’لٹل ماسٹر‘ دنیائے کرکٹ کے ہیں بِگ ماسٹر

sunil-gavaskar
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سنیل گاوسکر دنیائے کرکٹ میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ دنیا انھیں لٹل ماسٹر کے نام سے جانتی ہے۔ انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے پہلے 10,000 رن بنائے تھے۔گاوسکر کی پیدائش 10 جولائی 1949 کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے ٹیسٹ کیرئر کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف 1971 میں کیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا دنیا کی سب سے مضبوط ٹیم میں شمار ہوتا تھا۔ اس زمانے میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں بڑے خطرناک قسم کے تیز گیند باز تھے۔ گاوسکر نے اس مقابلے میں 65 ر ن بنائے تھے اور ان رنوں میں انھوں نے کوئی چوکا اور چھکا نہیں لگایا تھا۔

 

سنیل گواسکر کا ایک ریکارڈ یہ بھی ہے کہ وہ کسی ٹیسٹ میچ کی دونوں پاریوں میں سنچری جمانے والے پہلے کرکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ 1971 سے 1983 کے بیچ ڈبل سنچری بنانے والے وہ سب سے کم عمر کے ہندوستانی کھلاڑی رہے۔ اس وقت ان کی 21 سال اور 277دن کی عمر تھی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انھوں نے 220 رنوں کی پاری ویسٹ انڈیز کے خطرناک تیز گیندبازوں کی بالنگ کے سامنے ان ہی کی سرزمین پر کھیلی تھی۔ مزے دار بات یہ ہے کہ سنیل گاوسکر ویسٹ انڈیز کے لمبے تڑنگے بالروں کے سامنے بغیر ہیلمٹ کے کھیلتے تھے جبکہ ان خوفناک تیز بالروں کے سامنے دوسرے کھلاڑی ہیلمٹ لگاکر بھی کھیلتے ہوئے گھبراتے تھے۔
سنیل گاوسکر نے اپنی آٹو بایوگرافی ’’سنی ڈیز‘‘ میں بتایا ہے کہ ’میں کبھی کرکٹر نہیں بنا ہوتا اور نہ ہی یہ کتاب لکھی گئی ہوتی اگر میری زندگی میں تیز نظروالے نارائن ماسورکر نہیں ہوتے۔‘
گاوسکر نے بتایا کہ ’’جب میری پیدائش ہوئی تب میرے چاچا جنھیں میں نن کاکا کہہ کر بلاتا تھا،وہ میری پیدائش کے بعد اسپتال میں مجھے دیکھنے آئے تھے اور انھوں نے میرے کان پر ایک ’برتھ مارک‘ دیکھا تھا۔‘‘ گاوسکر نے بتایا ’’اگلے دن چاچا پھر ملنے اسپتال آئے اور انھوں نے بچے کو گود میں اٹھایا لیکن انھیں بچے کے کان پر وہ نشان (برتھ مارک) نہیں ملا۔
اس کے بعد یقینی طور پر پورے اسپتال میں کھلبلی مچ گئی ہوگی۔گاوسکر نے بتایاکہ اسپتال میں نئے پیدا ہوئے بچوں کو چیک کیا گیا۔ تلاش کے بعد میں انھیں ایک ماہی گیر(مچھوارہ) کی بیوی کے پاس سوتے ہوئے ملا۔ اسپتال کی نرس نے غلطی سے مجھے وہاں سلا دیا تھا۔ گاوسکر کا کہنا ہے کہ شاید بچوں کو نہلاتے وقت وہ بدل گئے تھے۔ اگر اس دن میر ے چاچا نے دھیان نہیں دیا ہوتا تو ہوسکتا تھا کہ میںآج ماہی گیر ہوتا۔
سنیل گواسکر نے 125 ٹیسٹ میچوں کی 214 پاریوں میں51.12 کی اوسط سے 10,122 رن بنائے، جس میں34 سنچریاں اور 45 ہاف سنچریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے 108 ونڈے میچ بھی کھیلے، جس میں انھوں نے 35.13 کی اوسط سے 3092 ر ن بنائے۔ ونڈے کریئر میں سنیل گواسکر نے ایک سنچری اور 27 ہاف سنچریاں بنائیں۔
اس طرح سنیل گاوسکر اپنے پیدائشی نشان سے پہچانے گئے۔ اگر ان کے چاچا نے برتھ مارک پر غور نہیں کیا ہوتا تو شاید سنیل گاوسکر یا لٹل ماسٹر کا شمار ایک کرکٹر کے طورپر نہیں ہوتا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *