چیئرمین لا کمیشن آف انڈیا کے نام مولانا محمد ولی رحمانی کامکتوب

Maulana-Wali-Rahmani
نئی دہلی:’’اس ملک کے باشندے الگ الگ مذہب ، الگ کلچراور الگ روایات کے ماننے والے ہیں، اور وہ اپنے اپنے طریقے سے زندگی گذار رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں کوئی ناہمواری یا دشواری نہیں ہے، اس لیے اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں، یوں بھی مذہبی روایات اور سماجی کلچر گورنمنٹ کاموضوع نہیں ہے، اس لیے حکومت کو ایسی چیزوں میں دخل نہیں دینا چاہئے،اورنہ لا کمیشن کو مشورہ دینا چاہئے کہ حکومت ان چیزوں میں ہاتھ ڈالے، ‘‘ یہ باتیں مولانا محمد ولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈنے لاکمیشن کے نام اپنے مکتوب میں کہی ہے۔انہوں نے لا کمیشن کے چیرمین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے 21مئی 2018ء کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی یونیفارم سول کوڈ قابل عمل نہیں ہے، مگر یہ ہوسکتاہے کہ مختلف مذاہب کی اچھی باتوں کو لے کر ایک مشترک قانون ملک میں نافذ کیا جائے، آپ نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوؤں میں وراثت کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے کہ فیملی کا بڑا آدمی اگر زندگی میں چاہے تو جائیداد تقسیم نہ کرکے کسی ایک شخص کے حوالے کردے، لیکن مسلمان اپنی جائیداد میں ایک تہائی کی ہی وصیت کرسکتا ہے،پوری جائیداد کسی کونہیں دے سکتا، آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام کی یہ بات مجھے پسند آتی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ یہ قانون ہندوستان کے تمام لوگوں کے لیے بنا دیا جائے، اسی طرح ہندو سماج میں ایک بیوی کاقانون ہے، یہ بہت بہتر ہے، اس قانون کو بھی ملک کے تمام افراد پر نافذکردیا جائے۔لیکن جسٹس صاحب! آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ آپ کے اس ذہن سے اتفاق نہیں رکھتا ہے، یہ انداز فکر آئین ہند کی بنیادی دفعات کے خلاف ہے، اور ملک میں ایک نئی بے چینی پیدا کرنیوالا ہے، اورآپ کا یہ ذہن یونیفارم سول کوڈ کی طرف بڑھ رہا ہے، اس ملک میں الگ الگ مذاہب ، روایات اور کلچر پر عمل کرنیوالے لوگ بستے ہیں، اوریہ اس ملک کا حسن ہے، آپ اسے یک رنگی کی طرف لے جاکر ملک کا حسن ختم نہ کیجئے۔
مکتوب کے مطابق،مولانا محمدولی رحمانی جنرل سکریٹری بورڈ نے لکھا ہے کہ ہندو وراثت کاقانون پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے، پارلیمنٹ جب چاہے اس میں ترمیم کرسکتی ہے، لیکن اسلامی قانون وراثت کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے، جو نہ صرف صدیوں سے مسلمانوں کے عمل میں محفوظ ہے، بلکہ آئین کی بنیادی حقوق کی دفعات میں بھی اس کی حفاظت کاوعدہ کیا گیا ہے۔یک زوجگی کے سلسلہ میں مولانا محمدولی رحمانی جنرل سکریٹری بورڈنے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ آپ کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ ایک سے زیادہ چار شادی تک کرنے کی اجازت قرآن مجید نے ایک شرط کیساتھ دی ہے، کہ بیویوں کے درمیان پورا انصاف کرنا ہوگا، اور جو یہ سمجھتا ہے کہ انصاف نہ کرسکے گا، اسے صرف ایک شادی کی اجازت دی گئی ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک سے زیادہ شادی، انسان کی ضرورت ہوسکتی ہے، اسی لیے گرچہ ہندوؤں میں ایک شادی کا قانون موجود ہے، بھر بھی ہندوؤ ں میں ایک سے زیادہ شادی کا تناسب مسلمانوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ مولانا محمد ولی رحمانی جنرل سکریٹری بورڈ نے لا کمیشن کے چیرمین کو یہ بھی لکھا ہے کہ میری رائے ہے کہ حکومت کو مشورہ دیتے وقت آپ کو ایسی انسانی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے، آپ حکومت کو ضرور رپورٹ دیں ،مگر ایسا نہ ہو کہ آپ کی رپورٹ ملک میں نئے اختلاف اورنئی ناہمواری کا ذریعہ بن جائے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *