وزارت اقلیتی امور وقار تار تار

وزیراعظم نریندر مودی صاف گوئی اور شفافیت کے حمایتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مودی کابینہ کے جتنے بھی ممبر ہیں، ان کے لئے بھی ملک کے لوگ یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ بھی ایماندار، سادہ اور شفاف ہوں۔ اقلیتی امور کے وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی امور کے اسٹیٹ منسٹر کی ذمہ داری سنبھال رہے مودی سرکار کے اہم ممبر مختار عباس نقوی پر سنگین الزامات لگ رہے ہیں، لیکن ان الزامات پر شفاف طریقے سے سامنے آنے کے بجائے وہ چپی سادھے ہوئے ہیں۔ مختار عباس نقوی پر جو الزامات لگ رہے ہیں، وزیراعظم نریندر مودی اس سے اچھوتے نہیں ہیں۔ الزامات کی چھینٹیں مودی سرکار کو بھی گندہ کر رہی ہیں اور ان کی شفافیت کو گہرے سوالوںکے گھیرے میں لے رہے ہیں۔ قول و عمل کا یہ فرق ملک کے عام لوگوں کو کھل رہا ہے۔
کالا دھن اور بدعنوانی کے خلاف نعرے لگا کر ہی نریندر مودی اقتدار تک پہنچے۔ اگر وہی کالا دھن بی جے پی سرکار کے چہرے پر چسپاں ہو جائے تو ماضی اور حال میں کیا فرق رہ جائے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی یا ان کے وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے عوام کے سامنے آکر کبھی یہ صفائی دینے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ جس غیر نیشنلائزڈ بمبئی مرکنٹائل بینک پرمنی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی کے سنگین معاملے چل رہے ہوں، ایسے متنازع بینک سے ان کے سیدھے طور پر جڑے رہنے کا سبب کیا ہے؟ اس بینک پر بھارتیہ ریزرو بینک جرمانہ ٹھونک چکا ہے اور سخت قانونی کارروائی کی سفارشیں کر چکا ہے۔ایسے بینک پر مرکزی سرکار کی اتنی مہربانی کیوں ہے کہ وزیر برائے اقلیتی امور سے جڑے اہم محکموں کے سینکڑوں کروڑ روپے نیشنلائزڈ بینک سے نکال کر اس غیر نیشنلائزڈ بینک میں ڈال دیئے گئے؟
’’چوتھی دنیا ‘‘ نے اس سلسلے میں پانچ اہم سوال مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے ’وہائٹس ایپ ‘ پر بھیج کر ان سے جواب مانگا تھا۔ مرکزی وزیر نے ان سوالوں پر کچھ کہنے کے بجائے اس نمائندے سے ہی بڑی سادگی سے پوچھا ’ہو آر یو ڈیئر ‘ ( تم کون ہو پیارے )۔ اس رپورٹر نے انہیں پھر اپنا تعارف بھیجا اور ان سے ’ورزن ‘ دینے کی عاجزی سے درخواست کی، لیکن اس کے بعد بھی ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ جو پانچ سوال مختار عباس نقوی سے پوچھے گئے تھے، ان پر تفصیل سے چرچا ہوگی، لیکن اس کے پہلے یہ بتا دیں کہ اس معاملے سے جڑے کچھ اہم سوالات بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی کے ’ وہائٹس ایپ ‘ پر بھی بھیجے گئے تھے، انہوں نے سوال پڑھے، لیکن جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔

 

 

 

مرکزمیں وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی سے ’’ چوتھی دنیا ‘‘ نے جو پانچ سوال پوچھے تھے، وہ یہ ہیں:
(1) مولانا آزاد ایجوکیشنل فائونڈیشن کا کتنا فنڈ بمبئی مرکنٹائل بینک میں جمع کرایا گیا؟
(2)نیشنلائزڈ بینک ایس بی آئی میں جمع فائونڈیشن کا پیسہ کن کے حکم پر بمبئی مرکنٹائل بینک میں ٹرانسفر ہوا؟
(3)کیا یہ صحیح ہے کہ حج کمیٹی اور نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا پیسہ بھی بمبئی مرکنٹائل بینک کے ممبئی برانچ میں جمع ہے؟
(4)کیا آپ نے دہلی کے میور وہار میں ’ وگیاپن لوک ‘ اپارٹمنٹ کا فلیٹ اور اسٹار مال کی دکانیں بمبئی مرکنٹائل بینک یا اس سے جڑے کسی اہم شخص کو کرائے پر دے رکھی ہیں؟
(5) کیا آپ کبھی اپنے نام کے ساتھ عرف کے بطور مان ویندر سنگھ عرف مانو بھی لکھتے ہیں؟
پہلے تو انہی پانچ سوالوں کی تفصیل پر آتے ہیں۔ اس معاملے سے جڑے کئی اور سوال ہیں جو اخبار کے ذریعہ ہم مرکزی سرکار اور مرکزی وزیر کے سامنے رکھیں گے، تاکہ ا ن پر جواب دینے میں آسانی ہو سکے۔ آپ کو یہ پتہ ہی ہے کہ مولانا آزاد ایجوکیشنل فائونڈیشن مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کے تحت اقلیت کے طلباء کی تعلیم و تربیت کے لئے مختلف سطح پر مالی مدد دینے والا ملک کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے ۔ فائونڈیشن کا قیام 1989 میں ہوا تھا۔ فائونڈیشن کا مجموعی فنڈ جو 2006-07 میں محض 100کروڑ تھا ،وہ آج ساڑھے 12 سو کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ سرکاری پیسے نیشنلائزڈ بینک میں رکھنے کے دستور کو طاق پر رکھ کر مولانا آزاد ایجوکیشنل فائونڈیشن کے سینکڑوں کروڑ روپے غیر نیشنلائزڈ بمبئی مرکنٹائل بینک میں ڈائیورٹ کر دیئے گئے۔
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی سے یہ سوال پوچھا گیا تھا، تاکہ اس مسئلے پر باضابطہ جانکاری سامنے آسکے۔ لیکن ان کا جواب نہیں ملا۔ ’چوتھی دنیا ‘ کو یہ جانکاری ملی ہے کہ بمبئی مرکنٹائل بینک کے دہلی کے دریا گنج میں موجود برانچ میں جنوری 2017 میں مولانا آزادایجوکیشنل فائونڈیشن کے سینکڑوں کروڑ روپے ٹرانسفر کئے گئے۔ فطری بات ہے کہ فائونڈیشن کے صدر مختار عباس نقوی کے حکم پر ہی فائونڈیشن کا پیسہ بمبئی مرکنٹائل بینک میں جمع ہوا ہوگا لیکن وزیر نے اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی۔ اسی طرح نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور حج کمیٹی کے بھی کروڑوں روپے بمبئی مرکنٹائل بینک میں جمع ہیں۔یہ تمام ادارے وزارت برائے اقلیتی امور کے تحت ہی آتے ہیں، جس کے وزیر مختار عباس نقوی ہیں۔ لہٰذا سوالوں کا جواب دینے کی اخلاقی ذمہ داری وزیر کی ہے اور ان کے جواب نہیں دینے پر یہ ذمہ داری وزیر اعظم کی ہو جاتی ہے۔
مختار عباس نقوی اور ان کی بیوی سیما نقوی کے دو عالی شان فلیٹ میو وہار کے ’ وگیاپن لوک ‘ اپارٹمنٹ میں ہیں۔ ان فلیٹس کے علاوہ میور وہار میںہی اسٹار مال میں مختار عباس نقوی کی تین دکانیں ہیں۔ عجیب اتفاق یہ ہے کہ نقوی نے میور وہار کا فلیٹ اور اسٹار مال کی دکانیں بھی بمبئی مرکنٹائل بینک کو ہی لاکھوں روپے کے کرائے پر دے رکھی ہیں۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کو دیئے گئے فلیٹ اور دکان کے کرائے کا لین دین مختار عباس نقوی کی بیوی سیما نقوی دیکھتی اور سنبھالتی ہیں۔ ’چوتھی دنیا ‘ نے مرکزی وزیر سے اس بارے میں بھی پوچھا تھا،لیکن ان کا جواب نہیں آیا۔ مختار عباس نقوی نے اس سوال کا جواب بھی نہیں دیا کہ کیا وہ کبھی اپنے نام کے ساتھ مان ویندر سنگھ عرف مانو نام بھی لکھتے ہیں؟سینٹرل وقف کائونسل کے ممبر داکٹر سید اعجاز عباس نقوی کا ایک خط دیکھنے کو ملا جو انہوں نے 17اگست 2017 کو وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا تھا۔اس خط کے ذریعہ انہوں نے ممبئی کے جین بیا وقف ٹرسٹ کی زمینوں کو مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے گرگوں کے ذریعہ غیر قانونی طریقے سے بیچے جانے کی سرگرمیوں کو روکنے کی وزیراعظم سے گزارش کی تھی۔ اس خط میں مختار عباس نقوی کے نام کے ساتھ عرف میں مان ویندر سنگھ عرف مانو نام بھی لکھا تھا۔
’چوتھی دنیا ‘ کے سوال پر وزیر کا جواب نہیں آنے کے بعد اس نمائندہ نے ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی سے فون پر رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت انہوں نے وزیراعظم کو خط لکھا تھا، اس وقت وہ سینٹرل وقف کائونسل کے ممبر ہوا کرتے تھے۔ اس کے باوجود وہ جین بیا وقف ٹرسٹ کی جائیداد بیچے جانے کا گورکھ دھندہ روکنے میں ناکام رہے، کیونکہ یہ گورکھ دھندہ خود مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی شہہ پر ہو رہا تھا۔ اس کے بعد ہی انہوں نے پی ایم کو خط لکھا۔ مختار عباس نقوی کے نام کے ساتھ مان ویندر سنگھ لکھے جانے کی وجہ پوچھے جانے پر ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ مختار عباس نقوی نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے اس وقت کے سر سنگھ چالک رجّو بھیا کی بھتیجی سیما سے تین جون 1983 کو الٰہ آباد کے آریہ سماج مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی تھی۔ اس میں انہوں نے خود کو مان ویندر سنگھ چودھری عرف مانو بتایا تھا۔ اگلے دن یعنی چار جون 1983 کو انہوں نے الٰہ آباد میں ہی سیما کے ساتھ نکاح کیا۔ یہ مختار عباس نقوی کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن نام کو لے کر بنے بھرم کو یہ سیاق و سباق دور کرتا ہے۔
کئی اور سوالات ہیں، جو مودی سرکار کو اخلاقیات کے تقاضے پر کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ نوٹ بندی کے درمیان ممنوعہ نوٹوں کا لین دین تقریباً سارے نیشنلائزڈ بینکوں کے ذریعہ خوب ہوا۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کی بھی اس میں کافی سرگرم حصہ داری رہی۔ بینک کے ایک آفیسر بتاتے ہیں کہ نومبر 2016 میں ممنوعہ نوٹوں کا ہیوی ٹرانزیکشن ہوا۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کی ایک شیئر ہولڈر راج شری بھٹناگر نے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو خط لکھ کر مطلع کیا تھا کہ نوٹ بندی کے دوران بمبئی مرکنٹائل بینک نے پرانے نوٹ بدلنے کا دھندہ خوب کیا۔ دو کروڑ روپے کے پرانے نوٹ بدلے جانے کے ایک خاص معاملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اسے مختار عباس نقوی کا پیسہ بتایا جارہا ہے جس سے ان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کی دریا گنج برانچ میں تقریباً دس کروڑ روپے بے نامی پڑے ہوئے ہیں۔اس کے بارے میں بھی خلاصہ ہونا چاہئے کہ وہ پیسہ آخر کس کا ہے ۔بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی کے پاس بھی ’چوتھی دنیا ‘ نے ضروری سوالات بھیجے تھے لیکن انہوں نے جب ’نامی ‘ سوالوں کے جواب نہیں دیئے تو کروڑوں روپے کی بے نامی دولت کے بارے میں کیا جواب دیں گے۔
عام لوگوں کے دل میں فطری طور پر یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اتنے متنازع بینک پر مرکزی سرکار اتنی مہربان کیوں ہے؟مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اس بینک کو تحفظ کیوں دے رہے ہیں؟بی جے پی کے کئی اور قدآور لیڈر اس بینک کے سرپرست کیوں بنے بیٹھے ہیں؟وزیر عظم نریندر مودی بدعنوانی کے اس تحفظ کو بڑھاوا کیوں دے رہے ہیں؟مرکزی سرکار یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسے بمبئی مرکنٹائل بینک کی غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں جانکاری نہیں ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے مانا ہے کہ بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی اور مینجنگ ڈائریکٹر شاہ نواز عالم نے کروڑوں کے گھپلے کئے ہیں۔ ریزرو بینک بمبئی مرکنٹائل بینک پر 75 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی ٹھونک چکا ہے اور سینٹرل رجسٹرار کو آپریٹیوس کو آگے کی کارروائی کے لئے لکھا ہے۔ کیا مرکز کو اس کی جانکاری نہیں ہے؟ پنجاب نیشنل بینک اور کنارا بینک نے بھی بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی، مینیجنگ ڈائریکٹر شاہ عالم خاں اور ڈائریکٹر صلاح الدین رزمی کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے، دھوکہ دہی اور کرمنل مس کنڈکٹ کا مقدمہ کر رکھا ہے۔
ایسے بینک کے ذریعہ وزارت برائے اقلیتی امور مالی کام کاج کیسے اور کیوں کر رہی ہے؟ یہ بڑا سوال ہے۔ ’چوتھی دنیا ‘ نے حج کمیٹی کا پیسہ بمبئی مرکنٹائل بینک میں جمع کرنے کے بارے میں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی سے سوال پوچھا، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لیکن ایسے حقائق سامنے ہیں جو وزیر سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہیں۔ سفرِ حج کے تمام غیر ملکی کرنسی کا لین دین بمبئی مرکنٹائل بینک کے ذریعہ ہو رہا ہے۔ تمام نیشنلائزڈ بینکوں کے ہوتے ہوئے سرکار نے حج سفر کے غیر ملکی کرنسی مینجمنٹ سے غیر نیشنلائزڈ بمبئی مرکنٹائل بینک کو کیوں جوڑا ؟اس سوال کا جواب صورت حال سے متعلق حقائق سے واضح ہوجاتا ہے۔انہی حقائق میں ’فارن فنڈنگ ‘ کا انتہائی متنازع معاملہ بھی جاکر جڑ جاتاہے۔ مرکز میں بی جے پی کی سرکار آنے کے بعد غیر ملکوں سے آنے والے پیسے (فارن فنڈنگ ) کے بے جا استعمال کا ایشو زورو شور سے اٹھایا گیا تھا۔ ہزاروں غیر سرکاری سماجی اداروں (این جی او ز) کو غیر ملکوں سے ملنے والے پیسے روک دیئے گئے اور اس کے لئے مرکز نے ملک بھر کے 32 بینکوںکو چوکسی برتنے کی حساس ذمہ داری سونپی۔ آپ حیرت کریںگے کہ ’فارن فنڈنگ ‘ کے بے جا استعمال پر چوکسی رکھنے کی ذمہ داری بمبئی مرکنٹائل بینک جیسے بینک کو بھی دی گئی۔ غیر ملک سے فنڈنگ پانے والے تمام ادارے اور کمپنیاں مرکزی سرکار کے حکم سے بائونڈ ہوکر بمبئی مرکنٹائل بینک میں غیر ملکی کرنسی کی آمدنی والے کھاتہ کھلوانے کے لئے مجبور ہیں۔ بمبئی مرکنٹائل بینک جیسے گھوٹالے باز بینک کو 32 بینکوں میںشمار کرنا مرکزی سرکار کی انتہائی گھٹیا سطح کی ایمانداری ، شفافیت اور راشٹر دھرمیتا کی سند ہے۔ مرکزی سرکار نے ’فارن فنڈنگ ‘ حاصل کرنے والے 18,868 این جی اوز کے رجسٹریشن تو رد کر دیئے، لیکن کرنسی کا بے جا دھندہ کرنے والے بینک کے لئے غیر ملکی فنڈنگ کا کھاتہ کھلوا دیا۔ ایسا کرکے مرکزی سرکار نے ’فارن فنڈنگ ‘ پانے والے مشتبہ اداروں، ایجنسیوں اور لوگوںکو دھندہ جاری رکھنے کا بالواسطہ موقع دے دیا۔

 

 

 

وزارت برائے اقلیتی امور ہے یا خالہ جی کا گھر

وزارت اقلیتی امور کے تحت آنے والے مالی اعتبار سے خوشحال اداروں کو جیبی ادارہ بنا کر رکھ دیا گیاہے۔ مولانا آزاد ایجوکیشنل فائونڈیشن ہو یا سینٹرل وقف کائونسل ، حج کمیٹی ہو یا نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن یا نیشنل مائنارٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن ،اقلیتوں کی فلاح کے لئے بنے ان انتہائی اہم اداروں کا وقار تار تار ہو رہا ہے۔ لیکن اس پر کوئی دھیان دینے والا نہیں ہے۔ وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی جسے چاہتے ہیں، اسے فائونڈیشن ، کمیٹی یا کائونسل میں ممبر بناتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں اسے باہر کا دروازہ دکھا دیتے ہیں۔ لکھنؤ کے رہنے والے امتیاز عالم کو مختار عباس نقوی نے فائونڈیشن کا ممبر بنایا اور اس سے بھی ان کا دل نہیں بھرا تو انہیں سینٹرل وقف کائونسل کا ممبر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ نقوی نے اپنے نزدیکی شاکر حسین انصاری کو مولانا آزاد ایجوکیشنل فائونڈیشن کا خزانچی بنا رکھا ہے۔ مختار عباس نقوی کے بچپن کے دوست الٰہ آباد کے حسن بکر کاظمی عرف شاہین کاظمی کو بھی فائونڈیشن کا ممبر بنانے کی تیاری ہے۔ شاہین کاظمی پہلے سے حج کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ کاظمی مرکزی سرکار کے ہینڈلوم بورڈ ، نیشنل کائونسل فار پروموشن آف اردو لنگویج اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر جیسے باوقار اداروں کے بھی ممبر بنے بیٹھے ہیں۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کے گورکھ دھندے میںشاہین کاظمی کا استعمال ہوتا ہے۔ اس بارے میں آل انڈیا مسلم کائونسل نے سی بی آئی میں تفصیلی شکایت درج کرا رکھی ہے۔ شاہین کاظمی کی خوبیاں بے شمار ہیں۔ حج کمیٹی میں رہتے ہوئے اس شخص نے اپنے خاندان کے لگ بھگ ایک درجن ممبروں کو سرکاری پیسے سے حج کرا دیا۔ حج کا فائدہ کاظمی خاندان کو ملا اور پیسہ سرکار کے کھاتے سے گیا۔ غریبوں کو حج کرانے کے لئے مقرر فنڈ پر کاظمی نے اپنے بھائی گوہر کاظمی، بہن نیلو فر، بہنوئی ظل حسنین سمیت کئی رشتہ داروں کو حج کرایا۔ یہی نہیں، حسن بکر شاہین کاظمی نے سارے قاعدہ قانون طاق پر رکھ کر اپنے بھانجے عاصم کو حج کمیٹی میں کمپیوٹر آپریٹر کے عہدہ پر بھرتی بھی کر لیا ۔یہ ساری کرتوتیں مرکزی سرکار جانتی ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کرتی۔
جس پر پڑ رہا ہو ویجلنس کا چھاپہ، اسے بنا دیاسینٹرل وقف کائونسل کا سکریٹری
مودی سرکار کو ایسا آٖفیسر کیوں پسند ہے جس کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزام ہوں، جس نے بے تحاشہ جائیداد جمع کر رکھی ہو، چھاپے میںجس کے گھر اور ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں غیر قانونی دولت اور غیر قانونی جائیدادوںکے ڈھیر سارے دستاویز برآمد ہوئے ہوں اور جس کے خلاف ویجلنس محکمہ کی سخت کارروائی چل رہی ہو؟ ان تمام لائنوں کے حقیقی معانی ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ کے ممبر مختار عباس نقوی سے یہ کبھی نہیں پوچھا کہ انہوں نے سنگین بد عنوانی کے ملزم آفیسر بی ایم جمال کو سینٹرل وقف کائونسل کا سکریٹری کیوں بنا رکھا ہے؟زبردست بدعنوانی کے ملزم کو سینٹرل وقف کونسل کا سکریٹری مقرر کئے جانے سے جڑا سوال کیا کوئی قانونی جواز نہیں رکھتا؟ان سوالوںپر مرکزی سرکار یا مرکزی وزیر کی خاموشی کیوں ہے؟
آپ یہ جان لیں کہ مختار عباس نقوی نے 2017 میںکیرل سے لاکر بی ایم جمال کو سینٹرل وقف کائونسل کے سکریٹری عہدہ پر بیٹھایا۔کیرل سرکار کے ویجلنس محکمے کی رپورٹ پڑھیں تو آپ کو مودی سرکار کے کردار کے متضاد بیان پر خود جھینپ ہونے لگے گی۔ کوجھی کوڈ کے ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو کے اسپیشل سیل کے پولیس آفیسر سنیل بابو کیلو تھوم کانڈی کی طرف سے درج ایف آئی آر سینٹرل وقف کائونسل کے سکریٹری اور کیرل وقف بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر بی ایم جمال کی بدعنوانی کی کرتوتوں کا پردہ فاش کرتی ہیں۔ اسی بدعنوان آفیسر کو مرکزی سرکار نے کیرل سے لاکر سینٹرول وقف کائونسل کا سکریٹری بنادیا۔ سینٹرل وقف کائونسل کا سکریٹری عہدہ بہت اہم اور باوقار عہدہ مانا جاتا ہے۔ اس عہدہ پر عام طور پر آئی اے ایس آفیسر یا دہلی اسپیشل سروسز کے ’اے ‘ گریڈ آفیسر مقرر ہوتے رہے ہیں۔ اس روایت اور مریادا کی تعمیل کرنے کے بجائے سنگین بدعنوانی کے معاملے میںگھرے کیرل وقف بورڈ کے سابق سی ای او پیشہ ور وکیل بی ایم جمال کو کائونسل کے سکریٹری عہدہ پر مقرر کرنا بلا وجہ اور غلط ارادوں سے انجام دیئے جانے کا عکس ہے۔
کیرل سرکار کے ویجلنس محکمہ کی چھان بین میں یہ سرکاری توثیق ہوئی ہے کہ کیرل وقف بورڈ ایرنا کولم کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر رہے بی ایم جمال نے 2007 سے 2016 کے درمیان زبردست گھوٹالے کئے۔ جمال نے یکم جنوری 2007 سے 31اکتوبر 2016 کے بیچ ایک کروڑ 45 لاکھ 68 ہزار 179 روپے ہڑپے۔ تلاشی کے دوران جمال کے پاس سے 14لاکھ 57 ہزار چار سو روپے برآمد کئے گئے تھے۔ چھان بین میں یہ پایا گیا کہ جمال کی آمدنی میں 86 لاکھ 68 ہزار 40 روپے کی آمدنی پوری طرح سے غیر قانونی ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ جمال کی 50فیصد سے زیادہ آمدنی غیر قانونی پائی گئی۔ ویجلنس کی چھان بین میں بی ایم جمال کی غیر قانونی فلوٹنگ جائیداد کے علاوہ عالی شان ریئل جائیدادوں کے بھی ثبوت پائے گئے۔ تھیرو وننت پورم کے ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو کے ڈائریکٹر کے حکم ( نمبر ای 23 سی وی 22/2016ایس سی کے 184/2018 بتاریخ 8-2-2018) پر کیرل وقف بورڈ کے سی ای او بی ایم جمال کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کی گئی تھی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ کیرل سرکار کے ویجلنس محکمہ کی کارروائی کے درمیان ہی مرکزی سرکار نے بی ایم جمال کو سینٹرل وقف کائونسل کا سکریٹری مقرر کر دیا۔ شرمناک بات یہ ہے کہ سینٹرل وقف کائونسل کا سکریٹری بنائے جانے کے بعد بھی کیرل میں بی ایم جمال کے ٹھکانوں پر ویجلنس کی چھاپہ ماریاں جاری ہیں۔ اسی سال فروری 2018 کے آخری ہفتے میں بی ایم جمال کے قصر گوڈ کے تراوڈو میں واقع عالی شان کوٹھی پر کلی کوٹ اسپیشل ویجلنس کی ٹیم نے چھاپہ مارا اور خوب تلاشی لی تھی ۔اس تلاشی میں انکم سے زیادہ جائیداد کے کئی اور ڈھیر سارے کاغذات ضبط کئے گئے۔ قصر گوڈ میں وسیع و عریض زمین پر بنی بی ایم جمال کی عالی شان کوٹھی سمیت کئی دیگر کوٹھیوں کو ویجلنس محکمہ نے آمدنی سے زیادہ جائیداد کی لسٹ میں درج کیاہے۔حیرت انگیز مگر سچ بات یہ ہے کہ ان قانونی کارروائیوں کے باوجود مرکزی سرکار کی اخلاقیات کی کھال پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ مرکزی سرکار کے وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی ایسے بدعنوان سکریٹری کے محافظ بنے ہوئے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی دھرت راشٹر جیسے سرپرست

 

 

 

یہ کیسی اقلیتی فلاح ہے وزیر محترم
مختار عباس نقوی کو اقلیتوں کی فلاح کا کام کرنے کے لئے وزیر برائے اقلیتی امور بنایا گیا ہے۔ لیکن ان کاکام شخصی فلاح پر زیادہ مرتکز رہا۔ اترپردیش میں اقلیتوں کی فلاح کے لئے 80 19کی دہائی میں قائم ہوئے مائنارٹی فنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو بند کرانے کی کوشش محض اس لئے ہو رہی ہے کہ کارپوریشن نے بمبئی مرکنٹائل بینک میں جمع دو کروڑ 67 لاکھ 60 ہزار روپے کیوں مانگ لئے۔ بمبئی مرکنٹائل بینک کے چیئر مین ذیشان مہندی ، مینجنگ ڈائریکٹر ایم شاہ عالم خاں، اسسٹنٹ جنرل منیجر عالم خاں، بینک کے ایف ڈی محکمہ کے انچارج آفیسر طارق سعید خاں اور لکھنو برانچ انچارج منیجر نور عالم کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمہ ( نمبر 0142/2018)درج کرانے کا خمیازہ مائنارٹی فنانشیل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو بھگتنا پڑ رہاہے۔ شدید مالی بحران سے کارپوریشن کو ابرنے کے بجائے سرکار نے کارپوریشن کا’ ڈھکن ‘بند کر دینے کا ہی فیصلہ لے لیا ہے۔ مودی سرکار کا اقلیتی پیار اور اس کے پیچھے کی وجوہات بالکل صاف ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *