیکس ،تعصب اور ضدی ہونے سے الگ مانے جاتے ہیں۔ کبیر مٹھوں میں سیاسی سرگرمیاں پوری طرح ممنوع ہیں۔لیکن بی جے پی کبیر مٹھوں کو بھی سیاست کا اڈہ بنانے پر آمادہ ہے۔
جیسا کہ آپ کو اوپر بھی بتایا گیا کہ مگہر کبیر مٹھ کا تنازع خفیہ ایجنسیوں سے لے کر پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن کی پوری جانکاری میں ہے، اس کے باوجود ضلع انتظامیہ نے ایسے متنازع پروگرام میں آنے سے وزیراعظم کو نہیں روکا ،الٹا گورکھپور کے کمشنر انیل کمار اور وارانسی کے کمشنر دیپک اگروال مہنت ویویک داس سے اس معاملے کو طول نہ دینے کی اپیل کرتے رہے۔ کبیر چورا وارانسی ’مول گادی ‘ کے پیٹھا دھیش سنت ویویک داس اچاریہ نے ’’چوتھی دنیا ‘‘ سے کہاکہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی مگہر کبیر مٹھ کے منیجر کو ملا کر مٹھ اور وہاں کی جائیداد پر قبضہ جمانے کی کوشش کررہا ہے۔ کبیر آستھا کے مرکز کو سیاست کا اکھاڑہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے غیر قانونی طور سے مگہر کبیر مٹھ میں اپنی آفس بنایا اور وہ کبیر مٹھ کے کام کاج میں مداخلت کررہا ہے۔ وچار داس اور رام سیوک داس بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں۔ رام سیوک داس سہ جنواں کے بلوا منجھریا آشرم کا کیئر ٹیکر تھا۔
بے توجہی برتی گئی
ویویک داس کہتے ہیں کہ میں نے اس معاملے میں پی ایم اور سی ایم دونوں سے مداخلت کرنے کی گزارش کی تھی، لیکن دونوں نے میری مانگ پر کوئی دھیان ہی نہیں دیا۔ ویویک داس نے بتایا کہ ان کے پہلے کے مہنت گنگا شرن داس نے وچار داس کو مگہ ، بلوا، سار ناتھ اور نالندہ کا انتظام دیکھنے کے لئے مقرر کیا تھا۔ جب وارانسی کے ضلع کلکٹر نے مٹھوں کی جائیدادوں کا بیورا مانگا تب جانکاری حاصل ہوئی کہ وچار داس نے مٹھ کی اجازت اور جانکاری کے بغیر ادارے کی کئی بیش قیمتی زمینیں بیچ ڈالیں۔ اس پر وچار داس کو مٹھ سے ہٹا دیا گیا۔ کبیر چورا کے چیف مہنت ہو چکے سنت ویویک داس نے مقدمہ درج کرایا ،نتیجتاً گرفتاری ہوئی۔ مول گادی نے سنت رام پرساد داس کو مگہر مٹھ کی دیکھ ریکھ کے لئے مقرر کیا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ کو مول گادی کا فیصلہ ناگوار لگا اورانہوں نے اپنے گرگوں اور سبکدوش منیجر وچار داس کے ساتھ مل کر مگہر مٹھ کو اڈہ بنا لیا۔ سنت کبیر نگر کا ضلع انتظامیہ بھی رکن پارلیمنٹ کے غیر قانونی عمل میںساتھ ہے۔ ویویک داس کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نریند ر مودی کو سنت کبیر کی جینتی ہی منانی تھی تو انہیں مگہر کی جگہ پر وارانسی آنا چاہئے تھا کیونکہ سنت کبیر کا پراکٹیو جگہ کاشی کے لہرتارا میں ہے۔ مگہر تو ان کی نروان استھل ہے۔ مگہر نروان استھل پر کبیر کا پراکٹیو اُتسو منانا سنت کبیر کی توہین اور پوری کبیر روایت اور ثقافت کی دھجیاں اڑانا ہے۔ ویویک داس حیرت سے کہتے ہیں کہ نروان استھل پر پراکٹیو اُتسو کیسے منایا جاسکتاہے؟ ویویک داس نے کہا کہ سنت کبیر نگر کے رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی نے وزیراعظم کو اندھیرے میں رکھ کر مگہربلایا اور بھانڈا نہ پھوٹے ، اس کے لئے پروگرام کے بارے میں انہیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
متنازع سنت سے مودی کی ملاقات
مگہر مٹھ پر قبضہ چاہنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی اور مگہر مٹھ کے متنازع منیجر وچار داس پورے پروگرام کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ دکھائی دیتے رہے۔ لوگوں میں چرچا بھی خوب ہوئی کہ وزیراعظم نریندر مودی مگہر مٹھ کو تنازعات میں لانے والے سنت وچار داس سے کس طرح پیار سے مل رہے ہیں۔ وارانسی پولیس نے وچار داس کو جون 2016میں گرفتار کیا تھا۔مول گادی کی طرف سے سال 2012 میں ہی وچار داس کے خلاف جعلسازی اور دھوکہ دھڑی کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ وچار داس پر مگہر کبیر چورا کی زمینوں کی ملکیت میں ہیر اپھیری کرنے، مٹھ کی کروڑوں کی زمین فرضی طریقے سے ٹرسٹ بنا کر اپنے نام کرنے اور اسے بیچ ڈالنے جیسے سنگین الزام ہیں۔
کبیر جنم استھل وکاس کی 5 اسکیموں کا حشر
سازش کے منچ سے سنت کبیر کے تئیں آستھا کی سیاسی بولی بولنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار نے کبیر کی جائے پیدائش وارانسی کبیر چورا کے ڈیولپ کی پانچ اسکیمیں روک رکھی ہیں۔ ویویک داس نے اس بارے میں مودی کو لمبا خط لکھ کر کبیر چورا کی تاریخی و تہذیبی اہمیت کی جانکاری دی تھی اور یہ بھی بتایا تھا کہ مٹھ کی ملک بھر میں پھیلی بہت سی جائیدادوں کی حفاظت ضروری ہے، اس لئے اس کا اس طرح سے ڈیولپ کیا جائے کہ وہ عوامی عقیدت کے اظہار کا مرکز بنے اور اس پر قبضہ کرنے کی کوئی ہمت نہیں کرپائے۔ جب بی جے پی کے لوگ ہی مٹھ کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہوں تو ویویک داس کے خط کو مودی کیوں نوٹس میںلیں۔
کبیر کی میراث کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھنے اور عقیدت مندوں اور سیاحوں کے لئے کبیرکی جائے پیدائش کے ڈیولپمنٹ کی اسکیم کی فائل دیکھنے کی بھی وارانسی کے رکن پارلیمنٹ کو فرصت نہیں ہے لیکن بی جے پی کے’ آپریشن مگہر ‘ پر مہر لگانے کے لئے مودی کے پاس وقت ہی وقت تھا۔

 

 

 

 

 

 

سنت کبیر کے نام پر دھندہ
شہیدوں کی توہین کرنے والے، بے معنی جملے اچھالنے والے، الزامات اور تنازعات میں گھرے لوگ مودی کو بہت پسند آتے ہیں۔ مگہر منچ پر رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی سے ہاتھ ملا ملاکر اور ان کے ساتھ ہاتھ ہلا ہلا کر مودی گد گد ہو رہے تھے۔یہ وہی رکن پارلیمنٹ ہیں جنہوںنے کشمیر کے اوری سیکٹر میں شہید ہوئے جوان گنیش شنکر یادو کے خاندان کے سامنے ہی لوگوںسے شہید کے خاندان کی مدد کے نام پر چندہ وصول کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس وقت شہید کی نعش بھی وہیں رکھی تھی۔ رکن پارلیمنٹ کا رویہ دیکھ کر شہید کی بیوہ شریمتی گڑیا یادو اور دیگر رشتہ داروں نے رکن پارلیمنٹ کو ایسا کرنے سے روکا اور کہا کہ یہ شہید کا خاندان ہے، بھکاریوں کا نہیں۔مقامی لوگ بھی مخالفت میں اتر پڑے تو رکن پارلیمنٹ اور اس کے گرگے چندے میں وصول رقم کے ساتھ ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔
’آپریشن مگہر‘کے موجد بی جے پی ایم پی شرد ترپاٹھی سابق ریاستی صدر رما پتی رام ترپاٹھی کے بیٹے ہیں۔ اسمبلی الیکشن کے وقت بی جے پی کی لیڈر ارمیلا ترپاٹھی نے باپ بیٹا دونوں پر گورکھ پور بستی ضلع میں ٹکٹوں کی تقسیم میں رشوت لینے کا الزام لگایا تھا۔ خاتون لیڈر نے باقاعدہ پریس کانفرنس بلا کر کہا تھا کہ ایم پی شرد ترپاٹھی اور ان کے والد رما پتی رام ترپاٹھی کا کام ٹکٹ کے ذریعہ پیسہ کمانے کا ہے۔ الیکشن آتے ہی باپ بیٹے ٹکٹ کے کھیل میں لگ جاتے ہیں، الیکشن کمیٹی میں جگہ بنا لیتے ہیں اور پیسے بٹورتے ہیں۔
سہ جنوا کبیر مٹھ پر نٹور لال کا قبضہ
بی جے پی کی مدد سے گورکھ پور ضلع کے سہ جنوا میں بلوا منجھریا کبیر آشرم اور زراعتی فارم پر قبضہ جمائے بیٹھا رام سیوک داس’ نٹور لال ‘ہے۔ اس کی جعلسازیوں اور فریب کے بارے میں پولیس کو بھی پتہ ہے اور وزیر اعظم کو بھی۔ اس بیچ میں گورننس کی مشینری کا جو بھی پرزہ آتا ہے، اسے نٹور لال کے قصے کا پتہ ہے ، لیکن وہ بی جے پی کا قریبی ہے اور بی جے پی کے پروگراموں میں سرگرمی سے حصہ لیتا ہے۔ اس لئے سسٹم اس پر ہاتھ نہیں ڈالتا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ’ نٹور لال‘ بی جے پی کی مدد سے گرام پردھان بھی بن گیا ہے۔ کاغذوں میں کہیں وہ وچار داس کو اپنا والد بتاتا ہے تو کہیں جگ لال کو اپنا والد بنا لیتا ہے۔ کہیں کہیں وہ سومرن داس کو بھی اپنا والد بتاتا ہے۔وہ اپنا نام کہیں رام سیوک لکھتا ہے تو کہیں دلیپ کمار۔ بی جے پی کی مدد سے وہ ڈیولپمنٹ بلاک پالی کے بونڈرا گرام پنچایت (65ٌ) سے پردھان کا الیکشن بھی جیت چکا ہے ۔ پنچایت الیکشن میں دیئے گئے دستاویزوں میں رام سیوک نے اپنے والد کا نام وچار داس بتا رکھا ہے۔ الیکشن کمیشن کو بھی اس فرضی واڑے کی جانکاری دی گئی لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز سنتا کون ہے۔
لچے لفنگے کا ہی قبضہ ہے مٹھ مندروں پر
صرف اترپردیش ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے مٹھوں اور مندروں پر لچے لفنگوں ، مجرموں ،غنڈوں اور لیڈروں کی شکل والے زمین مافیائوں کا قبضہ ہے۔ اس میں یوپی ،بہار اول ہے۔ راجستھان،مدھیہ پردیش کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔ مٹھوں اور مندروں پر قبضہ جمائے بیٹھے مجرموں پر چوری ڈکیتی ،قتل ،عصمت دری تک کے مقدمے ہیں، لیکن حکومت اور انتظامیہ انہیں نہیں چھوتا۔ یوپی میں بڑے مٹھوں کی تعداد قریب دس ہزار ہے۔ ایودھیا ، کاشی ، متھرا ، ورندا ون میںمٹھوں ،مندروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بی جے پی سیاست کے مین سینٹر ایودھیا کے آدھے مٹھ زبردست تنازع میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس تنازع میں بے شمار قتل اور تشدد کے واقعات ہو چکے ہی۔ ایودھیا کے باوی چھاونی ، ہنومان گڑھی ،باری استھان ، منی رام چھائونی ، لکشمن کلا، چور بوجی استھان، جانکی گھاٹ، ہری دھام پیٹھ جیسے مشہور مندروں میں تنازع کچھ زیادہ ہی گہر اہے۔ ان مٹھوں کی جائیدادیں یوپی کے علاوہ بہار، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان گجرات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ پولیس ریکارڈ بتاتے ہیں کہ ایودھیا کے مٹھوں پر سب سے زیادہ قبضہ بہار اور مشرقی اترپردیش کے مجرموں کا ہے جنہیں لیڈروں کاتحفظ حاصل ہے۔فیض آباد عدالت میں 90 فیصد دیوانی معاملے ایودھیا کے ہیں اور زیادہ تر معاملے مہنتی اور جائیداد پر قبضے کو لے کر ہیں۔ ایودھیا کا لگ بھگ ہر مٹھ، مندر اور سادھو کسی نہ کسی قانونی تنازع میں پھنسا ہوا ہے۔
کبیر مٹھوں کی حالت تو اور بری ہے۔ اترپردیش اور بہار کے کئی اہم کبیر مٹھ غیر قانونی قبضے میں ہیں۔ عجیب و غریب بات یہ ہے کہ کبیر چورا مول گادی کی طرف سے مقرر کئے جانے والے مہنت ہی کچھ وقت بعد مقامی لیڈروں اور زمین مافیائوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے اپنا اصلی رنگ دکھانے لگتے ہیں۔ مایاوتی کے دور حکومت میںکبیر چورا پر ہی قبضہ کرنے کی مسلح کوشش کی گئی تھی، اس میں انتظامیہ کی بھی ملی بھگت تھی لیکن چیف مہنت ویویک داس کی کوشش اور کبیر پنتھی سادھوئوں کے اتحاد کی وجہ سے قبضہ نہیں ہوپایا ۔قبضہ کرنے میں ناکام رہنے پر بہو جن سماج پارٹی کے لوگوں نے کبیر جنم استھلی کو توڑ کر بستی والوں کے لئے بیت الخلاء بنانے کی کوشش کی لیکن اسے بھی مقامی لوگوں اور سادھوئوں کی بھاری مخالفت جھیلنا پڑا۔ کبیر جنم استھلی کے صدر دروازے پر محکمہ زراعت اور اسمبلی(رقبہ 255)کے نام سے کچھ زمین ہے۔ بہو جن سماج پارٹی سرکار کے دور کار میںکچھ لوگو ں نے اس زمین پر قبضہ کرلیا تھا۔ بعد میں قبضہ ہٹا کر چہار دیواری بنائی گئی اور کبیر ستنبھ کی تعمیر کرائی گئی۔ زمین مافیا اس چہار دیواری اور ستنبھ کو توڑ کر زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کبیر چورا کے چیف مہنت سنت ویویک داس اچاریہ یہ مانتے ہیں کہ کبیر مٹھوں کے منیجروں (نمائندہ مہنتوں) کے انتخاب میں احتیاط نہیں برتے جانے کی وجہ سے مٹھوں پر قبضہ کرنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اب کبیر مٹھوں کو انہی ہاتھوں میںسونپا جانے کا وقت آگیا ہے جو فطرتاً سادھو ہو اور سنت کبیر کے تئیں ان کا نظریاتی عقیدتمندانہ لگائو ہو۔
بہار میں بھی کبیر مٹھوں پر غیر قانونی قبضے کا یہی حال ہے۔ مظفر پور میں ترکی کا کبیر مٹھ غیر قانونی قبضے میں ہے۔ ترکی مٹھ کی گوپال گنج اور مدھوبنی کی سیساوار برانچ پر بھی قبضہ ہے۔ مظفرپور شہر کے برہمپورہ علاقے میں موجود کبیر مٹھ غیر قانونی قبضے میں ہے۔ پٹنہ کے فتوہا اور دھنرووا کے کبیر مٹھ کافی لمبے عرصے سے غیر قانونی قبضے کے خلاف جدو جہد کررہے ہیں۔ شیو ہر کے کبیر مٹھ پر ایک قدآور خاتون لیڈر کا غیر قانونی قبضہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *