این آرسی معاملہ:آسام کے لوگوں کے حق کیلئے ہر سطح پر جمعیۃ علماء ہندکوشاں :مولانا محمودمدنی

mahmood-madani
نئی دہلی:جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا ہے کہ این آر سی کی حتمی ڈرافٹ فہرست میں آسام کے چالیس لاکھ سے زائد شہریوں کا نام شامل نہ ہونا ایک اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے ، اس کی وجہ سے ملک کے سماجی، معاشرتی اور جغرافیائی حالات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔اس لیے ملک کی مرکزی وریاستی سرکاریں کسی بھی طرح کا قدم اٹھانے سے پہلے اس کے انسانی پہلو کو ہر گز نظر انداز نہ کریں ۔

 

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اس مسئلہ پر کافی فکر مند ہے اور وہ آسام کے لوگوں کے حق کے لیے ہر سطح پر کوشاں ہے اور رہے گی ، ساتھ ہی اس سے متعلق سپریم کورٹ میں قانونی جدوجہدجاری رکھے گی ۔ مولانا مدنی نے آسام کے لوگوں سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ہمت نہ ہاریں، جو صورت حال بھی پیدا ہوئی ہے، اس کوقانونی طور سے درست کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔جن لوگوں کا نام نہیں آیا ہے وہ سنجیدگی کے ساتھ تمام ضروری اقدامات کریں اوربنیادی معلومات و دستاویزات مہیاکرائیں ، اس کے لیے جہاں بھی عذ داری کی ضرورت ہو، اس میں ہرگز تساہلی نہ برتیں ۔انھوں نے کہا کہ جمعےۃ علماء ہند کی تمام یونٹوں کو آسام میں ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرین کے لیے کاغذات کی تیاری اور عذرداری میں تعاون پیش کریں ۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء صوبہ آسام نے تقریبا 15سو لوگوں کا انتخاب کیا ہے جن میں وکلاء اور دانشواران شامل ہیں جو ہر ضلع کے سینٹر پر فارم پرُ کرنے میں مدد کریں گے۔
مولانا مدنی نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں کہیں افسران کی طرف سے غیر قانونی طور پر سختی کی جائے ، تو اس کی اطلاع جمعےۃ علماء کی مقامی اکائی کو دی جائے ، وہاں کی قیادت اس مسئلہ کو سلجھانے کی حتی الوسع کوشش کرے گی ۔واضح ہو کہ آج صبح دس بجے این آرسی کی دوسری فہرست جیسے ہی سامنے آئی ، مولانامحمود مدنی نے جمعےۃ علماء آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل ، ناظم اعلی حافظ بشیراحمد وغیرہم سے گفتگو کرکے صورتحا ل کا جائزہ لیا اورلائحہ عمل پر تفصیل سے گفتگو کی ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *