کشمیر اپنی طرح کا پیچیدہ معاملہ ہے

اچانک کشمیر میںبی جے پی نے سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی۔ کشمیر کی سرکار گر گئی اور وہاں گورنر رول لگادیا گیا۔ میںنے کئی مہینے پہلے ہی کہا تھا کہ کشمیر میںپہلا کام گورنر رول لگانے کاہونا چاہیے۔ یہ سرکار ایک دم ناکام ہے کیونکہ جب اتحاد ہوتا ہے تو اس میںکچھ تال میل، کچھ منیمم پروگرام ہوتا ہے۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کشمیر کی پالیٹکل سچوئیشن میںدو سرے ہیں۔ ایک اس طرف ہے تو دوسرا اُس طرف۔ ان میںاتحادکی دو ہی وجہیں ہوسکتی تھیں، کچھ وزیر تھوڑے دن کے لیے پیسہ بنالیں اور دوسری یہ کہ دوسری پارٹیاں اقتدار میںنہ آسکیں۔مفتی محمد سعید نے جب سرکار بنائی تھی تو بڑی امید سے کہا تھا کہ اگر کشمیر مسئلہ کا حل نہیں نکال سکا تو استعفیٰ دے دوں گا۔ یہ عقلی بات نہیں تھی۔ کشمیر مسئلہ کشمیر سرکار حل نہیں کر سکتی ہے۔ کشمیر مسئلے کو دہلی سرکار اور اسلام آباد سرکار حل کرسکتی ہیں۔ بدقسمتی سے وہ ایک ہی سال اقتدار میںرہے اور ان کا انتقال ہوگیا ۔
اس وقت بھی میںنے کہا تھا کہ مفتی صاحب کا جنازہ دیکھ کر محبوبہ مفتی کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ ہواان کے خلاف ہے۔ مفتی صاحب دعویٰ کرتے تھے کہ شیر کشمیر شیخ عبداللہ کے بعد کشمیر کا سب سے بڑا لیڈر میں ہوں، فاروق عبداللہ نہیںہیں۔ شیخ عبداللہ کا جنازہ اتنی شان سے نکلا تھا کہ اس کے بعد یہ کسی لیڈر کی مقبولیت کا معیار بن گیا۔ مفتی صاحب کے جنازے میںصرف تین ہزار لوگ تھے جبکہ شیخ عبد اللہ صاحب کے جنازے میںلاکھوںلوگ تھے۔ مطلب مرنے کے بعد جو عزت مفتی صاحب کو ملنی چاہیے تھی، وہ نہیںملی۔ میںنے سوچا محبوبہ کے لیے فیصلہ لینا آسان ہوگیا کہ یہ سرکار ہم نہیںبنائیںگے لیکن انھوںنے سرکار بنائی۔ رام مادھو بی جے پی میںہیں۔ وہ آر ایس ایس میںتھے۔ چائنا پالیسی وہ طے کرتے ہیں، نارتھ ایسٹ کی پالیسی وہ طے کرتے ہیں، کشمیر کی پالیسی وہ طے کرتے ہیں۔ مجھے لگتا نہیںہے کہ انھیںان سب چیزوں کی کوئی خاص جانکاری ہے۔رام مادھو نے محبوبہ کو منا کر پھر سے سرکار بنوادی۔ جب سے سرکاربنی تھی، محبوبہ کو لگاتار مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک طرف محبوبہ ہارڈ لائنر ہیں تو دوسری طرف بی جے پی بھی ہارڈ لائنر ہے۔ بی جے پی کہتی ہے کہ 370 کو ختم کردینا چاہیے۔ جتندر سنگھ جموںسے ہیں اور پی ایم او کے وزیر ہیں۔ 26 مئی 2014 کو سرکار کی تشکیل ہوئی تھی اور اس کے اگلے ہی دن ان کا بیان آتا ہے کہ آرٹیکل 370کو ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس طرح کی بیان بازیوں سے معاملہ سلجھنے کی بجائے اورزیادہ الجھ جاتا ہے۔ معاملہ تو بات چیت سے ہی سلجھتا ہے۔

 

 

 

 

اٹل جی کی دعوت پر جب پرویز مشرف من بناکر آگرہ آئے تھے کہ کشمیر کا ایک حل نکال دیا جائے تاکہ خون خرابہ بند ہو لیکن اڈوانی جی نے آر ایس ایس کے اشارے پر یہ نہیں ہونے دیا۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ، چھوٹے چھوٹے ایگو ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ بات 2003 کی ہے۔ اس کے بعد 10 سال کانگریس کی سرکار رہی اور چار سال مودی سرکار کو بھی ہوگئے۔ مودی جی نے اپنی حلف برداری تقریب میںباقی لیڈروں کے ساتھ نواز شریف کو بھی بلایا تھا۔ تعریف ہوئی تھی۔ خود بھی ایک بار پاکستان ہو آئے۔ کہاں لڑکھڑا گیا قدم؟ یہ ڈوبھال صاحب کرا رہے ہیں یا مادھو صاحب کرا رہے ہیں یا کوئی خرافاتی ایلیمنٹ ہے؟ سرکار ایسے نہیں چلتی ہے۔ مودی جی نے سوچا کہ دھیرے دھیرے سب صحیح کر لیںگے لیکن کہیںنہ کہیںسرکار لڑکھڑا گئی۔ پالیٹکل چیزوں سے دھیان ہٹ گیا اور مقابلے میںجو کمزور چیزیںتھیں، اس پر فوکس کرنے لگے۔ کشمیر میںووٹروں کے بیچ سب سے زیادہ پی ڈی پی کا مذاق اڑا ہے۔ اگلے الیکشن میںآپ دیکھیں گے کہ پی ڈی پی کو بہت کم سیٹیںملیںگی۔ بی جے پی کا اُتنا نقصان نہیںہوا ہے کیونکہ اس کی عوامی حمایت ہندو اکثریتی علاقہ جموں میںہے۔ وہاںبھی اگلے الیکشن میںووٹ کانگریس اور بی جے پی میںبٹ جائے گا۔ بہر حال جو ہوا ٹھیک ہوا۔ یہ کام کئی مہینے پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ دیر آئے درست آئے۔ اب آگے کیا؟ اب گورنر این این ووہرا صاحب آگئے ہیں جو قابل انتظامی افسر رہے ہیں۔ پہلے بھی گورنر رول ان کے انڈر رہ چکا ہے، یہ پہلی بار نہیں ہے۔ انھوںنے پہلی تقرری کے تحت چھتیس گڑھ کیڈر کے آئی اے ایس افسر بی وی آر سبرامنیم کو ریاست کا چیف سکریٹری بنایا ہے۔ کیوں؟ وہ نکسل ایکسپرٹ مانے جاتے ہیں۔ لیکن ، سوال یہ ہے کہ اگر سبھی مسائل کا حل بندوق سے ہوتا تو پھر سیاستدانوںکی کوئی ضرورت ہی نہیںہوتی۔ ڈسٹرکٹ کلیکٹر چلائے گا ملک کو، آرمی چلالے گی، پولیس چلا لے گی، یہ نہیںہوسکتا۔
کشمیر اپنی طرح کا پیچیدہ معاملہ ہے۔ اس میں اتنے پیچ ہیںکہ انھیں سلجھانے کے لیے ایک ایک پیچ سلجھانا پڑے گا۔ اس کے لیے صبر چاہیے، سوجھ بوجھ چاہیے اور سب پارٹیوں کی ملی جلی رائے ہونی چاہیے۔ لیکن وزیر اعظم کا یہ مزاج ہی نہیںہے۔ ہر چیز میںجواہر لعل نہرو کو یاد کر لیتے ہیں۔ ہرچیز میںکانگریس کو بلیم کردیتے ہیں۔ یعنی اپنی ذمہ داری سے کیسے بھٹکنا ہے،وہ بخوبی جانتے ہیں۔ کسی بھی کام کو ہاتھ میں لے کر انھوں نے کبھی عاجزی نہیں دکھائی۔ ہر چیز میںہاتھ جھٹک دیا اورجہاںکوئی چیز سمجھ میںنہیںآئی تو کانگریس کو بلیم کردیا۔ یہ سرکار چلانے کا سنجیدہ طریقہ نہیںہے۔ تھوڑا شدت سے کام کرنا پڑتا ہے۔ مودی جی وزیر اعظم ہیں، میںکیا کہہ سکتا ہوں لیکن ابھی بھی آٹھ دس مہینے بچے ہیں۔ کام پر لگئے اور ایک ایک کام ڈھنگ سے کریے۔ کشمیر کا یہ پہلا قدم ٹھیک ہے۔ گورنر صاحب ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ان ہی کو سرکار عہدے پر بنائے رکھے گی یا نیا گورنر مقرر کرے گی، میںنہیںجانتا۔ لیکن مہربانی کرکے کوئی سوجھ بوجھ والے آدمی کو گورنر بنائیے۔

 

 

 

 

مجھے شک ہے کہ مرکزی سرکار کشمیر میںٹف ایکشن لے سکتی ہے لیکن کشمیر کے حالات چھتیس گڑھ یا آندھر پردیش کی طرح نہیںہیں۔ کشمیر کے حالات الگ ہیں۔ وہاں کا مسئلہ الگ ہے۔ کشمیر میںدو باتیںہیں۔ ایک، وہاںکے نوجوان کے دل میںامن آہی نہیںسکتا۔ یہ بات پرویز مشرف سمجھ گئے تھے، اٹل جی بھی سمجھ گئے تھے۔ ہندوستان نے آگرہ چوٹی کانفرنس کے دوران چار بار ڈرافٹ بدلا۔ چاروںبار مشرف نے ایگری کر لیا۔ پھر سمجھوتہ کیوںنہیں ہوا؟ کشمیری کہتے ہیں کہ بغیر پالیٹکل سالیوشن کے بات ختم نہیںہوگی۔ اب آپ (مرکزی سرکار) کوئی بھی فیصلہ لیں گے تو لوک سبھا انتخابات کو نظر میںرکھ کر لیںگے۔ کشمیر کا فیصلہ بھی وہی ہے۔ جو سرکار ایک سال قبل چلی جانی چاہیے تھی بلکہ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد دوبارہ سرکار بننی ہی نہیںچاہئے تھی، وہ سرکار آج گر گئی۔ لیکن بی جے پی نے محبوبہ کو وزیر اعلیٰ بنا کر سرکار کو دو سال اور گھسیٹ لیا۔ بی جے پی اگر یہ سوچتی ہے کہ یہ سب کرنے سے ہندوؤں کا ووٹ مل جائے گا،تو وہ بھول کر رہی ہے۔ جو ہندو ان باتوںسے متاثر ہوکر بی جے پی کو ووٹ دیتے ہیں، ان کی سمجھ میںکمی ہے۔ یہ مہاتما گاندھی کا ملک ہے۔ملک کا بھائی چارہ بگاڑ کر آپ راج نہیںکر پائیںگے ۔ ملک کے تئیںآپ کی جو ذمہ داری ہے، اسے نبھائیے اور الیکشن کی فکر چھوڑیے۔
اقتصادی مورچے سے ایک اہم خبر آئی ۔ مودی سرکار کے اہم اقتصادی صلاح کار اروند سبرامنین نے استعفیٰ دے دیا۔ سبرامنین مودی سرکار میںسب سے قابل لوگوں میںسے تھے۔ وزارت مالیات میںان سے زیادہ کوئی قابل نہیںتھا۔ ایک دو بار ان سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ کچھ کریے، حالات کو سنبھالیے۔ یہ ایک بہت ہی منفرد عہدہ ہے۔ یہ کوئی کیبنٹ کا ممبر نہیں ہوتا اور نہ ہی فنانس سکریٹری ہوتا ہے۔ اس عہدے کی ایک الگ پہچان ہے۔ اقتصادی پالیسی پر کل کیا ہوسکتا ہے، کیا ہونا چاہیے، یہ صلاح دینے کا کام ہے،اس عہدے پر بیٹھے شخص کا۔ ارون جیٹلی نے سبرامنین کی کافی تعریف کی ہے اور سبرا منین نے بھی ارون جیٹلی کی تعریف کی ہے۔ انھوںنے کہا کہ جیٹلی اچھے باس تھے،بات سنتے تھے لیکن نتیجہ گراؤنڈ پر نہیںدکھا۔ اب سرکار نیا اکانومک ایڈوائزر کسے بناتی ہے؟ اس پر لوگوںکی نظر رہے گی۔ قابل آدمی ہونا چاہیے، نہیںتو اقتصادی حالت تو چرمرانے کی کگار پر ہے ہی۔ تیل کے دام بڑھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام غصہ کہاںدکھائیں گے؟وہ تو ووٹنگ کے وقت ہی پتہ چلے گا۔ 19 مہینے کی ایمرجنسی میںعوام نے کیا کیا تھا؟ عوام اپنا کام کر رہے تھے۔ ووٹنگ کا دن آیا تو عوام نے اپنی طاقت دکھادی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *